4/26/2017         ویزیٹ:612       کا کوڈ:۹۳۴۱۶۵          ارسال این مطلب به دیگران

استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای » استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
  ،   ولایت فقیہ اور حکم حاکم

قیادت و مرجعیت.............................................فہرست.................................................کتاب نجاسات


 ولایت فقیہ اور حکم حاکم
 
س59۔ مفہوم و مصداق کے اعتبار سے ’ اصل ‘ ولایت فقیہ کا اعتقاد عقلی ہے یا شرعی ؟
 
ج۔ بے شک ولایت فقیہ۔ جو کے معنیٰ دین سے آگاہ عادل فقیہ کی حکومت ہے۔ شریعت کا تعبدی حکم ہے جس کی تائید عقل بھی کرتی ہے اور اس کے مصداق کی تعیین کے لئے عقلی طریقہ بھی ہے جس کو اسلامی جمہوریہ کے دستور میں بیان کیا گیا ہے۔
 
س60۔ کیا ولی فقیہ اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت عامہ کے پیش نظر شریعت کے حکم کو بدل سکتا ہے یا اس پر عمل کرنے سے روک سکتا ہے؟
 
ج۔ مختلف حالات میں اس کا حکم مختلف ہے۔
 
س61۔ کیا ذرائع ابلاغ کو اسلامی حکومت کے سایہ میں ولی فقیہ کے زیر نظر ہونا واجب ہے یا انہیں مراکز علوم دینیہ کی نگرانی میں ہونا چاہئیے یا کسی اور ادارہ کے زیر نظر ؟
 
ج۔ واجب ہے کہ ذرائع ابلاغ ولی امر مسلمین کے زیر فرمان اور ان کے زیر نظر ہوں اور انہیں اسلام و مسلمانوں کی خدمت ، الہی معارف کی نشر و اشاعت ، اسلامی معاشرہ کی عام مشکلوں کے حل اور فکری اعتبار سے اس سے مسلمانوں کی ترقی اور ان کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے اور ان کے درمیان اخوت و برادری کی روح کو فروغ دینے اور اسی طرح کے دوسرے امور انجام دینے کے لئے استعمال کیا جائے۔
 
س62۔ کیا اس شخص کو حقیقی مسلمان سمجھا جائے گا جو فقیہ کی ولایت مطلقہ کا معتقد نہ ہو؟
 
ج۔ غیبت امام زمانہ عج کے عہد میں اجتہاد یا تقلید کی بناء پر فقیہ کی ولایت مطلقہ پر اعتقاد نہ رکھنا ارتداد اور دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا باعث نہیں ہے۔
 
س63۔ کیا ولی فقیہ کو ولایت تکوینی حاصل ہے جس کی بنیاد پر اس کے لئے کسی وجہ سے جیسے مصلحت عامہ کی بنا پر دینی احکام کا منسوخ کرنا ممکن ہے؟
 
ج۔ رسول اعظم صلوات اللہ علیہ و آلہ کی وفات کے بعد شریعت اسلامیہ کے احکام منسوخ نہیں کئے جا سکتے البتہ موضوع کا بدلنا ، کسی ضرورت یا مجبوری کا پیش آنا ، یا حکم کے نفاذ میں کسی وقتی رکاوٹ کا وجود نسخ نہیں ہے اور ولایت تکوینی اس کے نظر میں جو اس کا قائل ہے معصومین (ع)سے مخصوص ہے۔
 
س64۔ ان لوگوں سے متعلق ہمارا کیا فریضہ ہے جو فقیہ عادل کی ولایت کو صرف امور حسیبہ میں محدود سمجھتے ہیں ، جانتے ہوئے کہ ان کے بعض نمائندے اس نظریہ کی اشاعت بھی کرتے ہیں ؟
 
ج۔ ہر زمانہ میں معاشرہ کی قیادت اور اجتماعی امور کی ہدایت کے لئے ولایت فقیہ مذہب حقہ اثنا عشری کا ایک رکن رہی ہے اور اس کا تعلق اصل امامت سے ہے اور اگر کوئی شخص دلیل کے ذریعہ ولایت فقیہ کا قائل نہ ہو تو وہ معذور ہے لیکن اس کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ تفرقہ اور اختلاف پھیلائے۔
 
