
تقریر کا موضوعِ : فضائل و مناقبِ امام علیؑ اہل سنت کی کتب میں
الف)شجاعت
امام علیؑ کی شجاعت اس قدر معروف اور واضح ہے کہ کسی تفصیل کی محتاج نہیں۔
📚 ابن صباغ مالکی (پیشین، ص 281) لکھتے ہیں:
"علی شجاعترین مردم بود و همه عرب به آن اقرار داشتند."
"علیؑ سب سے زیادہ بہادر تھے اور تمام عرب اس بات کا اعتراف کرتے تھے۔"
آپ ایک قوی، متناسب اور مضبوط جسم کے مالک تھے۔
تمام جنگوں میں، سوائے جنگ تبوک کے (جب آپ کو مدینہ میں نبی کریمﷺ نے اپنا جانشین مقرر کیا)، آپ نے شرکت کی اور ہر معرکے میں اپنی بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔
📚 احمد بن یحیی بلاذری (پیشین، ص 121 و 124)
📚 ابن اثیر جزری (پیشین، ص 588)
---
ب) زہد و تقویٰ
حضرت عمار روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علیؑ سے فرمایا:
"یاعلی! خدا تورا باچیزی زینتکردهکه هیچ بندهای را بهترازآن،زینت نکرده وآن،زهددردنیاست."
"اے علی! اللہ نے تمہیں ایک ایسی زینت سے مزین کیا ہے، جس سے اس نے کسی اور بندے کو نہیں سجایا، اور وہ دنیا میں زہد ہے۔"
📚 شواہد التنزیل حسکانی (ج 1، ص 517)
حضرت علیؑ کی کھجور کے باغات سے اچھی آمدنی تھی، مگر آپ نے زاہدانہ زندگی کو ترجیح دی۔
📚 محمد بن کعب قرظی نقل کرتے ہیں:
"ازعلیشنیدم،فرمود: از گرسنگی سنگ بر شکم خود بستهام؛ درحالی که چهل هزار دینار صدقه دادهام."
"میں نے بھوک کی شدت کے باعث پیٹ پر پتھر باندھ رکھے ہیں، حالانکہ میں چالیس ہزار دینار صدقہ دے چکا ہوں۔"
📚 اسد الغابہ فی معرفة الصحابة؛ ابن اثیر، ج 1، ص 490
---
ج) علم امام علیؑ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام علیؑ کے علم کے بارے میں فرمایا:
"أَنَا مَدِینَةُ العِلمِ وَ عَلِی بابُهَا، فمَن أَرَادَ العلمَ فَلیأتِ بَابَهُ."
"میں علم کا شہر ہوں اور علیؑ اس کا دروازہ ہیں، پس جو علم حاصل کرنا چاہے، وہ اس دروازے سے داخل ہو۔"
📚 اسد الغابہ، ابن اثیر، ص 597
حضرت علیؑ علم میں سب سے ممتاز تھے، اور کسی سوال سے ہچکچاتے نہیں تھے۔
📚 سعید بن مسیب نقل کرتے ہیں:
"غیراز علیبنابیطالب کسی نمیتواند بگوید: سَلُونِی قبل ان تفقدونی."
"علیؑ کے علاوہ کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ مجھ سے پوچھو، قبل اس کے کہ میں تمہارے درمیان نہ رہوں۔"
📚 الوافی بالوفیات؛ ج 21، ص 272
📚 ابن عباس کہتے ہیں:
"وقتی علی مسئلهای را برای ما اثبات میکرد،دیگر سراغ کسی نمیرفتیم."
"جب علیؑ ہمارے سامنے کوئی علمی مسئلہ بیان کر دیتے، تو ہم کسی اور کے پاس نہیں جاتے تھے۔"
📚 الاصابة فی تمییز الصحابة؛ عسقلانی، ج 4، ص 467
حضرت علیؑ فرماتے ہیں:
"رسول خدا صلیاللهعلیهوآله به من هزار باب از علم آموخت که از هر بابی، هزار باب دیگر گشوده میشود."
"رسول خداﷺ نے مجھے علم کے ایک ہزار باب سکھائے، اور ہر باب سے ایک ہزار مزید باب کھل گئے۔"
📚 معارج الوصول؛ یوسف زرندی، ص 39
---
د) قضاوت
رسول اللہﷺ نے حضرت علیؑ کی فقاہت کے بارے میں فرمایا:
"اَقضَاکُم عَلِیُّبنُاَبِیطَالِبٍ."
