5/1/2017         ویزیٹ:405       کا کوڈ:۹۳۴۲۳۵          ارسال این مطلب به دیگران

استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای » استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
  ،   گھر ، وسائل نقلیہ ( گاڑی وغیرہ) اور زمین کی خرید و فروخت
گھر ، وسائل نقلیہ ( گاڑی وغیرہ) اور زمین کی خرید و فروخت

س897۔ آیا غیر مخمس مال سے بنوائے ہوئے گھرمیں خمس ہے ؟ اگر خمس واجب ہے تو موجودہ قیمت کو سامنے رکھ کر خمس نکالا جائے گا یا جس سال بنا ہے اس سال کی قیمت کے مطابق ؟
 
ج۔ اگر وہ اپنی رہائش کا گھر نہیں ہے اور اس نے اس گھر کی تعمیر کی غیر مخمس مال سے کی ہو، اس طریقہ سے کہ مال کو اس گھر کے مصالحہ کی خریداری اور مزدوروں کی اجرت وغیرہ میں خرچ کیا ہے تو اس کو حال حاضر میں اس گھر کی عادلانہ قیمت میں سے خمس نکالنا ہو گا لیکن اگر اس نے قرض اور ادھار لے کر بنایا اور بعد میں اس قرض کو غیر مخمس مال سے چکایا ہو تو صرف اسی مال میں خمس نکالنا ضروری ہے جو اس نے قرض چکانے میں صرف کیا ہے۔
 
س898۔ میں نے اپنا مکان اس بنیاد پر بیچا کہ دوسرا خریدوں گا بعد میں معلوم ہوا کہ اس کی قیمت میں خمس ہو گا۔ اب اگر خمس نکالتا ہوں تو دوسرا مکان خریدنے پر قادر نہ رہوں گا واضح رہے کہ اس کو بیچنے سے قبل میں اس کے فرش کے لئے کچھ رقم کا محتاج تھا تو اس صورت میں میرے لئے کیا حکم ہے ؟
 
ج۔ بیچے ہوئے گھر کی قیمت اگر اسی سال دوسرے گھر ، جس کی ضرورت ہو ، کی خریداری میں یا نذر کے دوسرے اخراجات پر صرف کی جائے تو اسں میں خمس نہیں ہے۔
 
س899۔ میں نے اپنا رہائشی فلیٹ بیچ دیا اور یہ معاملہ خمس کا سال آتے ہی واقع ہوا اور میں اپنے کو حقوق شرعیہ کی ادائیگی کا سزاوار سمجھتا ہوں لیکن اس سلسلہ میں اپنے خاص حالات کی وجہ سے مشکل سے رو برو ہوں۔ گذارش ہے کہ اس مسئلہ میں میری راہنمائی فرمائیں ؟
 
ج۔ جس گھر کو آپ نے بیچا ہے ، اگر وہ ایسے مال سے خریدا گیا تھا جس میں خمس نہیں تھا تو اب بیچنے کے بعد بھی اس کی قیمت میں خمس نہیں ہے۔ اسی طرح اگر گھر کی قیمت اس سال کے اخراجات زندگی میں خرچ ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر ایسے گھر کے خریدنے میں جس کی ضرورت تھی یا زندگی کی ضروریات کے خریدنے میں تو اس میں بھی خمس نہیں ہے۔
 
س900۔ میرے پاس ایک شہر میں نصف تعمیر شدہ مکان ہے اور مجھے رہنے کے لئے حکومت کی طرف سے ملے ہوئے گھر کی وجہ سے اس کی ضرورت نہیں ہے میں چاہتا ہوں کہ اس کو بیچ کر اس سے ایک گاڑی اپنی ضرورت کے لئے خرید لوں تو کیا اس کی قیمت میں سے خمس نکالنا ہو گا؟
 
