۱۴۰۳/۱/۱۰   0:58  ویزیٹ:148     نماز جمعہ کی خطبیں ارشیو


11 رمضان المبارک 1445(ھ۔ ق) مطابق با 22/03/2024 کو نماز جمعہ کی خطبیں

 


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

الحمد للہ رب العالمین احمدہ علی عواطف کرمه ، سوابغ نعمه حمدا لا منتہی لحمدہ ، و لا حساب لعددہ، و لامبلغ لغایتہ ، و لاانقطاع لامرہ و الصلاہ و السلام علی آمین وحیہ ، خاتم رسلہ و بشیر رحمتہ ، و نذیر نعمتہ سیدنا و نبینا محمد و علی آلہ الطیبین الطاہرین ، صحبہ المنتجبین و الصلاہ علی آئمہ المسلمین سیما بقیتہ اللہ فی الارضین ،

 

اَللّهُمَّ کُنْ لِوَلِيِّکَ الْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ صَلَواتُکَ عَلَيْهِ وَعَلي آبائِهِ في هذِهِ السّاعَةِ وَفي کُلِّ ساعَةٍ وَلِيّاً وَحافِظاً وَقائِداً وَناصِراً وَدَليلاً وَعَيْناً حَتّي تُسْکِنَهُ أَرْضَکَ طَوْعاً وَتُمَتِّعَهُ فيها طَويلا

اَمَا بَعدْ ۔۔۔

عِبَادَ اللهِ أُوصِيکُمْ وَنَفْسِي بِتَقْوَى اللهِ و اتباع امرہ۔

محترم بندگان خدا، برادران ایمانی و عزیزان نماز گزاران!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

ابتدائے خطبہ میں تمام انسانیت سے تقویٰ الہٰی اپنانے، امور الہٰی کی انجام دہی اور جس سے خداوند کریم منع کریں اسے انجام نہ دینے کی تاکید کرتا ہوں۔

انسان مسافر ہے اور مسافر کو  سفر کے لیے مخصوص سامان  اور کی ضرورت ہے۔ کہ جسکوزاد راہ کہا جاتا ہے۔  اور بہترین زاد راہ کیا ہے ؟

فرماتے ہے:      و تزوّدوا فانّ خیر الزاد التقوی؛ (6)

تقوی اختیار کرو اور پرہیز گار بنو یاد رکھو کہ بہترین زاد راہ تقوی ہے۔

آخرت  کی  راہ  پر چلنے والوں کے لیے  بہترین  زاد راہ  تقویٰ  ہے  بس ہمیں چاہئے کہ تقوی اختیار کریں ۔

 

تقویٰ کے حصول کے لیے کھبی ضرورت ہوگا کہ  زمانے کے مطابق علمی طور پر تجزیہ اور تحلیل کریں اور عمل کرنے کے  لیےضروری ہدایات مضبوطی سے  عمل پیرا رہے   اور اس آیت کے مطابق  اس  بات کے  لیے   ہمیں چاہئے کہ   ہم روزے  کے اصول کو آپنائیں  کیونکہ روزے  ہمارے لیے معنوی طور پر  زاد راہ بناتا ہے۔  اور روزہ رکھنے والا انسان اپنے روزے کے ساتھ  تقوی اپنا سکتا ہے۔

2. روزہ مادی اور روحانی لحاظ سے مختلف جہتوں اور بہت سے اثرات کا حامل ہے۔روزہ اخلاقی جہت کے ساتھ ساتھ معاشرتی اور صحت اور نفسیاتی لحاظ سے بھی اثرات رکھتا ہے اور انسانی صحت و تندرستی کو یقینی بناتا ہے۔

 

 

