۱۴۰۳/۲/۱۴   2:34  ویزیٹ:108     نماز جمعہ کی خطبیں ارشیو


24 شوال 1445 ھ ق برابر با 03/05/2024 کو نماز جمعہ کی خطبیں

 


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

الحمد للہ رب العالمین احمدہ علی عواطف کرمه ، سوابغ نعمه حمدا لا منتہی لحمدہ ، و لا حساب لعددہ، و لامبلغ لغایتہ ، و لاانقطاع لامرہ و الصلاہ و السلام علی آمین وحیہ ، خاتم رسلہ و بشیر رحمتہ ، و نذیر نعمتہ سیدنا و نبینا محمد و علی آلہ الطیبین الطاہرین ، صحبہ المنتجبین و الصلاہ علی آئمہ المسلمین سیما بقیتہ اللہ فی الارضین ،

 

اَللّهُمَّ کُنْ لِوَلِيِّکَ الْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ صَلَواتُکَ عَلَيْهِ وَعَلي آبائِهِ في هذِهِ السّاعَةِ وَفي کُلِّ ساعَةٍ وَلِيّاً وَحافِظاً وَقائِداً وَناصِراً وَدَليلاً وَعَيْناً حَتّي تُسْکِنَهُ أَرْضَکَ طَوْعاً وَتُمَتِّعَهُ فيها طَويلا

اَمَا بَعدْ ۔۔۔

عِبَادَ اللهِ أُوصِيکُمْ وَنَفْسِي بِتَقْوَى اللهِ و اتباع امرہ۔

محترم بندگان خدا، برادران ایمانی و عزیزان نماز گزاران!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

ابتدائے خطبہ میں تمام انسانیت سے تقویٰ الہٰی اپنانے، امور الہٰی کی انجام دہی اور جس سے خداوند کریم منع کریں اسے انجام نہ دینے کی تاکید کرتا ہوں۔

سب سے پہلے  امام صادق علیہ السلام کے یوم شہادت پر تعزیت پیش کرتے ہوں۔ جعفر بن محمد علیھما سلام ، جسے امام جعفر صادق علیہ السلام کے نام سے جانا جاتا ہے، خاندان پیغمبر میں چھٹے امام ہے، وہ خاندان کہ جن کے بارے میں  اللہ نے فرمایا ہے۔ انما یریدالله لیذهب عنکم الرجس اهل بیت و یطهرکم تطهیرا

امام صادق علیہ السلام 83 ہجری قمری میں پیدا ہوئے اور 148 ھ ق میں شہید ہوئے، امام باقر نے انہیں لوگوں میں اپنے بعد امام کے طور پر متعارف کرایا۔ اور حقیقت میں امامت خدا کے فرمان کے مطابق ہے۔ کہ جب اللہ نے فرمایا: و اذ ابتلی ابراهیم ... یا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِيفَةً فِي الأرْضِ

جب حضرت ابراھیم علیہ السلا اللہ کے سامنے امتحان میں قبول ہو گئے تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ میں تجھے لوگوں کے لیے امام بنا رہا ہوں۔  یا اسی طرح حضرت داود سے فرمایا کہ اے داود میں نے تجھے زمین میں اپنا خلیفہ بنا دیا۔

حضرت امام صادق علیہ السلام کی امامت 114 سے 148 تک 34 سال تھا ۔ امام صادق علیہ السلام کی علمی سرگرمیاں دوسرے ائمہ کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی۔ ان کے شاگردوں کی تعداد 4000 سے زیادہ ہے۔ اہل بیت کی زیادہ تر روایات امام صادق سے  روایت ہوئی ہیں، اس لیے اہل بیت کے پیروکاروں کے مذہب کو جعفری مذہب کہا جاتا ہے، حالانکہ مذھب شیعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے شروع ہو چکا تھا۔ امام صادق کو باقی فقہی اماموں میں اعلیٰ مقام حاصل ہے اور ابو حنیفہ اور مالک بن انس نے ان سے روایت نقل کی ہے۔ ابوحنیفہ انہیں مسلمانوں میں سب سے زیادہ عالم سمجھتے تھے۔

