1/13/2018         ویزیٹ:515       کا کوڈ:۹۳۵۶۴۲          ارسال این مطلب به دیگران

استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای » استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
  ،    گلوکار

 گلوکار

 س 1124:  کيا آلات موسيقى بجانے والے کى شخصيت ، بجانے کى جگہ يا اس کا ھدف و مقصد موسيقى کے حکم ميں دخالت رکھتا ہے؟
ج:  فقط وہ موسيقى حرام ہے جو کہ مطرب ، لہوى اورلہو و گناہ کى محافل سے متناسب ہو البتہ بعض اوقات آلاتِ موسيقى بجانے والے کى شخصيت ، اسکے ساتھ ترنّم سے پيش کيا جانے والا کلام ، محل يا اس قسم کے ديگر امور ايک موسيقى کو طرب آور ، حرام اور لہوى موسيقى يا کسى اور حرام عنوان کے تحت داخل کرنے کا باعث بن سکتے ہيں مثال کے طور پر مذکورہ فرض کى بناءپر کوئى فساد پيدا ہوجائے۔

س 1125: کيا موسيقى کے حرام ہونے کامعيار فقط لہو ومطرب ہونا ہے ۔ يا يہ کہ ہيجان ميں لانا بھى اس ميں شامل ہے؟ اور اگر کوئى ساز،موسيقى سننے والے کو حزن اور گريہ کى طرف لے جائے تو اس کا کيا حکم ہے ؟ اور ان غزليات کے پڑھنے کا کيا حکم ہے جو کہ راگوں سے پڑھى جاتى ہے اور اس کے ساتھ موسيقى بھى بجائى جاتى ہے۔
ج:  معيار يہ ہے کہ موسيقى اور آلات موسيقى بجانے کى کيفيت اسکى تمام طبيعى خصوصيات اور خواص کے ساتھ ملاحظہ کى جائے اور يہ ديکھا جائے کہ کيا يہ مطرب اور لہوى موسيقى ہے جو فسق و فجور اور لہو و لعب کى محافل کے مشابہ ہے يا نہيں ؟ چنانچہ جو موسيقى بھى طبيعى طور پر لہوى ہو وہ حرام ہے چاہے جوش و ہيجان کا باعث بنے يا نہ بنے نيز سا معين کے لئے موجب حزن و بکاءہو يا نہ ہو ۔ مجالس لہو و لعب کے ساتھ سازگار موسيقى اور غناءکى طرز پر موسيقى کے ساتھ گائے جانے والى غذلوں کا گانا اور سننا حرام ہے ۔

س1126:   غناءکسے کہتے ہيں اور کيا فقط انسان کى آواز غناءہے يا آلات موسيقى کے ذريعے حاصل ہونے والى آواز بھى غناءميں شامل ہے؟
ج:  غناءانسان کى اس آواز کو کہتے ہيں جس ميں اتار چڑھاؤ اور طرب ہو نيزلہوو لعب اور مجالس گناہ کے متناسب ہو مذکورہ صفات کے ساتھ گانا اور سننا حرام ہے ۔ فقط آلات سے پيدا ہونى والى آوازوں کو غناءنہيں کہتے البتہ اگر لہو ولعب طرب آور لہوى موسيقى شمار ہو تو وہ بھى حرام ہے۔

س 1127:  کيا عورتوں کے لئے شادى بياہ کے دوران برتن اور آلات موسيقى کے علاوہ ديگر وسائل بجانا جائز ہے ؟ اگر اسکى آواز محفل سے باہر پہنچ کر مردوں کو سنائى دى جارہى ہو تو اسکا کيا حکم ہے ؟
ج: جواز کا دارو مدار کيفيت عمل پر ہے کہ اگر وہ طرزشاديوں ميں رائج عام روايتى طريقے کے مطابق ہو ، لہو و لعب ميں شمار نہ ہو اور کسى فساد کا بھى خدشہ نہ ہو تو اس ميں کوئى حرج نہيں ہے۔

س 1128:   شادى بياہ کے اندر عورتوں کے ڈفلى بجانے کا کيا حکم ہے؟
ج: آلات ِموسيقى کا لھوى اور مطرب موسيقى بجانے کے لئے استعمال کرنا جائز نہيں ہے۔

