12/27/2017         ویزیٹ:444       کا کوڈ:۹۳۵۵۹۷          ارسال این مطلب به دیگران

مضامین » مضامین
  ،   معصومہ اہل بیتؑ کی زندگی پر ایک مختصر نظر

معصومہ اہل بیتؑ

تحریر :سید قمر عباس حسینی حسین آبادی

حضرت امام موسیٰ کاظم کی صاحبزادیوں میں جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کا مرتبہ نہایت درجہ بلند ہے۔ آپ کو' معصومۂ'' اور'' کریمہ اہل بیت'' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔

آپ یکم ذی القعدہ سن ١٧٣ھ .ق کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئیں اور آپ نے ٢٨ سال کی عمر میںربیع الثانی کی دس یا بارہ تاریخ کو سن ٢٠١ ھ.ق میںشہر قم میں شہادت پائی۔آپ کے عالی ترین فضائل میں سے ایک یہ ہے کہ آپ خانہ وحی و رسالت سے منسوب ہیں۔

آپ کے القابات (بنت رسول اللہ، بنت ولی اللہ، اخت ولی اللہ اور عمة ولی اللہ ) سرچشمہ فضائل و کمالات ہیں۔آپ نے حضرت امام موسی کاظم  اور حضرت علی ابن موسی الرضا  کے سائے میں زندگی بسر کی ہے۔یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ آپ مکتب ائمہ اطہار  کی تربیت یافتہ ہیں ۔

حضرت امام رضا  نے آپ کی شان میں فرمایا :من زار المعصومة بقم کمن زارنی۔جس نے قم میں معصومہ کی زیارت کی گویا اس نے میری زیارت کی ۔

وہ ہستیاں جو شفاعت کرسکتی ہیں ان میں سے ایک نام فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کا بھی ہے۔جیساکہ امام صادق  کا فرمان ہے کہ تدخل بشفاعتھا شیعتی الجنة باجمعہم: ان کی شفاعت (معصومہ ) سے ہمارے تمام شیعہ جنت میں داخل ہونگے۔اسی لئے امام کے حکم سے آپ کی زیارت میں ہم کہتے ہیں یا فاطمة اشفعی لی فی الجنة  یعنی اے فاطمہ معصومہ! جنت میں میری شفاعت فرما۔آپ کے زیارت نامہ میں دوسری جگہ آیاہے کہ فانّ لک عند اللہ شانا من الشان یہ جو کہ ہم آپ سے شفاعت طلب کر رہے ہیںوہ اس لئے ہے کہ آپ کو خدا وند عالم کے ہاں بلند اور عظیم مرتبہ و مقام حاصل ہے۔

آپ کی زیارت کی فضلیت:

امام رضا  فرماتے ہیں: من زارہا فلہ الجنة  جو فاطمہ معصومہ کی زیارت کرے وہ جنت کا مستحق ہے۔

امام جواد فرماتے ہیں : من زار قبر عمتی بقم فلہ الجنة  جو قم میں میری پھوپھی کی زیارت کرے اس پر جنت واجب ہے۔

امام رضا  فرماتے ہیں: من زارہا عارفاً بحقہا فلہ الجنة   جو فاطمہ معصومہ کی قم میںمعرفت کے ساتھ زیارت کرے اس پر جنت واجب ہے۔

سفر عشق:  کیا آج تک آپ نے حضرت امام موسی کاظم  کی اس بہادر بیٹی کی علت شہادت کے متعلق سوچا ہے کہ جس نے اپنے بھائی علی ابن موسی الرضا کے شوق وصال میں دکھ درد کا لباس زیب تن فرما کر پہاڑوں اور بیابانوں کی کٹھن راہوں کو طے فرمایا ؟

 کیاآپ نے اس مظلومہ و معصومہ کی جدائی پر گریہ کیا ہے جس کو اپنے والد گرامی امام موسی ابن جعفر  کی طرف سے فداھا ابوھا کی لوح افتخار عطا ہوئی؟

٢٠٠ ھ ق میں مامون عباسی کے اصرا ر پر حضرت امام رضا  ''مرو'' کی جانب سفر کرنے پر مجبور ہوئے ۔آپ  اپنے اہلیبیت اور احباب میں سے کسی کوبھی اپنے ساتھ لئے بغیر خراسان کی جانب روانہ ہوگئے۔