امام صادق علیہ السلام نے شیعوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ بات چیت کرنے، شرعی سوالات کے جوابات دینے اور ان کے مسائل سے نمٹنے کے لیے وکالت کا طریقہ کار معرفی کیا اور اس ذریع سے انجام دیتا رہا۔ اس تنظیم کی سرگرمی کو بعد کے ائمہ نے وسعت دی اور  غیبت صغری میں بھی جاری رکھی اور غیبت کبری میں اپنے عروج کو پہنچی۔ امام صادق (ع) کو زہر سے شہید کیا گيا۔ امام صادق علیہ السلام  نے امام کاظم علیہ السلام  کو اپنے بعد امام کے طور پر اپنے پیروکاروں سے متعارف کرایا۔ امام صادق علیہ السلام نے اپنی وصیت میں لوگوں کی سعادت اور بہترین زندگی  کے لیے بہت خوبصورت نصیحتیں کی، فرماتے ہیں۔

امام صادق علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت کاظم علیہ السلام سے فرمایا۔  : يا بُنَيَّ ، اقبَلْ وَصِيَّتي و احفَظْ مَقالَتي ؛ فإنّکَ إن حَفِظتَها تَعِشْ سَعيدا و تَمُتْ حَميدا .

اے میرے بیٹے میرے ان وصیتوں پر عمل کرنا  اور جو کچھ میں کہ رہا  ہوں اسکو   آچھے طریقے سے یاد رکھنا ، اور اگر آپ نے   اس کو یاد رکھا تو  تم بہت اچھی زندگی جی سکو گے اور قابل  تعریف موت  کے  ذریع اپنے خالق  سے ملاقات کروگے۔ 

 

  يا بُنَيَّ ، مَن قَنَعَ بِما قُسِمَ لَهُ استَغنى

اے میرے بیٹے جو کچھ تمہیں اللہ سے ملا ہے اگر تم اس پر راضی رہو گے تو دوسرے لوگوں سے بے نیاز ہو جاوگے۔

، و مَن مَدَّ عَينَيهِ إلى ما في يَدِ غَيرِهِ ماتَ فَقيرا

اور اگر کوئی دوسروں کی ہاتھ میں موجود چیزو ں کی طرف دیکھتا رہے گا  تو    وہ  خوار اور غریب مرے گا۔

 

 

و مَن لَم يَرْضَ بِما قَسَمَ اللّه ُ لَهُ اتَّهَمَ اللّه َ في قَضائهِ

جو کوئی اس سے مطمئن نہیں ہے جو خدا نے اس کے لئے تقسیم کیا ہے وہ اس فیصلے میں خدا پر الزام لگاتا ہے۔

، و مَنِ استَصغَرَ زَلَّةَ نَفسِهِ استَعظَمَ زَلَّةَ غَيرِهِ

اور جو اپنی   غلطی کو کچھ نہیں  سمجھتا تو وہ دوسروں کی غلطیوں کو بڑا سمجھنے لگتا  ہے اور ان پر انگلی اٹھاتا رہتا ہے۔

يا بُنَيَّ ، مَن کَشَفَ عن حِجابِ غَيرِهِ تَکَشَّفَت عَوراتُ بَيتِهِ

اے میرے بیٹے جو شخص دوسروں کے عیبوں  سے  پردہ ہٹائے گا اس کے گھر کی  عیب   ظاہر ہو جائیں گے۔

و مَن سَلَّ سَيفَ البَغيِ قُتِلَ

اور جو سرکشی کی تلوار کھینچے گا وہ   خود اسی سے مارا جائے گا۔

و مَنِ احتَفَرَ لأخيهِ بِئرا سَقَطَ فيها

اور جو اپنے بھائی کے لیے کنواں کھودے گا وہ خود  اس میں گرے گا۔

و مَن داخَلَ السُّفَهاءَ حُقِّرَ

اور جو احمقوں  کا ہم نشین ہوگا  وہ حقیر  ہوجا‏ئیگا ہے۔

، و مَن خالَطَ العُلَماءَ وُقِّرَ

اور جو علماء کا ہم نشین ہوگا  وہ قابل احترام  بن جائیگا ہے۔

و مَن دَخلَ مَداخِلَ السَّوءِ اتُّهِمَ

اور جو بد نام جگہوں پر جائے گا اس پر الزام لگ جائے گا۔

يا بُنَيّ ، إيّاکَ أن تَزري بِالرِّجالِ فيُزرى بِکَ

اے میرے بیٹے ہوشیار رہنا لوگوں کو دھوکہ نہ دینا ورنہ وہ لوگ تم کو دھوکہ دیں گے۔

 

