۱۳۹۹/۳/۱۴   3:56  ویزیٹ:210     مضامین


امام خمینی رہ کی 31 ویں برسی

 


امام خمینی کی تابندہ شخصیت

تنگ و تاریک دنیا کو نور اسلام سے روشن کرنیوالے سید روح اللہ خمینی 20 جمادی الثانی 1320 ھ؛ق مطابق 24 ستمبر 1902ء کو ضلع خمین، صوبہ مرکزی کے علم اور ہجرت و جہاد کے جذبوں سے سرشار ایک گهرانے میں، زہرائے مرضیہ سلام اللہ علیہا کی اولاد میں سے عالم طبیعت میں قدم رکها۔ آپ ایسے آباء و اجداد کے صفات کے وارث تهے، جو نسل در نسل عوام کی ہدایت اور معارف الٰہیہ کے حصول میں کوشاں رہے تهے۔ امام خمینی کے والد گرامی مرحوم آیت اللہ سید مصطفی موسوی، آیت اللہ العظمی میرزائے شیرازی ؒ کے ہم عصر تهے، جو نجف اشرف میں کئی سال تک اسلامی علوم حاصل کرکے درجہ اجتہاد پر فائز ہونے کے بعد ایران واپس آئے اور خمین میں عوامی توجہ کا مرکز بن کر دینی امور میں ان کی رہنمائی کے تحت، فرائض انجام دینے لگے۔ ابهی سید روح اللہ کی ولادت سے پانچ ماہ سے زیادہ کا عرصہ نہیں گزرا تها کہ حکومت وقت کے حمایت یافتہ طاغوتی سرداروں نے آپ کے والد کے حق پسندانہ نعروں کا جواب گولی سے دیا اور آپ کو خمین سے اراک جاتے ہوئے راستے میں شہید کیا، کیونکہ سید مصطفی مرحوم نے ان سرداروں کی زور آزمائیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا تها۔ شہید مصطفی خمینیؒ کے لواحقین حکم قصاص الٰہی کے اجراء کےلئے (اس وقت دار الحکومت) تہران جا کر حصول انصاف کےلئے جد و جہد کرتے رہے، یہاں تک کہ قاتل سے قصاص لیا گیا۔ اس طرح روح اللہ خمینی بچپن میں ہی یتیمی کے غم میں مبتلا اور شہادت کے مفہوم سے آشنا ہوئے۔

سید روح اللہ خمینی کی زندگی کا پہلا دور (1902ء سے 1921ءتک):
روح اللہ کے بچپن اور نوجوانی کا دور ایران کے اجتماعی اور سیاسی بحرانوں میں گزرا۔ آپ ابتدائے زندگی سے معاشرے کی مشکلات اور درد و رنج سے آشنا تهے اور اپنے تاثرات کو ڈرائینگ کی صورت میں خطوط ترسیم کرکے ظاہر فرماتے تهے۔ گهر اور اطرافیوں کے ساختہ و پرداختہ دفاعی پناہ گاہ اور حوادث و مسائل کی بهٹی میں تپ کر ایک مکمل مجاہد میں تبدیل ہوچکے تهے۔ اس دور کے بعض متاثر کن حوادث دوران طفولیت و نوجوانی کی آپ کی ڈرائینگ اور خوش نویسی کی مشقوں میں منعکس ہوئے ہیں اور دسترس میں ہیں جیسے مجلس پر بمباری کرنے کا واقعہ۔ منجملہ ایک شعری قطعہ ہے جو آپ کی دوران نو جوانی کی ڈائری میں محفوظ ہے جس میں "غیرت اسلام کیا ہوئی اور قومی جوش و جذبہ کہاں ہے" کے عنوان سے ملت ایران سے خطاب ہے:
هان ای ایرانیان، ایران اندر بلاست مملکت داریوش دستخوش نیکولاست
آگاہ اے ایرانیوں، ایران بلا کا شکار ہے داریوش کی حکومت اتفاق سے اچهالا ہے

