4/27/2017         ویزیٹ:638       کا کوڈ:۹۳۴۱۹۳          ارسال این مطلب به دیگران

استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای » استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
  ،   نماز جمعہ
نماز جمعہ
 
س616۔نماز جمعہ میں شریک ہو نے کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے ؟ جبکہ ہم حضرت اما م زمانہ علیہ السلام کی غیبت کے زمانہ میں زندگی گزار رہے ہیں اور اگر بعض اشخاص امام جمعہ کو عادل نہ مانتے ہوں تو نماز جمعہ میں شرکت کی تکلیف ان سے ساقط ہے یا نہیں ؟
 
ج۔ نماز جمعہ اگرچہ دور حاضر میں واجب تخییری ہے اور اس میں حاضر ہو نا واجب نہیں ہے لیکن نماز جمعہ میں شرکت کے فوائد و اہمیت کے پیش نظر صرف امام جمعہ کی عدالت میں شک یا بیہودہ عذر کی بنا پر مومنین خود کو ایسی نماز کی برکتوں سے محروم نہ کریں۔
 
س617۔ مسئلہ ، نماز جمعہ میں واجب تخییری کے کیا معنی ہیں ؟
 
ج۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جمعہ کے دن مکلف کو اختیار ہے کہ خواہ وہ نماز جمعہ پڑھے یا نماز ظہر۔
 
س618۔ نماز جمعہ کو اہمیت نہ دیتے ہوئے نماز جمعہ میں شرکت نہ کرنے کے سلسلے میں آپ کا کیا نظریہ ہے ؟
 
ج۔ عبادی و سیاسی پھلو رکھنے والی اس نماز جمعہ کو اہمیت نہ دیتے ہوئے شرکت نہ کرنا شرعی لحاظ سے مذموم ہے۔
 
س619۔ کچھ لوگ بیہودہ اور بے کار عذر کی بنا پر نماز جمعہ میں شریک نہیں ہو تے اور بعض اوقات نظریاتی اختلاف کے باعث شرکت نہیں کرتے اس سلسلہ میں آپ کا کیا نظریہ ہے ؟
 
ج۔ نماز جمعہ اگرچہ واجب تخییری ہے لیکن اس پر کوئی شرعی دلیل نہیں ہے کہ اس میں مستقل طور پر شرکت نہ کی جائے۔
 
س620۔ نماز ظہر کا عین اس وقت جماعت سے منعقد کرنا، جب نماز جمعہ تھوڑے فاصلہ پر برپا ہو رہی ہو جائز ہے یا نہیں ؟
 
ج۔ بذات خود اس میں کوئی مانع نہیں ہے اور اس سے مکلف جمعہ کے دن کے فریضہ سے بری الذمہ ہو جائے گا کیونکہ دور حاضر میں نماز جمعہ واجب تخییری ہے لیکن جمعہ کے دن نماز جمعہ سے نزدیک ہی با جماعت نماز ظہر قائم کرنے کا لازمی نتیجہ مومنین کی تفریق و تقسیم ہے اور اکثر اوقات عوام کی نظر میں امام جمعہ کی اہا نت و ہتک شمار کیا جاتا ہے اور اس سے نماز جمعہ کی پرواہ نہ کرنے کا اظہار ہو تا ہے اس لئے با جماعت نماز ظہر قائم کرنا مومنین کے لئے سزاوار نہیں ہے بلکہ اگر اس سے مفاسد اور حرام نتائج برآمد ہو تے ہوں تو اس سے اجتناب واجب ہے۔
 
س621۔ کیا نماز جمعہ و عصر کے درمیانی وقفہ میں امام جمعہ نماز ظہر پڑھ سکتا ہے ؟ اور اگر امام جمعہ کے علاوہ کوئی اور شخص نماز عصر پڑھائے تو کیا عصر کی نماز میں اس کی اقتداء ہو سکتی ہے ؟
 
ج۔ نماز جمعہ نماز ظہر سے بے نیاز کر دیتی ہے لیکن نماز جمعہ کے بعد احتیاطاً نماز ظہر پڑھنے میں کوئی اشکال نہیں ہے اور اگر نماز عصر کو جماعت سے پڑھنا چاہتا ہے تو کامل احتیاط یہ ہے کہ نماز عصر اس شخص کی اقتداء میں ادا کرے جس نے نماز جمعہ کے بعد احتیاطاً نماز ظہر پڑھ لی ہو۔
 
