8/28/2018         ویزیٹ:175       کا کوڈ:۹۳۶۹۴۱          ارسال این مطلب به دیگران

معصومین(ع) ارشیو » معصومین(ع) ارشیو
  ،   ولایت علی ع قرآن کریم میں


ولایت علی (ع) قرآن کریم میں

1: آیت ولایت

اللہ تعالی فرماتا ہے :
"إنما وليکم الله ورسوله والذين آمنوا الذين يقيمون الصلاة ويؤتون الزکاة وهم راکعون "
تمھارے ولی تو بس اللہ اور اس کا رسول اور وہ مومنین ہیں جو پابندی سے نماز پڑھتے ہیں ، رکوع کی حالت میں زکوات دیتے
ہیں ۔جو کوئی اللہ ، اس کے رسول اور ان مومنین کی ولایت قبول  کرےگا (وہ اللہ کی جماعت میں داخل ہوگا )بے شک اللہ ہی کی جماعت غلبہ پانے والا ہے ۔(سورہ مائدہ ۔آیت 55-56)
ابو اسحاق ثعلبی (2) نے اپنی تفسیر کبیر میں اپنی اسناد سے ابو ذر غفاری سے یہ روایت بیان کی ہے ۔ ابو ذر کہتے ہیں کہ : میں نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے ان کانوں سے سنا ،نہ سنا ہو تو یہ کان نپٹ بہرے ہوجائیں اور اپنی ان آنکھوں سے دیکھا  ،نہ دیکھا ہو تو یہ آنکھیں پٹم اندھی ہوجائیں ۔آپ فرماتے تھے کہ "علی "نیکیوں کو رواج دینے والے اور کفر کو مٹانے والے ہیں ۔ کامیاب ہے وہ جوان  کی مدد کرے گا اور ناکام ہے وہ جو ان کی مدد چھوڑ دے گا ۔ایک دن میں رسول اللہ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک مانگنے والا مسجد میں آگیا ،اسے کسی نے کچھ نہیں دیا ۔ علی ع نماز پڑھ رہے تھے ، انھوں نے اپنی چھوٹی انگلی سے انگوٹھی  اتارلی ۔اس پر رسول اللہ ص نے عاجزی سے اللہ تعالی سے دعا کی کاور کہا : یا الہی میرے بھائی موسی  نے تجھ سے دعا کی تھی اور کہا تھا : "اے میرے پروردگار ! میرا سینہ کھول دے اور میرا کا آسان کردے اورمیری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں ، اور میرے اپنوں میں سے میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنادے تاکہ میں تقویت حاصل کرسکوں اور انھیں میرا شریک کار بنادے تاکہ ہم کثرت سے تیری تسبیح کریں اور بکثرت تجھے یاد کیا کریں "۔تب تو نے انھیں وحی  بھیجی کہ اے موسی ! تمھاری دعا قبول ہوگئی ۔اے اللہ ! میں تیرا بندہ اور نبی ہوں ۔ میرا بھی سینہ کھول دے ،میرا کام بھی آسان کردے اور میرے اپنوں میں سے علی ع کو میرا مددگار بنادے تاکہ میں اس سے اپنی کمر مضبوط کرسکوں "۔ ابو ذر کہتے ہیں کہ ابھی رسول اللہ نے اپنی بات پوری کی ہی تھی جبریل امین یہ آیت لے کر نازل ہوئے :" إنما وليکم الله ورسوله"(3)۔
شیعوں  میں سے اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہ آیت امام علی بن ابی طالب ع کی شان مین اتری ہے ۔ اس کی توثیق ائمہ اہل بیت ع کی روایت سے ہوتی ہے جو شیعوں کے نزدیک قطعا مسلم الثبوت روایت ہے اور ان کی متعدد معتبر کتابوں میں موجود ہے جیسے :1:- اثبات الہداۃ ۔علامہ محمد بن حسن عاملی سنہ 1104 ھ۔2:- بحار الانوار ۔علامہ محمد باقر مجلسی سنہ 1111ھ۔3:- تفسیر المیزان ۔علامہ محمد حسین طباطبائی سنہ 1402 ھ۔4:- تفسیر الکاشف ۔ علامہ محم جواد مغنیہ -5:- الغدیر۔علامہ عبدالحسین احمد امینی سنہ 1390ھ
علمائے اہل سنت کی بھی ایک بڑی تعداد نے اس آیت کے علی بن ابی طالب علیہ الصلواۃ والسلام کےبارے میں نازل  ہونے کے متعلق روایت کی ہے ۔ میں ان میں سے فقط علمائے تفسیر کا ذکر کرتا ہوں :
1:- تفسیر کشّاف عن حقائق التنزیل ۔جار اللہ محمود بن عمر زمخشری سنہ 538 ھ جل 1 صفحہ 649
2:-تفسیر الجامع البیان ۔(4)حافظ محمد بن جریر طبری سنہ 310 ھ جلد 6 صفحہ 288
3:-تفسیر زاد المسیر فی علم التفسیر ۔سبط ابن جوزی سنہ 654ھجلد 2صفحہ 219۔4:- تفسیر الجامع الاحکام القرآن ۔محمد بن احمد قرطبی سنہ 671ھ جلد 63صفحہ 219
5:- تفسیر کبیر ۔امام فخر الدین رازی شافعی سنہ 606ھ جلد12 صفحہ 26۔6:- تفسیر القرآن العظیم ۔اسماعیل بن المعروف ابن کثیر سنہ 774ھ جلد 2 صفحہ 71
7:-تفسیر القرآن الکریم ۔ابو البرکات عبداللہ بن احمد نسفی سنہ 710 ھ جلد 1صفحہ 289۔8:- تفسیر شواہد التنزیل لقواعد التفصیل والتاویل ۔حافظ حاکم حسکانی جلد 1 صفحہ 161۔9:- تفسیر درّمنثور ۔حافظ جلال الدین سیوطی سنہ 911 ھ جلد 2 صفحہ 293
10:- اسباب النزول ۔ امام ابو الحسن واحدی نیشاپوری سنہ 468ھ صفحہ 148
11:- احکام القرآن ۔ابو بکر احمد بن علی الجصاص حنفی سنہ 370ھ جلد 4 صفحہ 103
12:- التسہیل لعلوم التنزیل ۔حافظ کلبی غرناطوی سنہ ھ جلد 1 صفحہ 181
علمائے اہل سنت میں سے جن کے نام میں نے لیے ہیں ، ان سے زیادہ وہ ہیں جن کے نام میں نے نہیں لیے ۔لیکن وہ علمائے شیعہ سے اس پر متفق ہیں کہ یہ آیت ولایت علی بن ابی طالب ع کی بابت نازل ہوئی ہے ۔

 