س 1129: کيا گھر ميں گانے سننا جائز ہے؟ اور اگر گانا متاثر نہ کرے تو اس کا کيا حکم ہے؟
ج:  گانا سننا مطلقاً حرام ہے چاہے گھر ميں تنہا سنے يا لوگوں کے سامنے متاثر ہو يا نہ ہو۔

س1130: بعض نوجوان جو حال ہى ميں بالغ ہوئے ہيں انہوں نے ايسے مجتہد کى تقليد کى ہے جو مطلقاً موسيقى کو حرام سمجھتا ہے چاہے يہ موسيقى اسلامى جمہورى کے ريڈيو اور ٹيليويژن سے نشر ہوتى ہو۔ مذکورہ مسئلہ کا حکم کيا ہے؟کيا ولى فقيہ کا بعض موارد ميں موسيقى کو جائز قرار دينا حکومتى احکام کے حوالے سے مذکورہ موسيقى کے جائز ہونے کے لئے کافى نہيں ہے؟ کيا ان پر اپنے مجتہد کے فتوى کے مطابق ہى عمل کرنا ضرورى ہے؟
ج:  موسيقى سننے کے بارے ميں جواز اور عدم جواز کا فتوى حکومتى احکام ميں سے نہيں ہے بلکہ يہ فقہى اور شرعى حکم ہے۔ اور ہر مکلف کو مذکورہ مسئلہ ميں اپنے مرجع کى نظر کے مطابق عمل کرنا چاہيے ہاں اگر موسيقى ايسى ہو جو کہ لہو ولعب اور گناہ کى محافل سے مناسبت نہيں رکھتى اور نہ ہى اس پرکسى فساد کا خدشہ ہو تو ايسى موسيقى کے حرام ہونے کى کوئى وجہ نہيں ہے۔

س1131:  موسيقى اور غناءسے کيا مراد ہے؟
ج:  آ واز کو اس طرح گلے ميں گھمانا کہ محافل لہو و لعب کے عين مطابق ہواسے غناءکہتے ہيں اسکا شمار گناہوں ميں ہوتاہے يہ  سننے اور گانے والے پر حرام ہے ۔ ليکن  موسيقى اسے کہتے ہيں جو آلات کو ضرب لگانے سے حاصل  ہو اگر وہ آواز محافل لہو و لعب کے مطابق ہے تو بجانے  اور سننے والے پر حرام ہے   ورنہ بذات خود موسيقى جائز ہے اگر مذکورہ صفات کے ساتھ نہ ہو تو اس ميں کوئى حرج نہيں ہے۔

س 1132:  ميں ايسى جگہ کام کرتا ہوں جس کا مالک ہميشہ گانے کے کيسٹ سنتا ہے اور مجھے بھى مجبوراً سننا پڑتا ہے کيا يہ ميرے ليے جائز ہے يا نہيں ؟ 
ج:  اگر کيسٹوں ميں موجود موسيقى لہو و لعب باطل اور گناہ کى محافل سے مناسبت رکھتى ہے اسکا سننا اور کان لگانا صحيح نہيں ہے ہاں اگر آپ مذکورہ جگہ جانے اور کام  پر مجبور ہيں تو آپ کے وہاں جانے اور کام کرنے ميں کوئى حرج نہيں ہے ۔ ليکن آپ پر واجب ہے کہ گانے کان لگا کر نہ سنيں اگرچہ آواز آپ کے کانوں ميں پڑے اور سنائى دے۔

