1/25/2018         ویزیٹ:389       کا کوڈ:۹۳۵۶۷۸          ارسال این مطلب به دیگران

استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای » استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
  ،    طباعت ، تاليف اور فن کارى کے حقوق

 طباعت ، تاليف اور فن کارى کے حقوق

س1330 :  کتب اورمقالات جو باہر سے آتے ہيں اور اسلامى جمہوريہ ميں چھپتے ہيں ان کے ناشروں کى اجازت کے بغير اشاعت مکرر کا کيا حکم ہے؟ اور اگر صحيح ہونا مشکل ہو تو ان کتابوں کى خريد و فروخت کا کيا حکم ہے جن کى طباعت ہوچکى ہے جبکہ انہيں اس موضوع کا علم نہيں تھا؟
ج:   اسلامى جمہوريہ سے باہر چھپنے والى کتب کى اشاعت مکرر يا افسيٹ اس معاہدہ کے تابع ہے جو مذکورہ کتب کے بارے ميں اسلامى جمہوريہ اور متعلق ممالک ميں منعقد ہوا ہے ليکن ملک کے اندر چھپنے والى کتب ميں احوط يہ ہے کہ ناشر سے انکى تجديد طباعت کے لئے اجازت ليکر اسکے حقوق کا خيال رکھا جائے البتہ جو کتب بغير اجازت کے چھپ چکى ہيں يا انکى اشاعت مکرر ہوچکى ہے انکے خريد و فروخت ميں کوئى حرج نہيں ہے۔

س1331:   بعض لوگوں کا خيال ہے کہ فکرى اور فنى امور جب صاحبان فکر سے صادر ہوجائيں تو چھپنے کے بعد ان کى ملکيت نہيں رہتے ۔ يہ راى کس حد تک صحيح ہے؟ آيا مولفين ، مترجمين اور فنى امور کے ماہرين کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے مذکورہ اعمال کے عوض خاص مقدار ميں مال کا تقاضا کريں۔ جيسے حق تاليف وغيرہ ، اس لئے کہ انہوں نے جدو جہد ، وقت اور مال صرف کرنے کے بعد مذکورہ اشياءتک رسائى حاصل کى ہے؟
ج:  اپنے علمى اور معنوى کام کے پہلے يا اصلى نسخہ کے بدلے ميں ناشرين سے نشر و طباعت کے لئے جتنا مال چاہيئں مطالبہ اور دريافت کرسکتے ہيں۔

س1332:   اگر مؤلف ، مترجم يا فنکار پہلى اشاعت کے عوض مال کى کچھ مقدار وصول کرے اور يہ شرط کرے کہ بعد کى اشاعت ميں بھى ميرا حق محفوظ رہے گا ۔ تو آيا دوسرى اشاعت ميں اسے مال کے مطالبہ کا حق ہے؟ اور اس مال کے وصول کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج:  پہلا نسخہ ديتے وقت ناشر سے شرط کرنے کى صورت ميں کوئى اشکال نہيں ہے اور ناشر پر شرط کى پابندى کرنا واجب ہے۔

س1333:  اگر مصنف يا مولف نے پہلى اشاعت کى اجازت کے وقت اشاعت مکرر کے بارے ميں کچھ نہيں کہا تو آيا ناشر کے لئے اشاعت مکرر ميں بغير اجازت اور بغير اداءمال کے کتاب چھاپنا صحيح ہے؟
ج:  اگر گزشتہ معاہدہ فقط پہلى اشاعت کے لئے تھا تو دوسرى اشاعت کے لئے بھى احوط يہ ہے کہ اجازت لى جائے۔

س1334:  مصنف کے سفر يا موت کى وجہ سے موجود نہ ہونے کى صورت ميں اشاعت مکرر کے لئے کس سے اجازت لى جائے اور کسے رقم دى جائے؟
ج:  مصنف کے نمائندے يا شرعى سرپرست يا فوت ہونے کى صورت ميں وارث کى طرف رجوع کيا جائے گا۔

س1335: آيا اس عبارت کے باوجود کہ ( تمام حقوق مولف کے لئے محفوظ ہيں) بغير اجازت کے کتاب چھاپنا صحيح ہے؟
ج:  احوط يہ ہے کہ مولف اور ناشر کے حقوق کى رعايت کى جائے اور طبع جديد ميں ان سے اجازت لى جائے۔

س1336:  تواشيح اور قرآن کريم کى بعض کيسٹوں پر يہ عبارت لکھى ہوتى ہے ( کاپى کرنے کے حقوق محفوظ ہيں) آيا ايسى صورت ميں ٹيپ کرکے دوسرے لوگوں کو دينا جائز ہے؟
ج:  احوط يہ ہے کہ اصلى ناشر سے کاپى کرنے کى اجازت لى جائے۔

