4/27/2017         ویزیٹ:704       کا کوڈ:۹۳۴۱۸۶          ارسال این مطلب به دیگران

استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای » استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
  ،   قضا نماز

شکیات اور ان کے احکام..................................فہرست...........................بڑے بیٹے پر باپ کی قضا نمازیں


قضا نماز
 
س533۔ میں سترہ سال کی عمر تک احتلام اور غسل وغیرہ کے بارے میں نہیں جانتا تھا اور ان امور کے متعلق کسی سے کوئی بات نہیں سنی تھی ، خود بھی جنابت اور غسل واجب ہو نے کے معنی نہیں سمجھتا تھا لہذا اس عمر تک میرے روزے اور نمازوں میں اشکال ہے ، امید ہے کہ مجھے اس فریضہ سے مطلع فرمائیں گے جس کا انجام دینا میرے اوپر واجب ہے ؟
 
ج۔ ان تمام نمازوں کی قضا واجب ہے جو آپ نے جنابت کی حالت میں پڑھیں لیکن اصل جنابت کا علم نہ ہو نے کی صورت میں جو روزے جنابت کی حالت میں رکھے ہیں وہ صحیح اور کافی ہیں ان کی قضا واجب نہیں ہے۔
 
س534۔ افسوس کہ میں جہا لت اور ضعیف الارادہ ہو نے کی وجہ سے استمناء ( مشت زنی) کیا کرتا تھا جس کے باعث بعض اوقات نماز نہیں پڑھتا تھا۔ لیکن مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ میں نے کتنے دنوں تک نماز ترک کی ہے اور پھر میں نے مستقل طور سے نماز نہیں چھوڑی تھی بلکہ ان ہی اوقات میں نماز نہیں پڑھتا تھا جن میں مجنب ہو تا تھا اور غسل نہیں کر پاتا تھا میرے خیال میں چہ ماہ کی نماز چھوٹی ہو گی اور میں نے اس مدت کی قضا نمازوں کو ادا کرنے کا ارادہ کر لیا ہے ، آیا ان نمازوں کی قضا واجب ہے یا نہیں ؟
 
ج۔ جتنی پنجگانہ نمازوں کے بارے میں آپ کو یقین ہے کہ ادا نہیں کی ہیں یا حالت حدث میں پڑھی ہیں ، آپ پر ان کی قضا واجب ہے۔
 
س535۔ جس شخص کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس کے ذمہ قضا نمازیں ہیں یا نہیں اور اگر بالفرض اس کے ذمہ قضا نمازیں ہوں تو کیا اس کی مستحب و نافلہ پڑھی ہوئی نمازیں ، قضا نماز میں شمار ہو جائیں گی؟
 
ج۔ نوافل و مستحب نمازیں قضا نماز میں شمار نہیں ہوں گی۔ اگر اس کے ذمہ قضا نمازیں ہیں تو ان کو قضا کی نیت سے پڑھنا واجب ہے۔
 
س536۔ میں تقریباً سات ماہ قبل بالغ ہو ا ہوں اور بالغ ہو نے سے چند ہفتے پہلے میں یہ سمجھتا تھا کہ بلوغ کی علامت صرف قمری حساب سے پندرہ سال کامل ہو نے پر ہے۔ مگر میں نے اس وقت ایک کتاب کا مطالعہ کیا جس میں لڑکیوں کے بلوغ کی علامت بیان ہوئی ہے ، تو اس میں کچھ اور بھی علامتیں میں نے دیکھیں جو مجھ میں پائی جاتی تھیں لیکن میں نہیں جانتا کہ یہ علامتیں کب سے وجود میں آئی ہیں ، کیا اب میرے ذمہ نماز و روزہ کی قضا ہے ؟ واضح رہے کہ میں کبھی کبھی نماز پڑھتا تھا اور گزشتہ سال ماہ رمضان کے سارے روزے رکھے ہیں پس اس مسئلہ کا کیا حکم ہے ؟
 
ج۔ ان تمام روزوں اور نمازوں کی قضا واجب ہے جن کے بالغ ہو نے کے بعد چھو ٹ جانے کا یقین ہے۔
 
س537۔ اگر ایک شخص نے ماہ رمضان میں تین غسل جنابت انجام دئے مثلاً ایک بیسویں تاریخ ایک پچیسویں تاریخ اور ایک ستائیسویں تاریخ کو بعد میں اسے یہ یقین ہو گیا کہ ان میں سے ایک غسل باطل تھا۔ پس اس شخص کے نماز ، روزے کا کیا حکم ہے ؟
 
