5/1/2017         ویزیٹ:470       کا کوڈ:۹۳۴۲۳۹          ارسال این مطلب به دیگران

استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای » استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
  ،   مصالحت ، اور خمس میں غیر خمس کی ملاوٹ
مصالحت ، اور خمس میں غیر خمس کی ملاوٹ
 
س945۔ یہاں کچھ ایسے لوگ ہیں جن پر خمس واجب تھا مگر انہوں نے ابھی تک ادا نہیں کیا ہے ، اور فی الوقت یا تو وہ خمس دینے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں یا ان کے لئے خمس کا ادا کرنا دشوار ہے تو ان کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
 
ج۔ جن پر خمس دینا واجب ہے تنہا ادائیگی دشوار ہونے کہ وجہ سے خمس ان سے ساقط نہیں ہوسکتا ہے بلکہ جس وقت بھی اس کا ادا کرنا ان کے لئے ممکن ہو اس وقت دینا واجب ہو گا۔ وہ لوگ خمس کے ولی امر یا اس کے وکیل سے اپنی استطاعت کے مطابق خمس ادا کرنے کے لئے وقت اور مقدار کے بارے میں صلاح و مشورہ کریں۔
 
س946۔ میں نے قرض پر ایک مکان اور دوکان ، جس میں کاروبار کرتا ہوں ،حاصل کی ہے اور یہ قرض قسط وار ادا کر رہا ہوں اور شریعت پر عمل کرتے ہوئے اپنے خمس کا سال بھی معین کر لی ہے۔ آپ سے التجا ہے کہ مجھ پر اس گھر کا خمس معاف فرمادیں جس میں میرے بچے زندگی گذار رہے ہیں۔ رہا دوکان کا خمس تو اس کو قسطوں کی شکل میں ادا کرنا میرے امکان میں ہے۔
 
ج۔ بنابر فرض سوال جس مکان میں آپرہتے ہیں اس پر خمس نکالنا واجب نہیں ہے۔ رہی دوکان تو اس کا خمس دینا آپ پر واجب ہے چاہے اس کے لئے میری طرف سے جن وکلاء کو اس کام کی اجازت ہے ان میں سے کسی سے بھی صلاح و مشورہ کرنے کے بعد رفتہ رفتہ ادا کریں۔
 
س947۔ ایک شخص ملک سے باہر رہتا تھا اور خمس نہیں نکالتا تھا اس نے ایک گھر غیرمخمس مال سے خریدا لیکن اس وقت اس کے پاس اتنا مال نہیں ہے جس سے وہ اپنے اوپر واجب خمس کو ادا کرے البتہ اس پر جو خمس قرض ہے اس کے عوض میں ہر سال خمس کی محسوبہ رقم سے کچھ زیادہ نکالتا رہتا ہے تو اس کا یہ عمل قبول ہو گا یا نہیں ؟
 
ج۔ فرض سوال کے مطابق اس کو واجب خمس کی ادائیگی کے سلسلہ میں مصالحت کرنا ضروری ہے پھر وہ رفتہ رفتہ اس کو ادا کرسکتا ہے اور اب تک جتنا اس نے ادا کیا ہے وہ قبول ہے۔
 
س948۔ ایک شخص جس پر چند سال کی منفعت کا خمس ادا کرنا واجب ہے لیکن اب تک اس نے خمس کے عنوان سے کچھ بھی ادا نہیں کیا ہے اور اس پر کتنا خمس نکالنا واجب ہے یہ بھی اس کو یاد نہیں ہے تو وہ کیوں کر خمس سے سبکدوش ہوسکتا ہے ؟
 
ج۔ ضروری ہے کہ وہ اپنے ان تمام اموال کا حساب کرے جن میں خمس واجب ہے اور ان کا خمس ادا کرے اور مشکوک معاملات میں حاکم شرع یا اس کے وکیل مجاز سے مصالحت کر لینا ہی کافی ہے۔
 
س949۔ میں ایک نوجوان ہوں اپنے گھر والوں کے ساتھ رہتا ہوں اور میرے والد نہ خمس نکالتے ہیں اور نہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ، یہاں تک انہوں نے سود کے پیسے سے ایک مکان بھی بنا رکھا ہے۔ چنانچہ اس مکان میں ، میں جو کچھ کہاتا پیتا ہوں اس کا حرام ہونا واضح ہے۔ اس بات کومدنظر رکھتے ہوئے کہ میں اپنے گھر والوں سے الگ رہنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ امیدوار ہوں کہ میری ذمہ داری بیان فرمائیں گے۔
 