س622۔ اگر نماز جمعہ کے بعد امام جماعت نماز ظہر نہ پڑھے تو ماموم احتیاطاً نماز ظہر پڑھ سکتا ہے یا نہیں ؟
 
ج۔ اس کے لئے نماز ظہر پڑھنا جائز ہے۔
 
س623۔ کیا امام جمعہ کے لئے واجب ہے کہ وہ حاکم شرعی سے اجازت حاصل کرے؟ اور حاکم شرعی کس کو کہتے ہیں ؟اور کیا یہی حکم دوسرے ملکوں پر بھی جاری ہے ؟
 
ج۔ نماز جمعہ کی امامت کا اصل جواز اجازت پر موقوف نہیں ہے لیکن منصب امامت جمعہ کے احکام کا مرتب ہو نا ولی امر مسلمین کی طرف سے منصوب ہو نے پر موقوف ہے۔ اور یہ حکم ہر شہر اور ملک کے لئے عمومیت رکھتا ہے جس میں ولی امر مسلمین حاکم ہو اور لوگ اس کے فرمانبردار ہوں۔
 
س624۔ کیا منصوب شدہ امام جمعہ کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اس جگہ نماز جمعہ قائم کرے جہاں اسے منصوب نہ کیا گیا ہو جبکہ وہاں اس کے لئے کوئی مانع  و معارض بھی نہیں ہے ؟
 
ج۔ بذات خود نماز جمعہ قائم کرنا اس کے لئے جائز ہے لیکن اس پر امامت جمعہ کے احکام مرتب نہیں ہوں گے۔
 
س625۔ کیا موقت و عارضی آئمہ جمعہ کے انتخاب کے لئے واجب ہے کہ انہیں ولی فقیہ منتخب کرے یا آئمہ جمعہ کو اتنا اختیار ہے کہ امام موقت کے عنوان سے افراد منتخب کریں !
 
ج۔ منصوب شدہ امام جمعہ کسی کو بھی اپنا وقتی اور عارضی نائب بنا سکتا ہے۔ لیکن نائب کی امامت پر ولی فقیہ کی طرف سے نصب کئے جانے کے احکام مرتب نہیں ہوں گے۔
 
س626۔ اگر مکلف منصوب شدہ امام جمعہ کو عادل نہ سمجھتا ہو یا ا س کی عدالت میں شک کرتا ہو تو کیا مسلمین کی وحدت کے تحفظ کی خاطر ا سکی اقتداء جائز ہے ؟ اور جو شخص خود نماز جمعہ میں نہیں آتا اس کے لئے جائز ہے دوسروں کو جمعہ میں شرکت نہ کرنے کی ترغیب دے؟
 
ج۔ اس کی اقتداء کرنا صحیح نہیں ہے جس کو عادل نہ سمجھتا ہو یا جس کی عدالت میں شک کرتا ہو اور نہ اس کی جماعت میں اس کی نماز صحیح ہے لیکن وحدت کے تحفظ کی خاطر جماعت میں شریک ہو نے میں کوئی مانع نہیں ہے۔ بہر حال اسے دوسروں کو نماز جمعہ میں شرکت سے روکنے کا حق نہیں ہے اور نہ دوسروں کو اس کے خلاف بھڑکانے کا حق ہے۔
 
س627۔ اس نماز جمعہ میں شریک نہ ہو نے کا کیا حکم ہے جس کے امام جمعہ کا جھو ٹا ہو نا مکلف پر ثابت ہو گیا ہو ؟
 
ج۔ امام جمعہ کے قول کے خلاف انکشاف ہو نا اس کے کذب کی دلیل نہیں ہے ممکن ہے کہ اس نے اشتباہ ، غلطی یا توریہ کے طور پر کوئی بات کہی ہو۔ لہذا صرف اس توہم سے کہ امام جمعہ کی عدالت ساقط ہو گئی ہے خود کو نماز جمعہ کی برکتوں سے محروم نہیں کرنا چاہئیے۔
 
س628۔ جو امام جمعہ امام خمینی یا عادل ولی فقیہ کی طرف سے منصوب ہو ، کیا ماموم پراس کی عدالت کا اثبات و تحقیق ضروری ہے ، یا امامت جمعہ کے لئے اس کا منصوب ہو نا اس کی عدالت کے ثبوت کے لئے کافی ہے ؟
 