2:- آیہ تبلیغ کا تعلق بھی ولایت علی ع سے ہے

اللہ تعالی کا فرما تا ہے :
"يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْکَ مِن رَّبِّکَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللّهُ يَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ "
اے رسول !جو حکم تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے پاس آیا ہے اسے پہونچادو ۔ اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو گویا تم نے اسے کا کوئی پیغام ہی نہیں پہنچایا ۔اور اللہ تمھیں لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا ۔(سورہ مائدہ ۔آیت 67)
بعض اہل سنت مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت بعثت کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی جب رسول اللہ ص قتل اور ہلاکت کے خوف سے اپنے ساتھ محافظ  رکھتے تھے  جب آیت نازل ہوئی کہ  " وَاللّهُ يَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ "تو آپ نے اپنے محافظوں سے کہا : تم جاؤ ،اب اللہ نے میری حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے ۔
ابن جریر اور ابن مردویہ نے عبداللہ بن شقیق سے روایت بیان کی ہے کہ کچھ صحابہ رسول اللہ کے ساتھ سائے کی طرح رہتے تھے ۔ جب آیت نازل ہوئی " وَاللّهُ يَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ" تو  آپ نے باہر نکل کر فرمایا : لوگو ! اپنے گھر والوں کے پاس  چلے جاؤ ،اللہ نے میری حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے ۔(تفسیر درّ منثور ۔سیوطی جلد 3 صفحہ 119)
 ابن حبّان اور ابن مردویہ نے ابو ہریرہ سے روایت نقل کی ہے وہ کہتے ہیں کہ جب ہم کسی سفر میں رسول اللہ کے ساتھ ہوتے تھے تو سب سے بڑا اور سایہ دار درخت ہم آپ کے لیے چھوڑ دیتے تھے ۔آپ اسی کے نیچے اترتے تھے ایک دن آپ ایک درخت کے نیچے اترے اور اس پر اپنی تلوار لٹکادی ۔ ایک شخص آیا اور اس نے تلوار اٹھالی ۔کہنے لگا : محمد ! بتاؤ اب تمھیں مجھ سے کون بچائے گا ؟ " آپ نے فرمایا :" اللہ بچائے گا تو تلوار کھ دے :" اس نے تلوار رکھ دی ۔ اس پریہ آیت نازل ہوئی ۔ :" وَاللّهُ يَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ "(5)
ترمذی ،حاکم اور ابو نعیم  نے عائشہ سے روایت  کی ہے ۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ کے ساتھ محافظ رہتے تھے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی : " وَاللّهُ يَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ " تو آپ نے قبّہ سے سر نکال کر  کہا : تم لوگ چلے جاؤ ، اللہ نے میری حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے ۔
طبرانی ، ابو نعیم ، ابن مردویہ اور ابن عساکر نے ابن عّباس سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ص کے ساتھ محافظ رہتے تھے ۔ آپ کے چچا ابو طالب ہر روز بنی ہاشم میں سے کسی شخص کو آپ کے ساتھ رہنے کے لیے بھیج دیا کرتے تھے ۔پھر آپ نے ان سے کہہ دیا : چچا جان ! اللہ نے میری حفاظت کاذمہ لے لیا ہے اب کسی کو بھیجنے کی ضرورت نہیں ۔
جب ہم ان احادیث پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مضمون آیت کریمہ کے ساتھ میل نہیں کھاتا اور نہ اس کے سیاق وسباق کے ساتھ ٹھیک بیٹھتا ہے ۔ ان سب روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت بعثت کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے ۔ایک روایت میں تصریح ہے کہ یہ واقعہ ابو طالب کی زندگی کا ہے یعنی ہجرت سے کئی سال قبل کا ۔ خصوصا ابو ہریرہ تو یہ تک کہتے ہیں کہ جب ہم سفر میں رسول اللہ ص کے ہمراہ ہوتے تھے تو ان کے لیے سب سے بڑا درخت چھوڑ دیتے تھے ظاہر ہے یہ روایت موضوع ہے کیونکہ ابو ہریرہ جیسا کہ وہ خود اعتراف کرتے ہیں
سنہ 7 ہجری سے قبل اسلام اور رسول اللہ کو جانتے بھی نہیں تھے ۔(6) عائشہ اس وقت تک یا تو پیدا ہی نہیں ہوئی تھیں یا ان کی عمر دوسال سے زیادہ نہیں تھی کیونکہ یہ معلوم ہے کہ ان کا نکاح رسول اللہ سے ہجرت کے بعد ہوا اور اس وقت ان کی عمر زیادہ سے زیادہ بااختلاف  روایت گیارہ سال تھی ۔ پھر یہ روایتیں کیسے صحیح ہوسکتی ہیں ؟ تمام سنی اور شیعہ مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ سورہ مائدہ مدنی سورت ہے ۔اور یہ قرآن کی سب سے آخری سورت ہے جو نازل ہوئی ۔
احمد اور ابو عبید اپنی کتاب فضائل میں ، نحاس اپنی کتاب ناسخ میں ۔ نسائی ، ابن منذر ،حاکم ابن مردویہ اور بیہقی اپنی سنن میں جبیر بن نفیر سے روایت کرتے ہیں کہ جبیر نے کہا : میں حج کرنے گیا تو حضرت عائشہ سے بھی ملنے گیا ۔انھوں نے کہا : جبیر! تم نے سورہ مائدہ پڑھی ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ۔کہنے لگیں یہ آخری سورت ہے جو نازل ہوئی ۔اس میں تم جس چیز کو حلال پاؤ اسے حلال سمجھو اور جسے حرام پاؤ اسے حرام سمجھو۔(7)
احمد اور ترمذی نے روایت کی ہے کہ اور حاکم نے اسے صحیح اور حسن کہا ہے ابن مردویہ اور بیہقی نے بھی یہ روایت نقل کی ہے کہ عبداللہ بن عمر نے نزول کے اعتبار سے سورہ مائدہ کو آخری سورت بتایا ہے (8)۔
ابو عبیدہ نے محمد بن کعب قرطنی کے حوالے سے روایت بیان کی ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ سورہ مائدہ رسول اللہ ص پر حجّۃ الوداع میں اتری ۔اس وقت آپ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک اونٹنی پر سوار تھے ،وحی کے بوجھ سے اونٹنی کا کندھا ٹوٹ گیا تو آپ اترگئے (9)۔
ابن جریر نے ربیع بن انس سے روایت کی ہے کہ جب سورہ مائدہ رسول اللہ پرنازل ہوئی اس وقت آپ اپنی سواری پرسوار تھے ۔ وحی کے بوجھ سے اونٹنی بیٹھ گئی تھی (10)۔
ابو عبیدہ نے ضمرہ بن حبیب اور عطیہ بن قیس سے روایت کی ہے ، وہ دونوں کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : نزول کے اعتبار سے مائدہ آخری سورت ہے جو اس میں حلال ہے اسے حلال سمجھو اور جو اس میں حرام ہے اسے حرام سمجھو (11)۔اب ان تمام روایات کی موجودگی میں کوئی انصاف پسند سمجھ دار شخص کیسے یہ دعوی تسلیم کرسکتا ہے کہ مندرجہ
بالا آیت بعثت رسول ص کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی ۔ جہاں تک شیعوں کا تعلق ہے ان  میں اس بارے میں کوئی اختلاف  نہیں  کہ نزول کے اعتبار سے سورہ مائدہ قرآن کی آخری سورت ہے اور خاص کر آیہ تبلیغ حجۃ الوداع کے بعد 18 ذی الحجۃ کو امام علی ع کے منصب امامت پر تقرر سے پہلے غدیر خم میں نازل ہوئی ۔ اس دن جمعرات تھی ۔پانچ ساعت دن گذر جانے کے بعد جبریل نازل ہوئے اورآنحضرت سے بولے :اے محمد ص ! اللہ نے آپ کو سلام کہا ہے اور کہا ہے کہ :
"يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْکَ مِن رَّبِّکَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللّهُ يَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْکَافِرِينَ"۔اللہ تعالی کا " وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ "کہنا واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ یا تو رسالت کا کام ختم ہوچکا ہے یا ختم ہونے کے قریب ہے اور صرف ایک اہم کام باقی رہ گیا ہے جس کے بغیر دین کی تکمیل نہیں ہوسکتی ۔اس آیت کریمہ سے یہ بھی تاثر ملتا ہے کہ رسول اللہ ص کو یہ اندیشہ تھا کہ جب وہ اس اہم کا م کی طرف لوگوں کو بلائیں گے تو لوگ ان کو جھٹلائیں گے ۔لیکن اللہ تعالی نے ان کو تاخیر ک اجازت نہیں دی کیونکہ وقت موعود نزدیک تھا اور یہ اس کام کے لیے بہتریں موقع تھا آپ کے ساتھ ایک لاکھ سے زیادہ اصحاب موجود تھے جنھوں نے ابھی ایک ہفتہ پہلے آپ کے ساتھ حج کیا تھا ، ابھی تک ان کے قلوب مراسم حج کے نور سے معمور تھے ، انھیں یہ بھی یاد تھا کہ رسول اللہ ص نے انھیں اپنی وفات کے قریب ہونے کی خبر دی ہے ۔آپ نے فرمایا تھا :
" لعلّى لآ ألقاکم بعد عامي هذا ويوشک أن يّاتي ربّي وأدعى فاُجيب."
شاید اس سال کے بعد میں تم سے نہ مل سکوں ۔ وہ وقت قریب ہے جب پروردگار کا بلاوا آجائے گا اور مجھے جانا ہوگا ۔اب وہ وقت قریب تھا جب لوگ اپنے اپنے گھروں کو جانے کے لیے منتشر ہونے والے تھے ۔ شاید پھر اتنے بڑے مجمع سے ملاقات کا موقع نہ مل سکے ۔غدیر کئی راستوں کے سنگم پرواقع تھا ۔ رسول اللہ کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ کسی طرح بھی ایسے سنہری موقع کو ہاتھ سے جانے دیں ۔ اور کیسے جانے دے سکتے تھے جب وحی آچکی تھی جس میں ایک کو ہاتھ سے جانے دیں ۔ اور کیسے جانے دے سکتے تھے جب وحی آچکی تھی جس  میں ایک طرح کی تنبیہ بھی  تھی اور کہا گیا تھا کہ آپ کی رسالت کا دارومدار اسی پیغام کو پہنچانے پر ہے ۔ اللہ سبحانہ نے آپ کو لوگوں کے شر سے بچانے کی ضمانت بھی دیدی تھی اور کہہ دیا تھا کہ تکذیب سے خوف کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ آپ سے پہلے  بھی کتنے ہی رسول کو جھٹلائے جاچکے ہیں لیکن اس کی وجہ سے جو پیغام ان کو دیا گیا  تھا وہ اس کو پہچانے سے باز نہیں رہے ، اس لیے کہ رسول کا فریضہ ہی پہنچانا ہے ۔ "ما على الرّسول إلّا البلاغ"گو اللہ کو پہلے  سے معلوم تھا  کہ اکثر لوگ حق کو پسند نہیں کرتے (12)۔جیسا کہ اللہ تعالی نے قرآن میں فرمایا ہے : گو اللہ کو معلوم ہے کہ ان میں جھٹلانے والے ہیں (13)۔جب بھی اللہ انھیں حجّت  قائم کیے بغیر چھوڑ نے والا نیں ۔" لِئَلاَّ يَکُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَکَانَ اللّهُ عَزِيزاً حَکِيماً "اس کے علاوہ آپ کے سامنے ان رسولوں کی مثال تھی جن کو ان کی قوموں نے جھٹلایا ۔اللہ تعالی فرماتا ہے :
" وَإِن يُکَذِّبُوکَ فَقَدْ کَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادٌ وَثَمُودُ () وَقَوْمُ إِبْرَاهِيمَ وَقَوْمُ لُوطٍ () وَأَصْحَابُ مَدْيَنَ وَکُذِّبَ مُوسَى فَأَمْلَيْتُ لِلْکَافِرِينَ ثُمَّ أَخَذْتُهُمْ فَکَيْفَ کَانَ نَکِيرِ"
اگر یہ لوگ تم کو جھٹلاتے ہیں تو کیا ہوا ، ان سے پہلے قوم نوح اور عاد وثمود اور قوم ابراہیم ، قوم لوط اور اہل مدین بھی تو اپنے اپنے پیغمبروں کو جھٹلاچکے  ہیں اور موسی  بھی تو جھٹلائے جا چکے ہیں ۔ چنانچہ پہلے تو میں کافروں کو مہلت دیتا رہا پھر میں نے انھیں پکڑلیا ۔سود یکھو میرا عذاب کیسا ہوا ۔ (سورہ حج ۔آیت 42-44)
اگر ہم تعصّب اور اپنے مذہب  کی جیت  سے محبّت کا خیال چھوڑدیں تو یہ تشریح زیادہ سمجھ میں آنے والی ہے اور اس آیت کے نزول سے پہلے اور بعد میں جو واقعات پیش آئے ان سے بھی زیادہ ہم آہنگ ہے ۔
علمائے اہلسنت کی ایک بڑی تعداد نے اس آیت کے امام علی ع کے تقرر کے بارے میں غدیر خم کے مقام پر نازل ہونے کی روایت  بیان کی ہیں اور ان کو صحیح کہا ہے اور اس طرح اپنے شیعہ بھائیوں کے ساتھ اتفاق رائے  کا مظاہرہ کیا ہے ۔ ہم مثال کے طور پر ذیل میں چند علمائے اہل سنت کاذکر کرتے ہیں :
1:- حافظ ابو نعیم اصفہانی متوفی سنہ 430ھ نزول  قرآن ۔2:- امام ابوالحسن واحدی نیشاپوری، متوفی سنہ 468اسباب النزول صفحہ 150-3:- امام ابو اسحاق ثعلبی نیشاپوری، متوفی سنہ 427ھ تفسیر الکشف والبیان-4:- حافظ حاکم حسکانی حنفی شواھد التنزیل لقواعد المنفصل والتاویل جلد 1 صفحہ 187۔5:- امام فخر الدین رازی شافعی متوفی سنہ 606 ھ تفسیر کبیر جلد 12 صفحہ 50۔6:- حافظ جلا الدین سیوطی شافعی سنہ 911ھ تفسیر الدر المنثور جلد 3 صفحہ 117۔7:- مفتی شیخ محمد عبدہ سنہ 1323 ھ تفسیر المنار جلد 2 صفحہ 86 وجلد6 صفحہ 463۔8:-حافظ ابو القاسم ابن عساکر شافعی سنہ 571ھ تاریخ دمشق جلد 2 صفحہ 86۔
9:- قاضی محمد بن علی شوکانی سنہ 1250ھ تفسیر فتح القدیر جلد 2 صفحہ 60۔10:- ابن طلحہ شافعی سنہ 652ھ مطالب السئول جلد 1 صفحہ 44۔11:- حافظ سلیمان قندوزی حنفی سنہ 1294 ینابیع المودۃ صفحہ 120ھ۔12:- محمد عبدالکریم شہرستانی شافعی سنہ 548ھ المللوالنحل جلد 1 صفحہ 163۔
13:- نورالدین ابن الصباغ مالکی سنہ 855ھ الفصول المہمہ صفحہ 25۔14:- حافظ محمد بن جریر طبری سنہ 310 ھ کتاب الولایہ ۔ 15:- حافظ ابو سعید سجستانی سنہ 477 ھ کتاب الولایہ ۔ 16:- بدر الدین ابن عینی حنفی سنہ 855ھ عمدۃ القاری فی شرح البخاری جلد 8 صفحہ 584- 17:- سید عبدالوہاب البخاری سنہ 932 ھ تفسیر القرآن ۔
18:- سید شہاب الدین آلوسی شافعی سنہ 1270ھ روح المعانی جلد 2 صفحہ 384۔
19:- شیخ الاسلام محمد بن ابراہیم حموینی حنفی سنہ 722 ھ  فرائد السمطین جلد 1 صفحہ 185۔
20:- سید صدیق حسن خان فتح البیان فی مقاصد القرآن جلد 3 صفحہ 63 ۔(15)
اب دیکھنا یہ ہے کہ جب رسول اللہ ص کو حکم دیا گیا کہ جو کچھ آپ پر اترا ہے ایسے لوگوں تک پہنچا دیجیے تو اس پر آپ نے کیا کیا ؟
شیعہ یہ کہتے ہیں کہ آپ نے لوگوں کو ایک جگہ غدیر خم کے مقام پر جمع کیا اور ایک طویل اور نہایت بلیغ خطبہ دیا ۔ آپ کے گواہی مانگنے پر لوگوں نے گواہی دی کہ آپ کا ان پر خود ان سے زیادہ حق ہے ۔ اس پر آپ نے علی بن ابی طالب ع کا ہاتھ بلند کرکے کہا :-
"من کنت مولاه فهذا علىٌّ مولاه أللهمّ وال من وّالاه وعاد من عاداه وانصرمن نّصره وخذل من خذله وأدرالحقّ حيث ما دار".(16)
میں جس کا مولا ہوں یہ علی بھی اس کے مولا ہیں ۔ خداوندا! جو علی ع سے دوستی رکھے اس سے دوستی رکھ اور جو ان سے دشمنی رکھے تو بھ اس سے دشمنی رکھ ۔ جو ان کی مدد کرے تو  بھی اس کی مدد کر اور جو ان کا ساتھ چھوڑ دے تو بھی اس کا ساتھ
چھوڑ دے ۔ جس طرف علی ع کا رخ ہو اسی طرف حق کا رخ پھیردے ۔
اس کے بعد آپ نے حضرت علی ع کو عمامہ پہنایا اور اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ علی ع کو امیرالمومنین  ہوجانے کی مبارک باد دیں ۔ چنانچہ سب نے مبارک باد دی ۔ابو بکر اور عمر نے بھی تبریک وتہنیت پیش کی اور کہا : اے فرزند ابو طالب ع ! تمھیں امت کی پیشوائی مبارک ہو ۔ آج سے تم ہمر مومن اور مومنہ کے مولا بن گئے ۔(17)
اس تقریب تقریب کے اختتام پر یہ آیت نازل ہوئی :
"الْيَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِينَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْکُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِيناً "
آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو مکمل  کردیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کرلیا ۔(سورہ مائدہ ۔آیت 3)
یہ شیعوں کا نظریہ ہے جو ان کے نزدیک  مسلّمات میں سے ہے اور جس کے متعلق ان کےیہاں دورائیں نہیں ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس واقعہ کا ذکر اہل سنت کے یہاں بھی موجود ہے ؟
ہم نہیں چاہتے کہ جانبداری سے کام لیں اور شیعوں کی باتوں میں آجائیں ۔ کیونکہ اللہ تعالی نے ہمیں تنبیہ کی ہے :
" وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُکَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ"
کچھ لوگ ایسے ہیں جب وہ دنیا  وی غرض سے باتیں کرتے ہیں تو ان کی باتیں آپ کو اچھی معلوم ہوتی ہیں اور جو ان کے دل میں ہے وہ اللہ کو اس پر گواہ لاتے ہیں مگر (درحقیقت) وہ سخت جھگڑا لو ہیں ۔(سورہ بقرہ ۔آیت 204)
اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے پوری احتیاط سے کام لیں ، فریقین کے دلائل پر دیانت داری سے غور کریں اور ایسا کرتے ہوئے ہمارا مقصد اللہ کی رضا ہو ۔ رہا یہ سوال کہ کیا اس واقعہ کا ذکر اہل سنت کے یہاں بھی ہے ؟ تو اس کاجواب یہ ہے کہ جی ہاں ! بہت علمائے اہل سنت نے اس واقعے کے ہر مرحلے کا ذکر کیا ہے ۔ آپ کی خدمت میں چند مثالیں پیش کرتا ہوں :
امام احمد بن جنبل  نے زید بن ارقم کی حدیث نقل کی ہے ۔وہ کہتے  ہیں کہ رسول اللہ کے ساتھ ہم ایک وادی میں اترے جو وادی خم کے نام سے موسوم تھی ، رسول اللہ ص نے نماز کا حکم دیا ۔چنانچہ ہم نے دوپہر کی چلچلاتی دھوپ میں نماز پڑھی اس کے بعد آپ نے خطبہ دیا ۔ دھوپ سےبچاؤ کی غرض سے آپ کے لیے ایک درخت پرکپڑا پھیلا دیا گیا تھا ۔ رسول اللہ ص نے فرمایا  : کیا تم نہیں جانتے کیا تم گواہی نہیں دیتے کہ میرا تم پر خود تم سے زیادہ حق ہے ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں بے شک ! آپ نے کہا : "من کنت مولاه فهذا علىٌّ مولاه أللهمّ وال من وّالاه وعاد من عاداه"
پس جس ک میں مولا ہوں ۔اس کا علی ع بھی مولا ہیں ۔ بارالہا ! جو ان سے دوستی رکھے تو بھی اس سے دوستی رکھ اور جو ان سے دشمنی رکھے تو بھی اس سے دشمنی رکھ ۔۔۔۔۔(18)
امام نسائی نے کتاب الخصائص میں زید بن ارقم سے روایت نقل کی  ہے۔ زید بن ارقم نےکہا :جب حجۃالوداع  سے واپس آتے ہوئے رسول اللہ ص غدیر خم کے مقام پر اترے تو آپ نے درختوں کے جھاڑ جھنکاڑ صاف کرنے کا حکم دیا ۔ پھر آپ نے کہا : "ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرا بلاوا آگیا اور میں جارہا ہوں ۔ میں تمھارے درمیان دوگراں قدر چیزیں چھوڑ رہا ہوں ، ایک چیز دوسری چیز سے بڑی ہے ،کتاب اللہ اور میری عترت ! یعنی میرے اہلبیت ع ۔دیکھو میرے بعد تم ان سے کیا سلوک کرتے ہو۔ یہ دونوں چیزیں حوض پر آنے تک ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہیں ہوں گی ۔ " بیشک اللہ
میرا مولا ہے اور میں ہر مومن کا ولی ہوں ۔ پھر آپ نے علی ع کا ہاتھ پکڑ کر کہا :
"من کنت وليّه فهذا وليّه أللهمّ وال من وّالاه وعادمن عاداه".
جس کا میں ولی ہوں ،یہ بھی اس کے ولی ہیں ۔ اے اللہ ! جو علی ع سے دوستی رکھے تو بھی اس سے دوستی رکھ اور جو ان سے دشمنی رکھے تو بھی اس سے دشمنی رکھ ۔
ابو طفیل کہتے ہیں میں نے زید بن ارقم سے پوچھا : کیاتم نے خود رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ زید نے کہا : جتنے لوگ بھی وہاں درختوں کے قریب تھے ، سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا (1)۔
حاکم نیشاپوری نے زید بن ارقم سے دو طریقوں  سےیہ روایت بیان  کی ہے اور ان دونوں طریقے  علی شرط الشیخین (بخاری ومسلم )صحیح  ہیں ۔ زیدبن ارقم نے کہا کہ : جب رسول اللہ حجۃ الوداع سے واپسی میں غدیر خم کے مقام پر اترے ،آپ نے درختوں کے جھاڑ جھنکاڑ صاف کرنے کا حکم دیا ۔ صفائی کے بعد آپ نے فرمایا کہ : ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرا بلاوا  آگیا ہے اور میں جارہا  ہوں مگر میں تمھارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑ رہا ہوں ، ان میں ایک دوسری سے بڑی ہے ۔ ایک اللہ کی کتاب اور دوسری عترت  یعنی اہل بیت  ع ۔ اب دیکھو تم میرے بعد ان کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہو کیونکہ وہ دونوں  ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہیں ہونگی یہاں تک کہ میرے پاس حوض پر پہنچ جائیں گے ۔ اس کے بعد کہا : اللہ تعالی میرا مولی ہے اور میں ہر مومن کا مولی ہوں ۔ پھر علی ع کا ہاتھ پکڑ کر کہا :
"من کنت مولاه فهذا وليّه أللهمّ وال من وّالاه وعاد من عاداه"
جس ک میں مولا ہوں ۔اس کے یہ ولی  ہیں ۔ اے خدا ! جو علی ع کو  دوست رکھے تو بھی اس سے دوستی رکھ اور جو علی ع سے دشمنی
رکھے تو بھی اس سے دشمنی رکھ۔(20)
یہ حدیث مسلم نے بھی اپنی صحیح میں اپنی سند سے زید بن ارقم ہی کے حوالے سے بیان کی ہے لیکن مختصر کرکے ۔ زید بن ارقم نے کہا:
ایک دن رسول اللہ ص نے اس تالاب کے قریب خطبہ دیا جسے خم کہا جاتا ہے اور جو مکے اور مدینے کے درمیان واقع ہے ۔ آپ نے حمد وثنا اور وعظ ونصیحت کے بعد فرمایا کہ : لوگو! میں بھی انسان ہوں ، وہ وقت قریب ہے جب میرے پروردگار کا بلاوا آجائے اور میں چلاجاؤں ۔ میں تم میں دوگراں قدر چیزیں چھوڑ رہاہوں ۔ پہلی چیز کتاب اللہ ہے جس میں ہدایت اور نور ہے ۔ کتاب اللہ کا دامن پکڑلو اور اس سے چمٹے رہو ۔ آپ نے کتاب اللہ سے تعلق پر لوگوں کو اکسایا اور رغبت دلائی ۔پھر کہا : دوسرے میرے اہل بیت ع ۔میں اپنے اہل بیت ع کے بارے مین تمھیں اللہ کو یاد دلاتا ہوں ، میں اپنے اہل بیت ع کے بارے مین تمھیں اللہ کو یاد لاتا ہوں میں اپنے اہل بیت ع کے بارے مین تمھیں اللہ کو یاد دلاتا ہوں "۔ (آپ نے زیادہ تاکید کے لیے تین بار کہا)(21)۔
اگر چہ امام مسلم نے واقعہ کو مختصر کرکے بیان کیا ہے اور پورا واقعہ بیان نہیں کیا لیکن بحمداللہ اتنا بھی کافی وشافی ہے ۔ اختصار شاید زید بن ارقم نے خود کیا ہے ، کیونکہ وہ سیاسی حالات کی وجہ سے "حدیث غدیر " کو چھپانے پر مجبور تھے ۔ یہ بات سیاق حدیث سے معلوم ہوتی ہے کیونکہ راوی کہتا ہے کہ میں  ،حصین بن سبرہ اور عمربن مسلم ہم تینوں زید بن ارقم کے پاس گئے ،جب ہم بیٹھ گئے تو حصین نے زید سے کہا : آپ نے بڑے اچھے دن دیکھے ہیں ، آپ نے رسول اللہ ص کو دیکھا ہے ، آپ کی باتیں سنیں ، آپ کے ساتھ غزوات میں شرکت کی ،آپ کے پیچھے نماز پڑھی ،ہمیں بھی کچھ سنائیے جو آپ نے رسول اللہ ص سے سنا ہو ۔زید نے کہا : بھتیجے ! میں بڈھا ہوگیا ہوں اور
میری عمر زیادہ ہو گئی ۔ رسو ل اللہ ص کی بعض باتیں جو مجھے یاد تھیں ، اب بھول گیا ہوں  اس لیے میں جو کچھ سناؤں ، وہ سن لو اور جو نہ سناؤں وہ سن لو اور جو نہ سناؤں تو مجھے اس کے سنانے کی تکلیف نہ دو ، اس کے بعد کہا : ایک دن رسول اللہ ص نے ہمیں اس تالاب کے قریب خطبہ دیا ، جسے خم کہا جاتا ہے ۔ الخ ۔اس سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ حصین نے زید بن ارقم سے غدیر کے بارےمیں دریافت کیا تھا اور یہ سوال دوسرے لوگوں  کی موجودگی میں پوچھ کر زید کو مشکل میں ڈال دیا تھا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ زید کو معلوم تھا کہ اس سوال کا صاف  جواب ایسی حکومت کے ہوتے ہوئے انھیں مشکلات میں مبتلا کرسکتا تھا ۔ جو لوگوں سے یہ کہتی ہو کہ علی بن ابی طالب ع پر لعنت کریں ۔ اسی لیے انھوں نے سائل سے معذرت کر لی تھی کہ ان کی عمر زیادہ ہوگئی ہے اور وہ بہت کچھ بھول گئے ہیں ۔ پھر انھوں نے حاضرین سے مزید کہا کہ جو کچھ میں سناؤں وہ سن لو اور جو نہ سنانا چاہوں اس کے سنانے کی تکلیف نہ دو ۔
اگر چہ خوف کے مارے زید بن ارقم نے واقعہ کو بہت مختصر کرکے بیان کیا ہے پھر بھی ، اللہ انھیں جزائے خیر دے انھوں نے بہت سے حقائق بیان کردیتے اور نام لیے بغیر " حدیث غدیر" کی طرف اشارہ بھی کردیا ۔ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ص نے ہمیں خطبہ دیا اس تالاب کے نزدیک جسے خم کہا جاتا ہے اور جو مکے اور مدینے کے درمیان واقع ہے ۔ اس کے بعد حضرت علی ع کی فضیلت بیان کی  اور بتلایا کہ علی ع حدیث ثقلین کی رو سے کتاب اللہ کے ساتھ شریک ہیں ، لیکن یہاں بھی علی ع کا نام نہیں لیا اور یہ لوگوں کی ذہانت پر چھوڑ دیا کہ وہ خود نتیجہ نکال لیں ۔کیونکہ یہ سب مسلمانوں کو معلوم ہے کہ علی ع ہی اہلبیت نبوّت کے سردار ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ خود امام مسلم نے بھی حدیث کا وہی مطلب سمجھا جو ہم نے سمجھا ہے کیونکہ انھوں  نے یہ حدیث باب فضائل علی بن ابی طالب ع میں بیان کی ہے حالانکہ حدیث میں علی بن ابی طالب ع کا نام تک نہیں ۔طبرانی نے صحیح سند سے معجم کبیر میں زید بن ارقم اور حذیفہ بن اسید غفاری سے روایت بیان کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے غدیر خم میں درختوں کے نیچے
 خطبہ دیا ۔آپ نے فرمایا : اب وقت آگیا ہے کہ میرا بلا آجائے اور میں چلاجاؤں ۔ میری بھی ذمہ داری ہے اور تمھاری  بھی ذمہ داری ہے ۔ اب تم کیا کہتے ہو ؟ سب نے کہا : ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ نے اللہ کا پیغام پہنچایا  اور  کوشش کی اور ہمیں نصیحت کی ،اللہ  آپ کو جزائے خیر دے ۔آپ نے فرمایا " کیا تم گواہی نہیں دیتے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ص اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ جنت حق ، دوزخ حق ہے ، موت حق ہے اور موت کے بعد زندہ ہونا برحق ہے ۔قیامت ضرور آنے والی  ہے اس میں کوئی اور اللہ قبر کے مردوں کو ضرور زندہ کرےگا " حاضرین نے کہا : جی ہاں ! ہم اس کی گواہی دیتے ہیں ۔آپ نے فرمایا :" اے  اللہ تو اس کا گواہ رہنا " پھر فرمایا :" لوگو! اللہ میرا مولا ہے اور میں مومنین کا مولی ہوں  ۔ میرا ان پر خود ان سے زیادہ حق ہے ۔ پس جس کا میں مولا ہوں  اس کے یہ (علی ع)بھی مولا ہیں ۔ اے اللہ ! جو ان سے دوستی رکھے تو بھی اس سے دوستی رکھ اورجو ان سے دشمنی رکھےتو بھ اس سے دشمنی رکھ"۔ پھر فرمایا :میں تم سے آگے جارہا ہوں ، تم حوض پر ضرور آؤ گے ، حوض یہاں سے لے کر صنعاء تک کے فاصلے سےچوڑا ہے ۔اس میں اتنے چاندی کے پیالے ہیں جتنے آسمان پر ستارے ، جب تم میرے پاس آؤ گے تو میں ثقلین کےبارے مین پوچھوں گا کہ تم نے میرے بعد ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا ۔ ثقل اکبر کتاب اللہ ہے ۔ یہ  ایک ڈوری ہے جن کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں  ہے اور ایک سرا تمھارے ہاتھ میں ۔اس لیے اسے مضبوط  پکڑے رہنا ۔ نہ گمراہی اختیار کرنا اور نہ اپنی روش بدلنا ۔ثقل اصغر میری عترات میرے اہل بیت ع ہیں ۔ خدائے لطیف وخبیر نے مجھے خبردی ہے کہ وہ دونوں ختم نہیں ہوں گے جب تک میرے پا س حوض پر نہ آجائیں ۔(22)
اسی طرح امام احمد بن حنبل نے براء بن عذاب سے دو طریقوں سے یہ روایت بیا ن کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ  ص کے ساتھ تھے ۔جب ہم غدیر پر اترے تو
موذّن کو رسول اللہ ص نے پکار کر کہا :" الصلاة جامعة "(23) رسو ل اللہ ص کے لیے درختوں کے نیچے جگہ صاف کردی گئی ۔آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی پھر علی ع کا ہاتھ پکز کر فرمایا : کیا تمھیں معلوم نہیں کہ میرا مومنین پر خود  ان سے زیادہ حق ہے ۔سب نے کہا :جی ہاں معلوم ہے ۔ آپ نے دوبارہ دریافت کیا : کیا تمھیں معلوم نہیں کہ میرا ہر مومن پرخود اس سے زیادہ حق ہے ۔سب نے اقرارکیا تب آپ نے علی ع کا ہاتھ پکڑ کر کہا:
"من کنت مولاه فهذا علىٌّ مولاه أللهمّ وال من وّالاه وعاد من عاداه"
جس کا میں مولا ہوں ، علی ع بھی اس کے مولا ہیں ۔اے اللہ ! جو ان سے دوستی رکھے تو بھی اس سے دوستی رکھ اور جو ان سے دشمنی رکھے تو بھی ان سے دشمنی رکھ ۔
اس کے بعد عمرجب علی ع سے ملے تو بولے : ابن ابی طالب مبارک ہو تم ہر مومن اور مومنہ کے مولا بن گئے (24)۔
خلاصہ یہ کہ جن محدثین  کا ہم نے ذکر کیا ہے ان کے علاوہ بھی سربرآوردہ علمائے اہل سنت نے حدیث غدیر کی روایت اپن کتابوں میں بیان کی ہے ، جیسے ترمذی ،ابن ماجہ ، ابن عساکر ، ابن صبّاغ  مالکی ، ابن اثیر ،ابن مغازلی ،ابن حجر ، ابو نعیم ، سیوطی ،خوارزمی ، ہیثمی ، سلیمان قندوزی ، حموینی ،حاکم حسکانی اور امام غزالی ،امام بخاری نے یہ روایت اپنی تاریخ میں بیان کی ہے ۔
مختلف مسلک ومذاہب کے پہلی صدی سے چودھویں صدی ہجری تک کے ان علماء کی تعداد جنھوں نے اپنی کتابوں میں یہ روایت  بیان کی ہے تین سو ساتھ سے
سے اوپر ہے ۔ جو شخص مزید تحقیق کرنا چاہے وہ علامہ امینی کی کتاب الغدیر کا مطالعہ کرے (25)۔
کیا اس پر بھی کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ "حدیث غدیر " شیعوں کی گھڑی ہوئی ہے ؟
عجیب وغریب بات ہے یہ ہے کہ جب حدیث غدیر کا ذکر کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت نے اس کا نام بھی نہیں سنا ۔ اس سے بھی زیادہ  عجیب بات یہ ہے کہ اس حدیث کے بعد بھی جس کی صحت پر سب کا ن اتفاق  ہے علمائے اہل سنت  یہ دعوی کرتے ہیں کہ رسول اللہ ص نے کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا تھا اور معاملہ شوری پر چھوڑ دیا تھا ۔
اللہ کے بندو! کیا خلافت سے متعلق اس سے بھی زیادہ صاف اور صریح کوئی حدیث ہوسکتی ہے ؟
یہاں میں اپنی اس بحث کا ذکر کروں گا جوایک  دفعہ تیونس کی جامعہ زیتونہ کے ایک عالم سے ہوئی تھی ۔ جب میں نے ان صاحب سے خلافت علی ع کے ثبوت میں حدیث غدیر کاذکر کیا تو انھوں نے اس حدیث کے صحیح ہونے کا اعتراف کیا لیکن ایک پیوند لگادیا ۔ انھوں نے مجھے اپنی لکھی ہوئی قرآن کی تفسیر دکھائی ،جس میں "حدیث غدیر  کاذکر تھا اور اس کو صحیح بھی تسلیم کیا تھا ۔ لیکن اس کے بعد انھوں نے لکھا تھا :
شیعوں کا خیال  ہے کہ یہ حدیث سیّدنا علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت پر نص ہے لیکن اہل سنت والجماعت کے نزدیک یہ دعوی غلط ہے ۔کیونکہ یہ دعوی سیدنا ابو بکر صدیق ، سیدنا عمر فاروق اور سیدنا عثمان ذوالنورین  کی خلافت کے منافی ہے ۔اس لیے ضروری ہے کہ حدیث میں جو لفظ مولی آیا ہے اس کے معنی محب ومددگار
کے لیے جائیں ، جیسا کہ یہ لفظ ان معنوں میں قرآن کریم میں بھی آیا ہے ۔ خلفاء راشدین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین نے بھی اس لفظ کے یہی معنی سمجھے ہیں ۔ تابعین اور مسلمان علماء نے ان سے یہی معنی سیکھے ہیں اس لیے رافضی جو اس حدیث کی تاویل کرتے ہیں اس کا کوئی اعتبار نہیں ۔ کیونکہ یہ لوگ خلفاء کی خلافت  کو تسلیم نہیں کرتے اور صحابہ رسول ص پر لعن طعن کرتے ہیں ۔ صرف یہی بات ان کے جھوٹے اور غلط دعوؤں کے بطلان کے لیے کافی ہے ۔
میں نے ان عالم سے پوچھا ۔یہ بتلائیے کہ کیا واقعی یہ قصّہ غدیر خم میں پیش آیاتھا ؟
انھوں نے جواب دیا : اگر پیش نہ آتا تو علماء ۔اور محدثین اسے کیوں بیان کرتے ۔
میں نے کہا : کیا یہ بات رسول اللہ ص کے شایان شان ہے کہ وہ جلتی ہوئی دھوپ میں اپنے اصحاب کو جمع کرکے طویل خطبہ صرف یہ کہنے کے لیے دیں کہ علی ع تمھارا محب وناصر ہے ۔ یہ تشریح آپ کی سمجھ میں آتی ہے ؟
کہنے لگے کہ بعض صحابہ نے علی ع کی شکایت کی تھی ، ان میں بعض لوگ ایسے بھی تھے جو علی ع سے بغض اور اختلاف رکھتے تھے ۔ رسول اللہ ص نے اس بغض کے ازالے کے لیے فرمایا : علی ع تو تمھارا محب وناصر ہے ۔ مطلب یہ تھا کہ علی سے محبت رکھو بغض وعناد نہ رکھو ۔
میں نے کہا: اتنی سی بات کے لیے سب کو روکنے ، ان کے ساتھ نماز پڑھنے اور خطبے کو ان الفاظ سے شروع کرنے کی ضرورت نہیں تھی کہ :کیا میرا تم پر تم سے زیادہ حق نہیں ؟ " یہ آپ نے مولا کے معنی کی وضاحت کے لیے ہی تو کہا تھا ۔ اگر جو آپ کہتے ہیں وہی صحیح ہے تویہ بھی ہوسکتا تھا کہ جن لوگوں کو علی ع سے شکایت تھی آپ ان کو بلا کر کہہ دیتے کہ علی ع تو تمھارا دوست اور مدد گار ہے ۔ بات ختم ہوجاتی ۔ایک لاکھ سے زیادہ مجمع کو دھوپ میں روکنے  کی جس میں بڈھے اور عورتیں بھی شامل تھیں ، کیا ضرورت تھی ؟ کوئی ہوشمند تویہ بات کبھی مان نہیں سکتا !
 کہنے لگے : کیا کوئی ہوشمند یہ مان سکتا ہے کہ جو بات تم اور شیعہ سمجھ گئے وہ ایک لاکھ صحابہ نہ سمجھ سکے ؟
میں نےکہا : پہلی بات تو یہ ہے کہ ان میں صرف تھوڑے سے لوگ تھے جو مدینہ منورہ میں رہتے تھے ۔دوسرے ،وہ بالکل  وہی سمجھے میں وار شیعہ سمجھے ہیں ۔ جب ہی تو علماء راوی  ہیں کہ ابو بکر اور عمریہ کہہ کر علی ع کو تبریک پیش کررہے تھے کہ مبارک ہو ابن ابی طالب ! اب تم ہر مومن اور مومنہ کےمولا ہوگئے ہو !کہنے لگے : پھر رسول اللہ ص کی وفات کے بعد انھوں نے علی ع کی بیعت کیوں نہیں کی ؟ کیا وہ نعوذ بااللہ  رسول اللہ ص کے حکم کی مخالفت اورحکم عدولی کررہے تھے ۔میں نے کہا : علمائے اہل سنت اپنی کتابوں میں خود تسلیم کرتے ہیں کہ بعض صحابہ تو خود آپ کی زندگی اور آپ کی موجودگی ہی  میں آپ کے حکام کی مخالفت کیا کرتے تھے ۔تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے اگر انھوں نے آپ کی وفات کےبعد آپ کے احکام پر عمل نہیں کیا ۔ پھر جب صحابہ کی اکثریت اسامہ بن زید کو امیر لشکر بنانے پر ان کی کم عمری کی وجہ سے معترض تھی حالانکہ وہ محض محدود نوعیت کی قلیل المدت مہم تھی تو وہ علی ع کا نوعمری کے باوجود مدت العمر کے لیے خلیفہ اور حکمران بنایا جانا کیسے قبول کرسکتے تھے ؟ آپ خود کہہ رہے ہیں کہ بعض صحابہ علی ع سے بغض اور کینہ رکھتے تھے ۔گھبراکر کہنے لگے :اگر علی کرّم اللہ وجہہ ورضی اللہ عنہ کو معلوم ہوتا کہ رسول اللہ ص نے انھیں خلیفہ نامزد کیا ہے ، تو وہ کبھی اپنا حق نہیں چھوڑ سکتے تھے اور نہ خاموشی اختیار کرسکتے تھے ۔وہ تو اتنے دلیر اور بہادر تھے کہ سب صحابہ ان سے ڈرتے تھےمگر وہ کسی سے خوف نہیں کھاتے تھے ۔میں نے کہا: حضرت ! یہ ایک الگ موضوع ہے ،میں اس میں الجھنا نہیں چاہتا کیونکہ آپ صحیح احادیث نبوی ہی کو نہیں مانتے بلکہ ناموس صحابہ کے تحفظ کے لیے ان کی تاویل کرتے اور ان کے کچھ کے کچھ معنی بیان کرتے ہیں ۔ میں ایسے میں کیسے آپ یقین دلاسکوں گا  کہ  امام علی ع نے کیوں خاموشی اختیار  کی اور خلافت پر اپنے حق کے لیے احتجاج نہیں کیا۔وہ صاحب مسکرائے اور کہا : میں تو خود سیدنا علی ع کو سب سے افضل سمجھتا ہوں اور اگر معاملہ میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں صحابہ میں سے کسی کو بھی ان پر ترجیح نہ دیتا ،
 کیونکہ وہ شہر علم کا دروازہ تھے ، شیر خدا تھے لیکن اللہ سبحانہ کی مشیت جس کو چاہتی ہے آگے بڑھاتی ہے اورجس کوچاہتی ہے پیچھے ہٹاتی ہے ۔ "لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ"(اللہ سے کوئی نہیں پوچھ سکتا کہ کیا کرتا ہے ہاں اللہ سب سے جواب طلب کرسکتا ہے )۔
اب مسکرانے کی میری باری تھی ۔ میں نے کہا : یہ بھی ایک دوسرا موضوع ہے اگر اس پر گفتگو شروع ہوئی تو تقدیر کی بحث چھڑجائیگی  جس پر ہم پہلے بات چیت کرچکے ہیں ۔ اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم دونوں اپنی اپنی رائے پر قائم رہے ۔
جناب والا! مجھے تعجّب اس پر ہے کہ جب بھی میری گفتگو کسی سنی عالم سے ہوتی ہے اور میں اسے لاجواب کردیتا ہوں ،وہ فورا ایک موضوع سے دوسرے موضوع کی طرف بھاگنا شروع کردیتا ہے اور اصل بات بیچ میں ہی رہ جاتی ہے ۔وہ صاحب بولے : میں تو اپنی رائے  پر قائم  ہوں ، میں نے تو بات نہیں بدلی ۔بہر حال میں ان سے رخصت ہوکرچلا آیا اور دیر تک سوچتا رہا کہ کیا وجہ ہے کہ مجھے اپنے علماء میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ملتا جو اس مٹرگشت  میں آخر تک   میرا ساتھ دے اور ہمارے یہاں کے محاورے کےمطابق دروازے کو اس کی ٹانگ پر کھڑا رکھے ۔
بعض سنی بات تو شروع کرتے ہیں لیکن جب اپنے اقوال کی دلیل پیش نہیں کرسکتے تو یہ کہہ کر بچ نکلنے کی کوشش کرتے ہیں کہ :" تِلْکَ أمَّة قَدْ خَلَتْ لهَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمْ مَا کَسَبْتُمْ " وہ لوگ تھے جو گزرگے ۔ ان کے اعمال ان کے ساتھ ،تمھارے اعمال تمھارے ساتھ ۔
بعض لوگ کہتے ہیں :ہمیں گڑے مردے اکھیڑنے اور جھگڑے کھڑے کرنے  سے کیا؟اہم بات یہ ہے کہ شیعہ سنی دونوں ایک خدا کو مانتے ہیں ، ایک رسول کو مانتے ہیں ، انتا کافی ہے ۔
بعض تو مختصر بات کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں : صحابہ کے معاملے میں خدا سے
 ڈرو ۔" اب ایسے لوگوں کے ساتھ کسی علمی بحث کی گنجائش کہاں ۔ اور رجوع الی الحق کی کیا صورت ۔حق سے ہٹ کر تو گمراہی ہی ہے ۔ ان لوگوں کو اس قرآنی اسلوب کی کیا خبر ، جس میں دلیل پیش کرنے کو کہاگیا ہے ۔قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَکُمْ إِن کُنتُمْ صَادِقِينَ اگر تم سچھے ہو تو اپنی دلیل لاؤ)

 

