4/27/2017         ویزیٹ:449       کا کوڈ:۹۳۴۱۷۳          ارسال این مطلب به دیگران

استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای » استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
  ،   قبلہ کے احکام

اوقات نماز...................................................فہرست..............................نماز گزار کے مکان کے احکام


قبلہ کے احکام
 
س375۔ درج ذیل سوالوں کے جواب عنایت فرمائیں :
 
1۔ بعض فقہی کتابوں میں ہے کہ خرداد ماہ کی چوتھی اور تیر ماہ کی چھبیسویں مطابق 25 مئی اور 17 جولائی کو خانہ کعبہ پر سورج کی کرنیں عمودی پڑتی ہیں ، تو کیا اس صورت میں جس وقت مکہ میں اذان ہو تی ہے اس وقت شاخص نصب کر کے جہت قبلہ کی تشخیص کی جا سکتی ہے ؟ اور اگر جہت قبلہ کے سلسلے میں شاخص کے سایہ اور مسجدوں کی محراب کی سمت میں اختلاف ہو تو کس کو صحیح سمجھا جائے گا؟
 
2۔ کیا قطب نما پر اعتماد کرنا صحیح ہے۔
 
ج۔ شاخص اور قطب نما کے ذریعے اگر مکلف کو جہت قبلہ کا یقین حاصل ہو جائے تو اس پر اعتماد کرنا صحیح ہے اور اس کے مطابق عمل کرنا واجب ہے ، اور اگر یقین نہ ہو تو جہت قبلہ کے تعین کے لئے مسجدوں کی محراب اور مسلمانوں کی قبروں پر اعتماد کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
 
س376۔ جب جنگ کی شدت جہت قبلہ کی تعیین میں مانع ہو تو کیا کسی بھی طرف ( رخ کر کے) نماز کا پڑھنا صحیح ہے ؟
 
ج۔ اگر وقت ہو تو چاروں طرف نماز پڑھی جائے ورنہ جتنا وقت ہو اس میں جتنی سمتوں میں قبلہ کا احتمال ہو اتنای سمتوں میں نماز پڑھے گا۔
 
س377۔ اگر کرہ زمین کی دوسری سمت میں خانہ کعبہ کے مقابل ایک نقطہ دریافت ہو جائے اس طرح کہ اگر ایک خط مستقیم زمین کعبہ کے وسط سے کرہ ارض کو چیرتا ہو ا مرکز زمین سے گزر کر اس نقطہ کے دوسری طرف نکل جائے تو اس نقطہ پر قبلہ رو کیسے کھڑے ہوں گے؟
 
ج۔ بقدر واجب قبلہ رو ہو نے کا معیار یہ ہے کہ کرہ زمین کی سطح سے خانہ کعبہ کی طرف رخ کرے اس طرح کہ جو شخص روئے زمین پر ہے وہ اس کعبہ کی طرف رخ کرے جو کہ مکہ مکرمہ میں سطح زمین پر بنا ہو ہے اور اسی بنا پر اگر وہ زمین کے کسی ایسے مقام پر کھڑا ہو جہاں سے کہی نچے جانے والے خطوط مساوی مسافت کے ساتھ کعبہ تک پہنچتے ہیں تو اسے اختیار ہے کہ جس طرف چاہے رخ کر کے نماز پڑھے لیکن عرف عام میں جس سمت قبلہ ہے اگر اس کے مقابلہ میں کسی اور سمت کے خط کی مسافت کم ہو تو نماز گزار پر واجب ہے کہ اسی طرف رخ کر کے نماز پڑھے۔
 
س378۔ جس جگہ ہم جہت قبلہ کو نہ جانتے ہوں اور جہت معلوم کرنے کے لئے ہمارے پاس وسائل بھی نہ ہوں نیز چاروں سمتوں میں قبلہ کا احتمال ہو تو ایسی جگہ پر ہمیں کیا کرنا چاہئیے؟
 
ج۔ اگر چاروں سمتوں میں قبلہ کا احتمال مساوی ہو تو چاروں طرف رخ کر کے نماز پڑھنی چاہئیے تاکہ یہ یقین ہو جائے کہ اس نے رو بہ قبلہ نماز ادا کر دی ہے۔
 
س379۔ قطب شمالی اور قطب جنوبی کی سمت کو کس طرح معین کیا جائے گا؟ اور کس طرح نماز پڑھی جائے گی؟
 
ج۔ قطب شمالی و جنوبی میں سمت قبلہ معلوم کرنے کا معیار یہ ہے کہ نماز گزاروں کی جگہ سے کعبہ تک سب سے چھو ٹا خط کہی نچا جائے گا اور اس خط کے معین ہو جانے کے بعد اسی رخ پر نماز پڑھی جائے گی۔


اوقات نماز...................................................فہرست..............................نماز گزار کے مکان کے احکام



فائل اٹیچمنٹ:
حالیہ تبصرے

اس کہانی کے بارے میں تبصرے

     
امنیت اطلاعات و ارتباطات ناجی ممیزی امنیت Security Audits سنجش آسیب پذیری ها Vulnerability Assesment تست نفوذ Penetration Test امنیت منابع انسانی هک و نفوذ آموزش هک