1/13/2018         ویزیٹ:212       کا کوڈ:۹۳۵۶۳۷          ارسال این مطلب به دیگران

استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای » استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
  ،    نجس اشياءکا کاروبار

 نجس اشياءکا کاروبار

س 1081:کيا جنگلى سؤروں کى خريدوفروخت جائز ہے جنہيں شکار کا محکمہ يا  علاقے کے کسان اپنے کھيتوں کو محفوظ رکھنے کے لئے شکار کرتے ہيں تاکہ ان کاگوشت پيک کرکے غير اسلامى ممالک ميں برآمدکرديا جائے؟
ج: انسانى خوراک کى غرض سے سؤر کى خريد و فروخت جائز نہيں ہے اگر چہ غير مسلم کے لئے ہى کيوں نہ ہو ۔ البتہ اگر جانوروں کى خوراک يا اسکى چربى سے صابن بنانے جيسے عقلائى اور قابل اعتناءحلال فوائد حاصل کيئے جائيں تو اسکى خريد و فروخت بلا مانع ہے۔

س1082: کيا سؤر کے گوشت کو پيک کرنے والے کارخانے، نائٹ کلب اوربدکارى کے مراکز ميں کام کرنا جائز ہے؟ اوراس کام سے حاصل  آمدنى کا کيا حکم ہے؟
ج: حرام امور ميں نوکرى کرنا شرعا ًجائز نہيں ۔ جيسے سور کا گوشت بيچنا، شراب بيچنايا نائٹ کلب  ، فساد و بدکارى کے اڈے ، جوا خانے اور شراب خانے جيسے مراکز بنانا اور چلانا حرام ہے ايسے مراکز سے حاصلہ درآمد حرام ہے ان کاموں کے بدلے ملنے والى اجرت کا انسان مالک نہيں ہوتا۔

س 1083: کيا سؤر کا گوشت ، شراب ، يا کھانے کى کوئى بھى حرام چيز کا ايسے افرادکو فروخت کرنا يا تحفہ دينا جائز ہے جو اس چيز کو حلال سمجھتے ہوں؟
ج:  اشياءخورد و نوش جو حلال نہيں ہيں کھانے پينے کى غرض سے انکى خريد و فروخت اور انہيں تحفے ميں دينا جائز نہيں ہے ۔ يا انسان کو علم ہوکہ خريدار ان اشياءکو کھانے پينے کے لئے لينا چاہتاہے تب بھى انکى خريد و فروخت جائز نہيں  اگر چہ وہ انھيں حلال ہى کيوں نہ سمجھتا ہو۔

س1084:  ہمارا ايک يوٹيليٹى اسٹورہے جس ميں کھانے پينے اور استعمال کى ديگر اشياءفروخت ہوتى ہيں ان اشياءميں سے بعض چيزيں مردار يا حرام اشياءسے بنى ہوتى ہيں اس اسٹور سے حاصل شدہ آمدنى کا کيا حکم ہے ۔جسے سال کے اختتام پر شراکت داروں ميں تقسيم کيا جاتا ہے ؟
ج:   ايسى اشياءجن کا کھانا پينا حرام ہے ان کى خريدوفروخت حرام اورباطل ہے اسى طرح اس سے حاصلہ درآمد بھى حرام ہے اس رقم کو شراکت د اروں پر تقسيم کرنا جائز نہيں ہے اگر اسٹور کى رقم مذکورہ رقم سے مخلوط ہو جائے تو اس کا حکم ايسے مال جيسا ہے جو حرام ميں مخلوط ہوگيا ہو جس کى مختلف اقسام ہيں جو رسالہ توضيح المسائل ميں درج ہيں۔

س 1085 اگر کوئى مسلمان ايک غير اسلامى ملک ميں ہوٹل کھولے جس ميں بعض حرام کھانے اور شراب کو فروخت کرنے پر مجبور ہو کيوں کہ اگر وہ ان اشياءکو فروخت نہيں کرے تو کوئى خريدار اس کے پاس نہيں آئے گا کيونکہ وہاں کے اکثر لوگ عيسائى ہيں جو شراب کے بغير  کھانا نہيں کھاتے اور ايسے ہوٹل ميں نہيں جاتے جہاں ان کو شراب پيش نہ کى جائے تواب اس بات کو مدّنظر رکھتے ہوئے کہ مذکورہ تاجر ان حرام اشياءسے حاصلہ آمدنى کو شرعى حاکم تک پہنچانے کا ارادہ رکھتاہے تو کيا ايسا کرنا جائز ہے؟
ج:  غير اسلامى ممالک ميں ہوٹل اور ريسٹورينٹ کھولنا جائز ہے ليکن حرام غذا اور شراب فروخت کرنا جائز نہيں ہے چاہے خريدار ان اشياءکو حلال سمجھتا ہو۔ شراب اور حرام غذا کى قيمت لينا جائز نہيں ہے اگرچہ حاکم شرع کو دينے کى نيت رکھتاہو۔