ج۔ اگر مذکورہ گھر جسے آپ نے دوران سال ، سال کے منافع میں سے خانگی اور رہائشی اخراجات کے حساب سے بنوایا یا خریدا ہے تو اس گھر کی قیمت میں خمس نہیں ہے جبکہ اس کی قیمت کو اسی سال زندگی کی ضروریات میں خرچ کیا ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو احتیاطاً اس میں خمس واجب ہے۔
 
س901۔ میں نے اپنے گھر کے لئے چند دروازے خریدے لیکن دو سال کے بعد ناپسند ہونے کی بنا پر نہیں بیچ دیا اور اس کی قیمت کو المونیم کمپنی میں اپنے لئے المونیم کے دروازے بنانے کے لئے رکھ دیا جو اسی بیچے ہوئے دروازے کی قیمت کے برابر ہے تو کیا ایسے مال میں خمس نکالنا ہو گا؟
 
ج۔ اگر دروازوں کی قیمت فروخت اسی سال دوسرے دروازے خریدنے میں صرف ہوئی ہے تو اس میں خمس نہیں ہے۔
 
س902۔ میں نے ایک لاکہ تومان ایک کمپنی کو مکان کی زمین کے لئے دیا ہے اور اب اس رقم پر سال تمام ہو چکا ہے ، صورت حال یہ ہے کہ ایک حصہ اس رقم کا میرا اپنا ہے اور ایک حصہ میں نے قرض لیا تھا جس میں سے کچھ ادا کرچکا ہوں تو کیا اس میں خمس ہے اور اگر ہے تو کتنا؟
 
ج۔ اگر ضرورت کے مطابق گھر بنوانے کے لئے زمین کی خریداری اس بات پر موقوف ہے کہ بیعانہ کے طور کچھ رقم پہلے سے جمع کرنی ہے تو دی ہوئی قیمت پر خمس دینا ضروری نہیں ہے چاہے آپ نے اس کو اپنے سالانہ منافع سے ہی ادا کیا ہو۔
 
س903۔ اگر کسی نے اپنا گھر بیچا اور اس کی قیمت کے منافع سے فائدہ اٹھانے کے لئے اس کو بینک میں جمع کر دیا پھر خمس کی تاریخ آ گئی تو اس کا کیا حکم ہے ؟ اور اگر اس مال کو اس نے گھر خریدنے کے لئے رکھا ہو تو اس کا کیا حکم ہے ؟
 
ج۔ اگر گھر کو اثناء سال میں اسی سال کے منافع سے خانگی اور رہائشی اخراجات سے بنوایا یا خریدا ہے تو اس صورت میں گھر کی قیمت اگر اس سال میں صرف کی گئی ہے تب بھی اس میں خمس نہیں ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو احوط یہ ہے کہ اس کا خمس نکالا جائے۔
 
س904۔ وہ رقم جو انسان گھر کے کرایہ پر لینے کے لئے رہن کے طور پر دیتا ہے آیا اس میں خمس ہے یا نہیں ؟ آیا ایسے مال پر جسے تھوڑا تھوڑا کر کے گھر یا گاڑی خریدنے کے لئے جمع کیا گیا ، خمس ہے ؟
 
ج۔ ضروریات زندگی خریدنے کے لئے جمع کردہ مال پر اگر کاروبار کے منافع میں سے ہو اور اس پر ایک سال گذر چکا ہے تو اس میں خمس ہے لیکن وہ مال جو مالک مکان کو قرض کے طورپر دیا گیا ہے اس میں اس وقت تک خمس نہیں ہے جب تک کہ قرض لینے والا واپس نہ کر دے۔
 
س905۔ ایک شخص کے پاس اپنی گاڑی ہے جس کو اس نے درمیان سال کے منافع سے خریدا ہے اور چند سال کے بعد اس نے اس کو خمس کے حساب کے وقت بیچ دیا۔ اس گاڑی کی فروخت سے پہلے اس شخص نے دوسری گاڑی خریدی تھی جس کا کچھ قرض اس کے ذمے تھا، جس کو پہلی گاڑی کے فروخت کرنے کے بعد ادا کیا اور باقی قیمت میں سے کچھ بینک کو گذشتہ سالوں کے ٹیکس کی ادائیگی کے لئے دیا جس کو وہ قسطوں کے طور پر دیتتھا۔ لیکن چند سال سے قسطیں ادا نہیں کی تھیں۔ لہذا اس نے وہ ساری قسطیں ایک ساتھ ادا کر دیں ، ایسی صورت میں باقی رقم میں مضاربہ یا نفع کے لئے رکھ دی ، ایسی صورت میں :
 