اکمال دین کی آیت کا تعلق بھی خلافت سے ہے

اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
"الْيَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دينَکُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَيْکُمْ نِعْمَتي‏ وَ رَضيتُ لَکُمُ الْإِسْلامَ ديناً "
شیعوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ آیت امام علی ع کے خلیفۃ المسلمین کی حیثیت سے تقرر کے بعد غدیر خم کے مقام پر نازل ہوئی ۔یہ روایت ائمہ اہل بیت ع کی ہے ۔اور اسی پر شیعہ امامت کو اصول دین میں شمار کرتے ہیں ۔
جن سنی علماء نے یہ روایت بیان کی ہے کہ یہ آیت غدیر خم میں امام علی ع کے تقرر کےبعد نازل ہوئی ، ان کی تعداد تو بہت ہے ۔ ہم مثال کے طور پر چند ناموں کا  تذکرہ کرتے ہیں :
1:- ابن مغازلی شافعی مناقب علی بن ابی طالب ع صفحہ 19 ۔متوفی سنہ 483ھ۔
2:- خطیب بغدادی ،تاریخ بغداد جلد 8 صفحہ 592 ۔ متوفی سنہ 463ھ۔
3:- ابن عساکر  ،تاریخ دمشق جلد 2 صفحہ 75۔
4:- حافظ سیوطی  ،تفسیر ،الاتقان  جلد 1 صفحہ 13۔5:-حافظ سیوطی، تفسیر الدر المنثور جلد 3صفحہ 19۔
6:- خوارزمی حنفی ۔مناقب امیر المومنین صفحہ 80 متوفی سنہ 568ھ۔
7:- سبط ابن جوزی تذکرۃ الخواص صفحہ 30 متوفی سنہ 654۔
8:- حافظ ابن کثیر   تفسیر القران العظیم جلد 2 صفحہ 14 متوفی سنہ 774ھ۔9:- حافظ ابن کثیر البدایہ والنہایہ جلد 3 صفحہ 312۔
10:- آلوسی ،تفسیر روح المعانی جلد 6 صفحہ 55
 11:-حافظ قندوزی حنفی ینابیع المودۃ صفحہ 115۔12:- حافظ حسکانی حنفی تفسیر شواھد التنزیل جلد 1 صفحہ 157 متوفی سنہ 490 ھ۔
اس سبب کےباوجود علمائے اہل سنت نے "عظمت صحابہ" کے پیش نظر یہ ضروری سمجھا ہے کہ اس آیت کا نزول کسی اور موقع پر دکھایا  جائے ۔ کیونکہ اگر علمائے اہل سنت یہ تسلیم کرلیتے  ہیں کہ کہ یہ آیت غدیر خم میں نازل ہوئی تھی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انھوں نے ضمنی طور پر اس کا بھی اعتراف کرلیا کہ علی بن ابی طالب ع کی ولایت ہی وہ چیز تھی جس سے اللہ تعالی نے دین کو کامل کیا اور مسلمانوں پر اپنی نعمت تمام کی ۔ اعتراف کا نتیجہ یہ ہوگا کہ حضرت علی ع سےپہلے تین خلفاء کی خلافت ہوا بن کر اڑجائے گی ، صحابہ کی عدالت کی بنیاد ہل جائے گی ۔دبستان  خلافت منہدم ہوجائیگا اور بہت سی احادیث اس طرح پگھل جائیں گی جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے ۔ اصحاب مذاہب غبار بن کر اڑجائیں گے ، بہت سے راز افشا ہوں گے اور عیب کھل جائیں گے ۔ لیکن یہ ہونا ناممکن ہے کیونکہ معاملہ ایک بہت بڑے گروہ کے عقیدے کا ہے جس کی اپنی تاریخ ہے ، اپنے علماء ہیں اور اپنے سربرآوردہ حضرات ہیں اس لیے ممکن نہیں کہ ہو بخاری  ومسلم جیسے لوگوں کی تکذیب کریں جن کی روایت  کے مطابق یہ آیت عرفہ کی شام کو جمعہ  کے دن نازل  ہوئی ۔اس طرح پہلی روایات  محض شیعوں کی خرافات  بن جاتی ہیں  جن کی کوئی بنیاد نہیں اور شیعوں کو مطعون کرنا صحابہ کو مطعون کرنے سے بہتر بن جاتا ہے ،کیونکہ صحابہ تو معصوم عن الخطا ہیں (26)۔ اور کسی کو یہ حق نہیں کہ ان کے افعال واقوال پر نکتہ چینی کرے ۔ رہے شیعہ ! وہ تو مجوسی ہیں ، کافر ہیں ، زندیق ہیں ، ملحد ہیں ، ان کے مذہب کا بانی عبداللہ بن سبا ہے ،(27) جو یہودی تھا اور اسلام اور مسلمانوں
کے خلاف سازش کے مقصد سے حضرت عثمان کے عہد میں مسلمان ہوگیا تھا ۔ اس طرحی کی باتیں کرکے ان کو دھوکا  دینا آسان ہے جن کی بچپن سے تربیت ہی " تقدس صحابہ" کے  ماحول  میں ہوتی ہو ۔ (خواہ کسی صحابی نے رسول اللہ  کو صرف ایک دفعہ ہی دیکھا ہو ) ۔ ہم کیسے لوگوں کو یقین دلائیں کہ شیعہ روایات محض شیعوں کی خرافات نہیں ، بلکہ ائمہ اثناعشرکی احادیث ہیں جن کی امامت نصّ رسول ص سے ثابت ہے ۔ بات یہ ہے کہ قرن اول کی حکومتوں نے امام علی ع اور ان کی اولاد کے خلاف امت میں نفرت پھیلائی ،یہاں تک کہ ان پر منبروں سے لعنت کی گئی اور "شیعان علی" کو قتل کیاگیا اور ان کے گھروں سےنکال دیا گیا ۔ شیعوں کے خلاف  نفرت پھیلانے کے لیے ڈس انفارمیشن سیل قائم کیا گیا اور طرح طرح کی  افواہیں پھیلائی گئیں ۔شیعوں سے بے بنیاد قصے اور غلط عقائد منسوب کیے گئے ۔ آج کل کی اصطلاح میں اس وقت شیعہ " حزب مخالف " تھے ، اس لیے  اس وقت کی حکومت شیعوں کو ختم کرنے والا الگ تھلگ کرنے میں کوشاں تھیں ۔
اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ اس زمانے کے مصنفین اور مورخین بھی شیعوں کو رافضی کہتے ہیں ،ان کی تکفیر کرتے ہیں اور حکمرانوں کو خوش کرنے کے لیے شیعوں کا خون کرنا حلال قراردیتے ہیں ۔
جب اموی حکومت ختم ہوگئی اور عباسی حکومت برسراقتدار آئی تو بعض مورخین اپنی ڈگر  پر چلتے رہے جبکہ بعض نے اہل بیت ع کی حقیقت کو  پہچانا (28) اور انصاف  کرنے کی کوشش کی ۔ نتیجہ  یہ ہوا کہ علی ع کا شمان بھی خلفائے راشدین " میں کرلیا گیا لیکن  کسی کو یہ اعلان کرنے کی جراءت نہیں ہوئی کہ خلافت پر سب سے زیادہ حق علی ع کا تھا ۔
اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ اہل سنت کی صحاح میں بہت ہی کم فضائل علی ع کی روایات آئی ہیں اور جو آئی ہیں وہ بھی صرف وہی ہیں جو علی ع سے پہلے کے خلفاء کی خلافت سے کسی طرح متصادم نہیں ہیں ۔ بعض نے تو کثیر تعداد میں ایسی روایات وضع کی ہیں جن میں  خود علی ع کی زبان  سے ابو بکر ،عمر ،عثمان کے فضائل بیان  کیے گئے ہیں مقصد یہ کہ بزعم خویش کوشش یہ کی گئی  ہے کہ شیعوں  کا راستہ بند کردیا جائے جو علی ع کی افضلیت کے قائل ہیں ۔
اپنی تحقیق کے دوران مجھ پر یہ بھی انکشاف ہو ا کہ لوگوں کی شہرت اور عظمت کا اندازہ اس سے لگا یا جاتا تھا کہ وہ علی ابن ابی طالب ع کے ساتھ کس قدر بغض رکھتے ہیں ۔ امویوں اور عباسیوں کی سرکار میں وہی مقرب تھے اور ان ہی کو بڑھایا جاتا  تھا جنھوں نے امام علی ع کے خلاف یا تو جنگ کی تھی ۔ یا تلوار یا زبان سے ان کی مخالفت  کی تھی ۔ چنانچہ بعض صحابہ کا درجہ بڑھایا جاتا تھا ، بعض کاگھٹایا جاتا تھا ۔بعض شعراء پر انعام واکرام کی بارش ہوتی تھی اور بعض کو قتل کرادیا جاتا تھا ۔ شاید ام المومنین  عائشہ کی بھی یہ قدرومنزلت نہ ہوتی اگرانھیں علی ع سے بغض نہ ہوتا اور انھوں نے علی ع کے خلاف "جنگ جمل " نہ لڑی ہوتی ۔اسی سلسلے کی ایک کڑی یہ ہے کہ عباسیوں نے بخاری ،مسلم اور امام مالک کو شہرت دی کیونکہ انھوں نے اپنی کتابوں میں فضائل علی ع کی احادیث بہت کم نقل کی ہیں بلکہ ان کتابوں میں تویہ تصریح بھی ہے کہ علی بن ابی طالب ع کو کوئی فضیلت اور فوقیت حاصل ہی نہیں تھی ۔ بخاری نے تو اپنی صحیح میں ابن عمر سے روایت نقل کی ہے کہ : رسول اللہ ص کے زمانے میں ہم ابو بکر کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے تھے ، پھر عمر کا درجہ تھا پھر عثمان کا ، پھر باقی صحابہ میں ہم کسی کو دوسروں پر فوقیت نہیں دیتے تھے ۔(29) گویا بخاری کے نزدیک علی ع بھی دوسرے عام لوگوں کے برابر تھے ۔(پڑھیے اور سردھنیے !)
اسی طرح امت مسلمہ میں اور بھی فرقے ہیں جیسے  معتزلہ  اورخوارج وغیرہ ۔ یہ بھی وہ نہیں کہتے  جو شیعہ کہتے ہیں ۔کیونکہ علی اور اولاد علی ع کی امامت کی وجہ سے ان لوگوں کے لیے خلافت  تک  پہنچنے ، عوام کی گردنوں پر سوار ہونے اور ان کی قسمت اور املاک سے کھیلنے کا راستہ مسدود ہوگیا تھا ۔ بنی امیہ اوربنی عباس نے عہد صحابہ وتابعین میں  کیا گل نہیں کھلائے  اور آج تک حکمراں کیا نہیں کرتے آرہے ہیں ؟ اسی لیے حکمرانوں کوخواہ وہ وراثت کے ذریعے اقتدار تک پہنچے ہوں جیسے بادشاہ ، خواہ وہ صدور ہوں جنھیں ان کی قوم نے منتخب کیا ہوا ۔ انھیں خلافت اہل بیت ع کا عقیدہ ایک آنکھ نہیں بھاتا اور وہ اسے THEORACY یا ملاؤں  کی حکومت  کہہ کر اس کا مذاق اڑاتے ہیں جس کا شیعوں کے علاوہ کوئی قائل نہیں ۔ اس پر مستزاد یہ کہ شیعہ اپنی حماقت سے مہدی منتظر کی امامت کےبھی قائل ہیں ، جو عنقریب زمین  کو عدل وانصاف سے اسی طرح بھردیں گے جیسے وہ ظلم وجور سے بھری ہوئی ہے ۔
اب ہم دوبارہ سکون اور غیر جانبداری کے ساتھ فریقین کے اقوال پر غور کرتے ہیں کہ تاکہ یہ تصفیہ ہوسکے کہ آیت اکمال کسی موقع پر نازل ہوئی تھی ۔ اور اس کی شان نزول کیا ہے  تاکہ حق واضح ہوجائے اور ہم اس کی پروا کیے بغیر کہ کون خوش ہوتا ہے اور کون ناراض  حق کا اتباع کرسکیں ۔ اصل اور سب سے ضروری بات رضائے الہی کا  حصول ہے تاکہ اس کے عذاب سے اس دن بچ سکیں جب نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد ۔ کام آئے گا تو قلب سلیم ۔
یہ دعوی کہ آیت اکمال عرفہ کے دن نازل ہوئی ۔
صحیح بخاری میں طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ کچھ یہودی کہتے تھے کہ اگر آیت ہماری قوم پر نازل ہوئی ہوتی تم ہم اس دن کو اپنی عید بنالیتے ۔عمر نے پوچھا کون سی آیت ان لوگوں نے کہا " الْيَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِينَکُمْ " الخ (30)
عمر نے کہا : میں خوب جانتا ہوں کہ یہ آیت کہاں نازل ہوئی تھی ۔ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب رسول اللہ ص عرفہ کے دن وقوف فرمارہے تھے "۔
ابن جریر نے عیسی بن حارثہ انھاری  سےروایت کی ہے کہ ہم دیوان میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک عیسائی نے  ہم سے کہا :" تم پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے کہ اگر ہم پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس دن اور اس ساعت کو عید بنالیتے اور جب تک کوئی دوعیسائی بھی باقی رہتے ہمیشہ عید منایا کرتے ۔یہ آیت " الْيَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِينَکُمْ " ہے ۔ ہم میں سے کسی نے اسے کوئی جواب نہیں دیا بعد میں  جب محمد بن کعب قرطنی سے ملا تو ان سے اس آیت کے بارے میں پوچھا انھوں نے کہا :" کیا تم نے عیسائیوں کی بات کوجواب نہیں دیا"؟ پھر اسی سلسلے میں کہا کہ عمر بن خطّاب کہتے تھے کہ جب یہ آیت رسول اللہ ص پر اتری وہ عرفہ کے دن جبل عرفات پر کھڑے ہوئے تھے ۔یہ دن مسلمانوں کی عید رہیگا ہی جب تک کوئی ایک مسلمان باقی ہے (31)۔
راوی کہتا ہے کہ "ہم میں سے کسی نے اسے جواب نہیں دیا " اس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ نہ کسی کو وہ تاریخ یاد تھی کہ جس تاریخ کو یہ آیت اتری اور نہ اس دن کی عظمت سے واقف تھے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ راوی کو خود بھی اس پر حیرت ہوئی تھی کہ کیا بات ہے کہ مسلمان ایسے اہم دن کو نہیں مناتے ۔اسی لیے وہ جاکر محمد بن کعب قرطنی سے ملتا ہے اور ان سے دریافت کرتا ہے ۔محمد بن کعب قرطنی اسے بتلاتے ہیں کہ  عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ " یہ آیت اس وقت اتری جب عرفہ کے دن رسو ل الل ص جبل عرفات پر کھڑے تھے " تو اگر وہ دن بطور عید کے مسلمانوں میں معروف ہوتا تو راوی حضرات خواہ وہ صحابہ میں سے تھے یا تابعین میں سے اس سے ناواقف کیوں ہوتے ۔ ان کے نزدیک مسلّم اور مشہور بات یہی تھی کہ مسلمانوں کی عیدیں دو ہیں : ایک عید الفطر اور دوسری عید الاضحی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ  بخاری ومسلم جیسے علماء اور محدثین نے بھی اپنی کتابوں میں
"کتاب العيدين  صلاة العيدين اور خطبة العيدين" وغیرہ  کے عنوان باندھے ہیں ۔ خاص وعام کے نزدیک مسلّمہ امر یہی ہے کہ تیسری عید کا وجود نہیں ۔اس لیے یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کہ یوم عرفہ ان کے نزدیک عید نہیں ہے ۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ ان روایات سے ہمیں یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو اس کا علم نہیں تھا کہ یہ آیت کب نازل ہوئی اور وہ اس دن کو نہیں مناتے تھے اس لیے ایک دفعہ یہودیوں کو اور دوسری دفعہ عیسائیوں کویہ خیال آیا کہ وہ مسلمانوں سے کہیں کہ اگر یہ آیت ہمارے یہاں نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس دن کو عید قراردیتے ۔ اس پر عمر بن خطاب نے پوچھا کہ کونسی آیت ؟ جب ان کو بتایا گیا کہ  " الْيَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِينَکُمْ " والی آیت تو انھوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ آیت کہاں نازل ہوئی ، جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ص عرفہ کے دن میدان عرفات میں تھے ۔ہمیں اس روایت میں مغالطہ دینے کی بو آتی ہے ۔ کیونکہ جن لوگوں نے امام بخاری کے زمانے میں عمر بن خطاب کی زبانی یہ روایت وضع کی وہ یہودو نصاری کی اس رائے  کے درمیان کہ ایسے عظیم دن کو عید کی طرح منانا چاہیے اور اپنے اس عمل کے درمیان کہ انھیں اس آیت کے نزول کی  تاریخ بھی معلوم نہیں تھی ، ہم آہنگی پیدا  کرنا چاہتے تھے ۔ ان کے یہاں دو ہی عیدیں تھی ۔: پہلی عید الفطر جو ماہ رمضان کے اختتام پر یکم شوال کو ہوتی ہے اور دوسری عید الاضحی جو دہم ذوالحجہ کو ہوتی ہے ۔
یہاں یہ کہنا کافی ہے کہ حجاج  بیت اللہ الحرام  اس وقت تک احرام نہیں کھولتے جب تک جمرہ عقبہ کی رمی  ، قربانی ، اور سرمنڈانے کے بعد طواف افاضہ نہ کرلیں ۔ اور یہ سب کا م دس ذی الحجہ کو ہوتے ہیں ۔ دس تاریخ ہی کو وہ عید کی ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں ۔ حج میں احرام  ایسا ہی ہے جیسے رمضان ،جس میں روزہ دار پر متعدد چیزیں حرام ہوجاتی ہیں اور وہ چیزیں عید الفطر ہی سے حلال ہوتی ہیں ۔ اسی طرح حج میں محرم دس ذی الحجہ کو طواف افاضہ کے بعد ہی احرام کھولتا ہے اور اس سے پہلے اس کے لیے جماع ، خوشبو ،زینت سلے ہوئے کپڑے ،شکار اور ناخن اور بال کاٹنے میں سے کوئی حلال نہیں ہوتی ۔
اس سے معلوم ہوا کہ یوم عرفہ جو ذی الحجہ کی نویں تاریخ ہے ، عید کادن نہیں ۔ہے ۔عید کا دن دسویں ذی الحجہ ہے اور اسی دن مسلمان ساری  دنیا میں عیدمناتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ یہ قول کہ آیت اکمال عرفہ کے دن نازل ہوئی تھی ناقابل فہم اورناقابل تسلیم ہے ۔ظن غالب یہ ہے کہ جو لوگ خلافت میں شوری کے اصول کے بانی اور اس نظریہ کے قائل تھے ، انھوں نے ہی اس آیت کے نزول کی تاریخ بھی بدل دی جو دراصل غدیر خم میں امام علی ع کی ولایت کے اعلان کے فورا بعد تھی ، اس تاریخ کو یوم عرفہ سے بدل  دینا آسان تھا ،کیونکہ غدیر کے دن بھی ایک لاکھ یا اس سے  کچھ اوپر حاجی ایک جگہ جمع ہوئے تھے ۔
یوم عرفہ اور یوم غدیر  میں ایک خاص مناسبت ہے کیونکہ حجۃ الوداع کے زمانے میں ان ہی دو موقعوں پر اتنے حاجی ایک جگہ جمع ہوئے تھے ۔ یہ تو معلوم ہی ہے کہ ایام حج میں حاجی متفرق طور پر ادھر ادھر رہتے ہیں ، صرف عرفہ ہی کا دن ایسا ہوتا ہے کہ جب حاجی ایک جگہ جمع ہوتے ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اس کے قائل ہیں کہ یہ آیت عرفہ کے دن نازل ہوئی  ہو کہتے  ہیں کہ یہ رسول اللہ ص کے اس مشہور خطبے  کے فورا بعد نازل ہوئی جسے محدثین نے خطبۃ الحجۃ الوداع کے عنوان سے نقل کیا ہے ۔ یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ اس آیت کے نزول  کی تاریخ خود عمر ہی نے یوم عرفہ قراردی ہو کیونکہ خلافت علی ع کے سب سے بڑے مخالف وہی تھے اور انھوں نے ہی سقیفہ میں ابو بکر  کی بیعت کی بنیاد قائم  کی تھی ۔
اس خیال کی صحت کی تائید  اس روایت سے ہوتی  ہے جو ابن جریر نے قبیصہ بن ابی ذؤیب  سے روایت کی ہے ۔ قبیصہ کہتے ہیں کہ کعب نے کہا تھا کہ اگر یہ آیت کسی اور امت پر نازل ہوئی ہوتی تو وہ اس دن کو جب یہ نازل ہوئی تھی یادرکھتے اور عید قراردے لیتے اور اس دن سب جمع  ہوا کرتے ۔ عمر نے سنا تو کعب سے پوچھا : کون سی آیت ؟ کعب نے کہا :" الْيَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِينَکُمْ " عمر نے کہا: مجھے معلوم ہے ، یہ آیت کب نازل ہوئی تھی اور وہ جگہ بھی معلوم ہے جہاں یہ نازل ہوئی تھی ۔ یہ جمعہ کے دن نازل ہوئی تھی اور اس دن عرفہ تھا ۔ یہ دونوں دن اللہ کے فضل سے ہمارے لیے عید ہیں ۔(32)
دوسری بات یہ ہے کہ یہ کہنا کہ آیہ اکمال عرفہ کے دن نازل ہوئی  ، آیہ تبلیغ " يا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ إِلَيْکَ مِنْ رَبِّکَ" کے منافی ہے ۔آیہ  تبلیغ میں رسول اللہ ص  کو ایک اہم پیغام پہنچانے  کا حکم دیا گیا جس کے بغیر کار رسالت مکمل نہیں ہوسکتا ۔اس آیت کے بارے میں بحث گزرچکی  اوربتایا جاچکا کہ یہ آیت حجۃ الوداع کے بعد مکے اور مدینے کے درمیان راستے میں نازل  ہوئی تھی ۔ یہ روایت ایک سو بیس سے زیادہ  صحابہ اور تین سوساٹھ سے زیادہ علمائے اہل سنت نے بیان کی ہے ، پھر کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی  نے دین کو مکمل اورنعمت کو تمام تو کردیا ہو بروز عرفہ اور پھر ایک ہفتے کے بعد اپنے نبی کو جب وہ مدینے جارہے تھے کسی ایسی اہم بات کو پہنچادینے کا حکم دیا ہو جس کے بغیر رسالت ناتمام رہتی ہو ۔اسے ارباب عقل ودانش ذرا سوچو یہ بات کیسے صحیح ہوسکتی ہے !؟
تیسری بات یہ ہے کہ اگر کوئی جویائے تحقیق اس خطبے کو جو رسول اللہ ص نے عرفہ کے دن دیا ، غور سے دیکھے گا تو اسے اس خطبے میں کوئی نئی چیز نہیں ملے گی ، جس سے مسلمان  اس سے بیشتر  ناواقف تھے اور جس کے متعلق خیال کیا جاسکے  کہ اس سے اللہ نے دین کو کامل اور نعمت کو تمام کردیا ۔ اس خطبے میں وہی نصحیتیں ہیں جن کو قرآن  کریم یا رسول اللہ ص مختلف موقعوں پر پہلے بھی بیان کرچکے تھے اور عرفہ کے دن ان پر مزید زوردیاگیا تھا ۔ اس خطبے میں جو کچھ آیا ہے اور جسے راویوں نے محفوظ کیا ہے ، وہ حسب ذیل ہے :
۔ اللہ نے تمھاری جانوں  اور تمھارے اموال کو اسی طرح محترم قراردیا ہے جیسا کہ اس مہینے اور آج کے دن کو ۔
۔ اللہ سے ڈرو! لوگوں کو ان کے واجبات ادا کرنے میں کوتاہی نہ کرو اور زمین  میں  ازراہ شرارت فساد نہ پھیلاؤ ۔ جس کے پاس امانت ہو ، وہ صاحب  امانت کو لوٹا دے ۔
۔ اسلام میں سب برابر ہیں ۔ عربی کو عجمی پر بجز تقوی کے کوئی فضیلت نہیں ۔
۔ جاہلیت میں جو خون ہوا اب وہ میرے پاؤں تلے اور جاہلیت کا جو سود تھا وہ بھی میرے پاؤں تلے (یعنی زمانہ جاہلیت میں جو خون ہوا اس کا انتقام نہیں لیا جائے گا  اور جو قرض دیا گیا ہے اس پر سود کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا)۔
۔ لوگو! لوند(33) کا رواج کفر کو بڑھانا ہے ۔آج زمانہ پھر وہیں پہنچ گیا ہے جہاں سے چلا تھا جب اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا ۔
۔ اللہ کے نزدیک ،اس کی کتاب میں مہینوں کی تعداد بارہ ہے جن میں سے چار حرام ہیں ۔
۔ میں تمھیں نصیحت کرتاہوں  کہ عورتوں کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا ۔ تم نے  ان کو اللہ کی امانت کے پر لیا ہے ۔ اور تم نے کتاب اللہ کے حکم کے مطابق ان کی شرمگاہیں اپنے لیے حلال کی ہیں ۔
۔ میں تمھیں تمھارے مملوک غلام ، باندیوں کے بارے میں نصیحت کرتاہوں ، جو خود کھاؤ اسی میں سے ان کو کھلاؤ اور جو پہنو اسی میں سے ان کو پہناؤ ۔
۔ مسلمان ، مسلمان کا بھائی ہے ۔اسے دھوکانہ دے ، اس سے دغانہ کرے ، اس کی غیبت نہ کرے ۔ کسی مسلمان  کا خون اور اس کے مال میں سے کچھ بھی دوسرے مسلمان کے لیے حلال نہیں ۔
۔ آج کے بعد شیطان  اس سے ناامید ہوگیا ہے کہ اس کی پوجا کی جائے گی ، لیکن اپنے دوسرے معاملات میں جنھیں تم معمولی سمجھتے ہو اس کی بات مانی جائے گی  ۔
۔ اللہ کا بدترین دشمن وہ ہے جو اس کو قتل کرے جس نے اسے قتل نہ کیا ہو اور اسے مارے جس نے اسے مارانہ ہو ۔جس نے آقا کا کفران کیا اس نے گویا جو اللہ نے محمد ص پر اتارا ہے اس کو ماننے سے انکار کیا ۔جس نے اپنے باپ کو چھوڑ کر کسی اور اسے اپنے آپ کو منسوب کی تو اس پر لعنت اللہ کی  فرشتوں کی اور سب انسانوں کی ۔
۔ مجھے لوگوں سے اس وقت تک قتال کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ یہ نہ کہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ نہ تسلیم کریں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ اگر وہ یہ کہہ دیں  تو میری طرف سے ان کی جان  اور ان کا مال محفوظ ہوں گے سوائے اس کے کہ جو اللہ کے قانون  کے مطابق ہو ۔ اور ان کا فیصلہ اللہ پر ہے ۔
۔ میرے بعد دوبارہ کافر اور گمراہ نہ ہوجانا ۔ایسا نہ ہو کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔
یہ ہے وہ سب کچھ جو حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ عرفہ میں کہا گیا تھا ۔ میں نے اس کے مختلف ٹکڑے تمام قابل اعتماد مآخذ سے جمع کیے ہیں تاکہ کچھ چھوٹ نہ جائے میں نے رسول اللہ ص  کی وہ سب ہدایات جن کا محدثین نے ذکر کیا ہے جوں کی توں نقل  کردی ہیں ۔ اب دیکھئے ! کیا ان میں صحابہ کے لیے کوئی نئی بات ہے ؟ بالکل نہیں ۔ کیونکہ جو کچھ اس خطبے میں ہے ۔وہ قرآن وسنت میں پہلے ہی مذکور ہے ۔ رسول اللہ ص کی  پوری عمروحی کے مطابق ہر چھوٹی بڑی بات کی تعلیم لوگوں کودیتے گزری تھی ۔ ان ہدایات کے بعد جن کو مسلمان پہلے سے جانتے تھے ، آیہ اکمال الدین  کے نزول کی کوئی وجہ نہیں تھی ۔ ان ہدایات کا اعادہ تو محض تاکید کے لیے تھا  کیونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمان اتنی بڑی تعداد میں رسول اللہ ص  کی خدمت میں جمع ہوئے تھے ۔ رسول اللہ ص نے حج کے لیے نکلنے  سے پہلے ان کو بتلا دیا تھا کہ یہ حجۃ الوداع ہے ۔ اس لیے آنحضرت کے لیے ضروری تھا کہ وہ یہ ہدایات سب مسلمانوں کو سنادیں ۔
لیکن اگر ہم دوسرے قول کو قبول  کرلیں جس کے مطابق یہ آیت  غدیر خم کے
 دن اس وقت نازل ہوئی جب امام علی ع کو خلیفہ رسول اور امیرا المومنین مقرر کردیا گیا تو اس صورت میں معنی بالکل صحیح ہوجاتے ہیں کیونکہ اس کا فیصلہ کہ رسول اللہ ص کے بعد ان کا خلیفہ  اور جانشین کون ہوگا ،  نہایت اہم معاملہ تھا اور یہ نہیں ہوسکتا تھا کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کو یوں ہی  چھوڑ دے ۔ اور نہ یہ رسول اللہ ص کی شان کے مناسب تھا کہ وہ کسی کو اپنا خلیفہ مقرر کیے بغیر دنیا سے چلے جائیں  اور اپنی امت کو بغیر کسی نگران کے چھوڑ جائیں جب کہ آپ کا طریقہ یہ تھا کہ جب بھی آپ مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تھے ، کسی صحابی کو اپنا جانشین مقرر کرکے جاتے تھے ۔پھر ہم یہ کیسے مان لیں کہ آپ رفیق اعلی سے جاملے اور آپ نے خلافت کے بارے میں کچھ سوچا ؟
جب کہ ہمارے زمانے میں بے دین بھی اس قاعدے  کو تسلیم کرتے ہیں اور سربراہ مملکت کاجانشین اس کی زندگی ہی میں مقررکردیتے ہیں تاکہ حکومت  کا انتقام  چلتا رہے اور لوگ ایک دن بھی سربراہ کے بغیر نہ رہیں ۔
پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ دین اسلام جو سب ادیان میں کامل ترین اور سب سے جامع ہے ۔جس  پر اللہ تعالی نے تمام شریعتوں  کوختم کیا ہے اور جس سے زیادہ ترقی یافتہ ، جس سے کا مل تر ، جس سے عظیم تر اور جس سے خوب تر کوئی دین نہیں ہے ، اتنے اہم معاملے کی  طرف توجہ نہ دے ،
ہم یہ پہلے دیکھ چکے ہیں کہ حضرت عائشہ ، ابن عمر اور ان سے پہلے خود ابوبکر اور عمر بھی یہ محسوس کرچکے تھے کہ فتنہ وفساد کو روکنے کے لیے خلیفہ کا تعین ضروری  ہے ۔ اسی مصلحت کی وجہ سے ان کے بعد آنے والے سب خلفاء بھی اپنا جانشین مقرر کرتے رہے ۔ پھر یہ مصلحت اللہ اور اس کے رسول  ص سے کیسے پوشیدہ رہ سکتی تھی ؟؟؟
اسی کے مطابق یہ قول ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے رسول  کو جب وہ حجۃ الوداع سے واپس آرہے تھے ، آیہ تبلیغ  کے ذریعے  وحی بھیجی تھی کہ علی ع کو اپنا خلیفہ مقرر کردیں  : " يا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ إِلَيْکَ مِنْ رَبِّکَ" الخ
اس سے معلوم ہوا  ،دین کی تکمیل امامت یعنی ولایت پر موقوف ہے جو
 عقلاء کے نزدیک ایک ضروری چیز  ہے ۔معلوم ایسا ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علی وآلہ وسلم کو لوگوں  کی مخالفت یا تکذیب کا اندیشہ تھا ۔ چنانچہ بعض روایات میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا :
" جبرئیل نے مجھے میرے پروردگار کا یہ حکم پہنچایا  ہے کہ میں اس مجمع میں کھڑے ہوکر گورے کالے کے سامنے یہ اعلان کردوں کہ علی بن ابی طالب ع میرے بھائی ، میرے وصی اور میرے خلیفہ ہیں اور وہی میرے بعد امت  کے امام ہوں گے چونکہ میں جانتا  تھا کہ متقی کم اور موذی زیادہ  ہیں اور لوگ مجھ پر نکتہ چینی بھی کرتے تھے کہ میں زیادہ  وقت علی ع کے ساتھ گزارتا ہوں اور ان ک و پسند کرتاہوں  اور اسی وجہ سے انھوں نے میرا نام " اذن" (کانوں کا  کچا) رکھ دیا  تھا ۔قرآن شریف  میں ہے ۔ "وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيِقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَّکُمْ " (سورہ توبہ ۔ آیت 61) اگر چاہوں تو میں ان لوگوں کے نام بھی بتلاسکتا ہوں ۔ مگر میں نے اپنی فرخدلی سے ان کے ناموں پر پردہ ڈال رکھا ہے ۔ ان وجو ہ سے میں نے جبرئیل  سے کہا کہ میرے پروردگار سے کہہ دیں  کہ مجھے اس فرض کی بجاآوری سے معافی دیدے مگر اللہ نے میری معذرت قبول نہ  کی اور کہا کہ یہ پیغام  پہنچانا ضروری  ہے ۔ پس لوگو سنو! اللہ تعالی  نے تمھارا ایک ولی اور امام مقررکردیا  ہے اور اس کی اطاعت تم میں  سے ہر ایک پر فرض کردی ہے ۔۔۔۔۔۔(34)۔
جب یہ آیت نازل ہوئی کہ "وَ اللَّهُ يَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ " تو آنحضرت  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بغیر کسی تاخیر کے اسی وقت اپنے پروردگار  کے حکم  کی تعمیل
کی اور اپنے بعد علی ع کو خلیفہ مقرر کردیا ۔آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ علی علیہ السلام کو امیر المومنین  مقرر ہونے پر مبارک باد دیں ۔ چنانچہ سب نے انھیں تبریک پیش کی ۔اس کے بعدیہ آیت نازل ہوئی : " الْيَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِينَکُمْ " الخ ۔یہی نہیں ، بعض علمائے اہل سنت خود اعتراف کرتے  ہیں کہ آیہ تبلیغ امام علی ع کی امامت کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے ۔ چنانچہ انھوں نے ابن مردویہ سے روایت کی ہے ۔ ابن مردویہ کہتے ہیں کہ ابن مسعود کہتے تھے کہ ہم رسول اللہ ص کے زمانے میں اس آیت کو اس طرح پڑھا کرتے تھے ۔:
يا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ إِلَيْکَ مِنْ رَبِّکَ وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ وَ اللَّهُ يَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ "(35)۔
اس کے ساتھ اگر ہم ان شیعہ روایات کا بھی اضافہ کردیں  جو ہو ائمہ اہلبیت ع سے روایت کرتے ہیں تو یہ واضح ہوجائے گا کہ اللہ تعالی  نے اپنے دین  کو امامت سے مکمل کیا اور یہی وجہ ہے کہ شیعوں کے نزدیک  امامت اصول دین میں شامل  ہے ۔ علی ابن ابی طالب ع کی امامت سے ہی اللہ نے اپنی نعمت مسلمانوں پر تمام کی تاکہ ایسا نہ ہو کہ کوئی ان کی خبر گیری کرنے والا نہ ہو اور وہ خواہشات کی آماجگاہ بن جائیں ، فتنے ان میں تفرقہ ڈالدیں اور وہ بھیڑوں کا ایسا گلہ رہ جاتیں جن کا کوئی رکھوالا اور چرواہا نہ ہو ۔
اللہ نے اسلام  کو بطور دین کے پسند کرلیا ، کیونکہ اس نے ان کے لیے ایسے ائمہ کو منتخب  کیا جو ہر برائی اور گندگی سے پاک  تھے ۔ اس نے ان اماموں  کو حکمت ودانائی عطاکی اور انھیں کتاب اللہ کے علم کا وارث بنایا تاکہ وہ خاتم  المرسلین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصی بن سکیں ۔ اس لیے مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اللہ کے حکم اور اس کے فیصلے پر راضی رہیں اور اس کی مرضی کے سامنے سرتسلیم خم کردیں ۔ اس لیے کہ اسلام کا عام مفہوم ہی اللہ کے ہر حکم کو تسلیم کرنا اور اس  کی مکمل اطاعت کرنا  ہے ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے :
" وَرَبُّکَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ مَا کَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِکُونَ () وَرَبُّکَ يَعْلَمُ مَا تُکِنُّ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ () وَهُوَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ وَلَهُ الْحُکْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ()"
تمھارا پروردگار  جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے پسند کرتا ہے ۔ لوگوں کو پسند کا کوئی حق نہیں  ۔ یہ لوگ جو شرک کرتے  ہیں اللہ سے پاک اور برتر ہے ۔اور ان کے دلوں میں جو کچھ پوشیدہ ہے اور جو کچھ یہ لوگ ظاہر کرتے ہیں تمھارا پروردگار  اس کو جانتا ہے ۔اللہ وہی ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے سب تعریف اسی کی ہے  دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔اور حکومت  بھی اسی کی ہے اور تم اسی کی طرف لوٹا ئے جاؤگے ۔(سورہ قصص ۔آیات 68-70)
ان تمام باتوں  سے سمجھ میں یہی آتا ہے  کہ رسول اللہ ص نے یوم  غدیر کو عیدکا دن قراردیا تھا ۔ امام علی ع کو خلافت  کے لیے نامزد  کرنے کے بعد جب آپ پر یہ آیت نازل ہو ئی :" الْيَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِينَکُمْ " تو آپ نے کہا : اللہ کا شکر ہے کہ دین مکمل ہوگیا اور نعمت  پوری ہوگئی ۔ اللہ نے میری رسالت اور میرے بعد علی بن ابی طالب  کی ولایت کو پسند کیا (36)۔ پھر آپ نے  علی ع  کے لیے  تقریب  تبریک  منعقد  کی خود رسول اللہ ص ایک خیمہ  میں رونق افروز ہوئے اور علی کو اپنے برابر بٹھایا اور سب مسلمانوں  کو حکم دیا ۔ ان میں آپ کی ازواج ، امہات المومنین بھی شامل تھیں کہ گروہ درگروہ علی ع کے پاس جاکر انھیں امامت کی مبارکباد دیں اور امیر المومنین  کی حیثیت   سے انھیں سلام کریں ۔چنانچہ سب نے ایسا ہی کیا ۔ اس موقع پر امیر المومنین  علی ابن ابی طالب ع
کو مبارک باد دینے والوں میں ابو بکر اور عمر بھی شامل تھے ، وہ یہ کہتے ہوئے آئے :
"بخٍ بخٍ لک ياابن أبي طالبٍ أصبحت وأمسيت مولانا ومولى کلّ مؤمنٍ ومؤمنةٍ.(37)"
جب شاعر رسول حسّان  بن ثابت نے دیکھا کہ رسول اللہ ص اس موقع پر بہت خوش اور شاداں وفرحاں ہیں تو انھوں نے آنحضرت ص سے عرض کیا  : یا رسول اللہ ! میں آپ  کی اجازت سے اس موقع پر چند اشعار عرض  کرناچاہتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ضرور سناؤ ۔ حسان ! جب تک تم زبان سے ہماری مدد کرتے رہوگے تمھیں روح القدس  کی تائید حاصل رہے گی ۔
حسان سے شعر سنانے شروع کیے ۔

