۱۳۹۹/۳/۷   9:38  ویزیٹ:173     مضامین


عید الفطر.... انعامِ الہٰی کا دن

 


عید الفطر.... انعامِ الہٰی کا دن

احادیثِ مبارکہؐ میں شبِ عید اور یومِ عید کی بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے ارشاد فرمایا’’
«فَإِذَا کَانَتْ لَیلَةُ الْفِطْرِ وَ هِی تُسَمَّى لَیلَةَ الْجَوَائِزِ أَعْطَى اللَّهُ الْعَامِلینَ أَجْرَهُمْ بِغَیرِ حِسَابٍ» ؛

 جب عیدالفطر کی رات ہوتی ہے، جسکو’’ لیلۃ الجائزہ‘‘یعنی’’ انعام کی رات‘‘ کہا جاتا ہے  تو اللہ تعالی عمل انجام دینے والے اپنے بندو کو بغیر حساب کے دے دیتا ہے۔ (بغیرحساب کے نیکیوں سے نوازتے ہے)
«فَإِذَا کَانَتْ غَدَاةُ یوْمِ الْفِطْرِ بَعَثَ اللَّهُ الْمَلَائِکَةَ فِی کُلِّ الْبِلَادِ فَیهْبِطُونَ إِلَى الْأَرْضِ وَ یقِفُونَ عَلَى أَفْوَاهِ السِّکَکِ فَیقُولُونَ یا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ اخْرُجُوا إِلَى رَبٍّ کَرِیمٍ یعْطِی الْجَزِیلَ وَ یغْفِرُ الْعَظِیمَ : ؛
اور جب صبحِ عید طلوع ہوتی ہے، تو حق تعالیٰ جل شانہ فرشتوں کو تمام بستیوں میں بھیجتا ہے اور وہ راستوں کے کونوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے، جسے جنّات اور انسانوں کے سِوا ہر مخلوق سُنتی ہے، پکارتے ہیں کہ’’ اے اُمّتِ محمّدیہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کریم ربّ کی بارگاہِ کرم میں چلو، جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے۔‘‘
«فَإِذَا بَرَزُوا إِلَى مُصَلَّاهُمْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ لِلْمَلَائِکَةِ: مَلَائِکَتِی! مَا جَزَاءُ الْأَجِیرِ إِذَا عَمِلَ عَمَلَهُ؟ قَالَ: فَتَقُولُ الْمَلَائِکَةُ: إِلَهَنَا وَ سَیدَنَا! جَزَاۆُهُ أَنْ تُوَفِّی أَجْرَهُ.» ؛
جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں، تو اللہ ربّ العزّت فرشتوں سے فرماتا ہے’’ اُس مزدور کا کیا بدلہ ہے، جو اپنا کام پورا کرچُکا ہو؟‘‘ وہ عرض کرتے ہیں’’ اے ہمارے معبود! اس کا بدلہ یہی ہے کہ اُس کی مزدوری اور اُجرت پوری پوری عطا کردی جائے‘‘،
«قَالَ: فَیقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ: فَإِنِّی أُشْهِدُکُمْ مَلَائِکَتِی أَنِّی قَدْ جَعَلْتُ ثَوَابَهُمْ عَنْ صِیامِهِمْ شَهْرَ رَمَضَانَ وَ قِیامِهِمْ فِیهِ رِضَای وَ مَغْفِرَتِی » ؛
تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں’’ اے فرشتو! تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ مَیں نے اُنہیں رمضان کے روزوں اور اعمال کے بدلے میں اپنی رضا اور مغفرت عطا فرمادی‘‘ ا
«وَ یقُولُ: یا عِبَادِی سَلُونِی فَوَ عِزَّتِی وَ جَلَالِی لَا تَسْأَلُونِّی الْیوْمَ فِی جَمْعِکُمْ لِآخِرَتِکُمْ وَ دُنْیاکُمْ إِلَّا أَعْطَیتُکُمْ » ؛
اور پھر بندوں سے ارشاد ہوتا ہے کہ’’ اے میرے بندو! مجھ سے مانگو، میری عزّت و جلال اور بلندی کی قسم! آج کے دن آخرت کے بارے میں جو سوال کرو گے، عطا کروں گا۔دنیا کے بارے میں جو سوال کرو گے، عطا کروں گا۔
«وَ عِزَّتِی لَأَسْتُرَنَّ عَلَیکُمْ عَوْرَاتِکُمْ مَا رَاقَبْتُمُونِی وَ عِزَّتِی لَآجَرْتُکُمْ وَ لَا أَفْضَحُکُمْ بَینَ یدَی أَصْحَابِ الْخُلُودِ » ؛
میرے عزّوجلال کی قسم! مَیں تمہیں مجرموں اور کافروں کے سامنے رُسوا نہ کروں گا۔
«انْصَرِفُوا مَغْفُوراً لَکُمْ قَدْ أَرْضَیتُمُونِی وَ رَضِیتُ عَنْکُمْ » ؛
لوٹ جاو مغفرت اور بخشش کے ساتھ  کہ مَیں تم سے راضی ہوگیا۔‘
«قَالَ: فَتَفْرَحُ الْمَلَائِکَةُ وَ تَسْتَبْشِرُ وَ یهَنِّئُ بَعْضُهَا بَعْضاً بِمَا یعْطِی اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ إِذَا أَفْطَرُوا » ؛
پھر فرمایا کہ جو کچھ اللہ عید کے دن آپنے بندوں کو بخش دیتا ہے اس سے فرشتے بہت خوش ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگتے ہیں۔
(امالی مفید مجلس 27  ص232)