"تم میں سب سے بہتر قاضی علی ابن ابی طالب ہیں۔"
📚 الاستییاب فی معرفة الاصحاب؛ قرطبی، ج 3، ص 1101
امام علیؑ فرماتے ہیں:
"زمانی که پیامبر ص میخواست مرا به سوی یمن بفرستد، عرض کردم که مرا به یمن میفرستید و آنها از من درخواست قضاوت خواهند کرد و من از قضاوت چیزی نمیدانم."
"جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن بھیجنے کا ارادہ کیا، تو میں نے عرض کیا: مجھے یمن بھیج رہے ہوں، جبکہ لوگ مجھ سے قضاوت کا مطالبہ کریں گے اور میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتا۔"
"پیامبر دستش را بر سینه من گذاشت و دعا کرد: اَلَّلهمَّ ثَبِّت لِسَانَهُ وَ اهدِ قلبَهُ. پس از آن، هیچگاه در قضاوتکردن شک و تردید نکردم."
"نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ رکھا اور دعا فرمائی: اے اللہ! اس کی زبان کو مضبوط اور اس کے دل کو ہدایت عطا فرما۔ اس کے بعد میں نے کبھی قضاوت میں شک نہیں کیا۔"
📚 محمد ذہبی، پیشین، ص 637
---
حدیثِ شباہت
اہل سنت کے کئی بڑے علما جیسے ابن ابی الحدید، امام احمد بن حنبل، امام فخر رازی، شیخ سلیمان بلخی حنفی وغیرہ نے یہ حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْـظُرَ اِلى آدَمَ فى عِلْمِهِ وَاِلى نُوحٍ فیتَقْواهُ وَاِلى اِبْراهيـمَ فیحِلْمِهِ وَ اِلى مُوسى فیهَيْبَتِهِ وَ اِلى عيسى فیعِبادَتِهِ فَلْيَنْظُرْ اِلى عَلِىِّبْنِاَبىطالبٍ عليهمالسلام."
"جو کوئی آدمؑ کے علم، نوحؑ کے تقویٰ، ابراہیمؑ کے حلم، موسیٰؑ کی ہیبت، اور عیسیٰؑ کی عبادت کو دیکھنا چاہے، وہ علی ابن ابی طالبؑ کی طرف دیکھے۔"
📚 ارشاد القلوب: 217
📚 کفایة الطالب، باب 33
📚 مسند احمد بن حنبل
---
یہ دلائل امام علیؑ کے فضائل کو نہ صرف اہل تشیع بلکہ اہل سنت کی معتبر کتابوں سے بھی ثابت کرتے ہیں۔
پرہیزگاروں کی چوبیسویں صفت: عجب اور خودپسندی سے پرہیز
حضرت علیؑ اور ان کے فرزند امام حسنؑ کا واقعہ
حضرت علیؑ پر وفات کے آثار نمایاں ہو چکے تھے۔ ان کے بڑے فرزند امام حسنؑ ان کے پاس موجود تھے۔ حضرت نے فرمایا:
کہ کچھ لوگ دروازے کے باہر جمع ہو چکے ہیں انکو آنے دو، دروازہ کھول دیا گیا۔ لوگ حضرت علیؑ کے گرد جمع ہو گئے
حضرت نے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
"اگر تمہیں مجھ سے کوئی سوال کرنا ہے تو جلدی کر لو، اس سے پہلے کہ موقع ہاتھ سے نکل جائے۔ لیکن سوالات مختصر رکھنا۔"
سوالات اور جوابات
سوال:
صعصعہ (صحابی) نے حضرت علیؑ سے پوچھا:
"کیا آپ حضرت آدمؑ سے افضل ہیں؟"
جواب:
حضرت علیؑ نے فرمایا:
"اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا ہے: 'اور اپنے رب کی نعمتوں کا ذکر کرو۔'
پس، میں حضرت آدمؑ سے افضل ہوں کیونکہ جنت میں ہر نعمت ان کے لیے موجود تھی، مگر انہیں گندم کھانے سے منع کیا گیا تھا، اور انہوں نے منع شدہ چیز کھا لی، جس کے سبب وہ جنت سے نکال دیے گئے۔
جبکہ میں، جو کہ دنیا میں پیدا ہوا، مجھے گندم کھانے سے نہیں روکا گیا، مگر میں نے اپنی رضا و اختیار سے کبھی گندم کی روٹی نہیں کھائی۔
اللہ کے نزدیک عزت و بزرگی کی علامت یہی ہے کہ جو چیز جائز ہے، اس سے بھی پرہیز کیا جائے۔ یہی حقیقی زہد ہے۔"
---
سوال:
صعصعہ نے پوچھا: "کیا آپ حضرت نوحؑ سے افضل ہیں؟"
جواب:
حضرت علیؑ نے فرمایا: میں حضرت نوح علیہ السلام سے افضل ہوں!۔
