4/27/2017         ویزیٹ:467       کا کوڈ:۹۳۴۱۷۴          ارسال این مطلب به دیگران

استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای » استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
  ،   نماز گزار کے مکان کے احکام

قبلہ کے احکام................................................فہرست............................................مسجد کے احکام

 
نماز گزار کے مکان کے احکام
 
س380۔ وہ جگہیں جن کو ظالم حکومتوں نے غصب کر لیا ہے ،کیا وہاں بیٹھنا نماز پڑھنا اور چلنا جائز ہے ؟
 
ج۔ اگر غصبی ہو نے کا علم ہو تو اس میں تصرف ناجائز ہو نے اور تصرف کی صورت میں ضامن ہو نے کے سلسلے میں ان امکانات کا حکم وہی ہے جو غصبی چیزوں کا ہو تا ہے۔
 
س381۔ اس زمین پر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے جو پہلے وقف تھی اور پھر حکومت نے اس پر تصرف کر کے مدرسہ بنا دیا ہو ؟
 
ج۔ اگر اس بات کا قوی احتمال ہو کہ اس میں تصرف کرنا شرعی لحاظ سے جائز تھا تو اس جگہ نماز پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
 
س382۔میں کئی مدرسوں میں نماز جماعت پڑھتا ہوں ، ان مدرسوں کی بعض زمینیں ایسی ہیں جو ان کے مالکوں سے ان کی رضامندی کے بغیر لی گئی ہیں ، لہذا ان جیسے مدرسوں میں میری اور طلاب کی نمازوں کا کیا حکم ہے ؟
 
ج۔ اگر ان زمینوں کے شرعی مالک سے غصب ہو نے کا یقین نہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
 
س383۔ اگر کوئی شخص ایک مدت تک غیر مخمس جا نماز یا لباس میں نماز پڑھے تو اس کی نمازوں کا کیا حکم ہے ؟
 
ج۔ اگر وہ نہ جانتا ہو کہ ان چیزوں میں خمس ہے یا ان پر تصرف کے حکم سے ناواقف رہا ہو تو جو نمازیں اس نے ان میں پڑھی ہیں ، صحیح ہیں۔
 
س384۔ کیا یہ بات صحیح ہے کہ نماز میں مردوں کو عورتوں سے آگے ہو نا واجب ہے ؟
 
ج۔ واجب نہیں ہے ، اگرچہ اس مسئلہ میں احتیاط کی رعایت کرنا بہتر ہے۔
 
س385۔ مسجدوں میں امام خمینی(رح) اور شہداء انقلاب کی تصویروں کے لگانے کا کیا حکم ہے ، جبکہ امام خمینی (رح) مساجد میں اپنی تصویروں کو لگانے پر راضی نہ تھے۔ اسی طرح اور بھی اقوال ہیں جو اس سلسلہ میں کراہت پر دلالت کرتے ہیں ؟
 
ج۔ مسجدوں میں ان افراد کی تصویروں کے لگانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں ہے اور اگر وہ تصویریں قبلہ کی طرف اور نمازی کے سامنے نہ ہوں تو کراہت بھی نہیں ہے۔
 
س386۔ ایک شخص حکومت کے مکان میں رہتا تھا اب اس میں اس کے رہنے کی مدت ختم ہو گئی اور مکان خالی کرنے کے لئے اس کے پاس نوٹس بھی جا گیا، پس جس تاریخ میں مکان خالی کرنا تھا اس کے بعد اس میں پڑھی جانے والی نماز اور روزے کا کیا حکم ہے ؟
 
ج۔ اگر مقررہ تاریخ کے بعد متعلقہ حکام کی طرف سے اس مکان میں رہنے کی اجازت نہ ہو تو اس میں تصرف کرنا غصب کرنے کے حکم میں ہے۔
 
س387۔ جس جا نماز پر تصویریں اور سجدہ گاہ پر نقش و نگار بنے ہوئے ہیں ، کیا ان پر نماز پڑھنا مکروہ ہے ؟
 
ج۔ بذات خود کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر اس سے شیعوں پر تہم ت لگانے والوں کے لئے بہا نہ فراہم ہو تا ہو توایسی چیزیں بنانے اور ان پر نماز پڑھنے سے اجتناب کرنا واجب ہے۔
 