ج۔ روزے صحیح ہیں لیکن نماز کی قضا احتیاطاً واجب ہے۔
 
س538۔ ایک شخص نے ایک عرصہ تک ناواقفیت کی بنا پر غسل جنابت میں ترتیب کی رعایت نہیں کی تو اس کے روزہ نماز کا کیا حکم ہے ؟
 
ج۔ اگر ترتیب کی رعایت نہ کرنا غسل کے باطل ہو نے کا سبب ہے جیسے سروگردن دھو نے سے پہلے جسم کا دایاں حصہ دھوئے تو جو نمازیں اس نے حدث اکبر کی حالت میں پڑھی ہیں ان کی قضا واجب ہے لیکن اگر وہ اس وقت اپنے غسل کو صحیح سمجھتا تھا تو اس کے روزے صحیح ہیں۔
 
س539۔ جو شخص ایک سال کی قضا نمازیں پڑھنا چاہتا ہے ، اسے کس طرح پڑھنا چاہئیے؟
 
ج۔ اسے کسی ایک نماز سے شروع کرنا چاہئیے اور نماز پنجگانہ کی طرح پڑھنا چاہئیے۔
 
س540۔ اگر ایک شخص پر کئی نمازیں واجب ہیں تو کیا وہ درج ذیل ترتیب کے مطابق ان کی قضا کرسکتا ہے :
 
1۔ صبح کی بیس نمازیں پڑھے۔
 
2۔ ظہر و عصر کی بیس بیس نمازیں پڑھے۔
 
3۔ مغرب و عشاء کی بیس بیس نمازیں پڑھے اور سال بھر اسی طریقہ پر عمل پیرا رہے
 
ج۔ مذکورہ طریقہ سے قضا نمازیں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
 
س541۔ایک شخص کا سر زخمی ہو گیا جس کا اثر اس کے دماغ تک پہنچا،اس کے نتیجہ میں اس کا ہاتھ ، بایاں پیر اور زبان شل ہو گئی ( اس سانحہ کے نتیجے میں وہ) نماز کا طریقہ بھول گیا اور اسے دوبارہ سیکھ بھی نہیں سکتا۔ لیکن کتاب میں پڑھ کر یا کیسٹ سے سن کر نماز کے بعض اجزاء کو سمجھ سکتا ہے۔ اس وقت نماز کے سلسلہ میں اس کے سامنے دو شکلیں ہیں :
 
1۔ وہ پیشاب کے بعد طہارت نہیں کرسکتا اور نہ وضو کرسکتا ہے۔
 
2۔ نماز میں اسے قرأت کی مشکل ہے ، اس کا کیا حکم ہے ؟ اسی طرح چہ ماہ سے اس کی جو نمازیں چھو ٹ گئی ہیں ، ان کا کیا حکم ہے ؟
 
ج۔ اگر وہ دوسروں کی مدد سے ہی وضو یا تیمم کرسکتا ہے تو واجب ہے کہ وہ جس طرح ہو سکے نماز پڑھے چاہے کیسٹ سن کر یا کتاب دیکھ کر یا وہ جس ذریعہ سے پڑھ سکتا ہو۔ اور گزشتہ فوت ہو جانے والی نمازوں کی قضا واجب ہے مگر جس نماز کے پورے وقت وہ بے ہو ش رہا ہے اس کی قضا واجب نہیں ہے۔
 
س542۔ جوانی کے زمانہ میں مغرب و عشاء اور صبح کی نماز سے زیادہ میں نے ظہر و عصر کی نمازیں قضا کی ہیں لیکن نہ میں ان کے تسلسل کو جانتا ہوں نہ ترتیب کو اور نہ ان کی تعداد کو ، کیا اس موقع پر اسے نماز دور پڑھنا ہو گی؟ اور نماز دور کیا ہے ؟ امید ہے کہ اس کی وضاحت فرمائیں گے۔
 
ج۔ ترتیب کی رعایت واجب نہیں ہے ، اور جتنی نمازوں کے فوت ہو نے کا آپ کو یقین ہے۔ ان ہی کی قضا بجا لانا کافی ہے اور ترتیب کے حصول کے لئے آپ پر دور کی نماز اور تکرار واجب نہیں ہے۔
 