دلیل یہ ہے کہ: "حضرت نوحؑ نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف دعوت دی، مگر انہوں نے ان کی اطاعت نہیں کی۔ اور تکلیفیں پہنچاتے رہے، یہاں تک کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی: 'اے پروردگار! زمین پر کسی کافر کو باقی نہ رہنے دے۔'
لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد شدید اذیتیں اور مصیبتیں برداشت کیں، مگر میں نے کسی کے خلاف بددعا نہیں کی، بلکہ صبر و استقامت کے ساتھ زندگی گزاری۔"
---
سوال:
صعصعہ نے پوچھا: "آپ حضرت ابراہیمؑ سے افضل ہیں؟"
جواب:
حضرت علیؑ نے فرمایا: ہاں میں أفضل ہوں۔ دلیل یہ ہے کہ
"قرآن میں حضرت ابراہیمؑ کا واقعہ مذکور ہے کہ انہوں نے اللہ سے عرض کیا:
'اے میرے رب! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے؟'
اللہ نے پوچھا: 'کیا تم ایمان نہیں رکھتے؟'
حضرت ابراہیمؑ نے جواب دیا: 'ایمان تو رکھتا ہوں، لیکن چاہتا ہوں کہ میرے دل کو اطمینان حاصل ہو جائے۔'
لیکن میں (علیؑ) یہ کہتا ہوں:
'اگر میرے سامنے پردے ہٹا دیے جائیں، تب بھی میرے یقین میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔'
یعنی میرا یقین اتنا کامل ہے کہ کسی ظاہری چیز کے دیکھنے سے اس میں فرق نہیں آئے گا۔"
---
سوال:
صعصعہ نے پوچھا: "آپ حضرت موسیٰؑ سے افضل ہیں؟"
جواب:
حضرت علیؑ نے فرمایا: ہاں میں افضل ہوں کیونکہ
"جب اللہ نے حضرت موسیٰؑ کو فرعون کی طرف بھیجا، تو انہوں نے عرض کیا:
'اے پروردگار! میں نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا، اس لیے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل نہ کر دیں۔ اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے، لہٰذا اسے میرے ساتھ کر دے تاکہ وہ میری تصدیق کرے۔'
مگر میں اللہ کے حکم پر تنہا خانۂ کعبہ گیا اور سورہ براءت کی تلاوت کی، باوجود اس کے کہ مشرکوں کے قریبی اور عزیز و اقارب میرے ہاتھوں قتل ہو چکے تھے، پھر بھی میں نے خوف محسوس نہیں کیا۔
پس، جو شخص اللہ پر کامل توکل کرتا ہے، وہی اللہ کے نزدیک زیادہ افضل ہوتا ہے۔"
---
سوال:
صعصعہ نے پوچھا: "آپ حضرت عیسیٰؑ سے افضل ہیں؟"
جواب:
حضرت علیؑ نے فرمایا: میں حضرت عیسٰی علیہ السلام سے بھی افضل ہوں۔
"حضرت عیسیٰؑ کی ولادت بیت المقدس میں نہیں ہوئی، اور ان کی والدہ حضرت مریمؑ کو وہاں سے جانے کے لیے مجبور ہونا پڑا، جبکہ میں کعبہ میں پیدا ہوا۔
میری ماں فاطمہ بنت اسد پر جب ولادت کی آثار ظاہر ہونے لگے، تو انہوں نے خانہ کعبہ کی دیوار کے قریب جا کر دعا کی:
'اے اللہ! میں تجھ پر اور تیرے رسولوں پر ایمان رکھتی ہوں۔ میرے لیے ولادت کو آسان کر دے۔'
اللہ کے حکم سے خانہ کعبہ کی دیوار شق ہو گئی، اور میری والدہ اندر داخل ہو گئیں، جہاں میں پیدا ہوا۔
پس، میری پیدائش ایک ایسی جگہ ہوئی جو دنیا میں سب سے زیادہ مقدس ہے۔"
---
سوال:
صعصعہ نے پوچھا: "آپ نبی اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی افضل ہیں؟"
جواب:
حضرت علیؑ نے فرمایا: ہرگز نہیں بلکہ
"میں محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا بندہ ہوں اور ان کے غلاموں میں سے ایک غلام ہوں۔"
---
خلاصہ:
اس گفتگو میں حضرت علیؑ نے اپنی فضیلت کو انبیاء کرامؑ سے موازنہ کرتے ہوئے بیان فرمایا، مگر جب سوال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فضیلت پر آیا، تو حضرت علیؑ نے عاجزی کے ساتھ فرمایا کہ وہ محض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک غلام ہیں۔
