5/1/2017         ویزیٹ:761       کا کوڈ:۹۳۴۲۳۴          ارسال این مطلب به دیگران

استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای » استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
  ،   قرض ، تنخواہ ، بیمہ اور پینشن
قرض ، تنخواہ ، بیمہ اور پینشن
 
س882۔ میرے پاس کاروبار کے سالانہ منافع میں سے جو کچھ موجود ہے اس میں خمس واجب ہے اور میں فی الحال کسی حد تک مقروض بھی ہوں۔ سوال یہ ہے کہ کیا مجھ کو یہ حق ہے کہ میں اپنے مجموعی سالانہ منافع سے اس قرض کی رقم کو علیحدہ کر لوں ؟ واضح رہے کہ قرض کا سبب نجی موٹر کار خریدنا ہے۔
 
ج۔ وہ قرض جو نجی گاڑی خریدنے کے سلسلہ میں لیا ہے اسے کاروبار کے سالانہ منافع سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔
 
س883۔ وہ ملازمین جن کے پاس کبھی کبھی سالانہ اخراجات سے کچھ بچ جاتا ہے کیا ان پر خمس واجب ہے جبکہ وہ لوگ یک مشت یا بالاقساط ادائیگی کی شرط پر مقروض بھی ہیں ؟
 
ج۔ اگر وہ قرض سالانہ اخراجات کے ضمن میں اسی سال لیا گیا ہے یا اسی سال کے اخراجات کے لئے بعض ضروری اشیاء کی خریداری کے لئے لیا گیا ہو تو اسے سالانہ بچت سے الگ کر کے خمس نکالا جائے گا۔ ورنہ جتنی بچت ہوئی ہے سب کا خمس دیا جائے گا۔
 
س884۔ کیا حج تمتع کی غرض سے حاصل کئے ہوئے قرض کا مخمس (پاک ہونا) واجب ہے اس طرح کہ خمس نکالنے کے بعد جو رقم بچ جائے اسے حج پر خرچ کیا جائے؟
 
ج۔ جو مال بعنوان قرض لیا گیا ہو اس پر خمس واجب نہیں ہے۔
 
س885۔ میں  نے گذشتہ پانچ سال کے دوران ایک ہؤسنگ کمپنی کو اس امید پر کچھ رقم دی ہے کہ وہ تھوڑی سی زمین خرید کہ میرے رہنے کے لئے مکان مہیا کر دے لیکن ابھی تک مجھے زمین دئیے جانے کا حکم صادر نہیں ہوا ہے۔ لہذا اب میرا ارادہ یہ ہے کہ میں اپنی دی ہوئی رقم اس کمپنی سے واپس لے لوں۔ واضح رہے کہ کل رقم کا ایک حصہ تو میں نے قرض لے کر دیا ہے اور ایک حصہ گھر کے فرش کو بیچ کر دیا تھا اور باقی میں نے اپنی بیوی کی تنخواہ سے جمع کیا تھا جو پیشہ کے لحاظ سے معلمہ ہے۔ آپ اس تفصیل کی روشنی میں ذیل کے دو سوالوں کا جواب مرحمت فرمائیے:
 
1۔ اگر میں اپنی رقم واپس لے سکا اور اس سے مکان یا زمین خریدلی تو کیا اس پر خمس واجب ہے ؟
 
2۔ اس رقم میں جو خمس واجب ہے اس کی مقدار کیا ہو گی؟
 
ج۔ جو رقم آپ نے اپنی زوجہ سے بطور ہبہ لی ہے اور جو رقم قرض لی ہے اس میں خمس نکالنا آپ پر واجب نہیں ہے۔ لیکن گھر کا جو قالین آپ نے بیچا ہے اگر وہ کاروبار کے سالانہ منافع سے سالانہ خرچ کے حساب میں خریدا تھا تو اس کی قیمت میں بنا بر احتیاط خمس واجب ہے۔ مگر یہ کہ آپ مکان خریدنے میں کامل طور پر اس رقم کے محتاج ہوں ، اس طرح کہ اگر اس رقم کا خمس ادا کریں تو بقیہ رقم سے آپ وہ مکان نہ خرید سکیں جس کی آپ کو ضرورت ہے تو پھر آپ پر اس کا خمس نکالنا واجب نہیں ہے۔
 
س886۔ چند سال قبل میں نے بینک سے قرض لیا اور اس کو اپنے کرنٹ اکاؤنٹ میں ایک سال کے لئے رکھ دیا لیکن اس قرض کی رقم کو کام پر نہ لگا سکا ، البتہ ہر مہینہ اس کی قسط ادا کرتا رہا ہوں تو کیا اس قرض میں خمس نکالنا ہو گا؟
 