س1133:  وہ موسيقى جو اسلامى جمہوريہ کے ريڈيو اور ٹيليوژن سے نشر ہوتى ہے کيا حکم رکھتى ہے اور يہ جو کہا جاتا ہے کہ حضرت امام خمينى قدس سرہ نے موسيقى کو مطلقاً حلال قرار ديا ہے کيا يہ صحيح ہے؟
ج: رحيل عظيم الشان حضرت امام خمينى قدس سرہ کى طرف موسيقى کومطلقاً حلال کرنے کى نسبت دينا جھوٹ اور افترا ہے وہ ايسى موسيقى کو حرام سمجھتے تھے جو مطرب ، لھوى ، لہو و لعب کى محافل اور گناہ سے مطابقت رکھتى ہو جيسا کہ ہمارى رائے بھى يہى ہے ليکن موضوع کى تشخيص نقطہ نظر ميں اختلاف کا سبب ہے ۔ کيونکہ موضوع کو تشخيص دينا خود مکلف کے اوپر چھوڑ ديا گيا ہے بعض اوقات بجانے والے کى رائے سننے والے سے مختلف ہوتى ہے لہذا جسے خود مکلف لہوى اور لہو و لعب و گناہ کى محافل کے مشابہ موسيقى سمجھتا ہو اسکا سننا اس پر حرام ہے البتہ جن آوازوں کے بادے ميں مکلف کو شک ہو وہ حلال ہيں محض ريڈيو اور ٹيلى ويژن سے نشر ہو جانا حلال اور مباح ہونے پر شرعى دليل شمار نہيں ہوتا ۔

 س 1134:  ريڈيو اور ٹيليويژن سے کبھى کبھى ايسى موسيقى نشر ہوتى ہے جو ميرى نظر ميں لہو لعب اور فسق و فجور کى محافل سے مطابقت رکھتى ہے کيا ميرے لئے ايسى موسيقى  سے اجتناب واجب ہے؟اور دوسروں کو روکنا بھى صحيح ہے؟
ج: اگر آپ يہ سمجھتے ہيں کہ يہ موسيقيمطرب و لہوى  محافل سے مناسبت رکھتى ہے تو آپ کے لئے سننا جائز نہيں  ليکن دوسروں کو نہى عن المنکر کے عنوان سے روکنا اس بات پر موقوف ہے کہ وہ بھى مذکورہ موسيقى کو آپ کى مانند حرام موسيقى  ميں سے قرار ديں۔

س1135:   وہ لہوى موسيقى جو مغربى ممالک ميں بنائى جاتى ہے اس کے سننے اور نشر کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج:  وہ موسيقى جس کا سننا جائز نہيں جو کہ لہوى طرب آور ، باطل اور محافل لہو و لعب سے متعلق ہو اس ميں  زبان اور ملک  کوئى فرق نہيں ہے ۔ لہذا ايسى کيسٹوں کى خريد و فروخت ،انکا سننا اور نشر کو جائز نہيں ہے جو غنا اور حرام لہوى موسيقى پر مشتمل ہوں۔

س1136:   مرد اورعورت ميں سے ہر ايک کے گانے کا کيا حکم ہے؟ کيسٹ کے ذريعہ ہويا ريڈيو کے ذريعہ؟چاہے موسيقى کے ساتھ ہو يا نہيں؟
ج:  غناءمطلقاً حرام ہے اسکاگانا اور سننا جائز نہيں ہے چاہے مرد گائے ياعورت براہ راست ہو يا کيسٹ پر چاہے گانے کے، ھمراہ آلات لہو استعمال کئے جائيں يا نہ کيے جائيں۔

س 1137:   جائز معقول مقاصد کے ليئے مسجد جسے کسى مقدس مقام پر موسيقى بجانے کا کيا حکم ہے؟
ج:  لہوى اور مطرب موسيقى جو کہ مجالس لہوو لعب سے مطابقت رکھتى ہو وہ مسجد سے باہر بھي، مطلقاً جائز نہيں ہے اگر چہ وہ حلال اور معقول مقاصد کے لئے ہى کيوں نہ ہو۔ البتہ ان مواقع کى مناسبت سے جن ميں انقلابى ترانے پڑھنا مناسب ہے، مقدس مکانات ميں موسيقى کے ساتھ ترانہ پڑھنے ميں کوئى حرج نہيں ہے ليکن اسکى شرط يہ ہے کہ يہ امر مذکورہ مکان کے تقدس و احترام کے خلاف نہ ہو اور نہ ہى مسجد ميں نمازيوں کے لئے باعث زحمت ہو۔