"يناديهم يوم الغدير نبيّهم
 بخمّ ٍفاسمع بالرّسول مناديا

(غدیر کے دن خم کےمقام پر مسلمانوں کے پیغمبر مسلمانوں کو پکاررہے ہیں ، سنو ! رسول ص کیا کہہ رہے ہیں )
اس کے علاوہ اور بھی اشعار تھے جن کو مورخین نے نقل کیا ہے (38)۔ اس سب کے باوجود  قریش نے چاہا کہ خلافت ان کے پاس رہے اور بنی ہاشم کے یہاں خلافت اور نبوت دونوں جمع نہ ہونے پائیں تاکہ بنی ہاشم کو شیخی بگھارنے کا موقع نہ مل سکے ۔اس کی تصریح خود حضرت عمر نے عبداللہ بن عباس سے ایک دفعہ گفتگو کرتے ہوئے  کی (39)۔
اس لیے پھر کیس کی مجال نہیں ہوئی کہ پہلی تقریب کے بعد جو رسول اللہ ص نے خود منعقد کی تھی ،کوئی عید غدیر کا جشن منائے۔
جب لوگ نص خلافت ہی کو بھول گئے جسے ابھی دوہی مہینے ہوئے تھے تو غدیر کے واقعہ کی یاد مناتا جسے ایک سال ہوچکا تھا ۔ اسے کے علاوہ یہ عید تو نص خلافت سے منسلک  تھی ۔ جب وہ نص ہی باقی نہ رہی تو عید منانے کی وجہ  ہی ختم ہوگئی ۔اسی طرح سالہا سال گزر گئے ، یہاں تک کہ ربع صدی کے بعد امام علی ع نے اسے دوبارہ اس وقت زندہ کیا جب آپ نے اپنے عہد خلافت میں ان صحابہ سے جو غدیر خم میں موجود تھے  ،کہا کہ وہ کھڑے ہو کر سب کے سامنے بیعت  خلافت کی گواہی  دیں ،تیس صحا بیوں نے گواہی دی جن میں سے سولہ بدری صحابہ تھے (40) ۔ایک انس بن مالک نے کہا کہ "مجھے یاد نہیں " انھیں  وہیں برص کی بیماری ہوگئی ۔ وہ روتے تھے اور کہتے تھے کہ مجھے عبد صالح علی بن ابی طالب  کی بد دعا لگ گئی (41)۔
اس طرح امام علی ع نے اس امت پر حجّت قائم کردی ۔ اس وقت سے آجتک شیعہ یوم غدیر کی یاد مناتے رہتے ہیں اور تاقیام قیامت مناتے رہیں گے ۔ یہ دن شیعوں کے نزدیک عید اکبر ہے اور کیوں نہ ہو ! جب اس دن اللہ نے دین کو ہمارے لیے کامل کیا اور اس دن نعمت تمام کی اور اسلام کو بطور ایک دین کے ہمارے پسند کیا ۔ یہ اللہ ، اس کے رسول  اور مومنین  کی نظر میں ایک عظیم  الشان دن ہے ۔بعض علمائے اہل سنت نے ابو ہریرہ سے روایت  کی ہے کہ جب رسول اللہ ص نے علی ع کا ہاتھ پکڑ کر کہا " من کنت مولاه فهذا علىٌّ مولاه" الخ تو اللہ نے یہ آیت نازل کی :"  الْيَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِينَکُمْ " الخ  ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ یہ  18 ذی الحجہ کا دن تھا اور جس نے اس دن روزہ رکھا  ،اس کے لیے ساٹھ مہینوں  کے روزوں  کاثواب لکھا جائے گا ۔(42)
جہاں تک شیعہ روایات  کا تعلق ہے تو وہ ائمہ اہل بیت ع سے اس دن کے فضائل کے بارے میں اتنی ہیں کہ بس بیان کیے جائیے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ہدایت دی کہ ہم امیر المومنین ع کی ولایت  کو مانیں اور یوم غدیر کو عید منائیں ۔ خلاصہ بحث یہ ہے کہ  حدیث غدیر صحیح معنی میں ایک بہت بڑا تاریخی واقعہ ہے جسے نقل کرنے پر امت محمدیہ نے اتفاق کیا ہے جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں تین سو ساٹھ سنّی  علماء نے اس حدیث کو بیان کیا ہے اور شیعہ علماء کی تعداد تو اس سے بھی زیادہ ہے ۔
ان حالات میں یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ امت اسلامیہ دوفریقوں میں تقسیم ہوگئی ہے : ایک اہل سنت ، دوسرے اہل تشیع ۔ اہل سنت ،سقیفہ بنی ساعدہ کے شوری کے اصول پر جمے ہوئے ہیں ۔ وہ صریح نصوص کی تاویل  کرتے ہیں اور حدیث غدیر وغیرہ  جس پر سب راویوں کا اتفاق ہے ، اس کی مخالفت کرتے ہیں ۔
دوسرا فریق  ان نصوص پر قائم ہے اور انھیں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ۔ا س فریق نے ائمہ اہل بیت ع کی بیعت  کی ہے اور ان ہی  کو مانتا ہے ۔
حق تو یہ ہے کہ جب اہل سنت کے مذہب کو کریدتا ہوں تو مجھے اس میں کوئی اطمینان بخش چیز نظر نہیں آتی ۔خصوصا خلافت کے معاملے میں ۔ ان کے سب دلائل ظنی واجتہاد  پر مبنی ہیں۔ کیونکہ انتخاب کا قاعدہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ آج جس شخص کو ہم پسند کرتے ہیں وہ ضرور سب دوسروں سے افضل ہے کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ کس کے دل میں کیا ہے ۔ خود ہمارے اندر ذاتی جذبات وتعصبات چھپے ہوئے ہیں اور جب بھی متعدد اشخاص میں سے ایک شخص کو پسند کرنے کا موقع ہوتا ہے ، یہ عوامل ہمارے فیصلے پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔
یہ کوئی  خیال مفروضہ نہیں اور نہ اس معاملے میں کچھ مبالغہ ہے کہ جو شخص بھی اس طرز فکر یعنی خلیفہ کے انتخاب  کے تصور  ۔کا تاریخی نقطہ نظر سے مطالعہ کرےگا  اسے معلوم ہوجائے گا کہ یہ اصول جس کے اتنے ڈھول  پیٹے جاتے ہیں نہ کبھی کامیاب ہوا ہے اور نہ یہ ممکن ہے کہ کبھی کامیاب ہو ۔
 ہم دیکھتے ہیں کہ شوری تحریک کے لیڈر ابو بکر نے جو شوری کے ذریعے منصب خلافت تک پہنچے تھے ،خود ہی دوسال بعد اس کو توڑ دیا تھا جب انھوں نے اپنے مرض الموت میں عمر بن خطاب کو خلیفہ نامزد کردیا ۔ کیونکہ انھیں اپنے زمانہ حکومت میں احساس ہوگیا تھا کہ خلافت کے امیدوار بہت ہیں اور لوگ خلافت کو للچائی ہوئی  نظروں سے دیکھتے ہیں ، اس لیے ایسے فتنے کا اندیشہ ہے جو امت کو ٹکڑے ٹکڑے کردیگا ۔ یہ اس صورت میں ہے جب ہم ابو بکر کے بارے میں حسن ظن سے کام لیں ۔ لیکن اگر انھیں خود معلوم تھا کہ دراصل خلافت کا فیصلہ نص سے ہوتا ہے ، تو پھر یہ ایک دوسرا معاملہ ہے ۔
ادھر عمربن خطاب جو سقیفہ کے موقع پر ابو بکر کی خلافت کے محرک اور معمار تھے اپنے دور خلافت میں علانیہ کہتے تھے کہ : ابو بکر کی بیعت بلامشورہ اور اچانک ہوگئی تھی ، لیکن اللہ نے مسلمانوں کو اس کےبرے نتائج سے محفوظ  رکھا (43)۔
اس کے بعد جب عمر ابو لؤلؤ  فیروز کے وار سے زخمی ہوگئے اور انھیں اپنی موت کا یقین ہوگیا تو انھوں نے ایک چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی تاکہ وہ خلافت کے لیے اپنے میں سے کسی ایک  کا انتخاب کرلے ۔ لیکن انھیں یہ بھی اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ چند لوگ بھی اس کے باوجود انھیں رسول اللہ ص کی صحبت کا شرف حاصل تھا ،  وہ سابقین  اولین میں سے تھے اور زہد وتقوی میں ممتاز تھے ، انسانی جذبات سے ضرور متاثر ہوں گے ۔ کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے اور اس سے صرف معصوم ہی مستثنی ہوسکتے ہیں ، اس لیے اختلاف  کی صورت میں اس فریق  کے حق میں فیصلہ  ہوگا جس کے ساتھ عبدالرحمان  بن عوف ہوں گے ۔اس کے بعد اس کمیٹی نے خلافت کے لیے امام علی ع کا انتخاب کردیا لیکن شرط یہ رکھی کہ وہ کتاب اللہ ، سنت رسول اللہ اور سنت شییخین یعنی ابوبکر اور عمر کی سنت کے مطابق حکومت کریں گے ۔ علی نے کتاب اللہ
اور سنت رسول اللہ ص کی بات تو تسلیم کرلی لیکن سنت شیخین کی پیروی کرنے سے انکار کردیا (44)۔ عثمان نےیہ شرائط منظور کرلیں ،چنانچہ ان کی بیعت کرلی گئی ۔علی ع نے اس موقع پر کہاتھا :
"فيا لله وللشّورى ! متى اعترض الرّيب فيّ مع الأول منهم حتّى صرت أقرن إلى هذه النّظائر ! لکنّى أسففت إذا أسفوا وطرتُ إذ‘ طاروا فصغارجلٌ مّنهم لضغنه ومال الأخر لصهره مع هنٍ وّهنٍ."
قسم بخدا ! کہاں علی اور کہاں یہ نام نہاد شوری ۔ان لوگوں میں کے پہلے حضرت (ابو بکر )کی نسبت میری فضیلت میں شک ہی کب تھا جو اب ان لوگوں نے مجھے اپنے جیسا سمجھ لیا ہے ؟ (لیکن میں جی کڑاکر کے شوری میں حاضر ہوگیا ) اور نشیب وفراز میں ان کے ساتھ ساتھ چلا مگر ان میں سے ایک (45) نے بغض وحسد کے مارے میرا ساتھ نہ دیا اور دوسرا(46) دامادی اور ناگفتہ بہ باتوں کی کے باعث ادھر جھک گیا ۔(نھج البلاغہ ۔خطبہ شقشقیہ)
جب یہ ان لوگوں  کاحال تھا جو مسلمانوں میں منتخب اور اخصّ الخواص تھے کہ ہو بھی جذبات کی رو میں بہ جاتے تھے اور بغض وحسد اور عصبیت سے متاثر ہوتے تھے تو پھر عام دنیا داروں کا  تو ذکر ہی کیا ۔ بعد میں عبدالرحمان  اپنے اس انتخاب پرپچتا ئے بھی ۔ اور جب عثمان کے دور میں وہ واقعات پیش آئے جو معلوم ہیں تو وہ عثمان پر بگڑے بھی کہ انھوں نے اپنے عہد کا پاس نہیں کیا ۔اورجب کبار صحابہ نے ان سے آکر کہا عبدالرحمان یہ سب تمھارا کیا دھرا ہے ،تو انھوں نے کہا مجھے عثمان سے یہ
توقع نہیں تھی ، مگر اب میں نے قسم کھالی ہے کہ عثمان سے کبھی بات نہیں کروں گا ۔ کچھ دن بعد عبدالرحمان کا انتقال ہوگیا ۔ اس وقت تک بھی ان کی عثمان سے بو چال بند تھی ۔ بلکہ کہتے ہیں کہ ان کی بیماری میں عثمان  ان کی عیادت  کے لیے گئے تو عبدالرحمان  نے دیوار کی طرف منہ کرلیا ۔ بات نہیں  کی (47)۔
پھر  جو ہونا تھ وہ  ہوا ۔ عثمان کے خلاف شورش بھڑک اٹھی اور آخر وہ قتل ہوگئے ۔ امت  ایک بار پھر انتخاب کے مرحلے سے گزری ۔ خلافت کے امیدواروں میں : طلیق بن طلیق (48)، معاویہ بن ابو سفیان ،عمرو بن عاص ، مغیرہ بن شعبہ ،مروان بن حکم وغیرہ شامل تھے ، مگر اس بار علمی کا چنا گیا ، مگر افسوس صد افسوس کہ اسلامی مملکت میں انتشار پھیل گیا ۔ اور وہ منافقوں ، مملکت کے دشمنوں ،متکبر وں اور ان لالچیوں  کی جو لانگاہ بن گئی جو ہر قیمت پر مسند خلافت پر متمکن ہونے کے خواہاں تھے ۔چاہے  اس کے لیے کوئی طریقہ بھی کیوں نہ اختیار کرنا پڑے اور کتنے ہی بیگناہوں کا خون کیوں نہ بہانا پڑے ۔اوریہ کہ اس 25 سالہ مدت میں خدا اور رسول ص کے احکام میں تحریف بھی کی گئی ، پس امام علی ع ایک ایسے بحران میں پھنس گئے جس کے ہر طرف بپھری ہوئی موجیں تھیں ، ماحول تیرہ وتاریک تھا ، منہ زور خواہشات کا زور تھا ۔ امام علی ع کا  عہد خلافت ایسی خوں ریز جنگوں میں گزرا جو باغیوں ،ظالموں  اور ملحدوں  نے ان پر مسلط کردی  تھیں ۔ وہ اس بحران  سے جام شہادت نوش کرکے ہی نکل سکے ۔اور امت محمدیہ  کی حالت پر افسوس کرتے ہوئے اس دنیا سے چلے  گئے ۔ فسلام اللہ علیہ ۔ یہ سب شوری اور انتخاب کے تصور کا شاخسانہ تھا۔اس کے بعد امت محمدیہ خون کے سمندر میں ڈوب گئی ۔ اس کی قسمت کے فیصلے احمقوں اور رذیلوں  کے ہاتھ میں آگئے  ۔پھر شوری کٹ کھنی بادشاہت میں بدل گئی اور اس نے قیصری اور کسروی کی شکل اختیار کرلی ۔معاویہ کے عہد سے خلافت موروثی ہوگئی اور بیٹا باپ کا جانشین ہونےلگا ۔
وہ دور ختم ہوگیا جسے خلافت راشدہ کہا جاتا ہے اور جس دور کے چار خلفاء  خلفائے راشدین کہلاتے ہیں ۔ واقعہ تویہ  ہے کہ ان چار میں سے بھی صرف ابو بکر اور علی ع انتخاب اور شوری  کےذریعہ سے خلیفہ ہوئے تھے ۔ ان میں سے اگر ہم ابو بگر  کو چھوڑ دیں کیونکہ ان کی بیعت اچانک ہوئی تھی ۔ اور اس میں آجکل  کی اصطلاح میں حزب اختلاف  نے شرکت نہیں کی تھی جو علی ع ، ان کے حامی صحابہ (49) اور بنی ہاشم پر مشتمل تھی ، تو صرف علی بن ابی طالب ع ہی رہ جاتے ہیں جن کی بیعت واقعی شوری اور آزادی رائے کے اصول کے تحت منعقد ہوئی ۔ اور علی ع کے انکار کے باوجود مسلمانوں نے ان سے بیعت کی۔ اگر چہ بعض صحابہ ن ےبیعت سے پہلو تہی ضرور کی لیکن ان پر زبر دستی نہیں کی گئی  اور نہ انھیں  کوئی دھمکی  دی گئی ۔
اللہ تعالی  کی مشیت یہ تھی کہ علی ابن ابی طالب ع نص قطعی کے ذریعے سے بھی خلیفہ ہوں اور مسلمان ان کا انتخاب بھی کریں ۔ اب علی ع کی خلافت پر کیا سنّی ،کیا شیعہ پوری امّت مسلمہ کا اجماع ہے اور جیسا کہ سب کو معلوم ہے ، دوسرے خلفاء کےبارے میں اختلاف ہے ۔
یہ دیکھ کر افسوس ہوتاہے کہ مسلمانوں نے اس نعمت خداوندی  کی قدر نہیں  کی ۔ اگر قدر کرتے تو ان پر آسمانی برکتوں کے دروازے کھل جاتے ۔روزی کی ہرگز تنگی نہ ہوئی آج مسلمان ساری دنیا کے قائد اورسردار ہوتے ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :" وأنتم الأعلون إن کنتم مؤمنين" تم ہی سب سے سربلند ہوگے بشرطیکہ تم سچے مومن ہو ۔
لیکن ابلیس لعین تو ہمارا کھلا دشمن ہے ، اس نے اللہ ربّ العزت سے کہہ دیا تھا کہ :
"قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِيمَ () ثُمَّ لآتِيَنَّهُم مِّن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَن شَمَآئِلِهِمْ وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَهُمْ شَاکِرِينَ" چونکہ تونے مجھے گمراہ  کردیا ہے ، میں بھی اس سیدھی راہ پر بیٹھ کر رہوں  گا جو تونے ان کے لیے تجویز کی ہے ، پھرآؤں گا ان کے پاس ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے ، ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے ۔ اور تو ان میں سے اکثر کو اپنا شکر  گزار نہیں پائے گا ۔(سورہ اعراف ۔آیت 16-17)
آج اہل نظر دنیا میں مسلمانوں کی حالت  دیکھیں  خصوصا تیسری دنیا میں ، جہاں کے مسلمان پسماندہ ہیں ،جاہل ہیں ، جاہل ہیں ،ان کی قسمت کافیصلہ اغیار کے ہاتھ میں ہے ،وہ ذلیل  ہیں ، کچھ نہیں کرسکتے ،۔ان ممالک کے پیچھے دوڑتے ہیں جو اسرائیل  کو تسلیم کرتے ہیں حالانکہ اسرائیل مسلمان حکومتوں کو تسلیم نہیں کرتا ۔ وہ مسلمانوں کو یروشلم میں گھسنے تک نہیں دیتا جسے اس نے اپنا دارالسلطنت بنا لیا ہے ۔آج مسلمان ممالک  امریکہ اور روس کے رحم وکرم پر ہیں ۔ مسلمان قومیں جہالت ،بھوک اور بیماری کے عفریت کے چنگل بری طرح پھنسی ہوئی ہیں۔ یورپ کے تو کتّے  بھی انواع واقسام  کے گوشت اور مچھلیاں کھاتے ہیں ، جب کہ مسلمانوں کے بچے بھوک سے دم توڑ دیتے ہیں ۔ بعض اسلامی ملکوں میں تو انھیں روٹی کا ایک ٹکڑا بھ نصیب نہیں ہوتا اور وہ کوڑے کے ڈھیر سے اپنی غذا تلاش کرتے نظر آتے ہیں "فلا حول ولا قوۃ الا بالله علی العظيم"
سیدۃ النساء  فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیھا کا بیعت ابو بکر کے بعد ، جب ابو بکر سے جھگڑا ہوا تھا تو انھوں نے مہاجرین وانصار کے سامنے تقریر کرتے ہوئے فرمایا :
"۔۔۔۔۔۔معلوم نہیں لوگوں کو علی کی کیا بات ناپسند ہے کہ انھوں نے ان کی حمایت چھوڑ دی ہے ؟ بخدا ! لوگ علی کی احکام الہی کے بارے میں سختی ،ان کی ثابت قدمی اور ان کی شمشیر خارا شگاف کو پسند نہیں کرتے مگر انھوں نے خود اپنا ہی نقصان کیا ہے ۔علی ع
 کی حکومت میں انھیں ظلم وستم سے واسطہ نہ پڑتا ۔ وہ تو انھیں علم ودانش اورعدل وانصاف کے چشموں سے سیراب کرتے "۔
اس کے بعد انھوں نے پیشن گوئی کی تھی ۔ انھوں نے اپنی تقریر کے آخرمیں اس امت کے انجام  کی خبر دیتے ہوئے کہا تھا :
"جو کام ان لوگوں نے کیا ہے ہو گابھن اونٹنی  کی طرح ہے ۔ بچہ ہونے دو پھر تم پیالہ بھر کے دودھ کی بجائے خون اور زہر دوہوگے ۔ اس وقت باطل پرست خسارہ میں رہیں گے اور یہ کہ آئندہ  آنے والی نسلیں اپنے پچھلوں کی غلطیوں کا خمیازہ بھگتیں گی اور یقین رکھو کہ تم فتنہ وفساد میں ڈوب جاؤ گے اور یقین رکھو کہ تلوار چلے گی ، ظلم وستم ہوگا ، افراتفری ہوگی ،ظالموں کی مطلق العنان حکومت ہوگی جو تمھیں پیس کےرکھ دےگی ۔ تم کس خیال میں ہو ؟ تمھیں کیوں سمجھ نہیں آتی ؟کیا ہم زبردستی وہ چیز تمھارے سرمنڈھ دیں جوتمھیں پسند ہی نہیں ؟"(50)
دختر رسول ص اور گوہر کان نبوت صدیقہ طاہرہ نے جو کچھ کہاوہ اس امت کی تاریخ میں حرف بحرف سچ ثابت ہوا اور کون جانے ابھی پردہ غیب میں کیا ہے ۔ شاید مستقبل میں جو کچھ پیش آئے وہ ماضی سے بھی زیادہ بھیانک ہو۔ کیوں کہ اللہ نے جو احکام نازل کیے وہ انھیں ناپسند ہوئے ۔ پھر اللہ نے بھی ان کے اعمال غارت کردئیے ۔
اس بحث کا ایک اہم جزو
اس بحث کے سلسلے میں ایک خاص بات جو توجّہ اور تحقیق کی مستحق ہے اور یہ وہ واحد اعتراض ہے جو اس  وقت اٹھایا جاتا ہے جب مسکت دلائل کے سامنے مخالفین کے لیے فرارکا راستہ بند ہوجاتا ہے اورانھیں نصوص صریحہ کا اعتراف  کرناپڑتا
ہے تو وہ بالآخر انکار اور تعجب کے ساتھ کہتے ہیں کہ " یہ کیسے ممکن ہے کہ امام علی ع کے امامت پر تقرر کے وقت ایک لاکھ صحابہ موجود ہوں اور پھر وہ سب کے سب اس تقرر کی مخالفت کرنے اور اسے نظر انداز کرنے پر اتفاق کرلیں ، جب کہ ان  میں بہترین صحابہ اور امت کے افضل ترین اشخاص شامل تھے "۔یہ صورت خود میرے ساتھ اس وقت پیش آئی  جب میں نے اس موضوع پر تحقیق شروع کی ۔مجھے یقین نہیں آتا اور کسی کو بھی یقین نہیں آئیگا  اگر معاملے کو اس صورت میں پیش کیا جائے ۔ لیکن جب ہم اس معاملے کا تمام پہلوؤں سے جائزہ لیتے ہیں تو پھر اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں رہتی ۔کیونکہ مسئلہ  اس طرح نہیں ہے جس طرح ہم سمجھتے ہیں یاجس طرح اہل سنت پیش کرتے ہیں ۔ بات ان کی بھی معقول ہے ۔حاشا وکلا ! یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک لاکھ صحابہ فرمان رسول ص کی مخالفت کریں ۔