بھائی کی ہجرت کے ایک سال بعد حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا نے اپنے بھائی کے شوق دیدار میں بے تاب ہو کر اپنے کچھ بھائیوں اور ان کے بیٹوں کو لے کر خراسان کی طرف سفر کیا ۔آپ جس علاقے اور شہر میں بھی وارد ہوئیں وہاں کے لوگوں نے آپ کاشاندار اور پرتپاک استقبال کیا ۔ آپ بھی اپنی پھوپھی حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی طرح مکّار حکمرانوں کے چہرے بے نقاب کرتی رہیں۔

جب حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کاکاروان شہر ساوہ پہنچا تو دشمنانِ اہل بیت  جن کی حمایت حکومت کے مامورین کررہے تھے ،انہوں نے آپ  کا راستہ روک کر آپ کے ساتھیوں کے ساتھ جنگ کی ۔اس جنگ کے نتیجے میں آپ کے ساتھ آئے ہوئے تمام مرد درجۂ شہادت پر فائز ہوگئے ۔ایک روایت کے مطابق حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کو بھی زہر جفا دے کر مسموم کردیا گیا۔بہر حال اس خونچکاں اور جانکاہ حادثے کے شدت غم یا زہر جفا کی وجہ سے حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا مریض ہوگئیں ۔

اس مرض کی سبب سے خراسان تک سفر جاری رکھنا آپ کے لئے ممکن نہ تھا اس لئے آپ نے شہر قم میں ٹھہرنے کاارداہ فرمایا ۔آپ نے پوچھا : اس جگہ (ساوہ) سے قم تک کافاصلہ کتنے فرسخ ہے ؟جو  فاصلہ بنتا تھا بتادیا گیا ۔آپ نے فرمایا مجھے شہر قم لے چلو کیونکہ میں نے اپنے بابا سے سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے ۔شہر قم ہمارے شیعوں کامرکز ہے۔

 قم کے اشراف واکابرین نے جب یہ خبر سنی تو آپ کے استقبال کے لئے قم سے باہر نکل آئے ۔اشعری خاندان کی بزرگ شخصیت موسیٰ بن خزرج نے آپ کی سواری کی لگام تھامی، بہت سے افراد پیدل اور سواریوں کی صورت میں آپ کی سواری کی گرد چلتے رہے ۔تقریباً ٢٣ ربیع الاول    ٢٠١ ھ ق کو آپ شہر قم میں وارد ہوئیں ۔

پھر اس مقام پر جسے آج'' میدان میر ''کہتے ہیں خود موسی بن خزرج کے گھر کے سامنے آپ کی سواری رک گئی اور آپ کی میزبانی کا شرف بھی اسے نصیب ہوگیا۔

آپ نے صرف ١٧ دن قم المقدس میں زندگی گزاری۔ اس قلیل عرصے میں آپ راز ونیاز اور عبادت ِ پروردگار میں مشغول رہیں۔

آپ کی عبادت گاہ ،مدرسہ ستیہ بنام ''بیت النّور'' آج بھی عاشقان اہل بیت  کے لئے زیارت گاہ بناہوا ہے۔

وفات یا شہادت؟

بالآخر دسویں ربیع الثانی '' بنابر قول دیگر بارہویں ربیع الثانی '' ٢٠١ ھ ق کو اپنے بھائی کا دیدار کرنے سے پہلے عالم غربت میں شدید غم واندوہ کے ساتھ اس دارفانی سے رخصت کر گئیں ۔یوں شیعیان آل محمدؐنے ایک بار پھر صف ماتم بچھایا۔اہل قم نے اس معظمہ خاتون کے بدن مطہر کو انتہائی عزت واحترام کے ساتھ اسی جگہ پر جہاں آپ دفن ہیں لے آئے جسے اس وقت ''باغ بابلان ''کہتے تھے ۔جب قبر تیار ہوئی تو سب  لوگ شش وپنچ میں مبتلا ہوئے کہ اس معصومہ کے جسد اطہر کو کون قبر میں اتارے ۔یکایک قبلہ کی طرف سے دونقاب پوش سوار نمودارہوئے جن میں سے ایک نے نماز پڑھائی اور ان میں سے دوسرا قبر میں داخل ہوا ایک نے جسم مطہر کو ان کے حوالے کر دیا ۔یوں کریمہ اہل بیت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کو سپرد خاک کیاگیا۔