ج۔ بنا بر فرض سوال قرض لئے ہوئے مال کی اسی مقدار میں سے خمس نکالنا ہو گا جس کی قسطیں آپ نے کاروبار کے منافع سے ادا کی ہیں۔
 
س887۔ میں نے اپنے سال کی ابتداء میں تنخواہ لیتے ہی حساب کیا تو باقی ماندہ رقم اور گھر کی بچی ہوئی چیزوں کا خمس 810 روپے ہوئے۔ اس حقیقت کے پیش نظر کہ میں مکان کے سلسلہ میں مقروض ہوں اور یہ قرض بارہ سال تک رہنے والا ہے امید رکھتا ہوں کہ خمس کے سلسلہ میں میری راہنمائی فرمائیں گے؟
 
ج۔ اگرچہ تعمیر مکان کی خاطر لئے گئے قرض کی قسطوں کا اسی سال کے کاروباری منافع سے ادا کرنا جائز ہے لیکن اگر ادا نہ کیا جائے تو نہیں اس سال کے منافع سے جدا نہیں کیا جا سکتا بلکہ آخر سال میں جو بچت آئی ہے اس کا خمس نکالنا واجب ہے۔
 
س888۔ طالب علم نے جن کتابوں کو والد کی کمائی یا اس قرض سے جو طلاب کو کالج سے دیا جاتا ہے خریدا ہو اور خود اس کے پاس کوئی ذریعہ آمدنی نہ ہو تو کیا ان میں خمس واجب ہے ؟ اور اگر یہ معلوم ہو کہ باپ نے کتاب کی خریداری میں جو مال دیا ہے اس نے اس کا خمس ادا نہیں کیا ہے تو کیا اس میں خمس دینا واجب ہو گا؟
 
ج۔ قرض کی رقم سے خریدی ہوئی کتابوں میں خمس نہیں ہے۔ اسی طرح اس مال میں بھی خمس نہیں ہے کہ جس کو باپ نے اسے دیا ہے۔ مگر یہ کہ اس بات کا یقین پیدا ہو جائے کہ یہ وہی مال ہے جس میں خمس واجب تھا تو اس صورت میں اس کا خمس دینا واجب ہے۔
 
س889۔ جب کوئی شخص کچھ مال قرض کے طور پرلے اور اپنے سال کے حساب سے پہلے اسے ادا نہ کرسکے تو اس قرض کا خمس، لینے والے پر ہے یا دینے والے پر؟
 
ج۔ قرض کی رقم میں قرض لینے والے پر مطلقاً خمس نہیں ہے لیکن اگر قرض دینے والے نے اپنے کاروباری سالانہ منافع کا خمس نکالنے سے پہلے یہ قرض دیا ہے تو اگر وہ سال کے تمام ہونے تک قرضدار سے قرض وصولی کرسکے تو تاریخ خمس آتے ہی اس پر واجب ہے کہ اس کا بھی خمس نکالے اور اگر سال کے آخر تک وصول نہ کرسکے تو ابھی اس کا خمس نکالنا اس پر واجب نہ ہو گا بلکہ اس کی وصولی کا منتظر رہے گا اور جب وصولی ہو جائے تو اس وقت اس پر اس کا خمس نکالنا واجب ہے۔
 
س890۔ ریٹائرڈ ( وظیفہ یاب) افراد جن کو پینشن مل رہی ہے ، کیا ان پر بھی واجب ہے کہ سال بہر کی تنخواہ کا خمس نکالیں ؟
 
ج۔ یہ لوگ پینشن کے طور پر جو رقم پارہے ہیں اگر وہ ان کی ملازمت کے زمانے کی تنخواہ سے کاٹی گئی ہے تو جس سال نہیں وہ رقم پینشن کے طور پر دی جائے اگر وہ اس سال کے خرچ سے زائد ہو تو اس میں خمس واجب ہے۔
 
س891۔ ایسے تمام وہ قیدی جن کی مدت اسیری میں ان کے والدین کو جمہوری اسلامی کی طرف سے ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے اور ان کی وہ رقم بینک میں جمع ہے کیا اس میں خمس واجب ہے ؟ جبکہ یہ معلوم ہے کہ اگر وہ لوگ آزاد ہوتے تو اس رقم کو خرچ کر ڈالتے ؟
 
ج۔ مال مذکورہ میں خمس نہیں ہے۔
 
س892۔ مجھ پر کچھ قرض ہے کہ اب جبکہ سال کا آخری دن آیا ہے اور سالانہ بچت بھی میرے پاس اتنی ہے کہ قرض واپس کرنے پر قدرت رکھتا ہوں۔ لیکن قرض دینے والے نے قرض کا مطالبہ نہیں کیا تو کیا میں قرض کی رقم کو سالانہ بچت سے علیحدہ کرسکتا ہوں ؟
 