(کوثر، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام، چاپ اول: 1993ء جلد اول ص615)
اس نوشتہ کو روح اللہ کے دوران نوجوانی کے پهلے سیاسی بیانیہ کے عنوان سے یاد کیا جاسکتا ہے اور ملکی مسائل کے حوالے سے آپ کی ذہنی تشویش کو سمجها جاسکتا ہے۔ روح اللہ بہادروں اور جنگجووں کی طرف اس قدر مائل تهے کہ جنگل تحریک میں میرزا کوچک خان کے وصف میں اشعار اور تقریر کے ذریعے لوگوں کو تحریک جنگل کی حمایت پر آمادہ کیا اور اس طرح سے اس تحریک کی حمایت میں عوامی مدد کا انتظام کیا اور آخرکار خود بنفس نفیس اس تحریک میں شامل ہونے کا مصمم ارادہ کیا۔ آپ نے موقع نکال کر جنگل کا سفر کیا اور میرزا کی پناہ گاہ کا نزدیک سے معائنہ کیا۔(روح اللہ الخمینی، سید علی قادری، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام ، چاپ سوم، بہار 2004ء، ص232۔236)

سید روح اللہ کی تعلیم:
آپ نے زبردست استعداد سے بہر مند ہونے کی وجہ سے علوم کے مختلف شعبوں کو بسرعت طے کیا۔ فقہ و اصول و فلسفہ کے علاوہ عرفان کی بهی عالی ترین سطح میں خمین و اراک و قم کے برجستہ اساتذہ کے نزدیک تعلیم حاصل کی۔ سید روح اللہ نے اراک میں تحصیل کے دوران میں 19برس کی عمر میں مشروطہ کے ایک رہبر آیۃ اللہ طباطبائی کی یاد اور ان کی تجلیل مقام کی مناسبت سے ہونے والے ایک سمینار میں اپنا پہلا خطابیہ بیان پڑها اور حاضرین سے داد وصول کی۔ یہ خطابیہ بیان حقیقت میں ایک سیاسی بیانیہ تها جو علمدار مشروطیت کی خدمات و زحمات کی قدر دانی کی خاطر حوزہ علمیہ اراک کی جانب سے ایک جوان طالب علم کی زبان سے پڑها گیا۔ امام خمینی اس حوالے سے اپنی ایک یاد کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مجھے منبر پر جانے کو کہا گیا، میں نے بهی قبول کرلیا، اس رات کم سویا، اس وجہ سے نہیں کہ لوگوں سے روبرو ہونے کا خوف دامنگیر تها بلکہ یہ سوچ رہا تها کہ کل ایسے منبر پر جاوں گا، جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متعلق ہے، خدا سے مدد طلب کی کہ اول سے لے کر آخر تک کوئی ایسی بات نہ کہوں جس پر خود یقین نہ ہو اور خدا سے یہ طلب ایک عہد تها، جو میں نے اپنے خدا سے کیا تها۔ میرا پہلا منبر طولانی ہوگیا۔ لیکن کوئی خستہ نہیں ہوا۔ کچھ لوگوں نے داد و تحسین سے نوازا۔ جب دل سے پوچها تو معلوم ہوا داد و تحسین کی صدائیں اچهی لگ رہی تهیں، اسی وجہ سے دوسری اور تیسری دعوت رد کردی اور چار برس تک کسی بهی منبر پر قدم نہ رکها۔ (خمینی روح اللہ ، سید علی قادری، موسسہ تنظیم ونشر آثار امام، تیسرا ایڈیشن، بہار 2004ء، ص260 کے بعد)

روح اللہ کی زندگی کا دوسرا دور (1921ء سے 1941ء تک):
روح اللہ کی زندگی کا یہ دور قم کی ہجرت سے شروع ہوا اور رضا خان کی دین کو سیاست سے دور کرنے کی سیاست کے ہمراہ 1942ء تک محیط ہے۔ اس دور میں روح اللہ تحصیل و تدریس، تالیف کتاب اور نوراللہ اصفہانی و مدرس اور بعض دوسرے بزرگ اور برجستہ جنگجو علماء سے آشنائی پیدا کرنے میں مشغول رہتے ہیں۔ رضا خان کے اس اختتامی دور میں علماء کا مقصد حوزہ علمیہ قم کی حفاظت تها۔ اس دور میں اس اقدام کی اہمیت 1979ء میں حکومت اسلامی کی تاسیس سے کم نہ تهی۔