س 1138:  آيا موسيقى سيکھنا جائز ہے؟خصوصاً ستاِر؟ اوراگر موسيقى سيکھنے سے دوسروں کو ترغيب ہو اور شہ ملے تو اسکا کيا حکم ہے؟ 
ج:  غير لہوى موسيقى بجانے کےلئے آ لات موسيقى کا استعمال جائز ہے اگر دينى اور انقلابى نغموں کےلئے ہو يا کسى مفيدثقافتى پروگرام کيلئے ہو اور اسى طرح جہاں بھى مباح عقلائى غرض موجود ہو مذکورہ موسيقى جائز ہے ليکن اس شرط کے ساتھ کہ کوئى اور فساد لازم نہ آئے اور اس طرح کى موسيقى کو سيکھنا اور تعليم دينا بذات ِ خود جائز ہے ۔

س 1139: ترنّم کے ساتھ شعر و غيرہ پڑھنے کے دوران عورت کى آواز سننے کا کيا حکم ہے چاہے سننے والا جوان ہو يا نہيں ؟ ، مرد ہو يا عورت ؟اور اگر عورت محارم ميں سے ہو تو کيا حکم ہے؟
ج:  اگر خاتون کى آواز غناءکى کيفيت نہ رکھتى ہو، اس کا سننا لذت اور برے خيال سے بھى نہ ہو ، اس پر کوئى اور فساد بھى مترتب نہ ہوتا ہوتو اس ميں  کوئى حرج نہيں ہے۔مذکورہ صورتوں کے لحاظ سے بھى کوئى فرق نہيں ہے ۔

س 1140:  آيا قومى اور سنتى ايرانى موسيقى حرام ہے يا نہيں ؟
ج:  وہ موسيقى جو عرف عام ميں لہوى موسيقى کہلائے اور محافل لہو و لعب و گناہ سے مناسبت رکھتى ہو وہ مطلقاً حرام ہے  چاہے وہ ايرانى ہو يا غير ايرانى چاہے سنتى ہو يا غير سنتي۔

س 1141: عربى ريڈيو سے بعض خاص لحن کے ساتھ موسيقى نشر ہوتى ہے ، آيا عربى زبان کے شوق کى خاطر اسے سنا جاسکتا ہے؟
ج:  لہوى موسيقى جو کہ محافل لہو و لعب اور گناہ سے مناسبت رکھتى ہو مطلقاً حرام ہے اور عربى زبان کے سننے کا شوق  شرعى جواز نہيں ہے ۔

س 1142:  کيا بغير موسيقى کے گانے کى طرز پر گانے جانے والے اشعار کا دہرانا جائز ہے؟
ج:  غناءاور گانا حرام ہے چاہے موسيقى کے آلات کے بغير ہو اور غناءسے مراد يہ ہے کہ اس طرح آواز کو گلے ميں گھمايا جائے جس طرح محافل فسق و فجور ميں رائج ہے ، البتہ فقط اشعار کے دہرانے ميں کوئى حرج نہيں ۔

س1143:   موسيقى کے آلات کى خريدو فروخت کا کياحکم ہے اور ان کے استعمال کى حدود کيا ہےں؟
ج: لہوى اور غير لہوى موسيقى کے مشترک آلات کى خريد و فروخت حلال مقاصد کے لئے (غير لہوى موسيقى کى خاطر )جائز ہے نيز ايسى موسيقى کے سننے ميں بھى کوئى حرج نہيں ہے۔

س 1144: کيا دعاء، قرآن اور آذان ميں غناءجائز ہے؟
ج:  غناءسے مراد ايسى آواز ہے جو ترجيع اور طرب پر مشتمل ہو اور لہو و لعب اور فسق و فجور کى محافل سے مناسبت رکھتى ہو اور وہ مطلقاً حرام ہے حتي، دعاء، قرآن ، آذان اور مرثيہ ميں ہى کيوں نہ ہو۔

 س1145: آج کل موسيقى بعض نفسياتى بيماريوں کے علاج کے لئے استعمال کى جاتى ہے جيسے غمگين رہنا، اضطراب ، جنسى مشکلات اور خواتين ميں سرد مزاج ہونا وغيرہ۔ مذکورہ صورت ميں موسيقى کيا حکم رکھتى ہے؟
ج:  اگر امين اور ماہر طبيب کى رائے  ہو کہ مرض کا علاج موسيقى پر متوقف ہے تو مرض کى علاج کى حدّ تک موسيقى کا استعمال جائز ہے۔