ج۔ اگر امام جمعہ کا امام خمینی(رح) یا ولی فقیہ کی جانب سے نصب کیا جانا ماموم کے لئے امام جمعہ کی عدالت کے بارے میں اطمینان بخش ہو تو ایسے امام کی اقتدا کے لئے کافی ہے
 
س629۔ کیا مساجد کے لئے آئمہ جماعت کا ثقہ علماء کی طرف سے معین کیا جانا یا ولی فقیہ کی جانب سے آئمہ جمعہ کا معین کیا جانا ، اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عادل ہیں یا ان کی عدالت کی تحقیق واجب ہے ؟
 
ج۔ اگر ماموم کو ان کے امام جمعہ یا جماعت منصوب کئے جانے سے ان کی عدالت پر اطمینان و وثوق پیدا ہو جاتا ہے تو اقتداء کرنے کے لئے اس پر اعتماد کرنا جائز ہے۔
 
س630۔ اگر امام جمعہ کی عدالت میں شک ہو کہ ( خدانخواستہ) اس کے عادل نہ ہو نے کا یقین ہو اور ہم نے اس کی اقتداء میں نماز پڑھ لی تو کیا اس کا اعادہ واجب ہے ؟
 
ج۔ اگر عدالت میں شک ہو یا نماز کے بعد یہ معلوم ہے کہ وہ عادل نہیں ہے تو جو نماز آپ نے پڑھ لی ہے وہ صحیح ہے اور اس کا اعادہ واجب نہیں ہے۔
 
س631۔ اس نماز جمعہ میں شرکت کا کیا حکم ہے جو یورپی اور دوسرے ممالک میں وہاں کی یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے اسلامی ممالک کے طلاب قائم کرتے ہیں اور ان میں شرکت کرنے والے اکثر افراد بشمول امام جمعہ اہل سنت ہو تے ہیں ؟ کیا اس صورت میں نماز جمعہ کے بعد ظہر پڑھنا ضروری ہے ؟
 
ج۔ مسلمانوں کے درمیان وحدت و اتحاد کی خاطر اس میں شرکت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
 
س632۔ پاکستان کے ایک شہر میں چالیس سال سے ایک جگہ نماز جمعہ ادا کی جا رہی ہے اور اب ایک شخص نے دو جمعوں کے درمیان شرعی مسافت کی رعایت کئے بغیر دوسری نماز جمعہ قائم کر دی ہے جس سے نماز گزاروں کے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔ شرعاً اس عمل کا کیا حکم ہے ؟
 
ج۔ کسی ایسے عمل کے اسباب فراہم کرنا جائز نہیں ہے ، جس سے مسلمانوں کی صفوں میں اختلاف و تفرقہ پیدا ہو جائے بالخصوص نماز جمعہ جیسے شعائر اسلامی میں جو مسلمانوں کے اتحاد کا مظہر ہے۔
 
س633۔ راولپنڈی کی جامع مسجد جعفریہ کے خطیب نے اعلان کیا کہ تعمیری کام کی بنا پر مذکورہ مسجد میں نماز جمعہ نہیں ہو گی۔ اب مسجد کی تعمیر کا کام ختم ہو گیا تو ہمارے سامنے یہ مشکل کھڑی ہو گئی کہ چار کلومیٹر کے فاصلہ پر دوسری مسجد میں نماز جمعہ قائم ہو نے لگی، مذکورہ مسافت کو مد نظر رکھتے ہوئے مذکورہ مسجد میں نماز جمعہ قائم کرنا صحیح ہے یا نہیں ؟
 
ج۔ جب دو نماز جمعہ کے درمیان ایک شرعی فرسخ کا فاصلہ نہ ہو تو بعد میں اور ایک ہی وقت میں قائم ہو نے والی نماز جمعہ باطل ہے۔
 
س634۔ کیا نماز جمعہ ، جو جماعت کے ساتھ قائم کی جاتی ہے ، اسے فرادیٰ پڑھنا صحیح ہے ؟مثلاً کوئی شخص ان لوگوں کے پھلو میں فرادیٰ نماز جمعہ پڑھے جو اسے جماعت سے پڑھ رہے ہیں ؟
 
