4/26/2017         ویزیٹ:600       کا کوڈ:۹۳۴۱۵۹          ارسال این مطلب به دیگران

استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای » استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
  ،   تقلید کے شرائط

 کتاب اجتھاد اور تقلید.....................................فہرست.................................اجتہاد اور اعلمیت کا اثبات


تقلید کے شرائط
 
 س9۔ کیا ایسے مجتہد کی تقلید جائز ہے جس نے اپنی مرجعیت کے منصب کو نہ سنبھالا ہو اور نہ اس کا رسالۂ  عملیہ موجود ہو ؟
 
ج۔ جو مکلف تقلید کرنا چاہتا ہے، اگر اس پر یہ ثابت ہو جائے کہ وہ جامع الشرائط مجتہد ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
 
س10۔ کیا مکلف اس مجتہد کی تقلید کرسکتا ہے جس نے فقہ کے کسی ایک باب مثلاً نماز و روزہ میں اجتہاد کیا ہے، پس کیا وہ اس باب میں اس مجتہد کی تقلید کرسکتا ہے جس میں اس نے اجتہاد کیا ہے؟
 
ج۔ مجتہد متجزی کا فتویٰ خود اس کے لئے حجت ہے لیکن دوسروں کا اس کی تقلید کرنا محل اشکال ہے اگرچہ اس کا جائز ہونا بعید نہیں ہے۔
 
س11۔ کیا دوسرے ملکوں کے علماء کی تقلید جائز ہے ، خواہ ان تک رسائی بھی ممکن نہ ہو؟
 
ج۔ شرعی مسائل میں جامع الشرائط مجتہد کی تقلید میں یہ شرط نہیں ہے کہ مجتہد مکلف کا ہم وطن ہویا اس کے شہر کا رہنے والا ہو۔
 
س12۔ مجتہد اور مرجع تقلید میں جو عدالت معتبر ہے کیا وہ کمی یا زیادتی کے اعتبار سے اس عدالت سے مختلف ہے جو امام جماعت کے لئے ضروری ہے؟
 
ج۔ منصب مرجعیت کی اہمیت اور حساسیت کے پیش نظر مرجع تقلید میں احتیاط واجب کی بنا پر عدالت کے علاوہ یہ بھی شرط ہے کہ وہ اپنے سرکش نفس پر مسلط ہو اور دنیا کا حریص نہ ہو۔
 
س13۔ کیا زمان و مکان کے حالات سے واقف ہونا اجتہاد کی شرطوں میں سے ایک شرط ہے؟
 
ج۔ ممکن ہے بعض مسائل میں اس کا دخل ہو۔
 
س13۔ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مرجع تقلید کے لئے واجب ہے کہ وہ عبادات و معاملات کے علم پر مسلط ہونے کے علاوہ سیاسی ، اقتصادی ، فوجی ، سماجی اور قیادت و رہبری کے امور کا بھی عالم ہو۔ پھلے ہم امام خمینی  رحمۃ اللہ علیہ کے مقلد تھے اور اب بعض افاضل علماء کی رہنمائی اور خود اپنی رائے کی بناء پر آپ کی تقلید کو واجب سمجھتے ہیں۔ اس طرح ہم نے قیادت و مرجعیت کو ایک جگہ پایا ہے۔ اس سلسلہ میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟
 
ج۔ مرجع تقلید کی صلاحیت کی شرطیں ( ان امور میں جن میں ایک غیر مجتہد و محتاط پر اس کی تقلید ضروری ہے جس میں مقررہ شرطیں پائی جاتی ہوں ) ، تحریر الوسیلہ اور دوسری کتابوں میں تفصیل کے ساتھ مرقوم ہیں۔
 
لیکن شرائط کے اثبات کا مسئلہ اور فقہا میں سے تقلید کے لئے صالح شخص کی تشخیص خود مکلف کے نظریہ پر منحصر ہے۔
 
س14۔ تقلید میں مرجع کا اعلم ہونا شرط ہے یا نہیں ؟ اور اعلمیت کے معیار اور اس کے اسباب کیا ہیں ؟
 