اخلاقی طور پر، روزہ انسانی روح کو نرم کرتا ہے، انسانی ارادے کو تقویت دیتا ہے، اور اس کی خواہشات اور جبلتوں کو معتدل کرتا ہے۔ کیونکہ روزہ دار سب سے پہلے بھوک اور پیاس کو برداشت کر کے اور جنسی لذت کو ترک کر کے اپنی روح کو نرم کرتا ہے اور اس طرح وہ اپنی سرکش  نفس اور حوس  پر قابو پا لیتا ہے اور اس کی خواہشات پر غلبہ پا لیتا ہے اور اس  طرح اپنے نفس پر غلبہ حاصل کر کے انسان  کی دل کو نور اور طہارت حاصل ہوتی ہے۔

اور دوسرا یہ کہ کھانے پینے اور لذتوں کو وقتی طور پر ترک کر کے حلال کے ذریعے ان تک رسائی کے امکان کے ساتھ وہ رمضان کے دوسرے مہینوں میں حرام سے بچنے کے لیے اپنے اندر مزاحمت کا جذبہ پیدا کرتا ہے

دوسرے لفظوں میں: اپنے ارادے کو مضبوط کرتا ہے۔ اور اس طرح  ہر اس چیز سے آسانی سے بچ سکتا کہ جو حرام ہے۔

 

اور تیسرا، مضبوط ارادے کے ساتھ، وہ اپنی خواہشات کو اعتدال میں لاتا ہے،  اور  جانوروں کی صفات نکل جاتا ہے وہ  جانور کہ  جو صرف  اپنے خواہشات اور جبلت کے زیر اثر عمل کرتے ہیں،

لیکن روزہ دار انسان کی خوہشات  اس کے قبضے میں ہوتی ہیں کہ وہ ان کو کہاں  استعمال کریں اور کہا ں پر نہ کریں ،  اس طرح    روزہ انسان کو حیوانات کی دنیا سے  نکال  کر عالم ملکوتی  اور فرشتوں کی صف میں شامل کر دیتا ہے۔

اسلامی روایات میں روزہ کو جہنم کی آگ کے خلاف ڈھال کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: الصوم جنة من النار؛     روزہ جہنم کی آگ کے مقابلے کے لیے ڈھال ہیں۔

 

 

امام صادق علیہ السلام اپنے آباء و اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: الا اخبرکم بشی ء ان انتم فعلتموه تباعدالشیطان منکم کما تباعدالمشرق من المغرب به قالوا بلی یا رسول اللّه (ص) قال: الصوم یسود وجهه و الصدقة تکسّر ظهره و الحب فی اللّه و الموازرة علی العمل الصالح یقطع دابره و الاستغفار یقطع وتینه و لکل شی ء زکاة و زکاة الابدان الصیام؛

کیا میں تمہیں ایسے چیز کی خبر دوں    کہ اگر تم  لوگوں نے اس عمل کیا تو شیطان سے اتنے دور ہو جاوں گے  کہ جتنا مشرق، مغرب سے دور ہے

تو اصحاب نے فرمایا  جی ہاں یا رسول اللہ ۔

تو آپ  صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم نے فرمایا

روزہ شیطان کے چہرے کو سیاہ کر دیتا ہے اور راہِ خدا میں صدقہ دینے سے اس کی کمر ٹوٹ جاتی ہے، اور خدا کی خاطر محبت کرنا اور عمل صالح کرنا اس کی  منصوبوں  کو کاٹ دیتا ہے اور خدا سے استغفار کرنا، اس کی  رگ کو کاٹ دیتا ہے۔ ہر چیز کی زکوٰۃ ہے  اور بدن کا  زکوٰۃ روزہ ہے۔

حضرت امیر (ع) نے فرمایا: والصیام ابتلاءً لاخلاص العمل؛

روزہ انسان کی عمل میں اخلاص لاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے لوگوں میں اخلاص کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے روزے کو فرض کیے ہیں۔

 

 

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: : انّ للجنة باباً یدعی الریّان لایدخل منه الّا الصائمون؛ ۔ جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں جس سے صرف روزہ دار ہی داخل ہو سکتے ہیں۔