س543۔ ایک کافر ( بالغ ہو نے کے ایک) عرصہ کے بعد اسلام لاتا ہے تو اس پر ان نمازوں اور روزوں کی قضا واجب ہے یا نہیں جو اس نے ادا نہیں کی ہیں ؟
 
ج۔ واجب نہیں ہے۔
 
س544۔ شادی کے بعد کبھی کبھی میرے عضو مخصوص سے ایک قسم کا سیال مادہ نکل آتا تھا جسے میں سمجھتا تھا کہ نجس ہے۔ اس لئے غسل جنابت کی نیت سے غسل کرتا اور پھر وضو کے بغیر نماز پڑھتا تھا ، توضیح المسائل میں اس سیال مادہ کو ’ مذی‘ کا نام دیا گیا ہے ، اب یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا ہوں کہ جو نمازیں میں نے مجنب ہوئے بغیر غسل جنابت کر کے بغیر وضو کے پڑھی ہیں ان کا کیا حکم ہے ؟
 
ج۔ وہ تمام نمازیں جو آپ نے سیال مادہ نکلنے کے بعد غسل جنابت کر کے وضو کئے بغیر ادا کی ہیں ان کی قضا واجب ہے۔
 
س545۔ بعض اشخاص نے گمراہ کن پروپیگینڈہ کے زیر اثر کئی سال تک نماز اور دیگر واجبات ترک کر دئے تھے لیکن امام خمینی (رح) کا رسالۂ  عملیہ آنے کے بعد انہوں نے خدا سے توبہ کر لی اور اب وہ چھو ٹ جانے والے واجبات کی قضا نہیں کرسکتے ، ان کا کیا حکم ہے ؟
 
ج۔ جتنی مقدار میں بھی ممکن ہو ان پر قضا ہو جانے والے واجبات کا ادا کرنا واجب ہے۔
 
س546۔ ایک شخص مرگیا اور اس کے ذمہ رمضان المبارک کے روزے اور قضا نمازیں تھیں ، اس نے کچھ مال چھوڑا ہے اگر اسے صرف کیا جائے تو فقط ماہ رمضان المبارک کے روزوں کی قضا ہو سکتی ہے اور نماز باقی رہے گی یا نماز پڑھوائی جا سکتی ہے اور روزے باقی رہ جاتے ہیں اس صورت میں کس کو مقدم کیا جائے؟
 
ج۔ نماز اور روزہ میں ( ایک کو دوسرے پر ) ترجیح نہیں ہے جب تک ( انسان) زندہ ہے اس پر خود قضا نماز و روزہ ادا کرنا واجب ہے اور جب خود ادا نہ کرسکے تو اس پر واجب ہے کہ آخر عمر میں یہ وصیت کرے کہ میرے ایک تھائی ترکہ سے قضا نمازوں کو اجرت پر ادا کرائیں۔
 
س547۔ میں زیادہ تر نمازیں پڑھتا رہا ہوں اور جو چھو ٹ گئی ہیں ان کی قضا کی ہے یہ چھو ٹ جانے والی نمازیں وہ ہیں جن کے اوقات میں ، میں سوتا رہا ہوں یا اس وقت میرا بدن و لباس نجس رہا ہے جن کا پاک کرنا دشوار تھا پس میں یہ کیسے سمجھوں کہ نماز پنجگانہ ، نماز قصر اور نماز آیات میں سے میرے ذمہ کتنی نمازیں باقی ہیں ؟
 
ج۔ جتنی نمازوں کے چھو ٹ جانے کا یقین ہے ان ہی کی قضا پڑھنا کافی ہے اور ان میں سے جتنی کے بارے میں آپ کو یہ یقین ہو کہ وہ قصر ہیں یا نماز آیات، انہیں اپنے یقین کے مطابق بجا لائیے اور باقی کو نماز پنجگانہ سمجھ کر پوری پڑھئیے اس سے زیادہ آپ کے ذمہ کوئی چیز نہیں ہے۔


شکیات اور ان کے احکام..................................فہرست...........................بڑے بیٹے پر باپ کی قضا نمازیں



فائل اٹیچمنٹ:
حالیہ تبصرے

اس کہانی کے بارے میں تبصرے

     
امنیت اطلاعات و ارتباطات ناجی ممیزی امنیت Security Audits سنجش آسیب پذیری ها Vulnerability Assesment تست نفوذ Penetration Test امنیت منابع انسانی هک و نفوذ آموزش هک