و إيّاکَ و الدُّخولَ فيما لا يَعنيکَ فتَزِلَّ (فَتُذَلَّ)

اور اس چیز میں داخل ہونے سے بچو جس سے تمہارا کوئی تعلق نہیں، ایسا نہ ہو کہ تم رسوا ہو جاؤ (تو تم ذلیل ہو جاؤ گے)۔

قُلِ الحَقَّ لَکَ و علَيکَ تُستَشارُ مِن بَينِ أقرانِکَ

آپ   ہمیشہ حق  بولیں  اپنے لیے بھی  اور دوسروں کے لیے بھی  تو آپ کے ساتھیوں میں سے آپ سے مشورہ لیا جائے۔

يا بُنَيَّ ، کُنْ لِکِتابِ اللّه ِ تالِيا

اے میرے بیٹے قرآن کی تلاوت کرنے ولا بنوں۔

و للإسلامِ فاشِيا

اور  مبلغ اسلام بنوا۔

و بِالمَعروفِ آمِرا ، و عَنِ المُنکَرِ ناهِيا اور امر بالمعروف کرو اور  نہی عن المنکر کرو، و لِمَن قَطَعَکَ واصِلاً  اور جو آپ سے قطع تعلق کریں ان سے تعلق  بنا لو۔ و لِمَن سَکتَ عَنکَ مُبتَدِئا  اور جو اپ سے ناراض ہوجائیں اور بات کرنا چھوڑ دیں تو آپ شروع کریں، و لِمَن سَألَکَ مُعطِيا اور جو تم سے کچھ مانگے تو اسکو دے دو  ،

و إيّاکَ و النَّميمَةَ فإنّها تَزرَعُ الشّحناءَ في قُلوبِ الرِّجالِ

ایسے  لوگوں کی باتیں ایک دوسرے کے پاس نہ لے جاو ، جس سے لوگوں کی دلوں میں نفرت پھیلتا ہیں۔

و إيّاکَ و التَّعَرُّضَ لِعُيوبِ النّاسِ ، فمَنزِلَةُ المُتَعَرِّضِ لِعُيوبِ النّاسِ کمَنزِلَةِ الهَدَفِ

لوگوں کی عیبوں کے پیچھے مت پڑو ورنہ  آپ کے عیب اسی طرح لوگوں کا مقصد بن  جائیں گے. يا بُنَيَّ ، إذا زُرتَ فَزُرِ الأخيارَ

اے میرے بیٹے اگر لوگوں سے ملنا چاہو تو اچھے لوگوں سے مل میلاپ بناو۔

خدایا پروردگارا! ہماری نیک توفیقات میں اضافہ فرما۔ ہمارے تمام امور میں ہمیں عاقبت بخیر بنا، حاجتوں کی تکمیل میں راہنمائی فرما، تمام بیماران کو امراض سے نجات دے، صحت و سلامتی عطا فرما، فقر و ناداری کو مال و ثروت و سخاوت میں بدل دے، برے حالات کو اچھے حالات میں بدل دے، امام مہدی عجل الله فرجہ شریف کے ظہور پرنور میں تعجیل فرما اور ہمیں اُن کے انصارین میں شامل فرما۔

دعا کرتے ہیں کہ ہم سبھی کو مکتبہ قرآن اور چھاردہ معصومین علیہم السلام میں سے قرار دے۔

اللهمَّ أدخل على أهل القبور السرور، اللهم أغنِ کل فقير، اللهم أشبع کل جائع، اللهم اکسُ کل عريان، اللهم اقضِ دين کل مدين، اللهم فرِّج عن کل مکروب، اللهم رُدَّ کل غريب، اللهم فک کل أسير، اللهم أصلح کل فاسد من أمور المسلمين، اللهم اشفِ کل مريض، اللهم سُدَّ فقرنا بغناک، اللهم غيِّر سوء حالنا بحسن حالک، اللهم اقضِ عنا الدين وأغننا من الفقر إنَّک على کل شيء قدير

 

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ کَانَ تَوَّابًا

اَللّهُمَّ عَجِّلْ لِوَلِیِّکَ الْفَرَجَ

وَ الْعافِیَةَ وَ النَّصْرَ

وَ اجْعَلْنا مِنْ خَیْرِ اَنْصارِهِ وَ اَعْوانِهِ

وَ الْمُسْتَشْهَدینَ بَیْنَ یَدَیْهِ