پھر یہ واقعہ کسی طرح پیش آیا ؟

پہلی بات تویہ ہے کہ   جو لوگ بیعت غدیر کے موقع پر موجود تھے وہ سب مدینہ منورہ کے رہنے والے نہیں تھے ۔ان میں زیادہ سے زیادہ تین چار ہزار مدینے کے باشندے ہوں گے پھر ان میں بہت سے آزاد شدہ غلام تھے ۔ غلام بھی تھے اور کمزور لوگ بھی تھے جو مختلف اطراف  واکناف سے آکر رسول اللہ ص کی خدمت میں جمع ہوگۓ تھے ، ان کامدینہ میں اپنا کوئی کٹم قبیلہ نہیں تھا جیسے :
"اصحاب صفّہ"۔ اگر ان سب کو نکال دیا جائے تو ہمارے پاس آدھی تعداد بچتی ہے یعنی زیادہ سے زیادہ دوہزار ۔یہ لوگ بھی قبائلی نظام کے تحت قبیلے کے سرداروں کے تابع تھے ۔ رسول اللہ ص نے اس نظام کو باقی رہنے دیا تھا ۔ جب رسول اللہ ص کے پاس کوئی وفد آتا تھا  تو آپ اس کے سردار کو اس کا انچارچ مقرر کردیتے تھے ۔ اسی لیے اسلام میں  ان زعماء اور سرداروں  کے لیے اہل حل وعقد کی اصطلاح راوج پاگئی ۔جب ہم سقیفہ کا کانفرنس پر نظرڈالتے  ہیں تو ہم دیکھتے  ہیں کہ اس کے شرکاء کی تعداد جنھوں نے حضرت ابو بکر کو منتخب  کیا تھا ایک سو سے ہرگز متجاوز نہیں تھی ،اس لیے انصار میں سے ۔جو مدینے کے اصل باشندے تھے ۔صرف سرداروں نے
 شرکت  کی تھی اور مہاجرین میں سے جو دراصل مکے کے رہنے والے تھے اور رسول اللہ ص کے ساتھ ہجرت کرکے آئے تھے صرف تین یا چار اشخاص ہی شریک تھے جو قریش کی نمائندگی کررہے  تھے ۔اس کے ثبوت کے لیے یہ کافی ہے کہ ہم یہ اندازہ لگائیں کہ سقیفہ  کتنا بڑا ہوگا ۔ ہم سب کو معلوم ہے کہ سقیفہ کیا ہوتا ہے ۔یہ مکان کے بیرونی دروازے  سے ملحق ایک کمرہ ہوتا ہے جس میں لوگ بیٹھک جماتے ہیں ۔ یہ مکان کے بیرونی دروازے  سے ملحق ایک کمرہ ہوتاہے جس میں لوگ بیٹھک جماتے ہیں ۔ یہ کوئی آڈیٹوریم یا  کانفرنس ہال نہیں تھا ۔اس لیے جب ہم یہ کہتے  ہیں کہ" سقیفہ  بنی ساعدہ " میں سوآدمی موجود ہوں گے تو درحقیقت ہم مبالغے  سے کام لیتے ہیں ۔ہمارا مقصد یہ ہے کہ تحقیق کرنے والے  کو یہ معلوم جائے  کہ وہاں وہ ایک لاکھ آدمی نہیں تھے جو "غدیر خم"کے موقع پرموجود تھے ،بلکہ انھیں تو یہ معلوم بھی کافی عرصہ کے بعد ہوا ہوگا کہ سقیفہ  میں کیا کاروائی ہوئی ۔ کیونکہ ان دنوں نہ فضائی رابطہ تھا نہ ٹیلفون تھے اور نہ ہی مصنوعی سیارے تھے ۔ جب وہاں موجود زعماء کا ابوبکر کے تقرر پر انصار کے سردار سعدبن عبادہ اور ان کے بیٹے قیس کی مخالفت کے باوجود ، اتفاق ہوگیا اور غالب اکثریت سے معاملہ طے پاگیا اس وقت مسلمانوں کی بڑی تعداد سقیفہ میں موجود نہیں تھی ۔ کچھ لوگ رسول اللہ ص کی تجہیز وتکفین میں مصروف تھے ،کچھ رسول اللہ ص کی وفات کی خبر سے حواس باختہ تھے ۔ عمر نے انھیں یہ کہہ کر اور بھی خوف زدہ کردیا تھا کہ خبر دار کوئی یہ بات زبان سے نہ نکالے  کہ رسول اللہ ص وفات پاگئے  ہیں ۔(51)اس کے علاوہ صحابہ کی ایک بڑی تعداد کو رسول اللہ ص نے سپاہ اسامہ میں بھرتی کرلیا تھا اوریہ لوگ زیادہ تر جرف میں مقیم تھے ۔ لہذا یہ لوگ رسول اللہ ص  کی وفات کے وقت نہ تو مدینے میں موجود تھے اور نہ ہی سقیفہ کی کانفرنس میں شریک ہوئے ۔ اس کے بعد بھی کیا یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کسی قبیلے کے افراد اپنے سردار کی مخالفت کرتے اور اس سے جو فیصلہ کردیا تھا اسے نہ مانتے ۔خصوصا جب کہ یہ فیصلہ  ان کے لیے ایک بڑا اعزاز تھا جس کو حاصل کرنے کی ہر قبیلہ کوشش کرتا تھا ۔ کون جانتا ہے کہ کسی دن ان کے ہی قبیلہ یا خاندان کو تمام خلافت حاصل ہوجائے جب کہ اس کا
شرعی حق دار تو راستے سے ہٹاہی دیاگیا تھا اور معاملہ شوری پر منحصر ہوگیا تھا ۔اس صورت میں باری باری سب  کے لیے  موقع تھا ۔ ایسی حالت میں وہ اس فیصلے سے کیوں نہ خوش ہوتے اور کیسے نہ اس کی تائید کرتے ؟


دوسری بات یہ ہے کہ  جب مدینے کے رہنے والے اہل حل وعقد نے ایک بات طے کردی تھی  تو جزیرہ نمائے عرب کے دور افتادہ باشندوں سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ اس کی مزاحمت کریں گے کیونکہ وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کی عدم موجودگی میں کیا ہورہاہے جب کہ اس دور میں وسائل رسل ورسائل  بالکل ابتدائی  حالت میں تھے ۔
اس کے علاوہ وہ یہ بھی سوچتے تھے کہ اہل مدینہ رسول اللہ کےپڑوسی ہیں وہ احکام ربانی اور وحی سے جو کسی وقت کسی دن بھی نازل ہوسکتی تھی  زیادہ واقف ہیں ۔ پھر یہ کہ صدر مقام سے دور رہنے والے قبیلے کے سردار کو خلافت سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ اسے  اس سے کیا کہ ابو بکر خلیفہ ہوں یا علی ع یا کوئی اور ۔گھر کا حال گھر والے جانیں ۔اس کے لیے تو اہم بات صرف یہ تھی کہ اس کی  سرداری برقراررہے ۔ اسے کوئی چھیننے کی کوشش نہ کرے ۔کون جانتا ہے ۔شاید کسی نے معاملے کے متعلق کچھ پوچھ گچھ کی بھی ہو ۔ اور حقیقت حال جاننے کی کوشش کی ہوں ۔ لیکن حکومت کے کارندوں نے خواہ ڈرا دھمکا کر یالالچ دے کر اسے خاموش کردیا ہو ۔ شاید مالک بن نویرہ کے قصے کے متعلق ۔جس نے ابو بکر کو زکات دینے سے انکار کردیا تھا ۔ شیعوں ہی کی بات صحیح ہو ۔ حقیقت تو اللہ ہی کو معلوم ہے ۔لیکن جو شخص مانعین زکاۃ  کے ساتھ جنگ کے دوران میں پیش آنے والے واقعات کا بغور مطالعہ کرےگا اس ےبہت سے ایسے تضادات ملیں گے جن کے متعلق بعض مورخین کی پیش کی ہوئی صفائی سے اطمینان نہیں ہوگا ۔


تیسری بات یہ ہےاس واقعہ کے اچانک پیش آجانے کا بھی اس کو بطور امر  واقعی FAIT ACCOMPLI تسلیم کرلیے جانے میں بڑا دخل رہا ہے سقیفہ کانفرنس اس وقت اچانک منعقد ہوئی تھی جب بہت سے صحابہ رسول اللہ ص کی تجہیز
وتکفین میں مشغول تھے ان میں امام علی ع عباس ،دوسرے بنی ہاشم ،مقداد ،سلمان ابوذر ، عمار اور دوسرے بہت سے اصحاب شامل تھے ۔ جب تک سقیفہ کے شرکاء ابو بکر کو مسجد میں لے کرگئے  اور انھوں نے عام بیعت کی دعوت دی جس پر لوگ بادل خواستہ ناخواستہ بیعت کے لیے امنڈ پڑے ، اس وقت تک علی ع اور ان کے پیروکار اپنے شرعی اور اخلاقی فریضہ سے فارغ نہیں ہوئے تھے اور ان کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ  رسول اللہ ص کو بغیر غسل اور بغیر کفن دفن کے چھوڑ کر سقیفہ میں خلافت کے واسطے دوڑ پڑتے اور جب تک وہ اس فریضہ سے فارغ ہوئے ۔ اس وقت تک معاملہ ابو بکر کے حق میں فیصلہ بھی ہوچکا تھا ۔ اب جو کوئی ابوبکر کی بیعت سے پیچھے ہٹتا  اس کا شمار مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے والے ان فتنہ پردازوں میں ہوتا جن سے نمٹنا اور ضروری ہوتو انھیں قتل کردینا مسلمانوں پر واجب ہوگیا تھا ۔اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ جب سعد بن عبادہ نے حضرت ابو بکر کی بیعت میں تامل کیا تو  عمربن خطاب نے انھیں قتل کی دھمکی دی تھی ۔(52)
اس کےبعد بیعت سے انکار کرنے والے ان صحابہ کو جو علی ع کے گھر میں جمع تھے ، زندہ جلادینے   کی اور علی ع کے گھر کو آگ  لگانے دینے کی دھمکی دی گئی تھی ۔ اگر ہمیں بیعت سے متعلق عمر کی صحیح رائے معلوم ہوجائے تو بہت سے حیران کن معمّوں کا  حل نکل آئے ۔ معلوم ہوتاہے کہ عمر کا خیال یہ تھا کہ بیعت کے درست ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ کوئی ایک مسلمان بیعت میں سبقت کرلے۔ پھر باقی پر اس کی پیروی واجب ہوجاتی ہے ۔ اس پر بھی اگر کوئی مخالفت کرے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج  اور واجب القتل ہے ۔ آئیے دیکھیں خود عمر بیعت کےبارے میں کیا کہتے ہیں !صحیح بخاری  کی روایت  ہے ۔ (53)عمر کہتے ہیں :
اس پر بڑی گڑبڑ ہوئی اورخوب شور مچا ۔ میں ڈرا کہ کہیں آپس میں تفرقہ پڑجائے ۔میں نے ابو بکر سے کہا:ہاتھ بڑھاؤ ۔انھوں نے ہاتھ بڑھایا تو میں نے بیعت کرلی ۔ مہاجرین (54)اور انصار نے بھی بیعت کرلی ۔ ہم سعد بن عبادہ پر کود پڑے ۔انصار میں سے کسی نے کہا : تم نے سعد بن عبادہ کو مارڈالا ! میں نے کہا سعد بن عبادہ پر اللہ کی مار !
عمر کہتے ہیں کہ " جو مسئلہ ہمارے سامنے تھا ، اس کا اس سے مضبوط کوئی حل نہیں تھا کہ ابو بکر کی بیعت کر لی جائے ۔ہمیں ڈرتھا کہ اگر وہاں موجود لوگوں کوچھوڑ کرچلے گئے اور بیعت نہ ہوئی تو کہیں وہ ہمارے جانے کے بعد اپنے ہی لوگوں سے بیعت نہ کرلیں ۔ پھر یا تو ہمیں اپنی مرضی کے خلاف بیعت کرنی پڑیگی  اور اگر ہم نے مخالفت کی تو فساد برپا ہوگا ۔ اگر کوئی کسی سے مسلمانوں کے مشورے کے بغیر بیعت کرے تو ان دونوں میں سے کسی کا ساتھ نہیں دیاجائیگا ۔
معلوم ہوا کہ عمر کے نزدیک سوال انتخاب ، اختیار اور شوری کا نہیں تھا ۔ صرف انتا کافی تھا کہ کوئی مسلمان بڑھ کر کسی سے بیعت کرلے تاکہ باقی لوگوں پر حجت  قائم ہوجائے ۔ اسی لیے عمر نے ابو بکر سے کہا کہ ہاتھ بڑھاؤ ۔ابوبکر نے ہاتھ بڑھایا تو عمر نے بلاجھجک اور بلا کسی سے مشورہ کیے فورا اس خوف سے بیعت کرلی  کہ کہیں کوئی دوسرا ان سے بازی نہ لے جائے ۔ اس بات کو عمر نے اس طرح بیان کیا :
ہم ڈرتے تھے کہ اگر ہم ان لوگوں کے پاس چلے گئے اور بیعت نہ ہوئی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ہمارے جانے کے بعد اپنے ہی لوگوں میں سےکسی سے بیعت کرلیں ۔(عمر کوڈرتھا کہ کہیں انصار پہل کرکے
اپنے میں کسی کی بیعت نہ کرلیں)۔
مزید وضاحت اگلے فقرے سے ہوجاتی ہے :
پھر یا تو ہمیں اپنی مرضی کے خلاف ان سے بیعت کرنی ہوگی یا اگر ہم نے مخالفت کی  تو فساد برپا ہوجائے گا ۔(55)
احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ ہم یہاں یہ اعتراف کرلیں کہ عمر بن خطاب نے بیعت کے بارے میں اپنی رائے اپنی زندگی  کے آخری ایام میں بدل  لی تھی ۔ ہوا یوں  کہ انھوں نے جو آخری  حج کیا تھا اس کے دوران  ایک شخص نے عبدالرحمان  بن عوف کی موجودگی میں ان سے آکر کہا تھا : آپ کو معلوم ہے کہ فلاں شخص  کہتا ہے کہ اگر عمر مرجائیں تو میں فلاں سے بیعت کرلوں گا ۔ ابو بکر کی بیعت تو اچانک ہوگئی تھی جو اتفاق سے کامیاب ہوگئی ۔ یہ سن کر عمر بہت ناراض ہوئے  اور مدینے واپسی  کےفورا بعد ایک خطبہ دیا جس میں اور باتوں کے علاوہ کہا :
میں نے سنا ہے کہ تم میں سے کوئی کہہ رہاتھا کہ اگر عمر مرگئے تو میں فلاں شخص کی بیعت کرلوںگا  ۔ کسی شخص کو اس  دھوکے میں نہیں رہنا چاہیے کہ ابوبکر کی بیعت  اچانک ہوئی تھی لیکن کامیاب رہی ۔ یہ بات صحیح ہے اللہ نے اس کے برے نتائج سے محفوظ رکھا ۔(56)
پھر کہا کہ
"جو شخص مسلمانوں سے مشورہ کیے بغیر کسی سےبیعت کرے گا تو نہ بیعت کرنے والے کی بیعت صحیح ہوگی اور نہ بیعت لینے والے کی بیعت ،بلکہ وہ دونوں قتل کردیے جائیں (57)۔
کاش ! سقیفہ کے موقع پر بھی عمر کی یہی رائے ہوتی !
اب یہ بات باقی رہ جاتی ہے کہ عمر نے زندگی کے آخری ایام میں اپنی رائے تبدیل کیوں کرلی ۔کیونکہ انھیں دوسروں سے بہتر طورپر معلوم تھا کہ وہ اپنی رائے کی وجہ سے ابوبکر کی بیعت  کی بنیادیں ڈھارہے ہیں  ، اس لیے کہ انھوں نے بھی ابو بکر  کی بیعت  مسلمانوں سے مشورہ کیے بغیر اچانک کی تھی ۔ نہ صرف یہ بلکہ ان کے اس بیان سے
خود ان کی اپنی بیعت کی بنیادیں ہل گئی اس لیے ابوبکر نے اپنی وفات  کے قریب مسلمانوں  سے مشورہ کیے بغیر ان کے لیے بیعت لی تھی ،یہاں تک کہ بعض صحابہ انے ابو بکر  کی چٹھی سنانے کے لیے عمر باہر نکلے تو کسی نے ان سے پوچھا : ابو حفص ! اس چٹھی میں کیا ہے ؟ عمر نے جواب دیا  مجھے معلوم نہیں ۔ لیکن پہلا میں شخص  ہوں گا جو ابوبکر کے حکم کو سن کر اسے قبول کرےگا ۔ اس شخص نے  اس پر کہا : مگر مجھے معلوم ہے کہ اس میں  کیا ہے ؟ اگلی بار آپ نے انھیں حکمراں بنایا تھا ، اس بار وہ آپ کو حکمران بنارہے ہیں (58)۔
یہ ویسی ہی بات ہے جیسی امام علی ع نے اس وقت کہی تھی جب وہ لوگوں کو ابوبکر کی بیعت کی دعوت دے رہے تھے ، علی ع نے کہاتھا :
دودھ دوہ لو ، تمھیں تمھارا حصہ مل جائے گا ۔ آج تم ان کی خلافت پکی کرو  ، کل وہ خلافت تمھیں لوٹا دیں گے (59)۔
اہم بات یہ ہے کہ ہمیں  یہ معلوم ہونا چاہیے کہ بیعت کےبارے میں عمر نے اپنی رائے کیوں بدلی ؟ میرا خیال یہ ہے کہ انھوں نے سناتھا کہ بعض صحابہ ان کے مرنے کے بعد علی ابن ابی طالب ع سے بیعت کرنا چاہتے ہیں ۔ مگر یہ بات انھیں قطعا پسند نہیں تھی ۔ عمر کو یہ گوارا نہیں تھا کہ کوئی شخص یہ کہے کہ اگر عمر مرگئے تو میں فلاں  شخص سے بیعت کرلوںگا ۔خصوصا ایسی حالت میں جب کہ وہ خود عمر کے اپنے فعل سے استدلال کررہا ہے ۔ اس کہنے والے کا نام تو معلوم نہیں مگر اس میں شک نہیں کہ
یہ کبار صحابہ میں سے کوئی صاحب ہوں گے ۔ یہ صاحب کہہ رہے تھے کہ اگر ابوبکر کی بیعت اچانک ہوئی تھی مگر مکمل ہوگئی یعنی اگرچہ یہ بیعت مشورے کےبغیر اور دفعتا ہوگئی تھی مگر یہ مکمل ہو کر ایک حقیقت بن گئی ۔ اگر عمر اس طرح ابوبکر سے بیعت کرسکتے تھے تو وہ خود کیوں فلاں  سے اس طرح بیعت نہیں کرسکتے "۔
یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ ابن عبّاس ، عبدالرحمن بن عوف اور عمر بن خطاب  اس شخص کا نام نہیں لیتے جس نےیہ بات کہی تھی اور نہ اس شخص کا نام لیتے ہیں ۔جن کی یہ بیعت کرنا چاہتا تھا ۔ لیکن چونکہ یہ دونوں اشخاص مسلمانوں میں بڑی اہمیت رکھتے تھے ، اس لیے عمر یہ بات سن کر بگڑے اور پہلے ہی جمعہ کو جو خطبہ دیا اس  میں خلافت کاذکر چھیڑ کر اپنی نئی رائے کا اظہار کیا ، تاکہ جو صاحب  پھر ایک بار اچانک بیعت کا ارادہ کررہے تھے ان کا راستہ روکا جاسکے  ۔کیونکہ اس بیعت کی صورت میں خلافت فریق مخالف کے ہاتھ میں جانے کا امکان تھا ۔ اس کے علاوہ اس بحث کے بین السطور سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی شخص کی انفرادی رائے نہیں تھی ، یہ رائے بہت سے صحابہ کی تھی ، اس لیے بخاری کہتے ہیں  " اس پر عمر نے بگڑ کر کہا : میں انشااللہ شام کو  تقریر کرکے لوگوں کو ان سے خبر دار کردوں گا جو ان کے معاملات  پر ناجائز قبضہ کرنا چاہتے ہیں (60)۔
اس سے معلوم ہوا کہ عمر کی رائے میں تبدیلی کی اصل وجہ  ان لوگوں  کی مخالفت تھی جو بقول ان کے لوگوں کے معاملات  پر ناجائز قبضہ کرنااور علی ع کی بیعت کرنا چاہتے تھے اور یہ بات عمر کے لیے ناقابل قبول تھی ۔ کیونکہ انھیں یقین تھا کہ خلافت  لوگوں کے طے کرنے کا مسئلہ ہے ۔یہ علی بن ابی طالب ع کا حق نہیں ۔لیکن اگر عمر کا یہ خیال صحیح تھا تو رسول اللہ ص کی وفات کے بعد انھوں نے خود لوگوں کا حق غصب کیوں کیا تھا اور مسلمانوں سے مشورہ کیے بغیر ابوبکر سے بیعت کرنے میں جلدی کیوں کی تھی ؟
ابو حفص عمر کا رویہ ابو الحسن علی ع کے بارے میں سب کو معلوم ہے ۔عمر کی کوشش یہ تھی کہ جہاں تک ممکن ہو علی ع کو حکومت سے دور رکھا جائے ۔
یہ نتیجہ ہم نے صرف مذکورہ بالا خطبے ہی سے اخذ نہیں کیا ہے بلکہ تاریخ کا متتبع کرنے والا ہر آدمی جانتا ہے کہ ابو بکر کے دور خلافت میں بھی عملا عمربن خطاب ہی حکمراں تھے ۔اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ابوبکر نے اسامہ سے اجازت مانگی تھی کہ عمر کو ان کے پاس چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ امور خلافت میں ان سے مدد لیتے رہیں (61)۔
ساتھ ہی ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ابو بکر ، عمر اور عثمان کے پورے دورمیں علی بن ابی طالب کو ذمہ داری کے عہدوں سے دوررکھا گیا ۔ نہ ان کو کوئی منصب دیاگیا ۔نہ کسی صوبے کا گورنر بنایا گیا ، نہ کسی لشکر کا سالار مقررکیا گیا اورنہ خزانہ ان کی تحویل  میں دیا گیا ۔حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ علی بن ابی طالب ع کون تھے ۔
تاریخ کی کتابوں میں اس سے زیادہ عجیب بات یہ لکھی ہے کہ عمر کو مرنے کے قریب اس بات کا افسوس تھا کہ ابو عبیدہ بن جرّاح یا حذیفہ بن یمان کے آزاد کردہ غلام یاسر ، ان دونوں میں سے کوئی اس وقت زندہ نہیں ورنہ وہ ان ہی میں سے کسی کو اپنے بعد خلافت نامزد کردیتے ۔لیکن اس میں شک نہیں کہ بعد میں انھیں خیال آیا کہ اس طرح کی  بیعت کے بارے میں تو وہ اپنی راۓ پہلے ہی بدل چکے ، اس لیے ضروری ہوا کہ بیعت کا کوئی نیا طریقہ ایجاد کیا جائے جس کو درمیانی حل قرار دیا جاسکے ،جس میں نہ تو کوئی فر دواحد اس کی بیعت کرلے جس کو وہ اپنی ذاتی رائے میں مناسب سمجھتا ہو اور پھر دوسروں کو آمادہ کرے کہ وہ بھی اس کی پیروی کریں جیسا کہ خود عمر نے ابو بکر کی بیعت کے وقت کیا تھا ۔ یا جس طرح ابوبکر نے اپنے بعد خلافت کے لیے عمر کو نامزد کردیا تھا۔ یا جیسا کہ ان صاحب  کا ارادہ تھا جو حضرت عمر کی موت کا انتظار  کررہے تھے ۔تاکہ اپنے پسندیدہ شخص کی بیعت کرسکیں  ، لیکن عمر پیش  بندی کرکے ان کے
منصوبے کو ناکام بنادیا تھا ۔ نہ ہی عمر کے لیے  یہ ممکن تھا کہ وہ خلافت  کے معاملے کا تصفیہ مسلمانوں کے شوری پر چھوڑ دیتے کیونکہ وہ اپنی  آنکھوں سے چکے تھے کہ رسول اللہ ص کی وفات کے بعد سقیفہ میں کیسے کیسے اختلاف پیدا ہوگئے تھے اور کس طرح کشت وخون کی نوبت آتے آتے وہ گئی تھی ۔
چنانچہ حضرت عمر نے بالآخر اصحاب شوری کا اصول وضع کیا اور اس اصول کے تحت  ایک چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی جس کے خلیفہ کے انتخاب کا مکمل اختیار تھا اور اس کمیٹی کے ارکان  کے علاوہ مسلمانوں میں سے کسی کو اس معاملے میں دخل دینے کا حق نہیں تھا ۔ حضرت عمر کو معلوم تھا کہ ان چھ ارکان میں بھی اختلاف  پیدا ہونا ناگریز ہے اس لیے انھوں  ہدایت جاری کی کہ اختلاف کی صورت میں اس فریق کا ساتھ دیا جائے جس میں عبدالرحمان بن عوف ہوں ، خواہ  یہ ارکان  تین تین کے دو مساوی  گروہوں میں تقسیم ہوجائیں اور اس گروہ کو قتل ہی کردینا پڑے  جو عبدالرحمان بن عوف کے خلاف ہو۔لیکن عمر کو یہ بھی معلوم تھا  کہ ایسا ہونا ممکن نہیں ۔ کیونکہ سعد بن ابی وقاص عبدالرحمان  بن عوف کے چچازاد بھائی تھے اور ان دونوں کا تعلق قبیلہ بنی زہرہ تھا ۔ ۔۔۔۔عمر کو یہ بھی معلوم تھا کہ سعد بن ابی وقاص علی ع سے خوش نہیں ،ان کی دل ہیں علی ع کی طرفسے بعض ہے کیونکہ علی ع نے ان کی ننھیال عبد شمس  کے بعض افراد کو غزوات میں قتل کیا تھا ۔
عمر کو یہ بھی معلوم تھا کہ عبدالرحمان بن عوف عثمان کے بہنوئی کیونکہ ان کی بیوی  ام کلثوم عثمان کی بہن ہیں ۔
۔۔۔۔یہ بھی جانتے تھے کہ طلحہ کا بھی جھکاؤ عثمان کی طرف ہے بعض راویوں نے ان دونوں کے درمیان  تعلقات کا  ذکر کیا ہے ۔ عثمان کی طرف طلحہ  کے جھکاؤ کا ایک سبب یہ تھا کہ طلحہ علی ع کوپسند نہیں کرتے تھے ۔وجہ یہ تھی کہ طلحہ تیمی تھے اور حضرت ابو بکر کے منصب خلافت پر خلافت فائزہوجانے کے بعد سے بنی ہاشم اور بنی تیم کے تعلقات ناخوشگوار ہوگئے تھے (62)۔
حضرت عمر کو یہ سب معلوم تھا اور انھی باتوں کے پیش نظر انھوں نے خاص طور پر ان چھ افراد کا انتخاب کیا تھا ، جو سب کے سب مہاجر اور قریشی تھے ، کوئی بھی انصار میں سے نہیں تھا ۔ ان میں سے ہر ایک کسی ایسے قبیلے  کی نمائندگی  کرتا تھا جس کی اپنی  اہمیت تھی اور اپنا اثر ورسوخ تھا ۔
1:- علی بن ابی طالب ۔ بنی ہاشم کے بزرگ ۔2:- عثمان بن عفان ۔ بنی امیہ کے بزرگ ۔
3:- عبدالرحمن بن عوف ۔ بنی زہرہ کے بزرگ ۔4:- طلحہ بن عبیداللہ ۔بنی تیم کے بزرگ ۔
5:-سعد بن ابی وقاص ان کا تعلق بھی بنی زہرہ سے تھا ۔ ننھیال بنی امیہ تھی ۔
6:- زبیر بن العوام ۔رسول اللہ ص کی پھوپھی  صفیہ کے صاحبزادے  اور اسماء  بنت ابی بکر کے شوہر ۔
یہ تھے وہ زعماء اور ارباب حل وعقد جن کا فیصلہ سب مسلمانوں کے لیے واجب العمل تھا ۔ خواہ وہ مسلمان مدینے کے باشندے ہوں یا دنیائے اسلام  میں کسی اور جگہ کے ۔مسلمانوں  کا کام چون وچرا کے بغیر حکم کی تعمیل تھا ۔ اگر کوئی تعمیل حکم نہ کرتا تو پھر اس کا خون معاف تھا ۔ یہ تھے وہ حالات جو ہم قاری  کےذہن نشین کرانا چاہتے تھے ، بالخصوص اس مقصد سے کہ یہ معلوم ہوجائے  کہ نص غدیر کے سلسلے میں خاموشی کیوں اختیار کی گئی تھی ۔اگر یہ مان لیا جائے کہ حضرت عمر کو ان چھ افراد کے خیالات اور ان کے طبعی رجحانات کا علم تھا تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انھوں نے اپنی طرف سے عثمان بن عفان کوخلافت  کےلیے نامزد کردیا تھا ، یا یوں کہاجاسکتا کہے کہ انھیں پہلے سے  علم تھا کہ یہ چھ رکنی کمیٹی علی بن ابی طالب ع کے حق میں فیصلہ نہیں دے گی ۔
یہاں میں ذرا رک کر اہل سنت اور ان سب لوگوں سے شوری اور آزادی  خیال کے اصول پر فخر کرتے ہیں یہ پوچھنا چاہتاہوں کہ وہ شوری کے اصول میں اور اس نظریے میں جو عمرنے ایجاد کیا تھا کیسے ہم آہنگی پیدا کریں گے کیونکہ اس چھ رکنی کمیٹی کو مسلمانوں نے نہیں بلکہ حضرت عمر نے اپنی رائے سے منتخب اور مقرر
کیا تھا ۔ اس صورت میں ہمیں کم از کم یہ اعتراف کرلینا چاہیے کہ اس نظریے کے مطابق اسلام میں حکومت کا نظام جمہوری نہیں ہے جیسا کہ شوری اور انتخاب کے حامی فخریہ دعوی کرتے ہیں ۔
اس بنیاد پر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ شاید عمر شوری کے قائل نہیں تھے  وہ خلافت کو صرف مہاجرین کا حق سمجھتے تھے ۔بلکہ اس سے بھی بڑھ کر حضرت ابو بکر  کی طرح ان کا خیال یہ تھا خلافت  صرف قریش سے مخصوص ہے کیونکہ مہاجرین میں تو بہت سے غیر قریشی بھی تھے بلکہ غیر  عرب بھی تھے ۔ اس لیے سلمان فارسی  ، عمار ، بلال حبشی ، صہیب رومی ، ابو ذرغفاری اور ہزاروں دوسرے صحابہ جو قریشی نہیں تھے ، انھیں کوئی حق نہیں تھا کہ  وہ خلافت کے معاملےمیں کچھ بولیں ۔ یہ محض  دعوی نہیں ۔ حاشا وکلا ! یہ ان کا عقیدہ تھا جو انہ ہی کی زبانی تاریخ اور حدیث میں محفوظ ہے ۔ آئیے ، اس خطبے کو دوبارہ دیکھیں جو بخاری اور مسلم نے اپنی صحیحین میں قلمبند کیا ہے :
عمربن خطاب کہتے ہیں کہ :میرا ارادہ بولنے کا تھا ۔ میں نے ایک تقریر جو مجھے اچھی لگی تیار کرلی تھی۔ یہ تقریر میں  نے ابوبکر سے پہلے کرنا چاہتا تھا ۔ میں کسی حدتک ہوشیار ی سے کام لے رہا تھا ۔ جب میں نے بولنا چاہا ، ابو بکر نےکہا : ٹھہرو ! میں خاموش ہوگیا کیونکہ میں ابوبکر کو ناراض کرنا نہیں چاہتا تھا ۔ اس کے بعد ابو بکر نے خود تقریر کی ۔وہ میری نسبت زیادہ متانت اور وقار سے بولے ۔ میری تیار کی ہوئی تقریر میں کوئی ایسا لفظ نہیں تھا جو مجھے اچھا لگتا ہو ، اور ابو بکر نے فی البدیہ وہی لفظ  یا اس سے بہتر  لفظ استعمال نہ کیا ہو ۔ ابو بکر نے انصار کو مخاطب کرکے کہا : تم نے جو اپنے فضائل ومحاسن بیان کیے ہیں واقعی تم ان کے مستحق ہو ، لیکن جہاں تک اس معاملہ کا تعلق ہے یہ قریش کا حق ہے (63)
اس سے معلوم ہوا کہ ابوبکر اور عمر شوری اور آزادی اظہار کے اصول کے قائل نہیں تھے ۔ بعض مورخین کہتے ہیں کہ ابوبکر نے اپنی تائید میں انصار کے سامنے یہ حدیث نبوی پیش کی کہ "الخلافة فی قريش " اس میں شک نہیں کہ یہ صحیح حدیث ہے ،لیکن اس کی اصل وہ حدیث ہے جو بخاری ،مسلم اور سنی اور شیعہ تمام حدیث کی مستند کتابوں کی متفقہ روایت ہےکہ  رسول اللہ ص نے فرمایا :
"الخلفاء من بعدي اثنا عشرکلّهم من قريش"
میرے بعد بارہ خلفاء ہوں گے جو سب  قریش میں سے ہونگے ۔ اس سے بھی زیادہ واضح یہ حدیث ہے :
"لا يزال هذا الأمر في قريشٍ ما بقي من النّاس اثنان."
یہ چیزیں قریش ہی میں رہے گی جب تک دوآدمی بھی باقی ہیں ۔(64) ایک اور حدیث ہے کہ
"النّاس تبع لقريشٍ في الخير والشّر."(65)
سب لوگ قریش کے تابع ہیں بھلائی میں بھی ، برائی میں بھی ،برائی میں بھی ۔ جب سب مسلمان ان احادیث پر یقین رکھتے ہیں تو کوئی کیسے کہہ سکتا ہے کہ رسول اللہ نے خلافت کا معاملہ مسلمانوں پر چھوڑ دیا تھا کہ وہ باہمی مشورے سے جسے چاہیں خلیفہ منتخب کرلیں ، آپ ہی انصاف سے بتائیں کیا یہ تضاد نہیں ؟
اس تضاد سے چھٹکارا صرف اسی صورت میں ممکن ہےجب ہم ائمہ اہل بیت ع ان کے شیعہ اور بعض علمائے اہل سنت کا یہ قول تسلیم کرلیں کہ جناب رسول اللہ ص نے خود خلفاء کے ناموں اور ان کی تعداد کی تصریح کردی تھی ۔ اس طرح ہم عمر کا موقف بھی بہتر طور پر سمجھ سکیں گے جو ان کے اپنے اجتہاد پر مبنی تھا ۔وہ نص کو علی کے حق میں جو قریش میں سب سے چھوٹے تھے ، قبول کرنا ضروری نہیں سمجھتے تھے بلکہ مذکورہ بالا حدیث کا اطلاق عمومی طورسب قریش پر کرتے تھے ۔
اسی وجہ انھوں نے اپنے مرنے قبل چھ ممتاز قریشیوں کی ایک کمیٹی قائم کی تھی تاکہ احادیث نبوی کے درمیان  کہ خلافت پر صرف قریش کا حق ہے ،ہم آہنگی  پیدا کرسکیں ۔
اس کے باوجود کہ یہ پہلے  سے معلوم تھا کہ اس کمیٹی کے ارکان  علی ع کا انتخاب  نہیں کریں گے ، پھر بھی علی ع کو اس کمیٹی میں شامل کرنا شاید اس کی ایک تدبیر تھی  کہ علی ع کو مجبور کیا جائے کہ وہ بھی آجکل کی اصطلاح  کے مطابق سیاست کے کھیل میں شامل ہوجائیں تاکہ ان کے شیعوں اور حامیوں کے پاس جو ان کی اولیت کے قائل ہیں کوئی دلیل باقی نہ رہے ۔ لیکن امام علی ع نے اپنے ایک خطبہ میں عوام کے سامنے اس پر گفتگو کی ۔ آپ نے کہا :
میں نے بہت دن صبر کیا اور بہت تکلیف اٹھائی ۔آخر جب وہ (خلیفہ)دنیا سے جانے لگا تو معاملہ ایک جماعت کے ہاتھ میں سونپ گیا اور مجھے بھی اس جماعت کی ایک فردخیال کیا ، جبکہ واللہ مجھے اس  شوری سے کوئی لگاؤ نہیں تھا ۔ ان میں کے پہلے صاحب (ابوبکر)کی نسبت میری فضلیت میں شک ہی کب تھا جو اب ان لوگوں نے مجھے اپنے جیسا سمجھ لیا ہے؟ (لیکن میں جی کڑا کرکے شوری میں حاضر ہوگیا ) اور نشیب وفراز میں ان کے ساتھ ساتھ چلامگر ان میں سے ایک نے بغض وحسد کے مارے میرا ساتھ نہ دیا اور دوسرا دامادی اور ناگفتہ بہ باتوں کی وجہ سے ادھر جھک گیا ۔(66)