روح اللہ کی زندگی کا تیسرا دور (1942ء سے 1961ء تک):
امام کی زندگی کا یہ دور چالیس برس سے آغاز ہوتا ہے اور دو اہم حوادث سے ہمکنار ہے، ایک دوسری عالمی جنگ، دوسرے ایران پر قبضہ۔ ایران سے رضا خان کا خروج اور محمد رضا کی سلطنت کا آغاز۔ امام کی نظر میں اصلاحی قیام کے لئے یہ بہترین موقع تها۔ امام خمینی کی تمام کوششوں اور اقدامات کے باوجود یہ قیام ممکن نہ ہوا۔ امام جو اس دور میں ایک کامل اور جامع الشرائط عالم اور ایک ہوشیار رہبر ہیں، اپنے علم اور اپنی سیاسی بصیرت سے رضا خان کے بیس سالہ دور کے تجربات کا بهر پور فائدہ اٹهاتے ہوئے ایک بیانیہ صادر فرماتے ہیں جس میں آپ اس امر کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ قیام کے لئے یہ بہترین موقع ہے کیونکہ آپ ایران اور دنیا کے حالات کا بخوبی علم رکهتے ہیں، اس بیانیہ میں آپ فرماتے ہیں کہ آج وہ دن ہے جب نسیم روحانیت چل رہی ہے اور اصلاحی قیام کے لئے بہترین دن ہے۔ اگر موقع ہاتھ سے نکل گیا اور خدا کے لئے قیام نہ کیا اور دینی رسومات کا بول بالا نہ کیا تو کل تم پر کچھ اوباش اور شہوت پرست افراد مسلط ہوں گے اور اپنے باطل اغراض و مقاصد کے لئے تمہارے آئین و شرف سے کهلواڑ کریں گے۔ (صحیفہ امام، ج1، ص21)

روح اللہ کی زندگی کا چوتها دور (1961ء سے 1989ء تک):
اس دور کا آغاز دو ناگوار حادثات سے ہوتا ہے، ایک آیۃ اللہ بروجردی کی رحلت (30/مارچ 1961ء)، جس کو عالم اسلام کے لئے ایک عظیم سانحہ اور دشمنان ایران و اسلام کے لئے رکاوٹوں کے خاتمہ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ دوسرے آیۃ اللہ کاشانی، استعمار برطانیہ سے نبردآزما بہادر کی رحلت، ان کے نام سے ایران و اسلام کے دشمنوں کے جسم پر لرزہ طاری ہوجاتا تها۔ امور مملکت پر امریکہ کے تسلط سے امریکی اصلاحات کے نفاذ کے لئے شاہ پر دباؤ بڑهتا گیا اور اصلاحات ارضی اور صوبائی انجمنوں کے لائحہ عمل کی صورت میں رونما ہوا، جو ظاہر میں عوام فریب تها لیکن حقیقت اور باطن میں ایک منحوس اتحاد کی خبر دے رہا تها اور امریکہ و اسرائیل اور ان کے عوامل کے تسلط کی مملکت کے تمام امور پر راہیں ہموار کررہا تها۔ اس وقت امام نے امریکی اصلاحات کا ڈٹ کر مقابلہ اور شاہ نے اس کی تلافی کے لئے 1963ء میں امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی شہادت کے دن مدرسہ فیضیہ پر حملہ کردیا۔ اس حادثہ میں کچه طلاب اور علماء شہید اور مجروح ہوئے، امام نے حادثہ فیضیہ کے چہلم کی مناسبت سے ایک پیغام میں اس راز سے پردہ اٹهایا، فرمایا کہ میں مصمم ہوں کہ خاموش نہ بیٹهوں، جب تک کہ فاسد حکومت کا قلع قمع نہ کردوں۔ امام نے 3 جون 1963ء کو مدرسہ فیضیہ میں ایک تاریخی تقریر کی اور شاہ نے امام کی آواز کو دبا دینے کا حکم صادر کیا۔