1۔ کیا گاڑی کی سب قیمت میں خمس ہے ؟
 
2۔ کیا پہلی گاڑی کی قیمت فروخت سے ( خمس نکالتے وقت) نئی گاڑی کی قیمت خرید کا قرض الگ کیا جا سکتا ہے ؟
 
3۔ کیا گاڑی کا قرض اور گذشتہ سالوں کے تمام ٹیکس یا کم ازکم سال جاری کے ٹیکس کو گاڑی کی قیمت فروخت سے خمس نکالتے وقت الگ کر لیا جائے اور جو باقی بچے اس کا خمس دینا واجب ہو؟
 
ج۔ گاڑی کی قیمت فروخت سے خمس کے سال میں جو رقم اخراجات زندگی اور قرض وغیرہ ادا کرنے وغیرہ کے لئے صرف کی ہے ، اس میں خمس نہیں ہے لیکن جو رقم بینک میں فائدے کے لئے رکھی ہے یا آئندہ برسوں کی ٹیکس کی ادائیگی کے لئے رکھی ہے تو احتیاط واجب کے طور پر سال خمس کی تاریخ خمس آنے پر ا س میں خمس دینا واجب ہے۔
 
س906۔ میں نے ایک گاڑی چند سال پہلے خریدی جسے اب کئی گنا قیمت پر بےچا جا سکتا ہے جبکہ جس رقم سے اس کو خریدا تھا وہ غیر مخمس تھی اور اب جو قیمت مل رہی ہے اس سے میں گھر خریدنا چاہتا ہوں تو کیا قیمت وصول ہوتے ہی اس تمام رقم پر خمس واجب ہو گا؟ یا جتنے میں گاڑی خریدی تھی بس اسی میں خمس نکالا جائے گا؟ اور بقیہ رقم جو قیمت بڑھنے کی وجہ سے ملی ہے اس کو گاڑی بیچنے والے سال کی منفعت میں حساب کیا جائے گا اور سال تمام ہونے کے بعد اگر وہ مصرف سے بچی رہی تو اس وقت اس کا خمس نکالنا ہو گا؟
 
ج۔ اگر گاڑی ضروریات زندگی میں سے ہے اور سال جاری کے منافع سے خریدی گئی ہے تو اس کی قیمت میں خمس نہیں ہے جبکہ وہ رقم خمس کے اسی سال میں اپنی ضروریات میں صرف کی جائے جیسے رہنے کے لئے گھر یا اس کے مثل کوئی چیز خریدی ہو ورنہ بنا بر احوط واجب ہے کہ آخر سال میں آپ اس کا خمس نکالیں۔ اور اگر گاڑی کرائے پر چلانے کے لئے خریدی ہے تو اگر اس کو آپ نے ادھار لیا ہے یا قرض لے کر خرید لیا ہے اور پھر اس ادھار یا قرض کو اپنے کاروبار کے منافع سے ادا کیا ہے تو اس صورت میں آپ کو اتنے ہی مال کا خمس نکالنا ہو گا جتنا قرض ادا کرنے میں خرچ کیا ہے۔ اور اگر آپ نے گاڑی اپنے کاروباری منافع سے خریدی ہے تو آپ پر واجب ہے کہ جس دن گاڑی فروخت کریں اس کی تمام قیمت کا خمس ادا کریں۔
 