 

 

 

 

دوسرا خطبہ

بخاری صحیح بخاری میں لکھتے ہیں: [صحیح  بخاری اہل سنت کا سب سے معتبر  کتاب کہ جس میں حدیثیں آئی ہیں]

«اتی جِبْرِیلُ النبی صلی الله علیه وسلم فقال یا رَسُولَ اللَّهِ هذه خَدِیجَةُ قد اَتَتْ مَعَهَا اِنَاءٌ فیه اِدَامٌ او طَعَامٌ او شَرَابٌ فاذا هِی اَتَتْکَ فَاقْرَاْ علیها السَّلَامَ من رَبِّهَا وَمِنِّی وَبَشِّرْهَا بِبَیتٍ فی الْجَنَّةِ من قَصَبٍ لَا صَخَبَ فیه ولا نَصَبَ؛

جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: یا رسول اللہ! یہ خدیجہ ہیں جو آئی ہیں اور ان کے پاس  ایک برتن ہے جس میں   کھانے اور پینے کی چیزیں ہے۔ جب وہ تمہارے پاس آئے تو اسے  اپنے  رب کی طرف سے  اور میری طرف سے سلام کہو اور اسے جنت میں ایسے گھر کی بشارت دو  کہ جس میں  سکون ہی سکو ن ہے اور  کوئی شور یا آواز نہیں ہے۔

 

اسی طرح کی روایت صحیح مسلم میں بھی ہے۔

اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد شمس الدین ذہبی لکھتے ہیں:

کہ اس حدیث کے صحیح ہونے پر اجماع ہے۔

امامیہ کے منابع میں خدا اور جبرائیل کے سلام کے بارے میں بھی اس طرح   کہا گیا ہے:

«عن زرارة و حمران و محمد بن مسلم عن ابی جعفر ع قال حدث ابو سعید الخدری ان رسول الله صقال: ان جبرئیل ع قال لی لیلة اسری بی حین رجعت و قلت یا جبرئیل هل لک من حاجة قال حاجتی ان تقرا علی خدیجة من الله و منی السلام و حدثنا عند ذلک انها قالت حین لقاها نبی الله (صلی‌الله‌علیه‌و‌آله‌وسلّم) فقال لها الذی قال جبرئیل فقالت ان‌ الله‌ هو السلام‌ و منه السلام و الیه السلام و علی جبرئیل السلام‌»

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معراج کی رات جب جبرائیل علیہ السلام مجھے آسمان پر لے گئے، جب میں واپس آیا تو میں نے جبرائیل سے کہا: کیا تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہے؟ جبرائیل نے کہا: "میری ضرورت یہ ہے کہ تم خدا  وند متعال کا  سلام اور میرا سلام خدیجہ کو پہنچاؤ۔" جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تشریف لائے تو آپ نے خدیجہ کو خدا اور جبرائیل کا سلام پہنچایا۔ حضرت خدیجہ نے کہا: سلامتی کلا خدا  کی طرف سے ہے اور اللہ نام  ہی سلام  ہے  اور سب سلامتیاں  انکی طرف پلٹ کی جاتی ہیں  اور سلام ہو جبرائیل پر۔

حضرت خدیجہ کبری (سلام اللہ علیہا) کی خصوصیات میں سے ان پر اللہ تعالیٰ کی  تعریف اور تمجید  ہے۔

جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے رب کی طرف سے چالیس دن کا شیڈول ملا اور یہ طے پایا کہ وہ چالیس دن تک اپنی بیوی سے دور رہیں گے تو عمار یاسر رضی اللہ عنہ  )  کے ذریع  اسے پیغام بھیجا کہ:

 

«یا خدیجة لا تظنی ان انقطاعی عنک [هجرة] و لا قلی‌ و لکن ربی (عزّوجلّ) امرنی بذلک لتنفذ [لینفذ] امره فلا تظنی یا خدیجة الا خیرا فان الله (عزّوجلّ) لیباهی‌ بک‌ کرام‌ ملائکته‌ کل یوم مرارا.

