۱۴۰۱/۲/۱۶   2:17  ویزیٹ:692     نماز جمعہ کی خطبیں ارشیو


04 شوال 1443(ھ۔ ق) مطابق با 06/05/2022 کو نماز جمعہ کی خطبیں ​​​​​​​

 


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

الحمد للہ رب العالمین نحمدہ و نستعینه و نصلی و نسلم علی حافظ وسرہ و مبلغ رسالته سیدنا و نبینا ابی القاسم المصطفی محمد و علی آلہ الاطیبن الاطھرین المنجتبین سیما بقیة اللہ فی الارضین و صل علی آئمه المسلمین

 

اَللّهُمَّ کُنْ لِوَلِيِّکَ الْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ صَلَواتُکَ عَلَيْهِ وَعَلي آبائِهِ في هذِهِ السّاعَةِ وَفي کُلِّ ساعَةٍ وَلِيّاً وَحافِظاً وَقائِداً وَناصِراً وَدَليلاً وَعَيْناً حَتّي تُسْکِنَهُ أَرْضَکَ طَوْعاً وَتُمَتِّعَهُ فيها طَويلا

اَمَا بَعدْ ۔۔۔

عِبَادَ اللهِ أُوصِيکُمْ وَنَفْسِي بِتَقْوَى اللهِ و مَلاَزَمَةِ أَمْرِهْ و مَجَانِبَةِ نَهِیِّهِ و تَجَهَّزُوا عباد اللَّهُ فَقَدْ نُودِیَ فِیکُمْ بِالرَّحِیلِ وَ تَزَوَّدُواْ فَإِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوَی

 

محترم بندگان خدا، برادران ایمانی و عزیزان نماز گزاران!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

 

ابتدائے خطبہ میں تمام انسانیت سے تقویٰ الہٰی اپنانے، امور الہٰی کی انجام دہی اور جس سے خداوند کریم منع کریں اسے انجام نہ دینے کی تاکید کرتا ہوں۔

 

ممنوعات اور حرام سے بچنا اور فرائض کی ادائیگی جسے دین کی زبان میں تقویٰ سے تعبیر کیا جاتا ہے، دنیا و آخرت میں نجات کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔

قبل از ایں ایام عید الفطر کی مناسبت سے تمام بندگان خدا کی خدمت میں مبارک باد، ہدیہ تہنیت و تبریک پیش کرتا ہوں۔

قلت وقت کو مد نظر رکھتے ہوئے چند اہم مطالب آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔

 

 

اہل بیت   علیھم السلام کا اللہ کے ہاں بہت عظیم مقام ہے  اور انکے بارے میں اللہ تعالی نے آیہ تطہیر نازل  کیا، فرمایا :

إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَکُمْ تَطْهِير  و قُلْ لا أَسْأَلُکُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى 

 

اللہ کا ارادہ بس یہی ہے کہ ہر طرح کی ناپاکی کو  آپ ، اہل بیت سے دور رکھے!  اور آپ کو ایسے پاکیزہ رکھے جیسے پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔

شعائر اللہ کا تکریم کرنا ہم سب کا وظیفہ ہے۔

 

ذَٰلِکَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ  .

یہ ہمارا فیصلہ ہے اور جو بھی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے گا یہ تعظیم اس کے دل کے تقویٰ کا نتیجہ ہوگی

  ان شعائر اللہ میں سے ایک شعار  یہ ہے کہ  خاص افراد پر مزار بنایا جائیں تاکہ وہ اور لوگوں کے لیئے باعث عبرت بنے۔  جیسا کہ اصحاب کہف کے بارے  میں آیا ہے۔

إِذْ يَتَنَازَعُونَ بَيْنَهُمْ أَمْرَهُمْ ۖ فَقَالُوا ابْنُوا عَلَيْهِمْ بُنْيَانًا ۖ رَبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ ۚ قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَىٰ أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِمْ مَسْجِدًا 

یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ (بستی والے) لوگ ان (اصحاب کہف) کے معاملہ میں آپس میں جھگڑ رہے تھے (کہ کیا کیا جائے؟) تو (کچھ) لوگوں نے کہا کہ ان پر (یعنی غار پر) ایک (یادگاری) عمارت بنا دو۔ ان کا پروردگار ہی ان کو بہتر جانتا ہے۔ (آخرکار) جو لوگ ان کے معاملات پر غالب آئے تھے وہ بولے کہ ہم ان پر ایک مسجد (عبادت گاہ) بنائیں گے۔

 

 

اس ایت کی سیاق سے واضح  ہے کہ سب سے پہلے وہ مشرکین کی نظریہ کو بیان کر رہے ہیں کہ  جنکی  خوف سے اصحاب کہف غار میں  پناہ  لے گئے تھے  ۔

اور انہوں نے کہا کہ  ان پر کوئی مزار بنایا جائیں۔ لیکن جو لوگ اللہ کے ماننے والے تھے انہوں کہا کہ   مزار کے ساتھ ان پر مسجد بنایا جائیں  کیوں اس طرح کے مزاروں میں نہ فقط یہ کہ  یہ مسجد اور نماز کے ساتھ منافات نہیں رکھتا ہے بلکہ   اس میں نماز پڑھنے کا اجر زیادہ بھی ہے۔

اور دوسری بات یہ کہ   اللہ تعالی نے اس سے نہی بھی نہیں فرمایا  تو اہل بیت کا مزار بنانا اور یا کم سے کم اس کو خراب نہیں کرنا تو اس سے ثابت ہے۔ اور اجر رکھتا ہے۔

 

ہم کیا کریں کہ ماہ مبارک رمضان کے آثار و برکات کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں؟

 

اگر ہم اس مبارک مہینے میں داخل ہو چکے ہیں اور خدا کی مہمان نوازی میں بھی شامل ہو چکے ہیں تو اس کے اثرات سالہا سال باقی رہنا چاہیے یا کم از کم آئندہ رمضان تک تو محفوظ رکھ ہی سکتے ہیں۔ واجبات کا انجام دینا اور محرمات کو ترک کرنا ایک ایسا عظیم اور چمکتا نور بن جاتا ہے جو روزہ رکھنے والوں کو خودبخود اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ یہاں تک کہ مستحبات کو انجام دینے پر بھی انسان کو رغبت دلاتا ہے۔

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ روزہ رکھنے اور خواہشات نفسانی کا مقابلہ کرنے کے بہت گہرے اثرات ہماری روح و بدن پر پڑتے ہیں۔ چاہتا ہوں وہ نکات ذکر کروں جن کی وجہ سے یہ آثار و برکات دیر پا ہو جاتے ہیں۔

 

اول:

ان تمام چیزوں سے اجتناب کریں جس سے روحانی اثرات زائل ہو جاتے ہیں۔ تقوٰی اپنائیں، واجبات کے انجام دینے اور محرمات کے ترک کر دینے پر نفس کو مجبور کریں۔

 

دوم:

کسی بھی شے کے اثرات کو باقی رکھنے کے لیے ہمیں دو مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے:

1۔ پہچان اورمعلومات حاصل کرنا۔

2۔ معلومات حاصل کرنے کے بعد ان پر عمل کرتے رہنا۔

 

اگر انسان چاہے کہ کسی شے کو سیکھ لے تو سب سے پہلے اس کی معلومات حاصل کرنا یا جان لینا ضروری ہے تاکہ اس کے انجام دینے کی مہارت کو پیدا کیا جا سکے۔ اب جبکہ مہارت کو سیکھ چکے ہیں تو دوسرے مرحلے میں اس مہارت کو ہمیشہ کے لیے استعمال اور محفوظ رکھنا یہاں تک کہ یہ عادت اور ملکاء بن جائے۔

 

سوم:

اگر ہم چاہیں کہ اپنی مہارت کو ملکاء میں تبدیل کریں تو بار بار اس کا تکرار کرنا ہو گا۔ اگر ایسا نہیں کیا تو زمانے کے گذرنے کے ساتھ یہ مہارتیں کم ہو جاتی ہیں اور اگر تکرار بالکل ہی نہ ہو تو یہ بالکل مٹ جائیں گی۔

 

چہارم:

ہمیشہ اور استقامت کے ساتھ کسی بھی عمل پر ثابت قدم رہنا اس بات کا موجب یا سبب بن جاتا ہے کہ اس کے اثرات ہمیشہ باقی رہیں۔

 

امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:

أَحَبُّ الأَعمالِ إِلى اللَّهِ تَعالى ما دامَ عَلَيهِ العَبدُ وَ إِن قَلَّ

اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ کے لیے مداومت (تسلسل) کے ساتھ انجام دیا جائے اگرچہ کم کیوں نہ ہو۔

 

پیشوائے متقیان و پرہیز گاران امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

قَليلٌ تَدومُ عَلَيهِ أَرجى مِن کَثيرٍ مَملولٍ مِنهُ

وہ قلیل عمل جو ہمیشہ اور مداومت (تسلسل) کے ساتھ انجام دیا جائے کئی گنا بہتر ہے اس زیادہ عمل سے جس میں انسان تھک جائے اور ہمیشہ کے لیے انجام نہ دے پائے۔

 

اب جبکہ ہم یہ سمجھ چکے ہیں کہ کسی بھی عمل کو ہمیشہ انجام دینے سے ہی طول زمان میں اس کا اثر ظاہر ہوتا ہے اور کسی بھی شے کو ملکاء بنانا تکرار کرنے کا نتیجہ ہے تو اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہر عمل پر ہمیشہ ثابت قدم اور مداوم رہنا چاہیے۔ اگر ہم ہر دن ایک جز قرآن کو تلاوت کرتے رہیں اور تسلسل سے کریں تو یہ اس سے بہتر ہے کہ ایک دن میں تو کئی پارے پڑھیں اور اگلے دن ترک کر دیں۔

خدایا ظہور امام زمان علیہ السلام میں تعجیل فرما۔

خدایا پروردگارا! ہماری نیک توفیقات میں اضافہ فرما۔ ہمارے تمام امور میں ہمیں عاقبت بخیر بنا، حاجتوں کی تکمیل میں راہنمائی فرما، تمام بیماران کو امراض سے نجات دے، صحت و سلامتی عطا فرما، فقر و ناداری کو مال و ثروت و سخاوت میں بدل دے،  برے حالات کو اچھے حالات میں بدل دے،  امام زمان عجل اللہ فرجہ شریف کے ظہور پرنور میں تعجیل فرما اور ہمیں اُن کے انصارین میں شامل فرما۔

 

اللهمَّ أدخل على أهل القبور السرور، اللهم أغنِ کل فقير، اللهم أشبع کل جائع، اللهم اکسُ کل عريان، اللهم اقضِ دين کل مدين، اللهم فرِّج عن کل مکروب، اللهم رُدَّ کل غريب، اللهم فک کل أسير، اللهم أصلح کل فاسد من أمور المسلمين، اللهم اشفِ کل مريض، اللهم سُدَّ فقرنا بغناک، اللهم غيِّر سوء حالنا بحسن حالک، اللهم اقضِ عنا الدين وأغننا من الفقر إنَّک على کل شيء قدير

 

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ کَانَ تَوَّابًا۔

اَللّهُمَّ عَجِّلْ لِوَلِیِّکَ الْفَرَجَ وَ الْعافِیَةَ وَ النَّصْرَ  وَ اجْعَلْنا مِنْ خَیْرِ اَنْصارِهِ وَ اَعْوانِهِ  وَ الْمُسْتَشْهَدینَ بَیْنَ یَدَیْهِ