ج۔ جن مسائل میں اعلم کے فتوے دوسروں سے مختلف ہیں ان میں اعلم کی تقلید احتیاطاً واجب ہے۔ اعلمیت کا معیار یہ ہے کہ وہ دوسرے مجتہدین سے احکام خدا کے سمجھنے اور الہی فرائض کا ان کی دلیلوں سے استنباط کرنے میں زیادہ مہارت رکھتا ہو۔ نیز اپنے زمانے کے حالات کو اس حد تک جانتا ہو جتنا احکام شرعی کے موضوعات کی تشخیص اور شرعی فرائض بیان کرنے کے لئے فقہی رائے کا اظہار کرنے میں ضروری ہے۔ کیونکہ زمانے کے حالات سے آگاہی کو اجتہاد میں بھی دخل ہے۔
 
س15۔ اگر اعلم میں تقلید کے لئے معتبر شرائط موجود نہ ہونے کا احتمال ہو ، ایسے میں اگر کوئی شخص غیر اعلم کی تقلید کر لے تو کیا اس کی تقلید کو باطل قرار دیا جا سکتا ہے؟
 
ج۔ صرف اس احتمال کی وجہ سے کہ اعلم میں ضروری شرائط موجود نہیں ہیں ، اختلافی مسئلہ میں بنا بر احتیاط واجب غیر اعلم کی تقلید جائز نہیں ہے۔
 
س16۔ اگر چند مسائل میں چند علماء کا اعلم ہونا ثابت ہو جائے ( اس حیثیت سے کہ ان میں سے ہر ایک کسی خاص مسئلہ میں اعلم ہے) تو ان کی طرف رجوع کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
 
ج۔ تبعیض یعنی متعدد مراجع کی تقلید کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔بلکہ اگر ہر مجتہد اس مسئلے میں اعلم ہو جس میں مکلف اس کی تقلید کر رہا ہے تو بنا بر احتیاط جس مسئلہ میں ان کے فتوے مختلف ہوں۔ ان میں بھی تبعیض واجب ہے۔
 
س17۔ کیا اعلم کی موجودگی میں غیر اعلم کی تقلید کی جا سکتی ہے؟
 
ج۔ ان مسائل میں غیر اعلم کی طرف رجوع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے جن میں اس کا فتویٰ اعلم کے فتوے کے خلاف نہ ہو۔
 
س18۔ مرجع تقلید کی اعلمیت کے سلسلہ میں آپ کا کیا نظریہ ہے ؟ اور اس پر آپ کی کیا دلیل ہے؟
 
ج۔ جب متعدد جامع الشرائط فقہا موجود ہوں اور اپنے اپنے فتووں میں اختلاف رکھتے ہوں تو احتیاط واجب یہ ہے کہ غیر مجتہد مکلف، مجتہد اعلم کی تقلید کرے، مگر یہ کہ اس کا فتویٰ احتیاط کے خلاف ہو، اور غیر اعلم کا فتویٰ احتیاط کے موافق ہو۔ اس کی دلیل سیرت عقلاء ہے، بلکہ اگر امر تعیین و تخییر میں دائر ہو جائے تو عقل بھی تعیین کا حکم دیتی ہے۔
 
س19۔ ہمارے لئے کس کی تقلید کرنا واجب ہے؟
 
ج۔ جامع الشرائط مجتہد اور مرجع کی تقلید واجب ہے بلکہ احوط یہ ہے کہ وہ مجتہد اعلم ہو۔
 
س20۔ کیا ابتداء سے میت کی تقلید کی جا سکتی ہے؟
 
ج۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ ابتداء میں زندہ اور اعلم مجتہد کی ہی تقلید کی جائے۔
 
س21۔ ابتداء میں میت کی تقلید زندہ مجتہد کی تقلید پر موقوف ہوتی ہے یا نہیں ؟
 
ج۔ ابتداء میں میت کی تقلید کرنے یا میت کی تقلید پر باقی رہنے کا جواز زندہ مجتہد اعلم کی اجازت پر موقوف ہوتا ہے۔

 کتاب اجتھاد اور تقلید.....................................فہرست.................................اجتہاد اور اعلمیت کا اثبات

 




فائل اٹیچمنٹ:
حالیہ تبصرے

اس کہانی کے بارے میں تبصرے

     
امنیت اطلاعات و ارتباطات ناجی ممیزی امنیت Security Audits سنجش آسیب پذیری ها Vulnerability Assesment تست نفوذ Penetration Test امنیت منابع انسانی هک و نفوذ آموزش هک