"اے خدیجہ! تم سے میری دوری کی وجہ یہ نہ سمجھو کہ میں تم پر غصہ  ہوں،  یا تم سے ناراض ہو ں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس دوری کا حکم دیا ہے اور میں اس کے حکم کی تعمیل کے لیے یہ  کر رہا ہوں، اور تم  بھی اس میں سوائے خیر کے اور کوئی خیال نہ رکھنا۔ یہ بات  یاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ  روزانہ کئی بار فرشتوں  کے سامنے آپ کی تعریف کرتا ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے حضرت خدیجہ کبریٰ سلام اللہ علیہا کے فضائل کا بھی ذکر فرمایا اور ایسی بیوی ہونے پر فخر کیا اور انہیں بڑی شان کے ساتھ یاد فرمایا:

«خَدِیجَةُ وَ اَینَ‌ مِثْلُ‌ خَدِیجَةَ صَدَّقَتْنِی حِینَ کَذَّبَنِی النَّاسُ وَ آزَرَتْنِی عَلَی دِینِ اللَّهِ وَ اَعَانَتْنِی عَلَیهِ بِمَالِهَا اِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ اَمَرَنِی اَنْ اُبَشِّرَ خَدِیجَةَ بِبَیتٍ فِی الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبِ الزُّمُرُّدِ لَا صَخَبَ فِیهِ وَ لَا نَصَب‌؛

خدیجہ تو پھر خدیجہ ہے  اور خدیجہ جیسی کہاں ہے! اس نے میری اس وقت  تصدیق کی کہ جب لوگوں نے میراانکار کیا۔ اور اس نے خدا کے دین میں میری مدد کی اور اپنے تمام مال سے میری مدد کی۔ خدا نے مجھے حکم دیا کہ  میں خدیجہ کو  جنت میں زمرد سے بنے  محل کی بشارت دوں ، کہ کوئی شور شرابہ یا آوازیں نہیں ہے  اور اس  کے لیے  کوئی تکلیف نہیں  ہوگی اور وہاں سکون ہی سکون ہے۔

اور یہ بھی روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے مسجد میں امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کا لوگوں کے سامنے تعارف کرایا:

«یا اَیهَا النَّاسُ اَ لَا اُخْبِرُکُمُ الْیوْمَ بِخَیرِ النَّاسِ‌ جَدّاً وَ جَدَّةً؟ قَالُوا بَلَی یا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ عَلَیکُمْ بِالْحَسَنِ وَ الْحُسَینِ فَاِنَّ جَدَّهُمَا رَسُولُ اللَّهِ وَ جَدَّتَهُمَا خَدِیجَةُ الْکُبْرَی بِنْتُ خُوَیلِدٍ سَیدَةُ نِسَاءِ الْجَنَّة؛

اے لوگو!  کیا آج  میں آپ لوگوں  کو بہت  بہترین لوگوں کے بارے میں آگاہ نہیں کروں ؟ کہ وہ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، اے  خدا کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم  لوگوں   حسن اور حسین کے بارے میں تاکید کرتا کہ انکی بہت خیل رکھیں کیونکہ ان  کا دادا  اللہ کا رسول ہے اور ان کی دادی خدیجہ کبری ہیں، جو خویلد کی بیٹی ہے  اور جنت کی عورتوں کی سردار ہیں۔

امام  حسن مجتبی علیہ السلام  نے فرمایا:

وَ کُنْتُ اَنَا اَشْبَهَ‌ النَّاسِ‌ بِخَدِیجَةَ الْکُبْرَی

میں اپنی دادی خدیجہ الکبری  کے ساتھ بہت مشابہت رکھتا ہوں ۔

ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا پنجتن پاک ساتھ  اپنے  شیعوں کی شفاعت کریں گی:

علی بن محمد بن علی بن سعد الاشعری‌ عن حمدان بن یحیی‌ عن بشر بن حبیب، عن ابی عبدالله ع‌ انه سئل عن قول الله عز و جل‌ و بینهما حجاب و علی الاعراف رجال‌قال: «سور بین الجنة و النار، قائم علیه محمد (صلی‌الله‌علیه‌وآله) و علی و الحسن و الحسین و فاطمة و خدیجة ع فینادون: این محبونا این شیعتنا، فیقبلون الیهم فیعرفونهم باسمائهم و اسماء آبائهم، و ذلک قوله تعالی‌ یعرفون کلا بسیماهم ‌فیاخذون بایدیهم (فیجوزون بهم) الصراط و یدخلونهم الجنة»

بشر بن حبیب کہتے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام سے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں پوچھا گیا کہ " اور (اہل جنت اور اہل جہنم) دونوں کے درمیان ایک حجاب ہو گا اور بلندیوں پر کچھ ایسے افراد ہوں گے " امام نے فرمایا کہ جنت و جہنم کے درمیان ایک دیوار ہے۔ اس پر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، علی ، حسن  اور حسین، فاطمہ اور خدیجہ سلام اللہ علیہا کھڑے ہو کر پکار رہے ہیں کہ ہمارے چاہنے والے کہاں ہیں؟ ہمارے شیعہ کہاں ہیں؟   تو انکے  دوستوں اور شیعوں کو ان کی خدمت میں لایا جائیگا۔ جو انہیں ان کے ناموں اور ان کے     باپوں  کے ناموں سے جانتے ہیں، یہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ   (یعرفون کلا بسیماهم ‌فیاخذون بایدیهم ) جو ہر ایک کو ان کی شکلوں سے پہچان لیں گے "

اور انکو ہاتھوں سے پکڑ کر انکو پل صراط عبور  کرائیں گے اور انکو جنت میں لے جائیں گے۔

 

خدایا پروردگارا! ہماری نیک توفیقات میں اضافہ فرما۔ ہمارے تمام امور میں ہمیں عاقبت بخیر بنا، حاجتوں کی تکمیل میں راہنمائی فرما، تمام بیماران کو امراض سے نجات دے، صحت و سلامتی عطا فرما، فقر و ناداری کو مال و ثروت و سخاوت میں بدل دے، برے حالات کو اچھے حالات میں بدل دے، امام مہدی عجل الله فرجہ شریف کے ظہور پرنور میں تعجیل فرما اور ہمیں اُن کے انصارین میں شامل فرما۔

دعا کرتے ہیں کہ ہم سبھی کو مکتبہ قرآن اور چھاردہ معصومین علیہم السلام میں سے قرار دے۔

اللهمَّ أدخل على أهل القبور السرور، اللهم أغنِ کل فقير، اللهم أشبع کل جائع، اللهم اکسُ کل عريان، اللهم اقضِ دين کل مدين، اللهم فرِّج عن کل مکروب، اللهم رُدَّ کل غريب، اللهم فک کل أسير، اللهم أصلح کل فاسد من أمور المسلمين، اللهم اشفِ کل مريض، اللهم سُدَّ فقرنا بغناک، اللهم غيِّر سوء حالنا بحسن حالک، اللهم اقضِ عنا الدين وأغننا من الفقر إنَّک على کل شيء قدير

 

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ کَانَ تَوَّابًا

اَللّهُمَّ عَجِّلْ لِوَلِیِّکَ الْفَرَجَ

وَ الْعافِیَةَ وَ النَّصْرَ

وَ اجْعَلْنا مِنْ خَیْرِ اَنْصارِهِ وَ اَعْوانِهِ

وَ الْمُسْتَشْهَدینَ بَیْنَ یَدَیْهِ