ج۔ بالفرض آپ کو یہ یقین ہو کہ آپ کے باپ کے مال میں سود ملا ہوا مال ہے ، یا آپ کو علم ہو کہ آپ یقین کر لیں کہ جو کچھ آپ باپ کے مال میں سے خرچ کرچکے ہیں یا خرچ کریں گے وہ آپ کے لئے حرام ہے اور جس وقت تک حرمت کا یقین نہ ہو آپ کا اس مال سے استفادہ کرنا حرام نہیں ہو گا۔ ہاں جب حرمت کا یقین حاصل ہو جائے تو آپ کے لئے اس میں تصرف جائز نہیں ہو گا، اسی طرح جب آپ کا گھر والوں سے جدا ہونا اور ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ترک کرنا موجب حرج ہو تو اس صورت میں آپ کے لئے ان کے اموال سے استفادہ کرنا جائز ہو جائے گا البتہ آپ ان اموال میں سے جس قدر خمس و زکوٰۃ اور دوسرے مال سے استفادہ کریں گے ان کے ضامن رہیں گے۔
 
س950۔ میں جانتا ہوں کہ میرے والد خمس و زکوٰۃ نہیں ادا کرتے ہیں اور جب میں نے اس کی طرف ان کو متوجہ کیا تو انہوں نے یہی جواب دیا کہ ہم خود ہی محتاج ہیں لہذا ، ہم پر خمس و زکوٰۃ واجب نہیں ہے تو اس سلسلہ میں آپ کا کیا حکم ہے ؟
 
ج۔ جب آپ کے پاس وہ مال نہیں کہ جس پر زکوٰۃ واجب ہے اور اتنا مال بھی نہیں کہ جس میں خمس واجب ہو تو ان پر نہ خمس ہے نہ زکوٰۃ اور اس مسئلہ میں آپ پر تحقیق کرنا بھی ضروری نہیں ہے۔
 
س951۔ ہم ایسے لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں جو خمس ادا نہیں کرتے، اور نہ ان کے پاس اپنا سالانہ حساب ہے تو ہم ان کے ساتھ جو خرید و فروخت اور کاروبار کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کہاتے پیتے ہیں اس سلسلہ میں کیا حکم ہے ؟
 
ج۔ جو اموال آپ ان لوگوں سے خرید و فروخت کے ذریعہ لیتے ہیں یا ان کے ہاں جا کر ان میں تصرف کرتے ہیں ، اگر ان میں خمس کے موجود ہونے کا یقین ہو تو ان میں آپ کے لئے تصرف جائز نہیں۔ اور جو اموال ان سے آپ خرید و فروخت کے ذریعے لیتے ہیں تو جتنی مقدار میں ان میں خمس واجب ہے اتنا معاملہ فضولی ہو گا جس کے لئے ولی امر خمس یا ا س کے وکیل سے اجازت لینا ضروری ہے۔البتہ اگر ان کے ساتھ معاشرت کھانے پینے اور ان کے اموال میں تصرف سے پرھیز آپ کے لئے دشوار ہو تو اس صورت میں آپ کے لئے ان چیزوں میں تصرف جائز تو ہے لیکن جتنا مال آپ نے ان کا صرف کیا ہے اس کے خمس کے آپ ضامن ہوں گے۔
 
س952۔ کیا جو مال کاروبار کی منفعت سے گھر خریدنے یا بنوانے کے لئے جمع کیا گیا ہے اس میں خمس دینا ہو گا؟
 
ج۔ اگر گھر خریدنے یا بنوانے سے پہلے جمع کئے ہوئے مال پر خمس کا سال پورا ہو جائے تو مکلف کو خمس دینا ہو گا۔
 
س953۔ جب کوئی شخص کسی مسجد کے لئے ایسا مال دے جس کا خمس نہیں نکالا گیا ہے تو کیا اس کا لینا جائز ہے ؟
 
ج۔ اگر اس امر کا یقین ہو کہ اس شخص نے جو مال مسجد کو دیا ہے اس کا خمس نہیں نکالا گیا ہے تو اس مال کا اس شخص سے لینا جائز نہیں ہے۔ اور ا گر اس سے لیا جاچکا ہے تو اس کی جس مقدار میں خمس دینا واجب ہے اتنی مقدار کے لئے حاکم شرع یا اس کے وکیل کی طرف رجوع کرنا واجب ہے۔
 
