4/26/2017         ویزیٹ:443       کا کوڈ:۹۳۴۱۶۲          ارسال این مطلب به دیگران

استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای » استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
  ،   میت کی تقلید پر باقی رہنا

 تقلید بدلنا.....................................................فہرست.....................................................متفرقات


میت کی تقلید پر باقی رہنا
 
 
 س35۔ ایک شخص نے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد ایک معین مجتہد کی تقلید کی اور اب وہ دوبارہ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید کرنا چاہتا ہے، کیا یہ اس کے لئے جائز ہے؟
 
ج۔ زندہ جامع الشرائط مجتہد کی تقلید سے مجتہد میت کی تقلید کی طرف رجوع کرنا بنا بر احتیاط واجب جائز نہیں ہے۔ ہاں اگر زندہ مجتہد جامع الشرائط نہیں تھا تو اس کی طرف عدول کرنا ہی باطل تھا اور وہ مجتہد میت کی تقلید پر باقی رہا ہے اب اسے اختیار ہے کہ مردہ مجتہد کی تقلید پر باقی رہے یا ایسے زندہ مجتہد کی طرف عدول کرے جس کی تقلید جائز ہے۔
 
س36۔ میں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی حیات ہی میں بالغ ہو گیا تھا اور بعض احکام میں ان کی تقلید بھی کرتا تھا لیکن مسئلہ تقلید میرے لئے واضح نہیں تھا، اب میرا کیا فریضہ ہے؟
 
ج۔ اگر آپ امام خمینی  رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی میں اپنے عبادی و غیر عبادی اعمال ان کے فتووں کے مطابق بجا لاتے رہے چاہے بعض احکام میں ہی ان کے مقلد رہے ہوں تو آپ کے لئے تمام مسائل میں ان کی تقلید پر باقی رہنا جائز ہے۔
 
س37۔ اگر میت اعلم ہو تو اس کی تقلید پر باقی رہنے کا کیا حکم ہے ؟
 
ج۔ میت کی تقلید پر باقی رہنا ہر حال میں جائز ہے ، واجب نہیں ہے لیکن میت کے اعلم ہونے کی صورت میں احتیاط یہی ہے کہ اس کی تقلید پر باقی رہا جائے۔
 
س38۔ کیا میت کی تقلید پر باقی رہنے کے لئے اعلم سے اجازت لینا ضروری ہے یا کسی بھی مجتہد سے اجازت لی جا سکتی ہے؟
 
ج۔ میت کی تقلید پر باقی رہنے کے جواز کے مسئلہ میں اعلم سے اجازت لینا واجب نہیں ہے اور یہ اس صورت میں ہے جبکہ بقا بر تقلید میت کے جواز پر فقہا کا اتفاق ہو۔
 
س39۔ ایک شخص نے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید کی اور ان کے انتقال کے بعد اس نے بعض مسائل میں دوسرے مجتہد کی تقلید کی اب اس مجتہد کے انتقال کے بعد اس کا کیا فریضہ ہے؟
 
ج۔ وہ پھلے کی طرح مرجع اول کی تقلید پر باقی رہ سکتا ہے۔ اسی طرح اسے اختیار بھی ہے کہ جن مسائل میں اس نے دوسرے مجتہد کی طرف عدول کیا تھا، ان میں اسی کی تقلید پر باقی رہے یا زندہ مجتہد کی طرف رجوع کرے۔
 
س40۔ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کے بعد میں نے یہ گمان کیا کہ مرحوم کے فتوے کے مطابق میت کی تقلید پر باقی رہنا جائز نہیں ہے لہذا زندہ مجتہد کی تقلید کر لی، کیا اب میں دوبارہ امام خمینی  (رح) کی تقلید کرسکتا ہوں ؟
 
ج۔ زندہ مجتہد کی طرف تمام فقہی مسائل میں عدول کرنے کے بعد امام خمینی  رحمۃ اللہ علیہ کی طرف رجوع کرنا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ زندہ مجتہد کا فتویٰ یہ ہو کہ متوفیٰ اعلم کی تقلید پر باقی رہنا واجب ہے اور آپ کو یقین ہو کہ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ زندہ مجتہد کی نسبت اعلم ہیں تو ایسی صورت میں ان کی تقلید پر باقی رہنا واجب ہے۔
 
س41۔ کیا میں کسی ایک مسئلہ میں کبھی مجتہد میت کی اور کبھی زندہ اعلم کی طرف رجوع کرسکتا ہوں باوجودیکہ اس میں دونوں کا فتویٰ مختلف ہو؟
 