س 1146:  اگر موسيقى سننے کى وجہ سے زوجہ کى طرف رغبت زيادہ ہوجاتى ہو تو اس کا کيا حکم ہے؟
ج:  ز وجہ کى جانب رغبت کا زيادہ ہونا، گانے سننے کا شرعى جواز نہيں ہے۔

 س1147: عورتوں کے مجمع ميں خاتون کا گاناکيا حکم رکھتا ہے جبکہ موسيقى بجانے والى بھى خواتين ہوں ؟
ج: نغمہ اگر ترجيع و طرب اور لہوى حرام و موسيقى کے بغير ہو تو بذات خود يہ امر جائز ہے۔

س1148:   اگر موسيقى کے حرام ہونے کا معيار يہ ہے کہ وہ لہوى ہو اور لہوو لعب اور گناہ کى محافل سے مناسبت رکھتى ہو تو ايسى آواز اور ترانوںکا کيا حکم ہے جو بعض لوگوں حتى کہ خوب و بد کونہ سمجھنے والے بچوں ميں بھى طرب ايجاد کرے؟اور آيا ايسے فحش کيسٹ سننا حرام ہے جو عورتوں کے گانوں پر مشتمل ہوں ليکن طرب کا سبب بھى نہ ہوں ؟ اور ان لوگوں کے بارے ميں کيا حکم ہے جو ايسى عوامى بسوں ميں سفر کرتے ہيں جنکے کے ڈرائيور مذکورہ  کيسٹ استعمال کرتے ہيں؟
ج:  موسيقى کى ہر وہ صورت حرام ہے جس ميں آواز کے اندر ترجيع و طرب ہو ، کيفيت و مضمون کے لحاظ سے، اور گانے بجانے کے دوران گانے يا بجانے والے کى حالت کى وجہ سے لہو و لعب اور گناہ کى محافل کے مشابہ غنا اور موسيقى شمار ہوتى ہو۔ مذکورہ موسيقى کا سننا حرام ہے حتى ايسے افراد کے لئے جنھيں يہ موسيقى طرب ميں نہ لائے اور تحريک نہ کرے اور عوامى بسوں ميں سفر کرنے والوں کو لہوى گانے اور موسيقى نشر ہوتے وقت کان لگا کر اور جان بوجھ کر نہيں سننا چاہيے اور نہى عن المنکر کرنا چاہيے۔

س1149:    آيا شادى شدہ مرد کے لئے نا محرم عورت کا گانا سننا جائز ہے تاکہ وہ اپنى زوجہ سے لذت حاصل کرسکے ؟ آيا زوجہ کا اپنے شوہر يا شوہر کا اپنى زوجہ کے سامنے گانا صحيح ہے ؟ اور آيا يہ کہنا صحيح ہے کہ شارع مقدس نے غناءکو اس لئے حرام کيا ہے کہ غناءکے ہمراہ محافل لہو و لعب ہوتى ہيں اور موسيقى لہو ولعب کے بغير نہيں ہوتى لہذا غناءکى حرمت ان مجالس کى حرمت کا نتيجہ ہے اور مذکورہ مجالس کے ضمن ميں غناءبھى حرام ہے ۔ جيسے مجسموں کے بنانے اور فروخت کرنے کا پيشہ اس وجہ سے حرام ہے کہ عبادت کے علاوہ اس کا کوئى اور فائدہ نہيں ہے ۔ تو کيا اس زمانے ميں حرمت کا معيار اور سبب ختم ہوجانے سے حرمت بھى ختم ہوجائے گي؟
ج:  ايسى غناءکا سننا مطلقاً حرام ہے جو ترجيع صوت پر مشتمل ہو اور مطرب ہو اور  لہو و لعب کى محافل سے مناسبت رکھتى ہو حتى زوج و زوجہ کى غناءايک دوسرے کے لئے اور بيوى سے لذت کا قصد غناءکو مباح نہيں کرتا اور غناءکى حرمت مجسمہ سازى اور وہ امور جنکى حرمت شريعت مقدسہ ميں تعبداً ثابت ہے شيعہ فقہ کے مسلمات ميں ہے يعنى انکى حرمت کا دارو مدار فرضى معيارات اور نفسياتى و اجتماعى اثرات کے اوپر نہيں ہے بلکہ يہ مطلقاً حرام ہے اور اس سے مطلقاً اجتناب واجب ہے جب تک اس پر عنوانِ حرام صادق ہے۔