س 1086 : وہ سمندرى حيوانات جن کا کھانا حرام ہے اگر پانى سے زندہ نکالے جائيں تو کيا وہ مردار کا حکم رکھتے ہيں؟ اوران کاخريدنا اور بيچنا حرام ہے؟کيا ان کا انسان کى غذا کے مقصد کے علاوہ فروخت کرنا جائز ہے؟(مثلاً صنعت ، پرندوں اور حيوانات کى غذا کے طور پراستعمال کيا جائے)؟ 
ج: اگروہ مچھلى کى اقسام ميں سے ہو اور پانى سے زندہ نکالنے کے بعد پانى کے باہر مر جائے تو مردار کے حکم ميں نہيں ہے بہر حال وہ چيزيں جن کا کھانا حرام ہے انہيں کھانے کےلئے فروخت کرنا جائز نہيں ہے۔ اگرچہ خريدار اسے حلال سمجھتا ہو۔ ہاں اگر کھانے کے علاوہ عقلاءکے نزديک اس کے ديگر حلال فوائد ہوں جيسے طبى اور صنعتى فوائد يا حيوانات اورپرندوں کى غذا فراہم کرنا وغيرہ ہوں تو ان کا بيچنا اورخريدنا جائز ہے۔

س 1087 : کيا ايسى غذاؤں کى نقل و حمل جائز ہے جس ميں غير شرعى طور پر ذبح کيا ہوگيا گوشت بھى شامل ہو ؟ اور کيا مذکورہ غذائيں پہنچانے کے حکم ميں اسے حلال سمجھنے والوں اور دوسروں ميں فرق ہے يا نہيں ؟ 
ج:  غير شرعى طور پر ذبح شدہ گوشت کو نقل و حمل کرنا اگر کھانے کےلئے ہو تو جائز نہيں ، اورايسے گوشت کے کھانے کو جائز سمجھنے اور نہ سمجھنے والے ميں کوئى فرق نہيں ہے۔

س 1088:  کيا ايسے شخص کو خون فروخت کرناجائزہے جواس سے فائدہ اٹھائے؟
ج:   اگر جائز و عقلائى غرض کے لئے ہو تو صحيح ہے۔

س1089:   کيا مسلمان کے لئے جائز ہے کہ حرام اشياءکو يعنى ايسى غذا جو سؤر کے گوشت يا مردار پر مشتمل ہو يا کافر ملکوں ميں الکحولک مشروبات کوغير مسلمين کو فروخت کرے؟ اورمندرجہ ذيل صورتوںميں اسکا کا کيا حکم ہے؟
 ١لف: اگر مسلمان ان غذاؤں اورالکحل مشروبات کا نہ تو مالک ہو اور نہ ہى کوئى اجرت اس فروخت کے عوض اسے حاصل ہو بلکہ اس کا کام مذکورہ اشياءکو حلال چيزوں کے ساتھ گاہک کے سامنے پيش کرنا ہے؟
 ب: اگر غير مسلم کے ساتھ شريک ہو اور مسلمان حلال کا مالک ہو اور غير مسلم حرام غذاؤں اورالکحل کے مشروبات کا مالک ہو اور دونوں ميں سے ہر ايک اپنے مال سے منافع حاصل کريں۔؟ 
 ج: اگرايسى جگہ کام کرتاہے جہاں حرام غذا اور الکحلک مشروبات فروخت کئے جاتے ہيں اور وہ مقرر اجرت ليتاہو، اب چاہے وہ دوکان مسلمان کى ہو يا غير مسلمان کي۔؟
 د:  اگر ايک مسلمان حرام غذائيں يا الکحلى مشروبات بيچنے کى جگہ پر ملازم يا شريک کے طور پر کام کرتاہو ليکن بلاواسطہ طور پر ان اشياءکى خريد و فروخت سے اسکا کوئى تعلق نہ ہو اور نہ ہى يہ اشياءاسکى ملکيت ہوں بلکہ اسکا کام غذاؤں کا فراہم کرنا اور اسے فروخت کرناہے۔ اس صورت ميں اس کے کام کا کيا حکم ہے؟جبکہ وہ جانتاہے کہ مشروبات کے خريداراسى مقام پر مشروبات نوش نہيں کرتے؟
ج: نشہ آور الکحلى مشروبات اور حرام غذاؤں کا پيش کرنا اور بيچناہ، اس دوکان ميں کام کرنا ، انکے بنانے ، خريدنے اور بيچنے مين شريک ہونا اور مذکورہ امور انجام دينے ميں دوسروں کى اطاعت کرنا شرعاً حرام ہے ۔ايسا شخص چاہے روزانہ کے ملازم کے طور پر ہو يا سرمائے ميں شريک ہو ۔ اورخواہ فقط الکحلى نشہ آور مشروبات اور حرام غذائيں پيش کى جاتى اور بيچتى جاتى ہوں يا انھيں حلال غذاؤں کے ساتھ بيچا جاتاہو اور چاہے انسان اجرت اور منفعت کے لئے يا مفت و بلامعاوضہ کام کرتاہو اور اس لحاظ سے بھى کوئى فرق نہيں کہ اس کام کا مالک يا شريک مسلمان ہو يا غير مسلمان نيز يہ چيزيں مسلمان تک پہچائى جائيں يا غير مسلمان تک، ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ حرام غذاؤں کو کھانے کى غرض سے بنانے ، خريدنے اور بيچنے سے مکمل طور پر اجتناب کرے ايسے ہى نشہ آور الکحل مشروبات کے بنانے ،خريدنے اور بيچنے سے اجتناب واجب ہے نيز مذکورہ طريقوں سے مال کمانے سے پرہيز کرنا واجب ہے ۔