س1337: آيا کمپيوٹر کى ڈسک کاپى کرنا جائز ہے؟بر فرض حرمت آيا يہ حکم ايران ميں پروگرام کى جانے والى ڈسک تک محدود ہے يا عموميت رکھتا ہے ؟ اس لئے کہ کمپيوٹر ڈسکوں کى قيمت مواد کى اہميت کى وجہ سے بہت زيادہ ہوتى ہے؟
ج:  ملک کے اندر بننے والى ڈسکوں کے مالکين سے بناءبر احوط اجازت لى جائے اور انکے حقوق کى رعايت کى جائے بيرون ملک سے آنے والى ڈسکيں معاہدہ کے تحت ہيں۔

س1338:  آيا دکانوں ، کمپنى کے نام اور تجارتى مارک ان کے مالکين سے مختص ہيں ؟ اس طرح سے کہ دوسروں کے لئے ان ناموں يا مارک کا استعمال کرنا ممنوع ہے؟ مثلاً ايک شخص ايک دکان کا مالک ہے اور اس دکان کا نام اس نے اپنے خاندان کے نام پر رکھا ہوا ہے آيا اسى خاندان کے کسى دوسرے فرد کو مذکورہ نام سے دکان کھولنے کى اجازت ہے؟ يا کسى اور خاندان کے شخص کو مذکورہ نام استعمال کرنے کى اجازت ہے؟ 
ج:  حکومت کى طرف سے تجارتى مراکز اور کمپنيوں کے نام ملکى قوانين کے مطابق ايسے افراد کو عطا کيئے جاتے ہيں جو دوسروں سے پہلے مذکورہ عنوان کو اپنے نام کروانے کى سرکارى درخواست ديکر اسے اپنے نام کرواليتے ہے اور سرکارى ريکارڈ ميں ان کے نام رجسٹرڈ ہوجاتے ہيں تو ايسى صورت ميں دکان يا کمپنى کا مذکورہ عنوان سے اقتباس يا استفادہ بغير اجازت کے جائز نہيں ہے اس ميں بھى کوئى فرق نہيں ہے کہ استعمال کرنے والا شخص اسى خاندان سے تعلق رکھتا ہو يا نہيں ۔ اور اگر نام رجسٹرڈ نہ کيا ہو تو دوسروں کے لئے اسى نام سے استفادہ کرنے ميں کوئى حرج نہيں ہے۔

س1339: کوئى شخص اپنے کاغذات اور کتابيں فوٹو کاپى کرنے کے لئے دکان پر آتا ہے دکاندار جو کہ مومن ہے اس خيال سے کہ يہ کتاب يا مجلہ مومنين کے لئے مفيد ہے آيا اس کے لئے کتاب کے مالک سے اجازت لئے بغير اپنے ليے کتاب يا مجلہ کى فوٹو کاپى کرنا جائزہے؟ اور اگر دوکاندار کو علم ہو کہ صاحب کتاب فوٹو کاپى کرنے سے راضى نہيں ہے تو آيا مسئلہ ميں فرق پڑے گا۔
ج:  احوط يہ ہے کہ بغير اجازت فوٹو کاپى نہ کرے اور اگر اس کى عدم رضاءکا علم ہو تو احتياط ترک نہيں ہونى چاہيے۔

س1340:  بعض مومنين ويڈيو کيسٹ کرائے پر لاتے ہيں اور جب ويڈيو کيسٹ کو اچھا پاتے ہيں تو دکاندار کى اجازت کے بغير اس کى نقل کرليتے ہيں اس بات کو نظر ميں رکھتے ہوئے کہ اکثر علماءکے نزديک حقوق طبع کى کوئى حيثيت نہيں ہے کياان کا يہ عمل جائز ہے؟ اور بر فرض عدم جواز ، اگر کوئى ٹيپ کرلے تو اس پر لازم ہے کہ وہ دوکاندار کو اطلاع دے َ يا ٹيپ شدہ مواد کا صاف کردينا کافى ہے؟
ج:  احوط يہ ہے کہ بغير اجازت ٹيپ نہ کيا جائے ليکن اگر بغير اذن کے ٹيپ کرلے تو محو کرنا کافى ہے اور دوکاندار کو اطلاع دينا ضرورى نہيں ہے۔



فائل اٹیچمنٹ:
حالیہ تبصرے

اس کہانی کے بارے میں تبصرے

     
امنیت اطلاعات و ارتباطات ناجی ممیزی امنیت Security Audits سنجش آسیب پذیری ها Vulnerability Assesment تست نفوذ Penetration Test امنیت منابع انسانی هک و نفوذ آموزش هک