ج۔ نماز جمعہ کے صحیح ہو نے کے شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ اسے جماعت سے پڑھا جائے، فرادیٰ صورت میں جمعہ صحیح نہیں ہے۔
 
س635۔ جب نماز گزار قصر کے حکم میں ہو اور وہ اس امام جماعت کے پیچھے نماز پڑھنا چاہتا ہو جو نماز جمعہ پڑھ رہا ہے تو کیا اس کی نماز صحیح ہے ؟
 
ج۔ ماموم مسافر کی نماز جمعہ صحیح ہے اور اسے ظہر پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
 
س636۔ کیا دوسرے خطبہ میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا اسم گرامی مسلمانوں کے ایک امام کے عنوان سے لینا واجب ہے یا استحباب کی نیت سے آپ (س) کا نام لینا واجب ہے ؟
 
ج۔ آئمہ مسلمین کا عنوان حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو شامل نہیں ہے اور خطبہ جمعہ میں آپ کا اسم گرامی لینا واجب نہیں ہے لیکن برکت کے طور پر آپ کے نام مبارک کا ذکر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
 
س637۔ کیا ماموم ، امام جمعہ کی اقتداء کرتے ہوئے جبکہ وہ نماز جمعہ پڑھ رہا ہو کوئی دوسری واجب نماز پڑھ سکتا ہے ؟
 
ج۔ اس کا صحیح ہو نا محل اشکال ہے۔
 
س638۔ کیا ظہر کے شرعی وقت سے پہلے نماز جمعہ کے دونوں خطبے پڑھنا صحیح ہے ؟
 
ج۔ زوال سے پہلے اس طرح پڑھنا جائز ہے کہ زوال آفتاب کے وقت ان سے فارغ ہو جائے۔
 
س639۔ جب ماموم دونوں خطبوں میں سے کچھ بھی نہ سن سکے بلکہ اثنائے نماز جمعہ میں پہنچے اور امام کی اقتداء کرے تو کیا اس کی نماز صحیح اور کافی ہے ؟
 
ج۔ اس کی نماز صحیح اور کافی ہے چاہے اس نے امام کے ساتھ ایک ہی رکعت پڑھ لی ہو ، اس طرح کہ نماز جمعہ کی آخری رکعت کے رکوع میں ہی اس کی شرکت ہو گئی ہو۔
 
س640۔ ہمارے شہر میں اذان ظہر کے ڈیڑھ گھنٹہ بعد نماز جمعہ قائم ہو تی ہے تو کیا یہ نماز ظہر کا بدل بن سکتی ہے یا نماز ظہر کا اعادہ ضروری ہے ؟
 
ج۔ زوال آفتاب کے ساتھ نماز جمعہ کا وقت ہو جاتا ہے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ عرف عام میں ابتداء زوال کے وقت سے تاخیر نہ کرے اور یہ بعید نہیں ہے کہ نماز جمعہ کا وقت ظہر کے بعد رونما ہو نے والے سایہ کے قامت انسان کے 2/7 برابر ہو نے تک باقی رہے ، اگر اس وقت میں نماز جمعہ نہیں پڑھی ہے تو پھر احتیاط واجب یہ ہے کہ اس کے بدلے نماز ظہر پڑھے۔
 
س641۔ ایک شخص میں نماز جمعہ میں پہنچنے کی طاقت نہیں ہے تو کیا وہ اوائل وقت نماز ظہر و عصر پڑھ سکتا ہے ؟ یا نماز جمعہ ختم ہو نے کا انتظار کرے اور اس کے بعد نماز ظہر و عصر پڑھے ؟
 
ج۔ منصوب امام جمعہ کی موجودگی میں نائب کے لئے جمعہ پڑھا نے میں کوئی حرج نہیں ہے اور نہ ہی منصوب امام کا اپنے نائب کی اقتداء کرنے میں کوئی مانع ہے۔


فائل اٹیچمنٹ:
حالیہ تبصرے

اس کہانی کے بارے میں تبصرے

     
امنیت اطلاعات و ارتباطات ناجی ممیزی امنیت Security Audits سنجش آسیب پذیری ها Vulnerability Assesment تست نفوذ Penetration Test امنیت منابع انسانی هک و نفوذ آموزش هک