ج۔ میت کی تقلید پر باقی رہنا جائز ہے لیکن زندہ مجتہد کی طرف عدول کرنے کے بعد دوبارہ میت کی طرف رجوع کرنا جائز نہیں ہے۔
 
س42۔ کیا امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے مقلدین اور ان لوگوں کے لئے جو ان کی تقلید پر باقی رہنا چاہتے ہیں زندہ مراجع میں سے کسی ایک سے اجازت لینا ضروری ہے یا اس مسئلے میں اکثر مراجع عظام و علمائے اسلام کے تقلید میت پر باقی رہنے کے جواز پر اتفاق کافی ہے؟
 
ج۔ میت کی تقلید پر باقی رہنے کے جواز پر جو اتفاق ہے اس کی بنا پر امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید پر باقی رہنا جائز ہے۔ اس سلسلہ میں کسی معین مجتہد کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
 
س43۔ جس مسئلہ پر مکلف نے مجتہد میت کی حیات میں عمل کیا تھا یا نہیں کیا تھا اس میں میت کی تقلید پر باقی رہنے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
 
ج۔ تمام مسائل میں میت کی تقلید پر باقی رہنا جائز اور کافی ہے خواہ ان پر عمل کیا ہو یا نہ کیا ہو۔
 
س44۔ میت کی تقلید پر باقی رہنے کے جواز کی صورت میں کیا اس حکم میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اس مجتہد کی حیات میں مکلف نہیں ہوئے تھے، مگر اس کے فتووں پر عمل کرتے تھے؟
 
ج۔ اگر وہ لوگ مجتہد کی حیات میں اس کی تقلید کر چکے ہوں چاہے تقلید بالغ ہونے سے پھلے ہی کی تھی تو اس کی موت کے بعد بھی اس کی تقلید پر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
 
س45۔ ہم امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے مقلد تھے اور ان کی وفات کے بعد بھی ان کی تقلید پر باقی ہیں لیکن بعض اوقات ہمیں بعض نئے مسائل پیش آتے ہیں خصوصاً جبکہ ہم عالمی استکبار و طاغوت سے مقابلہ کے زمانہ میں زندگی بسر کر رہے ہیں ، ایسے میں ہم تمام شرعی مسائل میں آپ کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں لہذا ہم آپ کی طرف رجوع کا ارادہ رکھتے ہیں اور آپ کی تقلید کرنا چاہتے ہیں ، کیا ہم ایسا کرسکتے ہیں ؟
 
ج۔ آپ کے لئے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ طاب ثراہ کی تقلید پر باقی رہنا جائز ہے فی الحال ان کی تقلید سے عدول کرنے کا کوئی سبب نہیں ہے اگر رونما ہونے والے حوادث میں کسی حکم شرعی کے معلوم کرنے کی ضرورت پیش آئے تو اس سلسلہ میں ہمارے دفتر سے خط و کتابت کرسکتے ہیں وفقکم اللہ تعالیٰ لمراضیہ۔
 
س46۔ اس مقلد کا کیا فریضہ ہے جو ایک مجتہد کی تقلید میں ہو جبکہ اس کے لئے دوسرے مرجع کی اعلمیت ثابت ہو جائے؟
 
ج۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ ان مسائل میں اپنے مرجع تقلید سے اس مرجع کی طرف جس کی اعلمیت ثابت ہو چکی ہے، رجوع کر لے جن میں موجودہ مجتہد کا فتویٰ اعلم کے فتویٰ سے مختلف ہو۔
 
س47۔ کس صورت میں مقلد کے لئے اپنے مجتہد سے عدول کرنا جائز ہے ؟
 
ج۔ اس صورت میں جبکہ دوسرا مجتہد موجودہ مجتہد سے اعلم ہو یا اس کے مساوی ہو۔
 
س48۔ اگر اعلم کے فتوے زمانہ کے مطابق نہ ہوں یا ان پر عمل دشوار ہو تو کیا غیر اعلم کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے؟
 
ج۔ صرف اس گمان پر کہ اعلم کا فتویٰ ماحول اور حالات کے مطابق نہیں یا اس کے فتاویٰ پر عمل کرنا دشوار ہے، اعلم سے دوسرے مجتہد کی طرف عدول کرنا جائز نہیں ہے۔

 تقلید بدلنا.....................................................فہرست.....................................................متفرقات


 


فائل اٹیچمنٹ:
حالیہ تبصرے

اس کہانی کے بارے میں تبصرے

     
امنیت اطلاعات و ارتباطات ناجی ممیزی امنیت Security Audits سنجش آسیب پذیری ها Vulnerability Assesment تست نفوذ Penetration Test امنیت منابع انسانی هک و نفوذ آموزش هک