مراسم تجہیز و تکفین ختم ہونے کے بعد وہ دو افراد کسی سے بات کئے بغیر واپس چلے گئے ۔

بعید نہیں ہے کہ وہ دو بزرگوار حجت خدا ،امام رضا اور امام جواد  ہوں ۔شرعی دستور کے مطابق معصومہ کی تجہیز وتدفین معصوم کے ہاتھوں سے ہونی چاہیے تھی کیونکہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاکو خود امیرالمومنین  نے غسل وکفن دے کر دفن کیاتھا اورحضرت مریم  کو حضرت عیسیٰ نے بنفس نفیس غسل دیا تھا ۔

 

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکو دفن کرنے کے بعد موسیٰ بن خزرج نے کپڑوں کا سایہ آپ کی قبر مطہرپر بنایا تھا یہاں تک کہ امام جواد کی بیٹی  حضرت زینب نے ٢٥٦  ھ ق میں پہلی بار آپ کی قبر شریف پر گنبد بنوایا۔یوں آپ کی قبرِ مطہر عاشقانِ اہل بیت علہیم السلام اور ولایت وامامت کے ماننے والوں کے لئے دارالشفاء بن گئی۔

بہ جز  عشق  دلبر   نیست   مارا

غم   دل ہست و یاور نیست   مار

 بود    این  بارگاہ     دختر      اما

  نشان    از   قبر مادر   نیست  مارا

ریاض الانساب کے مصنف نے اپنی کتاب کے صفحہ ١٦٠ پر مرحوم منصور ی ،جو کتاب الحیاة السیاسیہ کے مؤلف ہیں سے روایت نقل کی ہے :کہ جس زمانے میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہانے ہجرت کی اس وقت اہل ساوہ خاندانِ نبوت کے سخت ترین دشمن تھے  ۔جب حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا کاروان ساوہ پہنچا تو انہوں نے بھر پور حملہ کیا یوں جنگ چھڑ گئی اور یہ جنگ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے بھائیوں اور ان کے بیٹوں کی شہادت پر تمام ہو ئی ۔ حضرت معصومہ ٢٣ عزیزانِ زہرا کے پارہ پارہ اجسام مطہر کو مشاہدہ کرنے کی وجہ سے سخت بیمار ہوگئیں اور اسی بیماری میں آپ شہید ہو ئیں۔

قال رسول اللہ  ۖ

من مات علی حب آل محمد مات شہیدا

پیغمبر اسلام ص  فرماتے ہیں کہ جو بھی محبت آل محمد ۖپر مر جائے تو وہ شہید ہے ۔

الحیاة السیاسیہ ا لامام رضا  کے مولف جعفر مرتضی عاملی ص ٤٢٨ ، قیام سادات علوی کے ص ١٦١ اور ١٦٨ پر نقل کرتے ہیںکہ جنا ب ہارون ابن موسی ابن جعفر کاکاروان جب ساوہ پہنچ گیا تو دشمنوں نے آپ لوگوں پر اس وقت حملہ کیا جب آپ لوگ کھانا تناول فرمارہے تھے اور آپ کو ٢٣ افراد کے ساتھ شہید کر دیا اور کارواں کے دوسرے افراد کو زخمی کردیا ۔اسی اثناء میں حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے کھانے میں زہر ڈال دیاگیا ۔یوں ولایت امیرالمومنین کی مدافع ، زہر جفا کے اثر سے مریض ہوئیں اور قم میں تشریف لانے کے ١٧ دن بعد شہید ہو گئیں  ۔

 وسیلة المعصومین ص ٦٨ میں میرزا ابوطالب نے بیان کیا ہے کہ اس جلیل القدر معظمہ کو ساوہ میں ایک ملعونہ عورت کی وساطت سے زہر دیا گیا۔


افکار و نظریات: حضرت معصومہ اہل بیتؑ


فائل اٹیچمنٹ:
حالیہ تبصرے

اس کہانی کے بارے میں تبصرے

     
امنیت اطلاعات و ارتباطات ناجی ممیزی امنیت Security Audits سنجش آسیب پذیری ها Vulnerability Assesment تست نفوذ Penetration Test امنیت منابع انسانی هک و نفوذ آموزش هک