س1150:    ٹرينينگ کالج کے طلباءکے لئے اسپيشل دروس کے دوران انقلابى ترانوں کى کلاس ميں شرکت لازمى ہے ۔ جہاں وہ موسيقى کے آلات کى تعليم ليتے ہيں اور مختصر طور پر موسيقى سے آشنا ہوتے ہيں البتہ مذکورہ درس ميں اصلى آلہ اَرگن ہے۔ اس مضمون کى تعليم کا کيا حکم ہے جبکہ اس کى تعليم لازمى ہے؟مذکورہ آلہ کى خريدو فروخت اور اسکا استعمال ہمارے لئے کيا حکم رکھتا ہے؟ ان لڑکيوں کا کيا  حکم ہے جو مردوں کے سامنے پريکٹس کرتى ہيں؟
ج:  انقلابى ترانوں، دينى پروگراموں، ثقافتى اور تربيتى سرگرميوں ميں موسيقى کے آلات سے استفادہ کرنے ميں بذات خود کوئى حرج نہيں ہے ۔ مذکورہ اغراض کے لئے موسيقى کے آلات کى خريد و فروخت نيز انکا سيکھنا اور سکھانا جائز ہے اسى طرح خواتين حجاب اور اسلامى آداب و رسوم کى مراعات کرتے ہوئے معلم کے سامنے کلاس ميں شرکت کرسکتى ہيں ۔

س1151:  بعض نغمے ظاہرى طور پر انقلابى ہيں اور عرف ِعام ميں بھى اسے انقلابى سمجھا جاتا ہے ليکن يہ معلوم نہيں ہے کہ گانے والے نے انقلابى قصد سے نغمہ گايا ہے يا طرب اور لہو کے ارادے سے ، ايسے نغموں کے سننے کا کيا حکم ہے؟ جبکہ اس بات کا علم بھى ہے کہ گانے والا مسلمان نہيں ہے ، ليکن اس کے نغمے ملى اور انقلابى ہوتے ہيں اور انکے بول جبرى تسلّط کے خلاف ہوتے ہيں اور استقامت پر ابھارتے ہيں۔ 
ج:  اگر سامع کى نظر ميں گانے کى کيفيت مطربانہ اور لہوى گانے جيسى نہ ہو تو اس کے سننے ميں کوئى حرج نہيں ہے اور گانے والے کا قصد، ارادہ اور مضمون کو اس ميں کوئى دخل نہيں ہے۔

 س 1152: ايک جوان بعض کھيلوں کے اندر کوچ اور بين الاقوامى ريفرى کے طور پر مشغول ہے اسکے کام کا تقاضا يہ ہے کہ وہ بعض اسے کلبوں ميں بھى جائے جہاں حرام موسيقى اور غنا ءبجائى جاتى ہے اس بات کو نظر ميں رکھتے ہوئے کہ اس کام سے اسکى معيشت کا ايک حصہ حاصل ہوتاہے اورا سکے رہائشى علاقے ميں کام کے مواقع بہت کم ہيں کيا اسکے لئے يہ کام جائز ہے ؟
ج:  اس کے کام ميں کوئى حرج نہيں اگرچہ حرام موسيقى اور غناءکا سننا اس کے لئے حرام ہے  اضطرار کى کيفيت ميں غناءاور حرام موسيقى کى محفل ميںجانا اس کے لئے جائز ہے البتہ اسے موسيقى توجہ سے نہيں سننا چاہيئے بلا اختيار جو چيز کان ميں پڑے اس ميں کوئى حرج نہيں ہے ۔