 چھوتھی بات یہ ہے امام علی ع نے ہردلیل پیش کی گئیں بے سود ۔کیا امام علی ع ان لوگوں سے بیعت کی بھیک مانگتے جنھوں نے ان سے منہ پھیر لیا تھا ، اور جن کے دل دوسرے کی طرف جھک گئے تھے ۔ اور جو امام علی ع سے اس لیے حسد کرتے تھے  کہ ان پر اللہ کا فضل تھا یا اس لیے بغض رکھتے تھے کہ امام علی ع نے ان کے سرداروں کو قتل کیا تھا ، ان کےبہادروں کو کچل دیا تھا ، ان کی عزت خاک میں ملادی تھی ، ان کو نیچا دکھایا تھا ، ان کا غرور اپنی بہادری سے توڑدیا تھا ،یہاں تک  کہ وہ اسلام لانے اور اطاعت کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ اس پر بھی علی ع سربلند تھے اور اپنے ابن عم کا دفاع کرتے تھے ۔انھیں اللہ کے راستے میں کسی کی ملامت کی پروا نہیں تھی ۔دنیا کی کوئی شے ان کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتی تھی ۔ رسول اللہ ص کو اس کا بخوبی علم تھا اور ہو ہر موقع پر اپنے چچا زاد بھائی کے فضائل ومحاسن بیان کیاکرتے تھے کبھی فرماتے :
"حبّ عليّ ٍ إيمان وّبغضه نفاق"(67)
علی کی محبّت ایمان اور علی سے بغض نفاق ہے ۔
کبھی کہہتے :
"عليٌّ مّنّي وأنامن عليّ "ٍ(68) علی ع مجھ سے ہے اور میں علی ع سے ہوں ۔
"عليّ وّليّ کلّ مؤمن ٍ بعدي "(69) علی ع میرے بعد ہر مومن کے سرپرست ہیں ۔ اور آپ نے یہ بھی فرمایا:
"عليٌّ باب مدينة علمي وأبوولدي"(70)
علی ع میرے شہر علی کا دروازہ اور میرے بچوں کے باپ ہیں ۔ آپ نے فرمایا :
"عليٌّ سيّدالمسلمين وإمام المتقّين وقائدالغرّالمحجلين ."(71)
علی ع مسلمانوں کے سردار ،متقیوں کے پیشوا اور ان لوگوں کے سالار ہیں جو روزقیامت سرخرو ہوں گے ۔
لیکن افسوس کہ اس سب  کے باوجود ان لوگوں کا حسد اوربغض بڑھتا ہی  گیا اس لیے اپنی وفات سے چند روز قبل رسول اللہ ص نے علی ع کو بلا کر گلے سے لگایا اور روتے ہوئے کہا :
علی ! میں جانتا ہوں کہ لوگوں کے سینوں میں تمھاری طرف سے جو بغض ہے وہ میرے بعد کھل کر سامنے آجائے گا ۔ لہذا اگر تم سے بیعت کریں تو قبول کرلینا ورنہ صبر کرنا ، یہاں تک کہ تم مظلوم ہی میرے پاس آجاؤ ۔(72)
پس اگر ابو الحسن ع نے ابو بکر کی جبری بیعت کے بعد صبر کیا ، تو اس کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ نے انھیں وصیت کی تھی ۔اس کی مصلحت صاف ظاہر ہے ۔
پانچویں بات یہ کہ پچھلی  باتوں کے ساتھ ایک اور بات کا اضافہ کرلیجیے ۔مسلمان جب قرآن کریم پڑھتا ہے اور اس کی آیات پر غور کرتا ہے ، تو اسے ان قرآنی قصّوں سے جن میں پہلی امّتوں کا ذکر ہے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے یہاں ہم سے بھی زیادہ ناخوشگوار واقعات پیش آئے ۔
یہ دیکھئے !
<>قابیل نے اپنے بھائی  کا سفاکی سے قتل کردیا ۔
<>جدّالانبیاء حضرت نوح ع کی ہزار سالہ کوشش کے بعد بھی بہت کم لوگ ان پر ایمان لائے ۔ان کا اپنا بیٹا اور بیوی کافر تھے ۔
<>حضرت لوط کے گاؤں میں صرف ایک ہی گھر مومنین کا تھا ۔
<>فراعنہ  جنھوں نے دنیا  میں کبریائی کا دعوی کیا اور لوگوں کو اپنا غلام بنایا  ان کے یہاں صرف ایک فرد مومن تھا ، وہ بھی تقیہ کیے ہوئے تھا یعنی اپنے ایمان  کو چھپائے ہوئے تھا ۔
<>حضرت یوسف ع کے بھائیوں کو لیجیے ، انھوں نے حسد کی وجہ سے اپنے بے قصور بھائی  کے قتل کی سازش کی اور اسے محض اس لیے قتل کرنا چاہا کہ وہ ان کے باپ حضرت یعقوب کو زیادہ محبوب تھا ۔
<>اور یہ بنی اسرائیل ہیں ، انھیں اللہ نے حضرت موسی ع کے ذریعے نجات دلائی ، ان کے لیے سمندر کے پانی کو پھاڑدیا ۔ انھیں جہاد کی تکلیف بھی نہیں اٹھانی پڑی اور اللہ نے ان کے دشمنوں ، فرعون اور اس کے لشکریوں کو ڈبودیا ۔مگر ہوا کیا؟ ابھی سمندر سے باہر نکل کر ان کے پاؤں سوکھے بھی نہیں تھے کہ یہ ایک ایسی قوم کے پاس پہنچے جو بتوں کی پوجا کرتی تھی تو کہنے لگے :" موسی! جیسے ان کے دیوتا ہیں  ، ویسا ہی ایک دیوتا ہمارے لیے بھی بنادو ۔ موسی نے کہا : تم تو جاہل لوگ ہو ۔ اورجب  موسی اپنے پروردگار سے ملاقات کے لیے روانہ ہوئے  اور اپنی عدم موجودگی میں اپنے بھائی ہارون  کو اپنا قائم مقام کرگئے تو لوگوں نے ان کے خلاف سازش کی اور قریب تھا کہ انھیں مارڈالتے ۔یہی نہیں انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر ایک بچھڑے کی پوجا شروع کردی ۔ اس قوم کے لوگوں نے بہت سے انبیاء کو قتل کیا ہے ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
"أَفَکُلَّمَا جَاءکُمْ رَسُولٌ بِمَا لاَ تَهْوَى أَنفُسُکُمُ اسْتَکْبَرْتُمْ فَفَرِيقاً کَذَّبْتُمْ وَفَرِيقاً تَقْتُلُونَ"
کیاایسا نہیں ہوا کہ جب کبھی کوئی رسول تمھارے پاس وہ کچھ لایا جو تمھیں پسند نہیں تھا تو تم نے سرکشی اختیارکی اور کچھ کو جھٹلایا اور کچھ کو قتل کردیا ؟(سورہ بقرہ ۔ آیت 87)
<>حضرت  یحیی کو دیکھیے ! وہ نبی تھے ، پاک دامن تھے اور نیک تھے انھیں قتل کیا گیا اور ان کا سرتحفہ کے طور پر بنی اسرائیل کی ایک رنڈی کو بھیج دیا ۔
<>یہود ونصاری نے حضرت عیسی کو قتل کرنے  اور صلیب پرچڑھانے کی سازش کی ۔ خود اس امت محمدیہ نے تیس ہزار کا لشکر رسول اللہ ص کے لخت جگر اور اہل جنّت کے سردار امام حسین ع کو قتل کرنے کے لیے تیار کیا ۔ حالانکہ ان کے ساتھ فقط ستر بہتر اصحاب تھے ۔ لیکن ان لوگوں نے امام حسین ع اور ان کے سب اصحاب کو قتل کردیا ۔ حدیہ ہے کہ امام ع کے دودھ پیتے بچے تک کو نہ چھوڑا ۔
اس کے بعد حیرت کی کون سی بات باقی رہ جاتی ہے ؟ رسول اللہ ص نے خود اپنے اصحاب سے فرمایا تھا :
تم جلد اپنے سے پہلوں کے طور،طریقوں پر چلو گے ۔تم وجب بہ وجب اور ذراح ذراع  یعنی ہو بہو ان کا اتباع کروگے ۔اگر وہ گوہ کے بھٹ میں گھسے ہوں گے تو تم بھی اس میں گھس جاؤ  صحابہ  نے پوچھا  : کیا آپ کی مراد یہود ونصاری سے ہے ؟ آپ نے فرمایا : تو اور کس سے ؟(73)
حیرت کیسی ! ہم خود بخاری و مسلم میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا یہ قول پڑھتے ہیں :
"قیامت  کے دن میرے اصحاب کو بائیں طرف لایا جائے گا تو میں پوچھوں گا : انھیں کدھر لے جارہے ہو؟ کہا جائے گا : جہنّم  کی طرف ۔میں کہوں گا : اے میرے پروردگار ! یہ تو میرے  اصحاب ہیں ۔ کہا جائے گا : آپ کو معلوم نہیں ، انھوں نے آپ کےبعد دین میں بدعت پیدا کی ۔ میں کہوں گا : دور ہو وہ جس نے
میرے بعد  دین میں تبدیلی کی میں دیکھتا ہوں کہ ان میں سے بہت ہی کم نجات پائیں گے ۔ (74)
ایک اور حدیث ہے کہ
میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی جو سب کے سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے "(75)
سچ کہا ربّ العزّت نےجو دلوں کےبھید جاننے والا ہے وہ فرماتا ہے :
" وَمَا أَکْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِي "
گو آپ کا کیسا ہی جی چاہے ، اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں (سورہ یوسف ۔آیت 103)
" بَلْ جَاءهُم بِالْحَقِّ وَأَکْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ کَارِهُونَ "
بلکہ یہ رسول  ان کے پاس حق لے کر آئے لیکن ان میں سے بیشتر حق کو ناپسند کرتے ہیں ۔(سورہ  مومنون ۔آیت 70)
" لَقَدْ جِئْنَاکُم بِالْحَقِّ وَلَکِنَّ أَکْثَرَکُمْ لِلْحَقِّ کَارِهُونَ "
ہم نے حق تم تک پہچادیا لیکن تم میں اکثر حق سے بیزار ہیں ۔(سورہ زخرف ۔آیت 78)
" أَلاَ إِنَّ وَعْدَ اللّهِ حَقٌّ وَلَـکِنَّ أَکْثَرَهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ "
یاد رکھو! اللہ کا وعدہ سچا ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے ۔(سورہ یونس ۔ آیت 55)
" يُرْضُونَکُم بِأَفْوَاهِهِمْ وَتَأْبَى قُلُوبُهُمْ وَأَکْثَرُهُمْ فَاسِقُونَ "
تمھیں باتوں سے خوش کرتے ہیں اور دل ان کے انکاری ہیں اور زیادہ تر ان میں بد عمل ہیں ۔(سورۃ توبہ ،آیت 8)
" إِنَّ اللّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَـکِنَّ أَکْثَرَهُمْ لاَ يَشْکُرُونَ "
بے شک اللہ لوگوں پر بڑاافضل کرنے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر ناشکر ہیں ۔(سورہ یونس ۔آیت 50)
" يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللّهِ ثُمَّ يُنکِرُونَهَا وَأَکْثَرُهُمُ الْکَافِرُونَ "
یہ لوگ اللہ کی نعمت کو پہچانتے ہیں پھر اس اس کا انکار کرتے ہیں اور اکثر ان میں سے کافر ہیں ۔(سورہ نحل ۔آیت 83)
" وَلَقَدْ صَرَّفْنَاهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّکَّرُوا فَأَبَى أَکْثَرُ النَّاسِ إِلَّا کُفُوراً "
ہم اس (پانی) گو ان کے درمیان تقیسم کردیتے ہیں تاکہ وہ  غور کریں ۔ تاہم اکثر لوگ ناشکرے ہوئے بغیر نہیں رہتے ۔(سورہ فرقان ۔آیت 50)
" وَمَا يُؤْمِنُ أَکْثَرُهُمْ بِاللّهِ إِلاَّ وَهُم مُّشْرِکُونَ "
ان میں سے اکثر لوگ اللہ پر ایمان بھی لاتے ہیں پھر بھی شرک کیے جاتے ہیں۔(سورہ یوسف ۔آیت 106)
" بَلْ أَکْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ الْحَقَّ فَهُم مُّعْرِضُونَ "
لیکن اکثر لوگ حق سے ناواقف ہیں اس لیے اس سے روگردانی کرتے ہیں ۔(انبیاء۔آیت 24)
" أَفَمِنْ هَذَا الْحَدِيثِ تَعْجَبُونَ (٥٩) وَتَضْحَکُونَ وَلَا تَبْکُونَ (٦٠) وَأَنتُمْ سَامِدُونَ (٦١) "
کیا تم اس کلام سے تعجب کرتے ہو اور ہنستے ہو اور روتے نہیں ، تم غفلت میں پڑے ہوتے ہو ۔(سورہ نجم ۔آیات 59-61)

حسرت وافسوس

یہ واقعات پڑھ کر نہ صرف مجھے بلکہ ہر مسلمان کو افسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے امام علی ع کو خلافت سے دوررکھ کر اپنا کتنا بڑا نقصان کردیا ۔ امّت نہ صرف ان کی حکیمانہ قیادت سے محروم ہوگئی بلکہ ان کے علوم  کے بحر ذخار سے بھی صحیح معنی میں استفادہ نہ کرسکی ۔
اگر مسلمان تعصب اور جذباتیت  سے بالا ہوکر دیکھیں تو انھیں تو انھیں صاف نظر آئیگا  رسول اعظم  کےبعد علی ع ہی اعلم الناس ہیں ۔ تاریخ شاہد ہے کہ علمائے صحابہ جب بھی کوئی مشکل پیش آتی تھی تو حضرت علی ع ہی کی طرف رجوع کرتے تھے اور آپ فتوی دے کر ان کی مشکل کشائی فرماتے تھے ۔ عمربن خطاب تو اکثر کہا کرتے تھے ۔

