۱۳۹۶/۱۱/۵   1:12  ویزیٹ:1191     استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای


ظالم حکومت ميں کام کرنا

 


ظالم حکومت ميں کام کرنا

س1351:    آيا غير اسلامى حکومت ميں کام کرنا جائز ہے؟
ج:  يہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ عمل بذات خود جائز ہو۔

س1352:   ايک شخص عربى ملک ميں ٹريفک پوليس کے ادارے ميں کام کرتا ہے ٹريفک کے قوانين کى خلاف ورزى کر نے والوں کى فائل پر دستخظ کرنے کا افسر ہے تاکہ انھيں قيد خانے ميں ڈال ديا جائے اگر وہ دستخط کردے تواس مخالفت کرنے والے شخص کو جيل ميں ڈال ديا جائے گا آيا يہ نوکرى صحيح ہے؟ اور اس کى تنخواہ کا کيا حکم ہے جووہ مذکورہ کام کے عوض حکومت سے ليتا ہے؟
ج:  معاشرتى قوانين اگر چہ غيراسلامى حکومت کے ہوں ان کى رعايت کرناہر حال  ميں واجب ہے، مذکورہ عمل کے عوض تنخواہ لينا حلال ہے اور اس ميں کوئى حرج نہيں ہے۔

س1353:  امريکہ يا کينيڈاکى شہريت لينے کے بعد آيا مسلمان وہاں کى فوج يا پوليس ميں شامل ہوسکتا ہے؟ اور آيا حکومت کے دفاتر جيسے بلديہ اور دوسرے دفاتر جو کہ حکومت کے تابع ہيں اُن ميں نوکرى کرسکتا ہے؟
ج:  اگر فعل حرام يا ترک واجب اور کسى گناہ کا سبب نہ ہو تو جائز ہے۔

س1354:   آيا ظالم حاکم کى طرف سے منصوب قاضى کى کوئى شرعى حيثيت ہے؟ تاکہ اس کى اطاعت کرنا واجب قرار پائے؟
ج: ايسے شخص کو جو جامع الشرائط نہيں ہے اور ايسے شخص کى طرف سے منصوب بھى نہيں ہے جسے قاضى نصب کرنےکا حق ہے قاضى بننے اور لوگوں کے درميان قضاوت انجام دينے کا حق نہيں ہے۔اور لوگوں کا اسکى جانب رجوع کرنا جائز نہيں ليکن ضرورت کى حالت ميں صحيح ہے اور اسکا حکم بھى نافذ نہيں۔