س 1153: آيا توجہ کے ساتھ موسيقى کا سننا حرام ہے؟ يا کان ميں آواز کا پڑنا بھى حرام ہے؟
ج:  مطرب اور لہوى موسيقى کے کان ميں پڑنے کا حکم اسے کان لگاکرسننے کى طرح نہيں ہے سوائے ان مواقع کے جن ميں عرف کے نزديک کان ميں پڑھنا بھى کان لگا کر سننا شمار ہوتاہے۔

س 1154:کيا قراتِ قرآن کے ہمراہ ايسے آلات کے ذريعے موسيقى بجانا جو عام طور پر لہو و لعب کى محافل ميں نہيں بجائے جاتے  جائز ہے؟
ج:   اچھى آواز اور قرآن کريم کے شايان شان صدا کے ساتھ قرآن مجيد کى تلاوت ميں کوئى حرج نہيں ہے بلکہ يہ ايک بہتر امر ہے بشرطيکہ حرام غنا کى حدّ تک نہ پہنچے البتہ تلاوت قرآن کے ساتھ موسيقى بجانے کا کوئى شرعى جواز اور دليل موجود نہيں ہے۔

س1155:  محفل ميلاد و غيرہ ميں طبلہ بجانے کا کيا حکم ہے ؟
ج:  مطربانہ اور لہو و لعب کى محافل کے مناسب لہوى اور طرب آور کيفيت سے غناءاور آلات موسيقى بجانا مطلقاً حرام ہے ۔

س 1156:موسيقى کے ان آلات کا کيا حکم ہے جو اسکولوں کے طلاّب تعليمى و تربيتى ادارے تعليم و تربيت کے تابع ترانہ پڑھنے والے گروہوں ميں استعمال کرتے ہيں ؟
ج:  موسيقى کے ايسے آلات جو عرف عام کى نگاہ ميںمشترک اور حلال کاموں ميں استعمال کے قابل ہوں انہيں غير لہوى طريقے سے حلال مقاصد کے لئے استعمال کرنا جائز ہے ليکن ايسے آلات جو عرف کى نگاہوں ميں لہو کے مخصوص آلات سمجھے جاتے ہوں انکا استعمال جائز نہيں ہے۔

س 1157: کيا موسيقى کا وہ آلہ جسے ستار کہتے ہيں بنانا جائز ہے اور کياکسبِ معاش کے لئے اسے پيشہ بنايا جاسکتا ہے ، اس کى صنعت کو ترقى دينے اور اسے بجانے والوں کى حوصلہ افزائى کے لئے سرمايہ کارى ومالى امداد کى جاسکتى ہے؟ اور اصل موسيقى پھيلانے اور زندہ رکھنے کے لئے ايرانى سنتى موسيقى کى تعليم دينا جائز ہے يا نہيں؟
ج:   قومى اور انقلابى ترانوں ميں موسيقى کے آلات کا استعمال جب تک بحد طرب اور لہو نہ ہو اور محافل لہو و لعب سے مناسبت نہ رکھتا ہو تو بذاتِ خود جائز ہے ۔ اسى طرح اس کے لئے آلات کا بنانا اور مذکورہ ہدف کے لئے تعليم و تعلم بھى بذات ِ خود جائز ہے۔

س 1158:   کونسے ايسے آلات ِلہو  ہيں جن کا استعمال کسى بھى حال ميں جائز نہيں ہے؟
ج: وہ آلات جو عام طور پر لہو و لعب ميں استعمال ہوتے ہيں اور جن کى کوئى حلال منفعت نہيں ہے اور آلات ِلہو ميں سے شمار کئے جاتے ہيں۔

س 1159: وہ کيسٹ جو حرام آوازوں پر مشتمل ہے کيا اس کى کاپى کرنا اور اس پر اجرت لينا جائز ہے؟
ج:  جن کيسٹوں کا سننا حرام ہے ان کى کاپى کرنا اور اس پر اجرت لينا جائز نہيں ہے۔



فائل اٹیچمنٹ:
حالیہ تبصرے

اس کہانی کے بارے میں تبصرے

     
امنیت اطلاعات و ارتباطات ناجی ممیزی امنیت Security Audits سنجش آسیب پذیری ها Vulnerability Assesment تست نفوذ Penetration Test امنیت منابع انسانی هک و نفوذ آموزش هک