س65۔ کیا ولی فقیہ کے اوامر پر عمل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے یا صرف اس کے مقلدین کا فریضہ ہے؟ نیز جو مرجع تقلید ولایت مطلقہ کا معتقد نہ ہو اس کے مقلد پر ولی فقیہ کی اطاعت واجب ہے یا نہیں ؟
 
ج۔ شیعہ فقہ کے اعتبار سے ولی امر مسلمین کے صادر کردہ ولائی شرعی او امر کی اطاعت کرنا اور اس کے امر و نھی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا تمام مسلمانوں ، یہاں تک کہ تمام فقہائے عظام پر بھی واجب ہے چہ جائیکہ ان کے مقلدین پر۔ اور ہم ولایت فقیہ کی پابندی کو اسلام کی پابندی اور آئمہ کی ولایت سے جدا نہیں سمجھتے۔
 
س66۔ لفظ ’ ولایت مطلقہ ‘ رسول (ص)کے زمانہ میں اس معنی میں استعمال ہوتا تھا کہ اگر رسول (ص)کسی شخص کو کسی چیز کا حکم دیں کہ تم خود کو قتل کر ڈالو ! تو اس پر خود کو قتل کر دینا واجب تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا آج بھی ولایت مطلقہ کے وہی معنی ہیں ؟ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ نبی(ص) معصوم تھے اور اس زمانہ میں کوئی ولی معصوم نہیں ہے؟
 
ج۔ جامع الشرائط فقیہ کی ولایت مطلقہ سے مراد یہ ہے کہ دین اسلام تمام آسمانی ادیان کے آخر میں آنے والا اور قیامت تک باقی رہنے والا دین ہے۔ یہ دین حکومت ہے اور معاشرہ کے امور کی دیکھ بھال کرنے والا دین ہے، پس اسلامی معاشرہ کے تمام طبقات کے لئے ایک ولی امر، حاکم شرع اور قائد کا ہونا ضروری ہے جو امت کو اسلام و مسلمانوں کے دشمنوں سے بچائے، ان کے نظام کا محافظ ہو، ان کے درمیان عدل قائم کرے، طاقتور کو کمزور پر ظلم کرنے سے باز رکھے، معاشرہ کی ثقافتی ، سیاسی اور اجتماعی امور کی ترقی کے وسائل فراہم کرے۔
 
اس امر کا عملی میدان میں نفاذ بعض اشخاص کی خواہشات ، منافع اور آزادی سے ٹکراؤ رکھتا ہے۔ لہذا حاکم مسلمین پر واجب ہے کہ وہ اس کے نفاذ کے وقت فقہ اسلامی کی روشنی میں ضرورت کے تحت لازمی اقدامات کرے۔
 
اس بنا پر ضروری ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے مصالح عامہ کے پیش نظر ولی امر کا ارادہ اور اس کے اختیارات تعارض اور ٹکراؤ کی صورت میں عوام کے ارادہ اور ان کے اختیارات پر حاکم ہوں اور یہ ولایت مطلقہ کا ایک معمولی سا پھلو ہے۔
 
س67۔ جس طرح مجتہد میت کی تقلید پر باقی رہنے کے سلسلہ میں فقہا کا فتویٰ ہے کہ اس کے لئے زندہ مجتہد کی اجازت کی ضرورت ہے ، کیا اسی طرح مرحوم قائد کی طرف سے صادر ہونے والے حکومتی احکام و اوامر پر عمل کے سلسلے میں بھی زندہ قائد کی اجازت درکار ہے یا وہ اپنی جگہ ویسے ہی باقی ہیں۔
 
ج۔ ولی امر مسلمین کی طرف سے صادر ہونے والے حکومتی احکام اور اشخاص کی تقرریاں اگر وقتی نہ ہوں تو اپنی جگہ پر باقی رہیں گے ورنہ اگر موجودہ ولی امر مسلمین انہیں منسوخ کر دینے میں مصلحت سمجھتا ہو گا تو منسوخ کر دے گا۔
 