س388۔ اگر نماز پڑھنے کی جگہ پاک نہ ہو لیکن سجدہ کی جگہ پاک ہو ، تو کیا ہماری نماز صحیح ہے ؟
 
ج۔ اگر اس جگہ کی نجاست لباس یا بدن میں سرایت نہ کرے اور سجدہ کی جگہ پاک ہو تو ایسی جگہ نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
 
س389۔ میرے دفتر کی موجودہ عمارت پرانے قبرستان پر بنائی گئی ہے۔ تقریباً چالیس سال قبل سے اس میں مردے دفن کرنا چھوڑ دیا گیا تھا لہذا تیس سال پہلے اس عمارت کی بنیاد پڑی اب پوری زمین پر یہ عمارت مکمل ہو چکی ہے اور اس وقت قبرستان کا کوئی نشان باقی نہیں ہے۔ پس ایسے دفتر میں اس کے کارکنوں کی نمازیں شرعی اعتبار سے صحیح ہیں یا نہیں ؟
 
ج۔ اس وقت تک اس میں کام کرنے اور نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے جب تک شرعی طریقے سے یہ ثابت نہ ہو جائے کہ یہ جگہ میت دفن کرنے کے لئے وقف کی گئی تھی۔
 
س390۔ مومن نوجوان نے ( امر بالمعروف کی خاطر) ، پارکوں اور تفریح گہوں میں ہفتے میں ایک یا دو دن اقامہ نماز کا پروگرام بنایا ہے ،لیکن بعض مشہور اور سن رسیدہ افراد اعتراض کرتے ہیں کہ پارکوں اور تفریح گہوں کی ملکیت واضح نہیں ہے۔ لہذا ان جگہوں پر نماز کیسے ہو گی؟
 
ج۔ موجودہ پارکوں اور تفریح گہوں کو نماز وغیرہ کے لئے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور غصب کا احتمال قابل توجہ نہیں ہے۔
 
س391۔ اس شہر ( ہا دی شہر ) کے موجودہ مدارس میں سے ایک مدرسہ کی زمین ایک شخص کی ملکیت ہے۔ شہر کے نقشہ کے مطابق اس کو پارک میں تبدیل کرنا مقررہ کیا گیا تھا۔ لیکن جب مدرسہ کی شدید ضرورت محسوس ہو نے لگی تو اسے میونسپل بورڈ کی اجازت سے مدرسہ میں تبدیل کر دیا گیا مگر چونکہ مالک زمین ( حکومت کی طرف سے) اس ضبطی پر راضی نہیں ہے اور اس نے اعلان کر دیا ہے کہ اس میں نماز وغیرہ صحیح نہیں ہے۔ لہذا آپ فرمائیں کہ مذکورہ عمارت میں نماز کا کیا حکم ہے ؟
 
ج۔ اگر اس زمین کو اس کے حقیقی مالک سے پارلیمنٹ کے پاس کئے ہوئے قانون کے تحت جس کی شورائے نگہبان نے بھی تائید کی ہو ، لیا گیا ہے تو اس میں تصرف کرنے اور نماز پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
 
س392۔ ہمارے شہر میں دو ملی ہوئی مسجدیں تھیں جن کے درمیان صرف ایک دیوار کا فاصلہ تھا۔ کچھ دنوں پہلے بعض مومنین نے دونوں مسجدوں کو ایک کرنے کے لئے درمیانی دیوار کے بڑے حصے کو گرا دیا۔ یہ اقدام بعض لوگوں کے لئے شک و شبہ کا سبب بنا ہو ا ہے اور وہ ان مسجدوں میں نماز نہیں پڑھ رہے ہیں۔ آپ فرمائیں کہ اس مسئلہ کا کیا حل ہے ؟
 
ج۔ دونوں مسجدوں کے درمیان کی دیوار کو گرانے سے ان میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج واقع نہیں ہو تا۔
 
س393۔ شاہرہوں پر کھانے کے ہو ٹلوں میں نماز پڑھنے کی بھی ایک مخصوص جگہ ہو تی ہے ، لہذا اگر کوئی شخص اس ہو ٹل میں کھانا نہ کھائے تو کیا اس کے لئے وہاں نماز پڑھنا جائز ہے یا اجازت لینا واجب ہے ؟
 