"لولا عليٌّ لّهلک عمر".
اگر علی ع نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوگیا ہوتا ۔(76)
یہ بھی یادرہے کہ خود امام علی علیہ السلام نے کبھی کسی  صحابی ے کچھ بھی نہیں پوچھا تاریخ معترف ہے کہ علی ابن ابی طالب ع صحابہ میں سب سے زیادہ بہادر اور سب سے زیادہ طاقتور تھے ۔ کئی موقعوں پر ایسا ہوا کہ دشمن نے پیش قدمی کی  تو بہادر صحابہ بھی بھاگ کھڑے ہوئے لیکن امام علی ع ہر موقع پر ثابت قدم رہے ۔اس کی دلیل کے لیے وہ امتیازی سند کافی ہے جو رسول اللہ ص نے اس وقت عطا فرمائی  جب آپ نےیہ کہا کہ
" کل میں اس شخص کو علم دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور رسول اس سے محبت رکھتے  ہیں ۔ جو آگے بڑھ کر حملہ کرنے والا ہے ، پیٹھ دکھانے والا نہیں ! اللہ نے اس کے دل کو ایمان  کے لیے جانچ لیا ہے ۔
سب صحابہ کی نظریں علم پر لگی تھیں مگر رسو اللہ نے علم  علی بن ابی طالب ع کو عطا فرمایا ۔(77)
مختصر یہ کہ علم وحکمت اور قوت وشجاعت امام علی ع کی ایسی خصوصیات ہیں جن سے شیعہ وسنی سب ہی واقف ہیں اور اس بارے میں دوراتیں نہیں ہوسکتیں (78) نص غدیر سے قطع نظر جس سے امام علی ع کی امامت ثابت ہوتی ہے ۔قرآن کریم قیادت وامامت کا مستحق صرف عالم  ،شجاع اور قوی کو قراردیتا ہے ۔علماء کی پیروی واجب ہونے کے بارے میں اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشادہ ہے :
" أَفَمَن يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لاَّ يَهِدِّيَ إِلاَّ أَن يُهْدَى فَمَا لَکُمْ کَيْفَ تَحْکُمُونَ "
کیا وہ شخص جو حق کا راستہ دکھائے زیادہ مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو اس وقت تک راستہ نہیں دکھاسکتا  جب تک خود اسے راستہ نہ دکھایا جائے تمھیں کیا ہوگیا ہے ،تم کیسے فیصلے کرتے ہو؟(سورہ یونس ۔آیت 35)
بہادر اور جری کی قیادت کے واجب الاتباع ہونے کے بارے میں قرآن کریم میں ہے ۔:
" قَالُوَاْ أَنَّى يَکُونُ لَهُ الْمُلْکُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْکِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ قَالَ إِنَّ اللّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْکُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاللّهُ يُؤْتِي مُلْکَهُ مَن يَشَاءُ وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ "
وہ کہنے لگے : اسے ہم پر حکمرانی کا حق کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ بہ نسبت اس کے ہم حکمرانی کے زیادہ مستحق ہیں ۔ اور اس کو  تو کچھ مالی وسعت بھی نہیں دی گئی ۔ پیغمبر  نے جواب میں کہا : اول تو اللہ تعالی نے اس کو تمھارے مقابلے میں منتخب فرمایا ہے  دوسرے یہ کہ علم  اورجسامت دونوں میں اللہ نے اس کو زیادتی دی ہے ۔ اللہ تعالی اپنا ملک جس کو چاہتا ہے دیتا ہے ۔ اللہ تعالی وسعت دینے والا ، جاننے والا ہے ۔ (سورہ بقرہ ۔ آیت 246)
اللہ تعالی نے امام علی ع کو بہ نسبت دوسرے صحابہ کے علم میں بڑی وسعت عطا کی تھی اور وہ صحیح معنی میں شہر علی کا دروازہ تھے ۔ رسول اللہ کی وفات کے بعد صحابہ ان ہی سے رجوع کرتے تھے ۔ صحابہ کو جب کوئی ایسا مشکل مسئلہ درپیش ہوتا تھا جسے  وہ حل نہیں کرپاتے تھے تو کہا کرتے تھے :
"معضلةٌ وّليس لهآ إلّا أبو الحسن ".
یہ وہ مشکل  ہےجسے ابو الحسن کے سوا کوئی حل نہیں کرسکتا (79)
امام علی ع کو اللہ تعالی نے جسم میں بھی وسعت عطافرمائی تھی بہ این معنی کہ وہ واقعی اسداللہ الغالب تھے ۔ ان کی قوت وشجاعت صدیوں سے زبان زدخاص وعام ہے ۔ مورخین نے ان کی قوت وشجاعت کی ایسی داستانیں رقم کی ہیں جو معجزہ  سے کم نہیں ۔مثلا :
•    باب خیبر  کو اکھاڑنا جسے بعد میں 20 صحابی مل کر  ہلا بھی نہ سکے (80)
•    کعبے کی چھت  پر سے بڑے بت ہبل کو اکھاڑنا ۔(81) اور
•    اس مضبوط چٹان کو الٹ دینا جسے پورا لشکر بھی نہیں ہلا سکتاتھا ۔(82)
جب بھی موقع ہوتا رسول اللہ ص اپنے چچازاد بھائی کی خوبیاں اورفضائل بیان فرماتے اور لوگوں کو ان کی خصوصیات اور امتیازات  سےباخبر کرتے رہتے تھے ۔ کبھی فرماتے :
"إنّ هذا أخي وصيّي وخليفتي من بعدي فاسمعواله وأطيعوه."
یہ میرے بھائی ، میرے وصی اور میرے بعد میرے خلیفہ ہیں اس لیے ان کی بات سنو اور جو کچھ وہ کہیں اس پر عمل کرو (83)
کبھی فرماتے :
"أنت منّي بمنزلة هارون من مو سى إلّا أنّه لانبي بعدي ".
یعنی جو نسبت ہارون کو موسی سے تھی وہی نسبت تمھیں مجھ سے  ہے ، بس یہ فرق ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا ۔(84)
کبھی فرماتے :
"من أرادأن يّحيا حياتي ويموت مماتي ويسکن جنّة الخلد الّتي وعدني فليوال على بن أبي طالبٍ فإنّه  لن يخرجکم من هدىً ولن يدخلکم في ضلالةٍ."
جو کوئی یہ چاہتا ہے کہ میری طرح جیے اور میری موت مرے اورخلد بریں میں رہے  جس کا مجھ سے میرے پروردگار نے وعدہ کیا ہے اسے چاہے کہ علی بن ابی طالب ع کا دوست بن جائے کیونکہ علی ع تمھیں کھبی ہدایت کے دائرہ سے خارج نہیں کریں گے اور نہ کبھی گمراہی کے دائرے میں داخل کریں گے ۔(85)
سیرت رسول ص کا متبّع کرنےوالے کو معلوم ہوگا کہ رسول اللہ ص نے کبھی صرف اقوال پر اکتفاء نہیں فرمایا  بلکہ ان اقوال پر عمل بھی کرکے دکھایا ہے ۔ چنانچہ آپ نے اپنی زندگی میں کسی صحابی کو علی ع پر امیر مقررنہیں فرمایا جب کہ دوسرے صحابہ ایک دوسرے پر امیر مقرر ہوتے رہتے تھے ۔ غزوہ ذات السلاسل میں ابو بکر اور عمر پر عمر وبن عاص کو امیر مقرر فرمایا تھا (86)
اسی طرح آپ نے تمام کبار صحابہ پر ایک کم عمر نوجوان اسامہ بن زید کو اپنی وفات سے کچھ قبل امیر مقرر فرمادیا تھا ۔ مگر علی بن ابی طالب ع کو جب بھی کسی دستہ کے ساتھ بھیجا آپ ہی امیر ہوئے ۔
ایک مرتبہ آپ نے دو دستے روانہ فرمائے ایک کا امیر علی کو بنایا اور دوسرے کا خالد بن ولید کو ۔ اس موقع پر آپ نے کہا کہ تم دونوں الگ الگ رہو تو تم میں سے ہر ایک اپنے لشکر کا امیر ہے لیکن اگر اکٹھے ہوجاؤ تو علی ع پورے لشکر کے سالا ہوں گے ۔
اس تمام بحث سے ہمارے نزدیک یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ رسول اللہ کے بعد علی ع ہی مومنین کے ولی ہیں اور کسی کو ان سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے ۔لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ مسلمانوں نے اس سلسلے میں سخت نقصان اٹھایا اور آج اٹھارہے ہیں کیونکہ اس وقت جو بویا تھا اسی کا پھل کاٹ رہے ہیں ۔ اگلوں نے جو بنیادرکھی تھی پچھلوں نے اس کا انجام دیکھ لیا !کیا علی ع کی خلافت سے بہتر خلافت راشدہ کا کوئی تصور کرسکتا ہے ۔ اللہ اور اس کے رسول ص نے اس بارے میں جو پسند کیا تھا اگر مسلمان اس کا اتباع کرتے تو علی ع ایک ہی طریقے پر اس امت کی قیادت تیس سال تک بالکل اسی طرح کرسکتے تھے جیسے رسول اللہ ص نے کی تھی ۔ یہ اس اس لیے ضروری تھا کہ ابو بکر اور عمر نے متعدد موقعوں پر اپنی رائے  سے اجتہاد کیا اور بعد میں ان کا اجتھاد بھی ایسی سنت بن گیا  جس کی پیروی ضروری خیال کی جانے لگی تھی ۔ جب عثمان خلیفہ ہوئے تو انھوں نے اور بھی
زیادہ تبدیلیاں کیں ۔ بلکہ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے توکتاب اللہ ، سنت رسول   اللہ ص اور سنت شیخین سب کو بد ل دیا ۔ اس پر صحابہ نے اعتراض بھی کیا : اور باالآخر ایک عوامی انقلاب میں خود ان کی جان بھی گئی  لیکن اس سے امت میں ایسا فتنہ پیدا ہوا کہ آج تک اس کے زخم مندمل نہیں ہوسکے ۔
اس  کےبرخلاف علی ع سختی سے قرآن وسنت کی پابندی کرتے تھے اور ان سے سرموانحراف کے لیے تیار نہیں تھے ۔اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ انھوں نے اس وقت خلافت قبول کرنے سے انکار کردیا تھا جب ان پر یہ شرط عائد  کی گئی تھی کہ وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ص کے ساتھ سنت شیخین کا بھی اتباع کریں گے پوچھنے والا پوچھ سکتا ہے کہ علی ع کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی پابندی پر اس قدر زورکیوں دیتے تھے جب کہ ابو بکر ، عمر اور عثمان اجتہاد اور تغییر پر مجبور ہوگئے تھے ؟
اس کا سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ علی  ع کے پاس وہ علم تھا جو اور کسی کے پاس نہیں تھا ۔رسول اللہ  ص نے انہیں خاص طور پر علم کے ہزار دروازوں سے ممتاز فرمایا تھا اور ان ہزاروں میں سے ہر ایک سے ہزار اور دروازے کھلتے تھے (87)۔ رسو ل اللہ ص  علی سے کہا تھا کہ :
"اے علی  ! میرے بعد میری امت میں جن امور کےبارے میں اختلاف ہوگا تم ان کو صاف صاف بیان کروگے (88)۔رہے دوسرے خلفاء ! انھیں قرآن کی تاویل تو درکنا ر قرآن کے بہت سے ظاہری احکام بھی معلوم نہیں تھے ۔مثلا ،بخاری اور مسلم کےباب التیمم میں ایک روایت ہے کہ کسی شخص نے عمر بن خطاب سے ان کے ایام خلافت میں  پوچھا : امیر المومنین ! میں جنب ہوجاؤں اور پانی نہ ملے تو کیا کروں ؟ عمر نے کہا تو ایسی صورت میں نماز نہ پڑھو۔
اسی طرح انھیں "کلالۃ" (89) کا حکم معلوم نہیں تھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ " کاش میں "کلالۃ" کا حکم رسول اللہ سے پوچھ لیتا "۔ حالانکہ یہ حکم قرآن میں  مذکور ہے ۔
کوئی شخص کہہ سکتا  ہے کہ اگر یہ بات تھی تو امام علی ع نے ان امور کی وضاحت کیوں نہ کردی جن میں رسول اللہ ص کی وفات  کے بعد اختلاف پیدا ہوا ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ جس مسئلے  میں بھی امّت  کو مشکل پیش آئی ، امام علی ع نے اس کے بیان کرنے میں کوئی کسے نہیں چھوڑی ۔ ہر مشکل  میں صحابہ ان ہی سے رجوع کرتے تھے ، وہ ہر بات کی وضاحت کرتے تھے ، مسئلے کا حل  بیان کرتے تھے اور نصیحت  کرتے تھے ۔ مگر صحابہ کو جو بات پسند آتی  تھی اور جو ان کی سیاست سے متصادم نہیں ہوئی تھی وہ اسے قبول کرلیتے تھے اور باقی کو چھوڑ دیتے تھے ۔ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اس  کی سب سے بڑی گواہ خود تاریخ ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر علی بن ابی طالب ع اور ان کی اولاد میں سے ائمہ نہ ہوتے تو  عوام اپنے دین کی امتیازی خصوصیات سے ناواقف ہی رہتے ۔لیکن  لوگ ۔ جیسا کہ قرآن نے ہمیں بتایا ہے ۔حق کو پسند نہیں کرتے ، اس لیے انھوں نے اپنی خواہشات کی پیروی شروع کردی اور ائمہ اہل بیت ع کے بالمقابل  نئے نئے  مذاہب ایجاد  کرلیے ۔ ادھر حکومتیں  بھی ائمہ  اہل بیت  پر پابندیاں عائد کرتی تھیں اور انھیں کہیں آنے  جانے اور لوگوں سے براہ راست رابطہ قائم  کرنے کی آزادی نہیں دیتی تھیں ۔ امام علی ع منبر پر سے فرمایا کرتے تھے :
"سلو ني قبل أن تفقدوني!"لوگو! اس سے پہلے کہ میں تم میں نہ رہوں ، جو پوچھنا چاہتے ہو پوچھ لو۔
امام ع کے علم وفضل کی یہی ایک دلیل کافی ہے کہ آپ نے نہج البلاغہ جیسا عظیم علمی سرمایہ چھوڑا ۔ائمہ اہل بیت ع نے علم کی اس قدر کثیر مقدار چھوڑی ہے کہ اس نے چار دانگ عالم کو بھر دیا ۔ سب ہی ائمہ مسلمین خواہ سنی ہوں خواہ شیعہ اس کے گواہ  ہیں ۔اس بنا پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اکر قسمت  علی ع کا ساتھ دیتی اور انھیں سیرت رسول ص کے مطابق تیس سال تک امت کی قیادت کرنے  موقع ملتا تو اسلام عام ہوجاتا اور اسلامی عقائد لوگوں کے دلوں میں پختگی  کے ساتھ جاگزیں ہوجاتے ، پھر نہ کوئی فتنہ صغری ہوتا نہ کوئی فتنہ کبری ،نہ واقعہ کربلا ہوتا نہ یوم عاشورا ۔
اگر علی ع کے بعد گیارہ  ائمہ  کو قیادت کا موقع ملتا جن کا تعلق  رسول اللہ ص نے کیاتھا اورجن کی مدت حیات تقریبا  تین صدی پرمحیط ہے ، تو دنیا میں ہر جگہ  صرف مسلمان ہوتے اور کرہ ارض کی تقدیر بدل جاتی اور ہماری زندگی صحیح معنی میں انسانی زندگی ہوتی ۔ مگر اللہ تعالی کا تو فرمان ہے :
"الم () أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَکُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ()"
کیا ہم لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو چھوڑ دیا جائے  کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے  اور ان کو امتحان میں نہیں ڈالا جائیگا ۔(سورہ  عنکبوت ۔آیت 1-2)
امم سابقہ کی طرح مسلم امہ بھی اس امتحان میں ناکام رہی ۔ اس کی تصریح متعدد موقعوں پر خود رسول اللہ نے فرمائی (90)  اور اسی طرح قرآن کریم متعدد آیات میں بھی اس کی صراحت ہے ۔ (91) انسان  وہ ناانصاف اور جاہل ہستی ہے
جس کے بارے میں رسول اللہ ص نے فرمایا ہے :
"لن يدخل الجنّة أحد بعمله إلّا أن يتغمده الله برحمته وفضله"
کوئی شیخص جنت میں اپنے اعمال  کی وجہ سے داخل نہیں ہوگا بجز اس کے کہ اللہ تعالی اپنا فضل فرمادے اور اسے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے ۔(92)

 

