1/17/2018         ویزیٹ:578       کا کوڈ:۹۳۵۶۶۴          ارسال این مطلب به دیگران

استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای » استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
  ،    طبابت کے مختلف مسائل

 طبابت کے مختلف مسائل

س1289 :  فوجى ادارے کے افراد کى طرف سے آيا شرمگاہ کى تفتيش کرنا جائز ہے؟ 
ج:  دوسرے کى شرمگاہ ظاہر کرنا ، نگاہ کرنا اور کسى کو شرمگاہ ظاہر کرنے کے لئے مجبور کرنا جبکہ کوئى محترم شخص ديکھنے والا موجود ہو تو جائز نہيں ہے۔ مگر يہ کہ شرمگاہ ظاہر کرنے کى ضرورت ہو جيسے ختنہ يا علاج کرنا ، ليکن مکلف کے ختنہ کے لئے دوسروں پر کوئى ذمہ دارى نہيں ہے اور ختنہ کرنا خود مکلف کى ذمہ دارى ہے اور اسى طرح مرض کے علاج کے لئے شرمگاہ ظاہر کرنا جائزنہيں ہے مگر يہ کہ بيمار کى زندگى خطرہ ميں ہو تو جائز ہے۔

س1290 :   ڈاکٹر کى طرف سے خواتين کو لمس کرنے يا نگاہ کرنے کے جواز کے ضمن ميں لفظ ضرورت کا بار بار ذکر آتاہے اس ضرورت کے کيا معنى ہيں اور اس کى حدود کيا ہيں؟
ج:  علاج کے وقت ضرورت لمس و نظر کے معنى يہ ہيں کہ مرض کى تشخيص اور علاج عرفاً لمس اور نظر کرنے پر موقوف ہو اور ضرورت کى حدود حاجت اور توقف کى مقدار کى حد تک ہيں ۔

س1291 :  آيا ليڈى ڈاکٹر کسى عورت کے مرض کى تشخيص يا تفتيش کے لئے اس کى شرمگاہ ديکھ سکتى ہے۔
ج:  ضرورت کے وقت جائز ہے اسکے علاوہ جائز نہيں ہے۔

س1292 :  علاج کے لئے آيا مرد ڈاکٹر عورت کے جسم کو لمس کرسکتا ہے اور اس پر نظر ڈال سکتا ہے؟
ج:  اگر ليڈى ڈاکٹر سے علاج کرنا ميسر نہ ہو تو ضرورت کے وقت مرد ڈاکٹر کے لئے اگر علاج لمس کرنے اور نگاہ کرنے پر ڈاکٹر کے سامنے بدن عريان کرنا موقوف ہو تو جائز ہے۔

س1293 :  ايسى صورت ميں جب ليڈى ڈاکٹر آئينہ کے ذريعے خاتون کا معائنہ کرسکتى ہے خاتون کى شرمگاہ پر نگاہ ڈالنا اور شرمگاہ کو لمس کرنا جائز ہے؟
ج:  اگر آئينے کے ذريعے معائنہ کا امکان ہو اور لمس کرنے يا بلاواسطہ نگاہ ڈالنے کى ضرورت نہ ہو تو جائز نہيں ہے۔

س1294 :  بلڈ پريشر وغيرہ ميں مريض کا بدن لمس کرنا ضرورى ہے اگر بلڈ پريشر ديکھنے والا جنس مخالف سے تعلق رکھتا ہو اور مذکورہ عمل طبى دستانے پہن کر انجام دينے کا امکان ہو تو آيا بغير دستانے کے مذکورہ عمل انجام دينا جائز ہے؟
ج:  اگر علاج کے لئے کپڑے يا دستانے پہن کر لمس کرنے کا امکان ہو تو مريض کے بدن کو لمس کرنے کى ضرورت نہيں ہے جو کہ جنس مخالف سے تعلق رکھتا ہے لہذا جائز نہيں ہے۔

س1295 : آيا ڈاکٹر کسى خاتون کے لئے پلاسٹک سرجرى کرسکتا ہے جوکہ خوبصورتى کے لئے ہو اگرچہ لمس اور نظر کا باعث بنے؟
ج:  خوبصورتى کے لئے سرجرى کرنا کيونکہ کسى مرض کا علاج نہيں ہے لہذا نگاہ اور لمس جو کہ حرام ہے جائز نہيں ہے ہاں اگر جلنے کے علاج کى وجہ سے سرجرى کى جائے اور اس صورت ميں لمس يا نظر کے لئے مجبور ہو تو جائز ہے۔

س1296 :   آيا شوہر کے علاوہ عورت کى شرمگاہ پر مطلقاً نظر ڈالنا حرام ہے حتى ڈاکٹر کا نظر کرنا ؟
ج:  شوہر کے علاوہ حتى ڈاکٹر اور ليڈى ڈاکٹر کا عورت کى شرمگاہ پر نظر ڈالنا حرام ہے ہاں اگر علاج کے لئے مجبور ہو تو جائز ہے۔

س1297   اگر مرد ماہر علاج نسواں ڈاکٹر ليڈى ڈاکٹر سے زيادہ ماہر ہو يا ليڈى ڈاکٹر تک رسائى خواتين کے لئے حرج کى حامل ہو توکيا مرد ڈاکٹر سے علاج کرانا جائز ہے؟
ج:  اگر علاج حرام نگاہ اور لمس پر متوقف ہو تو مرد ڈاکٹر سے علاج کرانا جائز نہيں ہے۔ ہاں اگر ايسى ليڈى ڈاکٹر تک رسائى سے معذور يا رسائى مشکل ہوجائے جو کہ معالجہ کے لئے کفايت کرتى ہے ،تومرد سے علاج کرانا جائز ہے۔

س1298 :  آيا ڈاکٹر کے کہنے پر منى ٹسٹ کے لئے استمناءکرنا جائز ہے؟ 
ج:  اگر علاج اس پر موقوف ہو اوربيوى کے ذريعے منى نکالنا ممکن نہ ہو تو معالجہ کے لئے جائز ہے۔



فائل اٹیچمنٹ:
حالیہ تبصرے

اس کہانی کے بارے میں تبصرے

     
امنیت اطلاعات و ارتباطات ناجی ممیزی امنیت Security Audits سنجش آسیب پذیری ها Vulnerability Assesment تست نفوذ Penetration Test امنیت منابع انسانی هک و نفوذ آموزش هک