ج۔ اگر اس کا احتمال ہو کہ نماز کی جگہ ہو ٹل والے کی ملکیت ہے اور وہاں صرف وہی اشخاص نماز پڑھ سکتے ہیں جو اس ہو ٹل میں کھانا کہا تے ہیں ، تو اجازت لینا واجب ہے۔
 
س394۔ جو شخص غصبی زمین پر لیکن ایسی جانماز یا تختے پر نماز پڑھے جو مباح ہو تو اس کی نماز باطل ہے یا صحیح؟
 
ج۔ غصبی زمین پر پڑھی جانے والی نماز باطل ہے خواہ وہ مباح جا نماز یا تخت پر ہی کیوں نہ پڑھی جائے۔
 
س395۔ موجودہ حکومت کے زیر تصرف اداروں اور کمپنیوں میں بعض افراد وہ ہیں جو نماز باجماعت میں شرکت نہیں کرتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عمارتیں ان کے مالکوں سے شرعی عدالت کے فیصلہ پر ضبط کی گئی ہیں۔ برائے مہربانی اس سلسلے میں آپ اپنے فتوے سے مطلع فرمائیں ؟
 
ج۔ نماز جماعت میں شرکت کرنا بنیادی طور سے ضروری نہیں ہے ، ہر شخص کو کسی عذر کی وجہ سے شریک جماعت نہ ہو نے کا حق ہے اور رہا مکان کا حکم شرعی تو اگر یہ احتمال ہے کہ ضبط کرنے کا حکم ایسے شخص نے دیا تھا جس کو قانونی حیثیت حاصل تھی اور اس نے شرعی اور قانونی تقاضوں کے مطابق ضبط کرنے کا حکم دیا تھا تو شرعاً اس کا عمل صحیح تھا۔ لہذا ایسی صورت میں اس مکان پر تصرف کرنا جائز ہے اور غصب کا حکم نافذ نہیں ہو گا۔
 
س396۔ اگر امام بارگہوں کے پڑوس میں مسجد بھی ہو تو کیا امام بارگاہ میں نماز جماعت قائم کرنا صحیح ہے اور کیا دونوں جگہوں کا ثواب مساوی ہے ؟
 
ج۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسجد میں نماز پڑھنے کی فضیلت دوسری جگہوں پر نماز پڑھنے سے زیادہ ہے ، لیکن امام بارگاہ یا دوسری جگہوں پر نماز جماعت قائم کرنے میں شرعاً کوئی مانع نہیں ہے۔
 
س397۔ جس جگہ حرام موسیقی ہو رہی ہو کیا وہاں نماز پڑھنا صحیح ہے ؟
 
ج۔ اگر وہاں نماز پڑھنا حرام موسیقی سننے کا سبب بنے تو اس جگہ ٹھہرنا جائز نہیں ہے۔ لیکن نماز صحیح کھلائے گی اور اگر موسیقی کی آواز نماز سے توجہ ہٹانے کا سبب بنے تو اس جگہ نماز پڑھنا مکروہ ہے۔
 
س398۔ ان لوگوں کی نماز کا کیا حکم ہے جن کو بحری جہا ز کے ذریعہ خاص ڈیوٹی پر بھی جا جاتا ہے اور سفر کے دوران نماز کا وقت ہو جاتا ہے اور اگر اسی وقت وہ نماز نہ پڑھیں تو پھر وہ وقت کے اندر نماز نہیں پڑھ سکیں گے؟
 
ج۔ مذکورہ صورت میں ان پر واجب ہے کہ وہ کشتی میں جس طرح ممکن ہو نماز پڑھیں۔

قبلہ کے احکام................................................فہرست............................................مسجد کے احکام



 


فائل اٹیچمنٹ:
حالیہ تبصرے

اس کہانی کے بارے میں تبصرے

     
امنیت اطلاعات و ارتباطات ناجی ممیزی امنیت Security Audits سنجش آسیب پذیری ها Vulnerability Assesment تست نفوذ Penetration Test امنیت منابع انسانی هک و نفوذ آموزش هک