س954۔ ایسے لوگوں کے ساتھ معاشرت کا کیا حکم ہے کہ جو مسلمان تو ہیں مگر دینی امور کے پابند نہیں ہیں خاص طور سے نماز اور خمس کے پابند نہیں ہیں ؟ اور کیا ان کے گھروں میں کھانا کھانے میں اشکال ہے ؟ اگر اشکال ہے تو جو چند مرتبہ ایسے فعل انجام دے چکا ہو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟
 
ج۔ ان کے ساتھ رفت و آمد رکھنا اگر ان کے دینی امور میں لاپرواہی برتنے میں معاون و مددگار نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔ ہاں اگر آپ کا ان کے ساتھ میل جول نہ رکھنا ان کو دین کا پابند بنانے میں موثر ہو تو ایسی صورت میں وقتی طور پر ان کے ساتھ میل جول نہ رکھنا ہی کچھ مدت کے لئے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے عنوان سے واجب ہے۔ البتہ ان کے اموال سے استفادہ مثلاً کھانا پینا وغیرہ تو جس وقت تک یہ یقین نہ ہو کہ اس مال میں خمس باقی ہے ، اس وقت تک استفادہ کرنے میں کوئی مانع نہیں ہے ورنہ یقین کے بعد حاکم شرع یا اس کے وکیل کی اجازت کے بغیر استفادہ کرنا جائز نہیں۔
 
س955۔ میری سہیلی اکثر مجھے کھانے کی دعوت دیا کرتی ہے لیکن ایک مدت کے بعد مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس کا شوہر خمس نہیں نکالتا۔ تو کیا میرے لئے ایسے شخص کے یہاں کھانا پینا جائز ہے ؟
 
ج۔ ان کے یہاں اس وقت تک کھانا کھانے میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ یہ معلوم نہ ہو جائے کہ جو کھانا وہ پیش کر رہے ہیں وہ غیر مخمس مال سے تیار کیا گیا ہے۔
 
س956۔ ایک شخص پہلی مرتبہ اپنے اموال کا حساب کرنا چاہتا ہے تاکہ ان کا خمس ادا کرسکے تو اس کے اس گھر کے لئے کیا حکم ہے جسے اس نے خریدا تو ہے لیکن اس کو یہ یاد نہیں ہے کہ کس مال سے خریدا ہے ؟ اور اگر یہ جانتا ہو کہ یہ ( مکان) اس مال سے خریدا گیا ہے جو چند سال تک ذخیرہ تھا تو اس صورت میں اس کا کیا حکم ہے ؟
 
ج۔ جب وہ خریدنے کی کیفیت سے بے خبر ہو تو بنا بر احوط اس پر واجب ہے کہ اس کے خمس میں سے کچھ دے کر حاکم شرع سے مصالحت کر لے اور اگر اس نے غیر مخمس مال سے گھر خریدا ہے تو اس پر فی الحال مکان کی قیمت کے حساب سے خمس ادا کرنا واجب ہے مگر یہ کہ اس نے ما فی الذمہ قرض سے گھر خریدا ہو اور اس کے بعد غیر مخمس مال سے اپنا قرض ادا کیا ہو تو اس صورت میں صرف اتنے ہی مال کا خمس ادا کرنا واجب ہو گا جس سے اس نے قرض چکا یا ہے۔
 
س957۔ ایک عالم دین کسی شہر میں وہاں کے لوگوں سے خمس کے عنوان سے ایک رقم لیتا ہے لیکن اس کے لئے عین مال کو آپ کی جانب یا آپ کی جانب یا آپ کے دفتر کی جانب ارسال کرنا دشوار ہے تو کیا وہ یہ رقم بینک کے حوالے سے ارسال کرسکتا ہے ، یہ جانتے ہوئے کہ بھی کہ بینک سے جو مال وصول کیا جائے گا بعینہ وہی مال نہ ہو گا جو اس نے اپنے شہر میں بینک کے حوالے کیا ہے ؟
 
ج۔ خمس یا دیگر رقوم شرعیہ بینک کے ذریعہ بھیجنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
 