س907۔ میں ایک بہت ہی معمولی مکان کا مالک تھا۔ چند وجوہات کی بناء پر دوسرا گھر خریدنے کا ارادہ کر لیا لیکن مقروض ہونے کی بناء پر میں اپنے استعمال کی گاڑی بیچنے پر مجبور ہوا اسی طرح صوبے کے بینک سے اور اپنے شہر کے قرض الحسنہ سوسائٹی سے قرض لینے پر مجبور ہوا تاکہ میں گھر کی قیمت ادا کرسکوں واضح رہے کہ میں نے اپنے خمس کی تاریخ آنے سے قبل گاڑی بیچی ہے اور جو قیمت ملی ہے اس کو اپنے قرض کی ادائیگی میں خرچ کیا ہے۔ آیا گاڑی کی قیمت میں خمس ہے یا نہیں ؟
 
ج۔ مفروضہ سوال میں بیچی ہوئی گاڑی کی قیمت میں کوئی خمس نہیں ہے۔
 
س908۔ گھر، موٹر یا دوسری وہ چیزیں جن کی انسان کو یا ان کے بچوں کو ضرورت ہوتی ہے اور سالانہ منافع سے ان اشیاء کو خریدتا ہے ، اب اگر ان کو کسی ضرورت کی بناء پر یا اس سے بہتر خریدنے کے لئے بیچا جائے تو ان کے بارے میں خمس کا کیا حکم ہے ؟
 
ج۔ اگر ضروریات زندگی میں سے کوئی چیز بیچ کر اس کی قیمت سے اسی خمس کے سال میں ضروریات زندگی میں سے کوئی چیز بیچ کر اس کی قیمت سے اسی خمس کے سال میں ضروریات زندگی میں سے کوئی چیز خریدے تو اس میں خمس نہیں ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو نیا خمس سال آتے ہی اس کا خمس نکالنا بربنائے احوط واجب ہے۔ مگر یہ کہ جب بقیہ قیمت جس کو وہ اگلے سال کے مخارج میں صرف کرنا چاہتا ہے وہ اتنی مقدار میں نہ ہو جو اس کی احتیاج کو پورا کرسکے تو اس پر خمس نہیں ہے۔
 
س909۔ ایک متدین انسان نے اپنی نجی گاڑی یا اپنا گھر بیچ دیا تاکہ اس سے بہرحال مکان یا گاڑی خریدے۔ اس نے اس رقم کے علاوہ الگ سے کچھ رقم اس میں اضافہ کی اور پہلے سے بہتر گاڑی اور گھر خریدا تو اس کے لئے خمس کا کیا حکم ہے ؟
 
ج۔ اگر ا س نے اپنی ضروریات زندگی میں سے کچھ بیچ کر اس کی قیمت اسی سال کی لازمی چیزوں میں صرف کی تو اس پر خمس نہیں ہے۔ لیکن اگر اس نے رقم آخر سال تک اپنے پاس رکھی تو احوط یہ ہے کہ اس میں خمس نکالنا واجب ہے اور اگر خمس کے بعد باقی ماندہ رقم اس کے اگلے سال کے اخراجات کے لئے کافی نہ ہوتی ہو تو اس صورت میں اس پر خمس ادا کرنا واجب نہیں ہے۔
 
س910۔ گھر ، گاڑی یا ان جیسی دیگر ضرورت کی چیزیں اگر خمس نکالے ہوئے مال سے خریدی جائیں اور فروخت یا تجارت کی غرض سے نہیں بلکہ استفادہ کی نیت سے خریدی جائیں اور بعد میں کسی وجہ سے ان کو بیچ دیں تو کیا اصل قیمت سے زیادہ میں خمس ہے ؟
 
ج۔ بناء بر فرض سوال قیمت بڑھنے سے جو منفعت حاصل ہوئی ہے اس میں خمس نہیں ہے ،



فائل اٹیچمنٹ:
حالیہ تبصرے

اس کہانی کے بارے میں تبصرے

     
امنیت اطلاعات و ارتباطات ناجی ممیزی امنیت Security Audits سنجش آسیب پذیری ها Vulnerability Assesment تست نفوذ Penetration Test امنیت منابع انسانی هک و نفوذ آموزش هک