ج۔ قرضہ چاہے رقم قرض لینے کی وجہ سے ہو اگر یہ زندگی کے ساز و سامان قرض پر لئے جانے کی وجہ سے ہو اگر یہ زندگی کے سالانہ اخراجات کو پورا کرنے کے لئے ہے تو اس کو سالانہ بچت سے جدا کیا جا سکتا ہے اور اس کے برابر سالانہ منفعت میں خمس نہیں ہے۔ لیکن اگر یہ قرض زندگی کے سالانہ اخراجات پورا کرنے کے لئے نہ ہو یا گذشتہ برسوں کا قرض ہو تو اگرچہ سالانہ بچت سے اس کا ادا کرنا جائز ہے لیکن اگر اس کو سال کے تمام ہونے سے پہلے ادا نہیں کیا گیا تو سالانہ منفعت سے اس کو جدا نہیں کیا جا سکتا۔
 
س893۔ جس کے سالانہ حساب میں کچھ مال بچ گیا ہو تو کیا اس پر خمس واجب ہے جبکہ سال پورا ہونے کے وقت وہ مقروض ہی ہو لیکن اسے معلوم ہے کہ قرض ادا کرنے کے لئے اس کے پاس چند سال کی مہلت ہے ؟
 
ج۔ قرض چاہے ابھی دینا ہو یا بعد میں سالانہ منفعت سے جدا نہیں کیا جائے گا سوائے اس قرض کے جس کو اسی سال زندگی کے اخراجات کے لئے لیا گیا ہو اس قرض کو منفعت سے جدا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس قرض کے برابر سالانہ بچت میں خمس نہیں ہے۔
 
س894۔ بیمہ کمپنیاں جسمانی یا مالی نقصان کے بدلے میں جو رقم اپنی قرارداد کے مطابق دیتی ہیں کیا اس پر خمس ہے ؟
 
ج۔ بیمہ کمپنیاں جو رقم بیمہ شدہ اشیاء کے مقابل میں دیتی ہیں اس پر خمس نہیں ہے۔
 
س895۔ گزشتہ سال میں نے کچھ رقم لے کر اس سے ایک زمین اس امید پر خریدلی کہ اس کی قیمت بڑھے گی تاکہ بعد میں اس زمین اور اپنے موجودہ گھر کو بیچ کر آئندہ کے لئے رہائشی مشکل کو حل کرسکوں۔ اور اب جبکہ میرے خمس کا سال آ پہنچا ہے تو میرا سوال یہ ہے کہ آیا میں گذشتہ سال کے کاروباری منافع میں سے کہ جس پر خمس واجب ہو چکا ہے اپنا قرض جدا کرسکتا ہوں یا نہیں ؟
 
ج۔ اس فرض کی بناء پر کہ قرض کا مال زمین کی خریداری میں اس کو آئندہ بیچنے کی امید پر خرچ ہوا ہے اس لئے جس سال قرض لیا گیا ہے اس سال کے منافع میں سے اسے جدا نہیں کیا جا سکتابلکہ واجب ہے کہ سالانہ اخراجات کے بعد جو کچھ بھی کاروباری منافع میں سے بچ گیا ہو اس سب کا خمس ادا کیا جائے۔
 
س896۔ میں نے بینک سے کچھ رقم قرض لی تھی جس کے ادا کرنے کا وقت میرے خمس کی تاریخ کے بعد آئے گا اور مجھے ڈر ہے کہ اگر اس سال میں نے اس قرض کو ادا نہ کیا تو آئندہ سال اس کے اد ا کرنے پر قادر نہیں رہوں گا اب جب میرے خمس کی تاریخ آئے گی تو اس مشکل کے پیش نظر میرے خمس کا کیا حکم ہے ؟
 
ج۔ اگرسال ختم ہونے سے پہلے سال کے منافع کو قرض کی ادائیگی میں خرچ کر دیں اور وہ قرض بھی اصل سرمایہ کو زیادہ کرنے کے لئے نہ لیا گیا ہو تو اس پر خمس نہیں ہے لیکن اگر قرض اصل سرمایہ کی زیادتی کے لئے ہو یا سال کے منافع اس سال کے ختم ہونے کے بعد قرض کی ادائیگی کے لئے ہو یا ذخیرہ کئے گئے ہوں تو آپ پر واجب ہے کہ اس کا خمس ادا کریں۔


فائل اٹیچمنٹ:
حالیہ تبصرے

اس کہانی کے بارے میں تبصرے

     
امنیت اطلاعات و ارتباطات ناجی ممیزی امنیت Security Audits سنجش آسیب پذیری ها Vulnerability Assesment تست نفوذ Penetration Test امنیت منابع انسانی هک و نفوذ آموزش هک