یہ درس دیتا ہے کہ حقیقی فضیلت تقویٰ، صبر، زہد اور توکل میں ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع سب سے اعلیٰ مرتبہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مدینہ میں ایک شخص تھا، جو بظاہر نیک اور صالح نظر آتا تھا۔ اس کی صورت آراستہ، لباس پاکیزہ، اور ظاہر ایسا تھا کہ دیکھنے والا اسے ایک مخلص مؤمن سمجھتا۔
لیکن وہ بعض راتوں میں لوگوں کی نظروں سے چھپ کر چوری کرنے جاتا اور مدینہ کے گھروں میں ڈھاکہ ڈالتا ۔
ایک رات وہ چوری کے ارادے سے ایک گھر کی دیوار پر چڑھا۔ دیکھا کہ گھر کے صحن میں بہت سا قیمتی سامان موجود ہے اور اس کے ساتھ صحن میں صرف ایک جوان عورت بھی موجود ہے۔
وہ دل میں سوچنے لگا: "آج کی رات میرے لیے دو موقعے ہیں؛ ایک تو یہ قیمتی سامان چرانے کا، اور دوسرا اس عورت کے ساتھ تعلق قائم کرنے کا!"
یہ خیالات اس کے دل میں گردش کر رہے تھے کہ اچانک اللہ کی طرف سے ایک روشنی اس کے دل میں اتری، جس نے اس کے ذہن کو منور کر دیا۔ وہ گہرے غور و فکر میں پڑ گیا:
"کیا میں ان تمام گناہوں کے بعد نہیں مروں گا؟!
کیا مرنے کے بعد اللہ مجھے سے میرے اعمال کا حساب نہیں لے گا؟!
کیا اس دن، اللہ کی حکومت، اس کے عذاب اور اس کے قہر سے بچنے کا کوئی راستہ ہوگا؟!"
"جب قیامت کے دن کوئی حجت باقی نہیں رہے گی، تو کیا مجھے اللہ کے غضب کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا؟ کیا میں ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں نہیں جلوں گا؟!"
یہ سوچتے ہی اس کے دل میں سخت ندامت پیدا ہوئی۔ اس نے اپنے گناہ سے باز رہنے کا فیصلہ کیا اور بغیر کچھ لیے اپنے گھر واپس چلا گیا۔
توبہ کے بعد قبولیت
صبح فجر کا وقت ہوا، مؤذن نے اذان دی، اور وہی شخص اپنی ظاہری دینداری کے ساتھ مسجد نبوی پہنچا۔ وہاں اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی اور مجلس میں بیٹھ گیا۔
اتنے میں وہی جوان عورت، جس کے گھر وہ رات کو چوری کی نیت سے گیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی:
"یا رسول اللہ! میں ایک بیوہ عورت ہوں، مجھے بہت ساری دولت وراثت میں ملی ہے۔ میں نے پہلے نکاح نہ کرنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن گزشتہ رات مجھے یوں لگا جیسے کوئی چور میرے گھر میں گھس آیا ہو۔ اگرچہ وہ کچھ لے کر نہیں گیا، لیکن میں سخت خوفزدہ ہو گئی ہوں۔ اب میں اس گھر میں تنہا رہنے کی ہمت نہیں رکھتی۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے لیے ایک اچھا شوہر منتخب کر دیں۔"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو کہ وحی اور الہامی علم کے ذریعے گزشتہ رات کے واقعے اور اس جوان کے توبہ کرنے سے واقف تھے، اس چور کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا:
"اگر تم پسند کرو، تو میں تمہارا نکاح اسی شخص سے کر دیتا ہوں۔"
عورت نے کہا: "مجھے کوئی اعتراض نہیں۔"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی وقت دونوں کا نکاح پڑھ دیا، اور وہ دونوں اپنے گھر روانہ ہو گئے۔
شکر اور دعا
اس نوجوان نے مسلسل اللہ کا شکر ادا کیا اور دعا کرتا رہا۔ کچھ وقت بعد، وہی عورت دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کی:
"یا رسول اللہ! آپ نے جو شوہر میرے لیے منتخب کیا ہے، وہ بس دعا اور گریہ و زاری میں مشغول رہتا ہے!"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور فرمایا:
**"اللہ نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔ جاؤ، اپنی بیوی کے ساتھ محبت اور خوشی کے ساتھ زندگی بسر کرو۔"
|