س68۔ کیا اسلامی جمہوریہ ایران میں زندگی گزارنے والے اس فقیہ پر، جو ولی فقیہ کی ولایت مطلقہ کا قائل نہیں ہے، ولی فقیہ کے احکام کی اطاعت کرنا واجب ہے؟ اگر وہ ولی فقیہ کے حکم کی مخالفت کرے تو کیا اسے فاسق سمجھا جائے گا؟ اور اگر کوئی فقیہ ولایت مطلقہ کا تو اعتقاد رکھتا ہے لیکن اس منصب کے لئے اپنی ذات کو زیادہ سزاوار سمجھتا ہے، اس صورت میں اگر وہ ولایت کے منصب پر فائز فقیہ کے احکام کی خلاف ورزی کرتا ہے تو کیا اسے فاسق سمجھا جائے گا؟
 
ج۔ ہر مکلف پر واجب ہے کہ وہ ولی امر مسلمین کے حکومتی اوامر کی اطاعت کرے چاہے وہ فقیہ ہی کیوں نہ ہو اور کسی کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ خود کو اس منصب کا زیادہ حقدار سمجھ کر ولی امر مسلمین کے احکام کی خلاف ورزی کرے۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ موجودہ ولی فقیہ نے ولایت کے منصب کو اس کے مروجہ قانونی طریقہ کے مطابق حاصل کیا ہو ورنہ دوسری صورت میں مسئلہ کلی طور سے مختلف ہے۔
 
س69۔ کیا جامع الشرائط مجتہد کو زمانہ غیبت میں حدود جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے؟
 
ج۔ زمانہ غیبت میں بھی حدود کا جاری کرنا واجب ہے اور اس کی ولایت اور اختیار صرف ولی امر مسلمین سے مخصوص ہے۔
 
س70۔ ولایت فقیہ کا مسئلہ تقلیدی ہے یا اعتقادی؟ اور اس شخص کا کیا حکم ہے جو اسے تسلیم نہیں کرتا ؟
 
ج۔ ولایت فقیہ اس امامت و ولایت کے سلسلہ کی کڑی ہے جو اصول مذہب میں سے ہے لیکن اس کے احکام کا استنباط بھی فقہی احکام کی طرح شرعی دلیلوں سے کیا جاتا ہے اور جو شخص استدلال کے ذریعہ ولایت فقیہ کو قبول نہ کرے وہ معذور ہے۔
 
س71۔ بعض اوقات ہم بعض عہدہ داروں سے ’ ولایت اداری ، کے نام کا عنوان سنتے ہیں یعنی اعلیٰ عہدہ داروں کی بے چون و چرا اطاعت کرنا۔ اس سلسلہ میں آپ کا کیا نظریہ ہے ؟ اور ہماری شرعی ذمہ داری کیا ہے؟
 
ج۔ وہ  اداری و انتظامی احکام جو اداری قوانین و ضوابط کی بنیاد پر صادر ہوتے ہیں ان کی مخالفت اور خلاف ورزی جائز نہیں ہے۔ لیکن اسلامی مفاہیم میں ’ ولایت اداری ‘ نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی۔
 
س72۔ کیا فوجی عہدہ داروں اور افسروں کے لئے جائز ہے کہ وہ سپاہیوں کو اپنے ذاتی کاموں کی انجام دھی کا اس دلیل کے ساتھ حکم دیں کہ اگر وہ ان امور کو خود انجام دیں تو ان کا وقت ضائع ہو گا؟
 
ج۔ افسروں یا کسی دوسرے شخص کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ سپاہیوں سے اپنے ذاتی کام لیں اور اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کو اس کام کی اجرت دینا پڑے گی۔
 
س73۔ نمائندہ ولی فقیہ جو احکام اپنے اختیارات کی حدود میں صادر کرتا ہے کیا ان کی اطاعت واجب ہے؟
 
ج۔ اگر اس کے احکام ان اختیارات کی حدود میں ہیں جو اس کو ولی فقیہ کی طرف سے تفویض کئے گئے ہیں تو ان کی مخالفت جائز نہیں ہے۔
٭٭٭

قیادت و مرجعیت.............................................فہرست.................................................کتاب نجاسات






فائل اٹیچمنٹ:
حالیہ تبصرے

اس کہانی کے بارے میں تبصرے

     
امنیت اطلاعات و ارتباطات ناجی ممیزی امنیت Security Audits سنجش آسیب پذیری ها Vulnerability Assesment تست نفوذ Penetration Test امنیت منابع انسانی هک و نفوذ آموزش هک