س958۔ اگر میں نے غیر مخمس مال سے زمین خریدی ہو تو اس میں نماز صحیح ہے یا نہیں ؟
 
ج۔ اگر عین غیر مخمس اموال سے زمین کی خریداری عمل میں آئی ہے ، تو جتنی مقدار خمس کی بنتی ہے اتنا معاملہ فضولی ہے جس میں ولی امر کی اجازت ضروری ہے لہذا جب تک اس کی اجازت نہ ہو اس زمین میں نماز صحیح نہ ہو گی۔
 
س959۔ جب خریدنے والا یہ جان لے کہ خریدے ہوئے مال میں خمس کی ادائیگی باقی ہے اور فروخت کرنے والے نے خمس نہیں دیا ہے تو کیا اس میں خریدنے والے کے لئے تصرف جائز ہو گا؟
 
ج۔ اس فرض کے ساتھ کہ بیچے ہوئے مال میں خمس ہے ، خمس کی مقدار کے برابر معاملہ فضولی ہو گا جس کے لئے حاکم شرع سے اجازت لینی ضروری ہے۔
 
س960۔ وہ دوکاندار جو یہ نہ جانتا ہو کہ خریدار نے اپنے مال کا خمس ادا کیا ہے یا نہیں اور وہ اس کے ساتھ معاملہ کر رہا ہے تو آیا اس کے لئے اس مال کا خمس ادا کرنا واجب ہو گا یا نہیں ؟
 
ج۔ جب تک یہ علم نہ ہو کہ خریدار سے ملنے والی رقم میں خمس ہے خود دوکاندار پر کچھ نہیں ہے۔ اور نہ تو اس کے لئے چھان بین و تحقیق کرنا ضروری ہے۔
 
س961۔ اگر چار آدمی مل کر ایک لاکہ روپے شراکت کے عنوان سے جمع کریں تاکہ اس سے کام کر کے فائدہ اٹھائیں لیکن ان میں سے ایک شخص خمس کا پابند نہ ہو تو کیا اس کی شراکت میں کام کرنا صحیح ہو گا یا نہیں ؟اور آیا ان کے لئے ممکن ہے کہ اس شخص سے جو پابند خمس نہیں ہے مال لے کر اس سے فائدہ اٹھائیں ( اس طرح کہ مال قرض الحسنہ کے عنوان سے لیں ) اور عام طورپر چند افراد شریک ہوں تو کیا ہر ایک پر اپنے حصہ کی منفعت سے علیحدہ طور پر خمس دینا واجب ہو گا یا اس کو مشترک کہاتے سے ادا کرنا ضروری ہے ؟
 
ج۔ ایسے شخص کے ساتھ شریک ہونا کہ جس کے اصل مال میں خمس ہے اور اس نے ادا نہیں کیا ہے اس کا حکم یہ ہے کہ خمس کی مقدار کے برابر مال میں معاملہ فضولی ہو گا جس کے لئے حتمی طور پر حاکم شرع کی طرف رجوع کرنا ہو گا اور اگر بعض شرکاء کے لگائے ہوئے مال میں خمس باقی ہو تو شراکت کے اصل مال میں تصرف نا جائز ہو گا۔ اور جس وقت شراکت کے مال کے منافع کو افراد وصول کر رہے ہیں تو ہر شخص مکلف ہے کہ وہ اپنے حصہ میں خرچ سے بچے ہوئے مال کا خمس ادا کرے۔
 
س962۔ جب میرے کاروبار شریک اپنے حساب کا سال نہ رکھتے ہوئے ہوں تو میری کیا ذمہ داری ہے ؟
 
ج۔ جو لوگ شریک ہیں ان میں سے ہر ایک پر واجب ہے کہ وہ اپنے حصہ کے حقوق شرعی کو ادا کرے تاکہ مشترک اموال میں ان کے تصرفات جائز ہوسکیں۔ اور اگر تمام شرکاء ایسے ہوں جو اپنے ذمہ کے حقوق شرعی نہ ادا کرتے ہوں اور کمپنی ( شرکت) کا توڑ دینا یا شرکاء سے جدا ہونا آپ کے لئے موجب حرج ہو تو آپ کے لئے کمپنی میں کام کو جاری رکھنے کی اجازت ہے۔



فائل اٹیچمنٹ:
حالیہ تبصرے

اس کہانی کے بارے میں تبصرے

     
امنیت اطلاعات و ارتباطات ناجی ممیزی امنیت Security Audits سنجش آسیب پذیری ها Vulnerability Assesment تست نفوذ Penetration Test امنیت منابع انسانی هک و نفوذ آموزش هک