5/1/2017         ویزیٹ:562       کا کوڈ:۹۳۴۲۴۴          ارسال این مطلب به دیگران

استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای » استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
  ،   سہم سادات
سہم سادات
 
س1033۔ میری والدہ سیدانی ہیں ، لہذا مندرجہ ذیل سوالات کے جواب مرحمت فرمائیں :
 
1۔ کیا میں سید ہوں۔
 
2۔ کیا میری اولاد میرے پوتے پر پوتے وغیرہ سید ہیں ؟
 
3۔ وہ شخص جو باپ کی طرف سے سید ہو اور جو ماں کی طرف سے سید ہو ، ان دونوں میں کیا فرق ہے ؟
 
ج۔ سید پر آثار و احکام شرعیہ کے مرتب ہونے کی معیار یہ ہیں کہ سید کی نسبت باپ کی طرف سے ہو لیکن رسول اکرم (ص) سے ماں کی طرف سے منسوب ہونے والے بھی اولاد رسول اکرم (ص) ہیں۔
 
س1034۔ کیا جناب عباس ابن علی ابن ابی طالب کی اولا دکا حکم بھی وہی ہے جو دوسرے سیدوں کا ہے ، مثلاً جو طالب علم اس سلسلے سے منسوب ہیں کیا وہ سادات کا لباس پھن سکتے ہیں ؟ اور کیا اولاد عقیل ابن ابی طالب کا بھی یہی حکم ہے ؟
 
ج۔ جو شخص باپ کی طرف سے جناب عباس ابن علی ابی طالب (ع) سے نسبت رکھتا ہے وہ علوی سید ہوتا ہے اور سارے علوی اور عقیلی سید ہاشمی ہیں۔ لہذا ہاشمی سید کے لئے جو مراعات ہیں وہ ان سے استفادہ کرسکتے ہیں۔
 
س1035۔ پچھلے دنوں میں نے اپنے والد کے چچیرے بھائی کے ذاتی وثیقہ کو دیکھا جس میں انہوں نے اپنے کو سید لکھا ہے ، لہذا مذکورہ بات کے پیش نظر رکھتے ہوئے اور یہ بھی جانتے ہوئے کہ اپنے رشتہ داروں میں ہم سید مشہور ہیں ، جبکہ جو وثیقہ مجھے ملا ہے وہ بھی اس بات کا قرینہ ہے میری سیادت کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟
 
ج۔ کسی رشتہ دار کا اس قسم کا وثیقہ آپ کی سیادت کے لئے شرعی دلیل نہیں بن سکتا اور جب تک آپ کو سید ہونے کا ا طمینان یا اس کے بارے میں شرعی دلیل نہ ہو، تب تک آپ کے لئے جائز نہیں کہ اپنے کو سیادت کے شرعی آثار اور احکام کا حقدار سمجھیں۔
 
س1036۔میں نے ایک بچے کو بیٹا بنایا اور اس کا نام علی رکھا ہے۔ا س کا شناختی کارڈ لینے کے لئے جب رجسٹریشن آفس گیا تو ان لوگوں نے میرے اس گود لئے بیٹے کو ’ سید ‘ لکھ دیا ، لیکن میں نے اسے قبول نہیں کیا۔ کیونکہ میں اپنے جد رسول اللہ سے ڈرتا ہوں۔ اب میں ان دو چیزوں کے بارے میں متردد ہوں یا تو اسے بیٹا نہ بناؤں اور یا اس گناہ کا مرتکب ہو جاؤں ( یعنی ) جو سید نہیں ہے اس کا سید ہونا قبول کروں۔ پس میں کس طرف جاؤں برائے مہربانی میری راہنمائی فرمائیے؟
 
ج۔ گود لئے بیٹے کے شرعی آثار مرتب نہیں ہوتے اور جو حقیقی باپ کی طرف سے سید نہ ہو اس پر سید کے احکام و آثار نافذ نہیں ہوتے لیکن جس بچے کا کوئی کفیل اور سرپرست نہ ہو اس کی کفالت کرنا مستحسن عمل اور شرعاً اچہا فعل ہے۔



فائل اٹیچمنٹ:
حالیہ تبصرے

اس کہانی کے بارے میں تبصرے

     
امنیت اطلاعات و ارتباطات ناجی ممیزی امنیت Security Audits سنجش آسیب پذیری ها Vulnerability Assesment تست نفوذ Penetration Test امنیت منابع انسانی هک و نفوذ آموزش هک