س1090:  کيا شراب کولانے ، لے جانے والى گاڑيوں کى مرمت سے کسب معاش کرنا جائز ہے؟
ج:  اگر گاڑياں شراب کى حمل و نقل ( لانے ، لے جانے) کے لئے مخصوص ہوں تو  ان کى مرمت کرنا صحيح نہيں ہے۔

س1091:  ايک ايسى تجارتى کمپنى جس کى غذائى اشياءفروخت کرنے کى متعدد برانچيں ہيں ليکن ان اشياءخوردونوش ميں سے بعض اشياءشرعاً حرام ہيں( مثلاًغير شرعى طريقہ سے ذبح شدہ گوشت جو کہ بيرون ملک سے آيا ہو) اس کے معنى يہ ہيں کہ اس کمپنى کے مال ميں مال حرام بھى شامل ہے کيا اس کمپنى کى دکانوں سے روزمرہ کى ضرورى اشياءخريدنا جائز ہے؟ جبکہ وہاں حلال اور حرام دونوں اشياءبکتى ہيں ۔ اور اگر جائز فرض کرليں توکيا ادا شدہ رقم سے باقى پيسے لينا جائز ہےں ؟ اور کيا اس باقى واپس کى گئى رقم کے لئے حاکم شرعى سے اجازت کى ضرورت ہے؟ اس لئے کہ يہ مال اب نامعلوم مالک کى ملکيت کا حکم رکھتا ہے اور اگر اجازت لينا ضرورى ہو تو کيا آپ ايسے شخص کو اسکى اجازت ديتے ہيں جو اپنى ضرورت کى اشياءمذکورہ مقامات سے خريدتا ہو؟
ج:  کمپنى کے مال ميں اجمالى طور پر مال حرام کا علم ہونا اس بات کا سبب نہيں بنتا کہ وہاں سے ضرورت کى اشياءنہ خريدى جائيں جب تک کہ کمپنى کے تمام اموال خريدار کے لئے مورد ابتلاءنہ ہوں(١) لہذاہر انسا ن کے ليئے ا يسى کمپنى سے ضرورت کى اشياءخريدنے اور اسى طرح باقى ماندہ پيسے لينے ميں کوئى حرج نہيں ہے جب تک کہ کمپنى کے تمام اموال خريدار کے لئے محل ابتلاءنہ ہوں اور جب تک اسے اس بات کا علم نہ ہو کہ بعينہ کمپنى سے خريدى گئى غذاءو سامان ميں حرام مال موجود ہے۔ اور ايسى صورت ميں باقى ملنے والى رقم اور خريدے گئے سامان ميں تصرف کے لئے حاکم شرع کى اجازت کى ضرورت نہيں ۔

 س 1092:  آيا غير مسلمين کے مردوں کو جلانے کا کام انجام دينا جائز ہے؟ اور اس کے عوض اجرت لى جاسکتى ہے؟ 
ج:   غير مسلمين کے مردوں کو جلانے کى حرمت پر کوئى دليل نہيں ہے لہذا اس کام ميں کوئى حرج نہيں اور اجرت لينا بھى جائز ہے۔



فائل اٹیچمنٹ:
حالیہ تبصرے

اس کہانی کے بارے میں تبصرے

     
امنیت اطلاعات و ارتباطات ناجی ممیزی امنیت Security Audits سنجش آسیب پذیری ها Vulnerability Assesment تست نفوذ Penetration Test امنیت منابع انسانی هک و نفوذ آموزش هک