4 جون 1963ء کو شام کے وقت امام کو گرفتار کرکے زندان قصر منتقل کردیا گیا۔ 5 جون کو امام کی گرفتاری کی خبر تہران اور دوسرے شہروں میں جنگل کی آگ کی طرح پهیل گئی اور لوگ سڑکوں پر ابل پڑے اور یا موت یا خمینی، کا نعرہ لگاتے ہوئے قصر شاہ کی کی طرف روانہ ہوئے اور قیام کو شدت کے ساته کچل دیا گیا اور کشت و کشتار پر تمام ہوا۔ پانچ جون کا قیام رہبر انقلاب کی ترکیہ اور اس کے بعد عراق جلاوطنی پر علی الظاہر سست پڑگیا۔ امام کے بڑے صاحبزادے مصطفی کی 1978ء میں رمز آمیز شہادت نے اس قیام کے پیکر میں تازہ روح پهونک دی۔ 7 جنوری 1978ء میں روزنامہ اطلاعات میں امام اور روحانیت کے بارے میں ایک توہین آمیز مقالہ شائع ہوا، جس سے مذہبی حلقوں میں شدید اعتراض کی لہر دوڑ گئی اور یہ لہر 9 جنوری 1978ء کے قیام کا موجب ہوئی۔ 10 جنوری کو قم میں شہید ہونے والے شہداء کے چہلم کا پروگرام تبریز، اصفہان، یزد، شیراز اور دوسرے شہروں میں پیام کی صورت میں جاری رہا اور 8 ستمبر 1979ء کے قتل و کشتار پر تمام ہوا اور یہ سلسلہ شاہ کے ایران سے فرار اور امام کی وطن واپسی تک چلتا رہا۔ ایرانی عوام نے اپنے بے سابقہ استقبال کے ضمن میں بہشت زہرا میں اما م کی تاریخ تقریر سنی اور 21 بہمن 1979ء کو نظامی حکومت کو لغو کرنے کے حوالے سے آپ کے سرنوشت ساز حکم کو دل و جان سے تسلیم کیا۔ بہادر اور شجاع ملت نے امام کے حکم سے شاہ کی فوج کے حملے کو روکنے کے لئے شہر کے حساس علاقوں میں اپنی بے مثال استقامت و فداکاری کا نمونہ پیش کیا اور بغاوت کرنے والوں کے منصوبہ کو نقش بر آب کردیا اور ان کو کسی طرح کی کوئی مہلت نہ دی اور سرانجام 5 جون کے قیام کی کامیابی 11 فروری 1979ء کو سننے کو ملی۔

امام خمینی کی رہبریت اور لوگوں کا عشق انقلاب کی کامیابی کی ضمانت بنے:
11 فروری کی صبح سے لے کر 3 جون 1990ء تک بے شمار سنگین حوادث رونما ہوئے اور ان تمام حادثات کا محور امریکا کی مخاصمانہ کارروائیاں رہیں اور تمام مغربی ممالک نے اس میں اس کا ساتھ دیا اور سب نے مل کر ایران میں دائیں اور بائیں بازو کی مختلف پارٹیوں کی مدد سے اسلامی انقلاب کا مقابلہ کیا، لیکن سب کو منہ کی کهانی پڑی۔ ان حادثات کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ جس کو چند سطروں میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے صرف ایک حملے میں کہا جاسکتا ہے کہ ان حوادث میں سے ہر ایک تنہا انقلاب کے رخ کو موڑ سکتا تها اور انقلاب کو شکست سے دوچار کرسکتا تها۔ لیکن الطاف و عنایات خداوندی، امام کی ذہانت اور ملت ایران کی وفاداری اور آگاہی نے ان کے تمام منصوبوں اور سازشوں کو اس طرح نقش برآب کیا، جب ملت ایران گیارہ برس سختیاں اور مشکلات برداشت کرنے کے بعد اپنے عظیم الشان رہبر کے پیکر مطہر کو وداع کہنے کے لئے آئی تهی تو اس کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ تهی، جو تعداد آپ کے ایران واپسی کے موقع پر تهی۔ لوگوں کا عشق اور ان کی استقامت عمیق تر اور امام اور انقلاب کی راہ پر چلنے کے لئے ان کا عزم و ارادہ پختہ تر اور تمام سازشوں اور حوادث کے باوجود ان کا نظام ہر زمانے سے زیادہ پرثبات اور مستحکم تر تها۔ آپ کی روح شاد ہو اور آپ کی راہ پر چلنے والوں کی کثرت ہو۔