بحث کے آخر میں کچھ تبصرہ

میں اس طرح کے اقوال دیکھ کر اکثر دانشوروں اور پروفیسروں کی مجلس میں اس پر افسوس کیا کرتا تھا کہ خلافت اس کے صحیح حقدار علی بن ابی طالب ع کے  ہاتھ سے نکل گئی ۔ آخر ایک دن ان میں سے ایک پروفیسر صاحب نے یہ کہہ کر مجھ پر اعتراض کیا کہ
" علی بن ابی طالب ع نے اسلام اور مسلمانوں کے لیے کیا کیا ہے؟انھوں نے اپنی پوری زندگی خلافت کی تگ و دو  میں گزاردی  اور اس کے لیے ہزاروں مسلمانوں کو مروادیا ۔ اس کی ساری جنگیں خلافت ہی کے لیے  تھیں ۔ اس کے برعکس ان سے پہلے خلفائے  ثلاثہ  نے اپنی زندگی اسلام کی اشاعت میں صرف کردی اور عمر بھر  اسلام کی عزت ووقار کے لیے کام کیا ۔ انھوں نے اس مقصد کے لیے ملک فتح کیے اور شہرآباد کیے ۔ اگرابو بکر صدیق  نہ ہوتے تو عرب اسلام سے مرتد ہوگئے ہوتے ۔ اور اگر عمر بن خطاب نہ ہوتے تو ایران اور روم اسلام کی اطاعت قبول نہ کرتے ۔ اور اگر عثمان بن عفان نہ ہوتے تو آج آپ مسلمان نہ ہوتے "(93)
پھر ان صاحب نے اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہو کر کہا :
جب علی ع کو خلافت  ملی  تو انھوں نے وہ طوفان کھڑا کیا کہ سارا کاروبار خلافت ہی درہم برہم کردیا ۔ انتظام بگڑگیا  اور وہ  اسلام جو ان خلفاء  کےعہد میں طاقتور  تھا ، جن کی تیجانی صاحب تنقیص کرتے اور جن کی نیکی اور پارسائی میں شک پیدا کرتے ہیں ، وہ پیچھے ہٹنے اور ناکام ہونے لگا ۔ اب اس آخری الزام کا جس پر انھوں نے اپنی بات ختم کی میں کیا جواب دیتا  بہر حال میں نے اپنے آپ کو قابو میں رکھا اور جوش میں نہیں آیا ۔ میں نے استغفار پڑھ کرکہا :
"برادران عزیز! یہ پروفیسر صاحب جو کچھ کہہ رہے ہیں آپ اس سے متفق ہیں ؟ اکثر نےکہا :ہاں اور بعض نے جواب  نہیں دیا ،خواہ اسے لیے کہ میرا لحاظ کیا یا اس لیے کہ انھیں ان صاحب کی باتوں پر یقین نہیں تھا ۔
میں نے کہا کہ آپ کی اجازت سے میں پروفیسر صاحب کی ایک ایک بات  کو لے کر اس پر گفتگو کروں گا ، اس کے بعد فیصلہ آپ کے ہاتھ ہے ۔خواہ آپ میرے حق میں فیصلہ دیں خواہ میرے خلاف ۔ میں آپ سے صرف یہ چاہوں گا  کہ آپ حق کا ساتھ دیں اور تعصب سے کام نہ لیں ۔
سب نے کہا :بسم اللہ فرمائیے !
میں نے کہا :" پہلی بات تو یہ ہے کہ علی بن ابی طالب ع نے اپنی تمام زندگی خلافت کی تگ ودو میں نہیں گزاری ،جیسا کہ پروفیسر صاحب نے فرمایا ہے ،بلکہ سچ تو یہ ہے کہ وہ خلافت سے گریزاں تھے ۔ اگر وہ خلافت کے پیچھے دوڑتے تو رسول اللہ ص کی تجیہز وتکفین کو چھوڑ کر دوسروں کی طرح جلدی سقیفہ پہنچتے اور وہاں انھیں کی بات  ور رہتی خصوصا ایسی حالت میں کہ اکثر صحابہ ان کی رائے سے اتفاق کرتے تھے ۔ پھر ہم دیکھتے  ہیں کہ جب ابو بکر کی موت کے بعد خلافت حضرت عمر  کو مل گئی ،جب بھی انھوں نے صبر سے کام لیا اور کوئی مخالفت نہیں کی ۔ پھر عمر کے بعد جب انھیں خلافت  کی پیش کش ہوئی تو انھوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا ۔کیونکہ اس پیشکش کے ساتھ جو شرائط تھیں وہ ان کے لیے قابل قبول نہیں تھیں ۔اس سے پروفیسر صاحب کے خیالات کی بالکل تردید ہوجاتی ہے ۔کیونکہ اگر علی ع خلافت کے پیچھے دوڑرہے ہوتے
 تو ان کا  کیا نقصان تھا ، وہ سنت شیخین پر عمل کی شرائط کو منظور کرلیتے اور پھر جو دل چاہتا کرتے جیسا کہ عثمان نے کیا۔ اسی رویہ سے علی ع کی عظمت کا اظہار ہوتاہے ۔ علی ع نے اپنی زندگی میں ہ کبھی جھوٹ بولا اور نہ کبھی وعدہ خلافی کی ۔ ان ہی اعلی اصولوں  کی پابندی کی جہ سے علی ناکام رہے جب کہ دوسرے کامیاب ہوگئے کیونکہ وہ اپنی مقصد برآری کے لیے جوچاہتے سوکرتے تھے ۔ مگر علی ع کہا کرتے تھے ۔
"میں جانتا ہوں کہ تمھاری بہتری کسی بات میں ہے ۔مگر مجھے تمھاری بہتری کے لیے اپنی برباد ی منظور نہیں " سبحان اللہ ! کیا کہنا امام ع کی عظمت کا !  سب مورخین بیان کرتے ہیں کہ قضیہ سقیفہ کے بعد ابو سفیان نے  علی ع کے پاس آکر انھیں خلافت کا لالچ دیا اور کہا کہ میں ابو بکر اور ان کے حلیفوں سے قتال کے لیے آدمیوں کا روپیوں کا انتظام کردیتا ہوں تو آپ نے اس پیشکش کو ٹھکرادیا اور فرمایا:
" اے ابو سفیان ! فتنہ نہ پھیلا ، میں جانتا ہوں کہ تیرے دل میں کیا ہے ۔میں مسلمانوں مین فتنہ وآشوب پسند نہیں کرتا ،بہتر یہی  ہے کہ الگ رہوں اور افتراق پسندی سے اپنا دامن بچائے رکھوں "
اگر آپ خلافت کے پیچھے دوڑتے ہوتے تو اس پیشکش کو ضرورقبول کرلیتے ۔لیکن آپ نے اسلام او رمسلمانوں کی سلامتی  کی خاطر قربانی دی اور صبر سے کام لیا ۔ علی ع ہی نے تو ابن عباس سے کہاتھا کہ تمھاری دنیا کی میرے نزدیک بس اتنی وقعت ہے جتنی اس پتے کی جس کو کوئی ٹڈی اپنے منہ میں لے چبا ڈالے (94)یا اتنی جتنی کسی بکری کی رینٹ کی ہوتی ہے (95)
(ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ جب امیر المومنین  امام علی ع اہل بصرہ سے جنگ کے لیے نکلے تو میں مقام ذی قار مین آنجناب کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا  کہ اپنا جوتا ٹانک رہے ہیں ۔ مجھے دیکھ کر فرمایا کہ اے ابن عباس ! اس جوتے کی کیا  قیمت ہوگی ؟ میں نےکہا : اب تو اس کی کچھ بھی قیمت نہ ہوگی ۔یہ سن کر آپ نے فرمایا : "بخدا ! اگر میرے پیش نظر حق کی سربلندی اور باطل کی نابودی  نہ ہو تو مجھے یہ جوتا تم  لوگوں  پر حکومت کرنے سے زیادہ عزیز ہے )
تو جناب آپ کا یہ فرمانا کہ علی ع خلافت کے پیچھے دوڑ تھے تھے ، اس کی تاریخی واقعات سے تردید ہوجاتی ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ آپ کا یہ دعوی کہ انھوں نے خلافت کے حصول کی خاطر  ہزاروں مسلمانوں کو قتل کرادیا اور اس کی سب لڑائیاں صرف اسی مقصد کے لیے تھیں تو یہ دعوع بھی بالکل جھوٹ اور سراسر بہتان ہے اور حقائق  کومسخ کرنا ہے ۔ اگر آپ نے ناواقفیت  کی بنا پر ایسا کہا  ہے  تو اللہ معافی مانگیں اورتوبہ استغفار کریں اور اگر آپ نے جان بوجھ کر ایسا کہا ہے تو آپ کی سب معلومات بالکل غلط اور جھوٹ ہیں کیونکہ امام ع کی وہ لڑائیاں جن کا آپ نے ذکر کیا اس کے بعد  کی ہیں جب خلافت آپ کے پیچھے دوڑتی ہوئی آپ کے پاس آچکی تھی ۔ آپ کو خلافت کے قبول کرنے پر  لوگوں نے مجبور کیا تھا بلکہ انکار کرنے کی صورت میں آپ کو قتل کرنے دھمکی بھی دی گئی تھی ۔ تاریخ شاہد ہے کہ علی چوتھا ئی صدی تک خاموش اور خانہ نشین رہے ۔ اس طویل مدّت  میں نہ خلفاء کی کسی جنگ میں حصہ لیا اور نہ تلوار میان سے نکالی  توجناب ! پھر آپ کیسے  یہ دعوی کرتے ہیں کہ ان کی جنگیں خلافت کے حصول کی خاطر تھیں ؟ اورکیسے یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے حصول خلافت کے لیے ہزاروں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا ؟۔جنگ جمل تو عائشہ(3) ، طلحہ اور زبیر نے شروع کی تھی ۔ ان ہی لوگوں نے بصرہ
میں داخل ہوکر لوگوں  کو قتل کیا تھا اور بیت المال لوٹ لیا تھا(97)۔ جنگ جمل کو جنگ عہد شکنان بھی کہاجاتا ہے کیونکہ طلحہ اور زبیر نے اس وقت بیعت توڑدی تھی جب امام علی ع نے انھیں کوفے اوربصرے کا والی بنانے سے انکار کردیا تھا ۔(98)
رہی جنگ صفین تویہ معاویہ نے گلے منڈھی تھی ۔ معاویہ ہی نے ہزاروں  مسلمانوں  کو قتل کیا ۔ سب سے بڑھ کر عمار بن یاسر کو ۔اور یہ سب کچھ خلافت کے حصول کے لیے کیا ۔تو میرے بھائی ! آپ کیوں  حقائق کو  مسخ کرتے ہیں ۔ حالانکہ تاریخ شاہد ہے کہ جنگ صفین کی ابتدا معاویہ نے خون عثمان  کا دعوی لے کر شروع کی تھی لیکن اصل میں معاویہ  کا مقصد حکومت پر قبضہ کرنا تھا ۔ اس کی گواہی (99) خود معاویہ نے اس خطبہ میں دی جو انھوں نے جنگ کے بعد کوفہ میں داخل ہونے کےبعد دیا تھا ۔ معاویہ نے کہا:
"میں نے تمھارے ساتھ اس لیے جنگ نہیں کہ تم نماز پڑھو یا روزے رکھو یا حج کرو اور زکواۃ دو ۔ یہ سب کام تو تم پہلے کرتے ہو ۔ میں نے جنگ تمھارا امیر بننے کے لیے لڑی تھی ۔ اللہ نے مجھے اس میں کامیابی دی گو تمھیں یہ بات پسند نہیں تھی ۔"
جنگ صفین کو ظالموں اور باغیوں کی لڑائی کہا جاتا ہے ۔رہی جنگ  نہروان ! یہ خوارج کی لڑائی تھی۔  یہ جنگ بھی باغیوں  نے امام علی ع پر مسلط  کی تھی ۔ یہ ہیں وہ لڑائیاں جو امام علی ع نے لڑیں ۔ امام علی ع ہر موقع پر لوگوں کو کتاب اللہ کی طرف بلاتے رہے اور اپنے مخالفین پر حجّت قائم کرتے رہے ۔
جناب! آپ کو صرف یہ کرنا ہے کہ آپ تاریخ کی کتابوں کا مطالعہ کریں تاکہ حق وباطل کو پہچان سکیں اور اولیاء اللہ پر بیجا الزام لگانے سے بچ سکیں ۔
اس موقع پر ایک اور پروفیسر صاحب نے جوشاید تاریخ کے ماہر تھے ،اپنی رائے ظاہر کرتے ہوۓ کہا:
آپ نے جو کچھ کہا بالکل صحیح ہے ۔ معاذا اللہ امام علی کرّم اللہ وجہہ خلافت کے لالچی نہیں تھے اور نہ وہ خلافت کی طمع میں کسی کو بھی قتل کرسکتے تھے ،سخت افسوس کی بات ہے کہ ابھی تک بعض مسلمان علی ع پر شک کرتے ہیں جبکہ عیسائی بھی ان کا احترام کرتے ہیں ۔ میں نے حال ہی ایک عیسائی مصنف جارج جرداق کی ایک کتاب پڑھی ہے جس کا نام ہے "صوت العدالۃ الانسانیہ "(ندائے عدالت انسانی ) اس کتاب میں اس نے حیران کن واقعات بیان کیے ہیں جو شخص بھی اس کتاب کوپڑھے گا ، امام علی ع کی عظمت کےسامنے سرجھکادے گا ۔ اس پر ایک تیسرے پروفیسر صاحب ان کی بات کاٹ کر بولے : آ پ نے  شروع سے ہی یہ با  کیوں نہ کہی؟
انھوں نے جواب دیا : میں درحقیقت تیجانی بھائی کی باتیں سن رہا تھا میں انھیں پہلے سے نہیں جانتا تھا اس لیے چاہتا تھا کہ ان کا جواب سنوں اور ان کی معلومات کا اندازہ لگاؤں ۔ الحمداللہ !انھوں نے اپنے دلائل سے ہمیں لاجواب کردیا ۔دوسری بات یہ ہے کہ مجھے یقین ہے کہ یہ صاحب بھی امام علی ع کی فضیلت  کے قائل ہیں لیکن انھیں ابو بکر اور عمر کی حمایت میں جوش آگیا ، اس لیے وہ تیجانی بھائی کی باتوں کے ردّ عمل کے طور پر امام علی ع کی شان میں گستاخی کربیٹھے جس کا انھیں احساس بھی نہیں ہوا ۔
پہلے پروفیسر صاحب نے بھی اپنے ساتھی  کی اس بات کو پسند کیا کیونکہ اس طرح انھیں اس مخمصے سے نجات مل گئی  جن میں وہ سب کے سامنے اپنی ہی باتوں  کی وجہ سے پھنس گئے تھے ۔گرچہ اب حق ظاہر ہوچکا تھا  اور ان صاحب کے لیے بہتر تھا کہ اپنی ضد پر قائم رہتے ہوئے صحابہ کا دفاع کرتے مگر وہ ازروئے  جہالت حقائق کو مسخ کرتے ہوئے کہنےلگے :
جی ہاں ! میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خلفاء کا اسلام  اور مسلمانوں پر بڑا احسان ہے چاہے انھوں نے کچھ بھی  کیا ہو ۔آخر کو وہ بشر تھے اور کسی نے بھی ان کے معصوم ہونے کا دعوی نہیں کیا ۔ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی خوبیاں بیان کریں (اور خامیوں پر پردہ پڑا رہنے دیں ) یہ صحیح نہیں ہے کہ شیعوں کی طرح خلفاء  کی فضلیت  کا انکار کریں اور حبّ علی میں  غلو سے کام لیں ۔
میں نے کہا : اگر اجازت ہوتو میں اپنا جواب مکمّل کرلوں تاکہ آپ میں سے کسی کے ذہن میں کوئی شبہ باقی نہ رہے ۔
"ان صاحب کا یہ کہنا کہ امام علی ع سے پہلے جو تین خلفاء ہوئے ان کی زندگیاں اشاعت  اسلام میں صرف ہوئیں اور ان کے عہد میں بڑی  فتوحات ہوئیں ، نیز کہ اگر وہ نہ ہوتے تو آج مسلمان نہ ہوتا ، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر فتوحات کا مقصد اللہ کی رضا اور اسلام کی عزت تھا تو اللہ اس کی جزا دےگا ، لیکن اکر مقصد اپنی فوقیت جتانا ،مال غنیمت حاصل کرنا اور عورتوں کو باندیاں بنانے کے لیے قید کرنا تھا توپھر اس کانہ کوئی اجر ہے اور نہ ثواب۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب عثمان بن عفّان کی مخالفت نے زورپکڑا اور لوگ ان پر اعتراض کرنے لگے تو انھوں نے مروان بن حکم اور معاویہ بن ابی سفیان سے  مشورہ کیا ۔انھوں نے کہا " افریقہ  فتح کرنے کے لیے فوجیں بھیج دو تاکہ لوگوں کا دھیان بٹ جائے ، پھر چاہے ان کی پیٹھ پر جوئیں رینگتی رہیں انھیں فکر ہوگی تو اس کی کاٹھی  سے ان کے گھوڑوں  کی پیٹھ پر زخم پڑجائیں "(100)۔چنانچہ  عثمان  نے اپنے  دودھ شریک بھائی عبداللہ بن ابی سرح کی قیادت میں افریقہ فتح کرنے کے لیے  فوج بھیج دی اور فتح کے بعد بلاشرکت غیرے عبداللہ بن ابی سرح کو افریقہ کا پورا خراج  دے دیا ۔ یہ عبداللہ بن ابی سرح  ایک دفعہ ایمان لانے کے بعدمرتد ہوگیا تھا اور رسول اللہ ھ نے اعلان کردیا تھا کہ اس کا خون  مباح ہے ،جو شخص چاہے  اسے قتل کردے ۔ جب رسول اللہ ص فتح مکہ کے لیے تشریف لے گئے تو آپ نے اپنے اصحاب کو ہدایت  کی عبداللہ  بن ابی سرح جہاں کہین ملے اس کو قتل کردو چاہے وہ کعبے کے پردے پکڑے ہوئے کیوں نہ ہو ۔ لیکن عثمان نے اسے  چھپالیا اور فتح کے بعد اسے رسول اللہ ص کے پاس لے کرآئے اور اس کی سفارش کی ۔ رسول اللہ ص خاموش  اور اس بات کے منتظر رہے کہ کوئی اٹھ کر اسے قتل کردے ، جیسا کہ آپ نے بعد میں فرمایا ۔ اس پر عمر نے کہا کہ یا رسول اللہ ص مجھے آنکھ سے اشارہ کردیا ہوتا ۔ آپ نے فرمایا :
"نحن معاشر الأنبياء لاينبغي أن تکون لنا خائنة الأعين."
ہم انبیاء کے لیے آنکھ سے دھوکا دینا نامناسب  ہے " (101)
یہ تھے فتح افریقہ کے اسباب اور ایسے شخص کے ہاتھوں افریقہ کے لوگ مسلمان ہوئے ۔میں بھی اسی شخص کے توسط سے مسلمان ہوا ! یہ تو ہوئی ایک بات ۔دوسری بات یہ ہے کہ کس نے کہا ہے کہ اگر سقیفہ کا قصہ نہ ہوتا اور علی کو خلافت  سے دور نہ رکھا جاتا تو بڑے پیمانے پر اور زیادہ نفع  بخش نہ ہوتیں اورآج پورے کرہ ارض پر اسلام چھایا ہوا نہ ہوتا ؟؟ پھر یہ بھی ہے کہ انڈونیشیا کو  خلفاء نے فتح نہیں کیا تھا ، وہاں اسلام تلواروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوداگروں کے ذریعے پہنچا تھا اور آج بھی وہاں دنیا بھر میں سب سے زیادہ مسلمان ہیں ۔ اور انڈونشیا اس اسپین سے بہتر ہے جو ان لوگوں کے ہاتھوں تلوار سے فتح ہواتھا اور جوآج اسلام اور مسلمانوں کامخالف ہے ۔
برادران گرامی ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس سلسلے میں ایک چھوٹا سا قصہ آپ کو سناؤں :
ایک بادشاہ نے حج کو جانے سے پہلے وزیر کو اپنا قائم مقام مقررکیا تھا ۔ ان دنوں حج کے سفر میں پورا ایک سال لگتا تھا ۔ بادشاہ کے جانے کےبعد اس کے کچھ درباریوں نے وزیر کے خلاف سازش کرکے اسے قتل کردیا اور اپنے میں سے کسی ایک کو اس کی جگہ وزیر مقررکردیا ۔ اس نئے وزیر نے بڑے بڑے کام کیے ۔سڑکیں اور مسجدیں بنوائیں ، سرائے اور حمام بنوائے ۔بعض سرکش قبائل کو زیر کیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ
مملکت پہلے سے بھی زیادہ  وسیع ہوگئی ۔لیکن جب بادشاہ کو حج سے لوٹنے پریہ معلوم ہوا کہ اس کے قائم مقام  کو قتل کردیا گیا  ہے تو وہ بہت افروختہ ہوا اور سب سازشیوں کے قتل کا حکم دے دیا ۔ایک نے آگے بڑھ کر کہا: سرکار عالیجاہ ! ہم نے جو آپ کی حکومت کی توسیع کے لیے بڑے بڑے کارنامے اور خدمات لائقہ انجام دی ہیں ، کیا ان کے صلے میں ہمارے جرم کو معاف نہیں کیا جاسکتا ؟ بادشاہ نے بگڑ  کر کہا : چپ رہ خبیث ! تم نے میرے وزیر کو قتل کرکے ۔ جسے میں نے اپنا قائم مقام مقررکرکے گیا تھا ۔میرےساتھ نمک حرامی کی ہے ۔ رہی وہ خدمات جو تم نے انجام دی ہیں تو وہ اکیلا اس سے کئی گناہ زیادہ کرسکتا تھا جو تم سب نےمل کرکیا ہے " یہ قصّہ سن کر سب ہنسنے لگے اورکہنے لگے کہ ہم مطلب سمجھ گئے ۔
 میں نے کہا : اب اس آخری فقرے پر آئیے جو ان پروفیسر صاحب نے کہا تھا کہ جب علی ع کو خلافت مل گئی تو انھوں نے ایک طوفان کھڑا کردیا اور ہر چیز کو اتھل پتھل کردیا !
ہم سب کو معلوم ہے کہ اورتاریخ شاہد ہے کہ طوفان تو حضرت عثمان کے عہد میں مچا اور ہرچیز اس وقت اتھل پتھل ہوئی جب انھوں نے اقربا پروری کے نتیجے میں اپنے فاسق وفاجر رشتہ داروں کو مسلمانوں پر مسلط کردیا حالانکہ اس وقت بہترین صحابہ موجود تھے ،جنھیں اس کے سوا کیا ملا کہ انھیں زدوکوب کیا گیا (102)
شہر بدر کیا گیا (103) اور ان کی ہڈی پسلیاں توڑی گیئیں (104)اسلام اس وقت پیچھے ہٹنے اور ناکام ہونے لگا جب مسلمان بنی امیّہ کے غلام بن گئے ۔
پروفیسر صاحب !آپ یہ سب حقائق لوگوں کو اور خصوصا اپنے شاگردوں کو کیوں نہیں بتلاتے اور ان کی صحیح رہنمائی کیوں نہیں کرتے ۔جب امام علی ع کو خلافت ملی تو انھوں نے دیکھا کہ کچھ بے دین ہیں ، کچھ ظالم ہیں اور کچھ غدّار ہیں باقی جو بچے ہو سب منافق ہیں ۔ حقیقی مسلمان صرف چند تھے جنھوں نے علی ع کی ان ہی امورپر بیعت کی جن امور پر رسول اللہ ص کی بیعت کی تھی  ۔امام علی ع نے بگاڑ کر دور کرنے ، عدالت کو قائم کرنے اور معاملات کو روبراہ لانے کی اپنی سی پوری کوشش کی یہاں تککہ وہ اسی اصلاح کی کوشش میں شہید ہوگئے ۔ اس کے بعد ان کے بیٹے شیہد ہوئے انھیں زہر دیا گیا اور وہ بھی اصلاح کی راہ میں قربان  ہوگئے ۔ اس کےبعد امام علی ع کے دوسرے بیٹے امام حسین اپنے ساتھیوں ،بھائیوں ،بیٹوں اور اہل بیت سمیت شہید (105) ہوئے ۔ ائمہ اہلبیت ع میں سے ہر امام نے شہادت پائی خواہ تلوار سے مقتول ہوکریا زبیر سے مسموم ہوکر ۔ ان سب ائمہ نے اپنے نانا کی امت کی اصلاح  کی خاطر  اپنی جان کی قربانی دی ۔
میں یہاں ایک لطیفہ بیان کرنا چاہتاہوں ، اس سے آپ کو امام علی بن ابی طالب ع کی قدرومنزلت کا اندازہ ہوگا :
ایک دفعہ ایک شخص امام علی ع کے پاس آیا اور کہنے لگا : یا امیر المومنین! میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں ۔ امام ع نے فرمایا : جو چاہو پوچھو ۔ اس نے کہا: یہ کیا بات ہے کہ ابو بکر اور عمر کے زمانے میں تو حالات ٹھیک رہے لیکن آپ کے زمانے میں ٹھیک نہ ہوسکے ،امام علی ع نے برجستہ جواب دیا : ابوبکر اور عمر مجھ جیسے لوگوں پر حکومت کرتے تھے اور میں تم جیسے لوگوں پر حکومت کرتاہوں ۔ اسی لیے یہ انتشار پیداہوگیا ۔
کیا خوب اورشافی جواب ہے اس کی طر ف سے کہ تاریخ نے رسول اللہ ص کے بعد اس جیسا معلّم نہیں دیکھا ۔
اس قصّے کو سن کر سب حاضرین بہت محفوظ ہوئے اور کہنے لگے کہ آخر علی ع شہر علم کا دروازہ تھے ۔
میں نے یہ کہہ کر اپنی بات ختم کردی کہ :ہمارے پروفیسر نے مجھ پر الزام لگایا کہ میں خلفائے ثلاثہ  کی تنقیص  کرتاہوں اور ان کے کردار کی پاکیزگی میں شبہ پیدا کرتا ہوں ، تو یہ محض تہمت ہے ۔کیونکہ میں نے فقط وہی کچھ کہا  جو  بخاری ومسلم نے کہا ہے اور اہل سنت مورخین نے کہا ہے ۔ اگر آپ اس تنقیص اور کردار کشی تصور کرتے ہیں تومجھے الزام دینے سے پہلے ان لوگوں پر الزام دیں ۔ مجھ سے تو فقط یہ مطالبہ کرسکتے ہیں کہ میں کوئی ایسی سند دکھاؤں جو اہلسنت  کےنزدیک  قابل اعتماد ہو مجھے آپ صرف اس وقت الزام دے سکتے جب آپ خود ان سندوں کو دیکھ کر میرا کوئی ایک بھی جھوٹ پکڑسکیں ۔
سب نے یک زبان ہوکر کہا : واقعی اس طرح کی بحثوں میں یہی ہونا بھی چاہیے ۔ سب نے پروفیسر پر زوردیا کہ مجھ سے معذرت کریں چنانچہ انھوں نے معذرت کرلی ۔ فلللہ الحمد




--------------------
(1):- قرآن کریم بھی ہمیں انصاف سے کام لینے کی تلقین کرتاہے اور کہتا ہے :
اے ایمان والو! ۔۔۔۔ لوگوں کی دشمنی تمھیں اس پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دو ۔(سورہ مائدہ ۔آیت 8)
واضح رہے کہ شیعوں کی کوئی دلیل ایسی نہیں ہے جس کی اصل اہل سنت کی کتابوں میں موجود نہ ہو ۔
(2):-ابو اسحاق احمد بن محمد بن ابراہیم نیشاپوری  ،ثعلبی المتوفی سنہ 437ھ ۔ابن خلکان کہتے ہیں کہ علم تفسیر میں یکتا ئے زمانہ تھے ، روایت میں ثقہ اور قابل اعتماد تھے ۔
(3):-۔۔۔۔ ،سنن نسائی  ، مسند احمد بن حنبل ، صواعق محرقہ ابن حجر ہیثمی مکی ۔ شرح نہج البلاغہ ۔
(4):-اہل سنت میں راویان حدیث کے القاب کی درجہ بندی مندرجہ ذیل ہے :
1:- محدّث : جسےدرایت حدیث پر عبور ہو            2:-حافظ:  جسے ایک لاکھ حدیثیں یاد ہوں
3:- حجّت : جسے تین لاکھ حدیثیں یاد ہوں         4:- حاکم : جسے سب حدیثیں یاد ہوں (ناشر)
(5):- تفسیر در منثور ۔سیوطی
(6):- فتح الباری جلد 6 صفحہ 31 ۔البدایۃ والنہایہ جلد 8 صفحہ 102 ۔ سیر اعلام النبلاء ذہبی جلد 2 صفحہ ۔۔ الاصابہ ، ابن حجر جلد 3 صفحہ 287
(7)(8)(9):- تفسیر در منثور ،سیوطی جلد 3 صفحہ 3
(10)(11):- سیوطی ،تفسیر درمنثور جلد 3 صفحہ 3۔
(12):-سورہ زخرف ۔آیت 78 ۔ (13):- سورہ الحاقّہ ۔آیت 49 ۔(14):- سورہ نساء ۔آیت 165
(15):- میں نے یہاں کچھ علماء کا ذکر کیا ہے جبکہ علامہ امینی نے اپنی کتاب الغدیر میں تفصیل سے علمائے  اہل سنت کا ذکر کیا ہے ۔
(16):- یہ حدیث حدیث غدیر کے نام سے موسوم ہے ۔ شیعہ اور سنی علماء نے اسے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔
(17):- مسند امام احمد بن حنبل ۔تفسیر جامع البیان ،طبری ۔تفسیر کبیر، رازی ۔ صوعق محرقع ،ابن حجر ہیثمی مکی ۔دارقطنی  ۔بیہقی ۔خطیب بغداد اور شہرستانی وغیرہ نے بھی یہ واقعہ اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے ۔
(18):-مسند امام احمد بن حنبل جلد 4 صفحہ 372
(19):- نسائی خصائص امیرالمومنین  صفحہ 21
(20):-مستدرک علی الصحیحین  جلد 3 صفحہ 109
(21):- صحیح مسلم جلد 7 صفحہ 122 باب فضائل علی بن ابی طالب ع ۔اس حدیث کو امام احمد بن حبنل ،ترمذی ۔۔۔۔نے نقل کیا ہے ۔
(22):- یہ روایت ابن حجر نے صواعق محرقہ میں طبرانی اور ترمذی سے نقل کی ہے ۔
(23):- جب کبھی رسول اللہ ص صحابہ کرام کو کوئی اہم حکم دینا چاہتے تھے تو انھیں نماز جماعت میں شمولیت کی دعوت دیتے تھے ۔اس نماز میں حاضر ہونا ان کے لیے نماز جمعہ کی طرح فرض ہوتا تھا ۔ اس اجتماعی نماز کے لیے منادی  " الصلاۃ جامعة " پکارتا تھا نیز نماز استسقاء اور نماز آیات وغیرہ میں بھی اسی شعار سے لوگوں کو جمع کیاجاتا تھا ۔(ناشر)
(24):- مسند امام احمد بن حنبل جلد 4 صفحہ 117۔فضائل الخمسۃ ون الصحا ح الستہ  جلد 1 صفحہ 350۔
(25):- علامہ امینی کی کتاب الغدیر گیارہ جلد وں میں ہے ۔ یہ بڑی نفیس کتاب ہے ۔اس میں مصنف نے برسوں تحقیق کے بعد غدیر سے متعلق سب مواد اہل سنت کی کتابوں سے جمع کیا ہے ۔
(26):- اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ، جس کی بھی اقتداکروگے ہدایت پاوگے۔
(27):- عبداللہ بن سبا کا کوئی وجود نہیں ۔ دیکھیے کتاب عبداللہ بن سبا مولفہ علامہ مرتضی عسکری ،کتاب الفتنۃ الکبری  مولفہ حسین اور کتاب الصلۃ بین التصوف والتشیع مولفہ ڈاکٹر مصطفی کا مل شیبی ۔آخر الذکر کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ بن سبا سیدنا عمار یاسر کو کہا گیا ہے ،دل چاہے تو کتاب کا مطالعہ کیجئے ۔!
(28):- وجہ یہ ہے کہ اہل بیت ع نے اپنے اخلاق ، اپنے علوم ، اپنے  زہد وتقوی اور اپنی ان کرامات سے جو اللہ نے ان کو عطا کی تھیں ، اپنے آپ کو منوالیا تھا ۔
(29):- صحیح بخاری جلد 4 صفحہ 191 اور صفحہ 201 ۔باب مناقب عثمان ۔
بخاری نے جلد 4 صفحہ 195 پر حضرت علی ع کے فرزند محمد بن حنفیہ سے ایک روایت منسوب کی ہے کہ انھوں نے کہا : میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ رسول اللہ ص کےبعد سب سے بہترین شخص کون ہے ؟انھوں نے کہا : ابو بکر ۔ میں نے پوچھا : ان کے بعد کہا : عمر ۔میں ڈرا کہ کہیں یہ نہ کہہ دیں کہ ان کے بعد عثمان ۔ اسی لیے میں نے کہا ان کے بعد آپ کہا یمں تو فقط ایک مسلمان ہوں ۔
(30):- صحیح بخاری جلد 5 صفحہ 127
(31):- سیوطی ۔ درّ منثور جلد 3 صفحہ 18
(32):- سیوطی ۔ تفسیر درمنثور آیت " الْيَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِينَکُمْ "کی تفسیر میں ۔
(33):-خدا کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے ۔ ان میں سے چار مہینوں : ذی القعدہ ، ذی الحجہ ،محرم اور رجب کو خدا نے حرام قرار دیا ہے ۔ لیکن جو قبیلے ان حرام مہینوں میں جنگ کرنا چاہتے تھے کعبہ کے متولی ان سے پیسے لےکرحرام مہینوں کو بدل دیتے تھے ۔ وہ ان مہینوں کی جگہ دوسرے مہینوں کو حرام قراردیتے تھے (ناشر)
(34):- یہ مکمل خطبہ طبری نے کتاب الولایہ میں نقل کیا ہے ۔سیوطی نے بھی اسے تفسیر درمنثور جلد دوم میں ملتے جلتے الفاظ میں نقل کیا ہے ۔
(35):- شوکانی  ، تفسیر فتح الباری القدیر جلد 3 صفحہ 57 ۔سیوطی ، تفسیر درمنثور جلد 2 صفحہ 298
(36):- حاکم حسکانی بروایت اوب سعید خدری اپنی تفسیر میں اورحافظ ابو نعیم اصفہانی  ما نزل من القرآن فی علی ع میں
(37):-یہ قصہ امام ابو حامد غزّالی  نے اپنی کتاب  سرّ العالمین صفحہ 6 پر بیان کیا ہے ۔ اس کے علاوہ امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند جلد4 کے صفحہ 281 پر اور طبری نے اپنی تفسیر  کی جلد 3 کے صفحہ پر اس کا ذکر کیا ہے ۔ نیز بہیقی ، دارقطنی ، فخر رازی اور ابن کثیر وغیرہ نے بھی اس کا ذکر کیا ہے ۔
(38):- جلال الدین سیوطی ، " الازھار فيما عقدہ الشعراء من الاشعار"
(39):-طبری ،تاریخ الامم والملوک جلد 5 صفحہ 3 ،ابن اثیر الکامل فی التاریخ جلد3 صفحہ 31 ۔شرح نہج البلاغہ
(40):-امام احمد بن حنبل ، مسند جلد 4 صفحہ ،370 ،ملا علاء الدین متقی ،کنزالعمال  جلد 397 ۔ابن کثیر ،البدایہ والنہایہ جلد5 صفحہ 211
(41):- ہیثمی ، مجمع الزواید جلد 9صفحہ 106 ۔ ابن کثیر ،البدایہ والنہایہ جلد 5 صفحہ 26 ،امام احمد بن حنبل ،مسند جلد اول ،
(42):- ابن کثیر ۔البدایہ والنہایہ جلد 5 صفحہ 214۔
(43):- صحیح بخاری جلد 8 صفحہ 26 باب رجم الحبلی من الزنا ۔
(44):- طبری ،تاریخ الامم والملوک ۔اب اثیر الکامل فی التاریخ ۔
(45):- سعد بن ابی وقاص کی طرف اشارہ ہے جنھوں نے حضرت عثمان کےبعد بھی حضرت علی ع کی بیعت نہیں کی ۔
(46):- عبدالرحمان بن عوف کی طرف اشارہ ہے ۔ یہ حضرت عثمان کی سوتیلی بہن کے شوہر تھے ۔(ناشر)
(47):- طبری ، تاریخ الامم والملوک ۔ابن اثیر الکامل فی التاریخ سنہ 36 کے واقعات ۔شیخ محمد عبدہ شرح نہج البلاغہ جلد 1۔
(48):- اس شخص کو رسول اللہ ص نے فتح مکہ کے دن واجب القتل قراردیا تھا ۔
(49):- مثلا اسامہ بن زید، زبیر بن العوام ،سلمان فارسی  ،ابوذر غفاری ،مقداد بن اسود ،عمّار بن یاسر ،حذیفہ بن یمان ، خزیمہ بن ثابت ، ابو بریدہ اسلمی ، براء بن عازب ، فضل بن عباس ، ابی بن کعت ،سہل بن حنیف ،سعد بن عبادہ ، قیس بن سعد ،خاد بن سعید ،ابو ایوب انصاری  ،جابر بن عبداللہ انصاری  وغیرہ ۔(ناشر)
(50):-طبری ،دلائل الامامۃ ۔ابن طیفور بلاغات النساء ۔ابن ابی الحدید  شرح نہج البلاغۃ ۔
(51):-صحیح بخاری جلد 4 صفحہ 195
(52):-صحیح بخاری جلد 8صفحہ 26 ۔طبری ،تاریخ الامم والملوک ۔ابن قتیبہ ، الامامۃ والسیاسۃ ۔
(53):- صحیح بخاری جلد 8 صفحہ 29 ۔ "باب رجم الحبلی عن الزنا اذا احصنت "
(54):- سب مورخین کہتے ہیں کہ سقیفہ میں صرف چار مہاجر موجود تھے ۔ یہ کہنا کہ "میں نے بیعت کی اور مہاجرین نے بیعت کرلی " یہ اس قول سے متصادم ہے جو اسی خطبے میں آگے ہے کہ علی ع ،زبیر اور ان دونوں کے ساتھیوں نے مخالفت کی ۔ صحیح بخاری جلد 8 صفحہ 26
(55):- صحیح بخاری جلد 8 صفحہ 28
(56):- صحیح بخاری جلد8صفحہ 26
(57):- طبری ،تاریخ الامم والملوک ،استخلاف عمر۔ ابن ابی الحدید ،شرح نہج البلاغہ ۔
(58):- ابن قتیبہ ،الامامۃ والسیاسۃ جلد 1صفحہ 18
(59):- صحیح مسلم جلد 5 صفحہ 75 ۔صحیح بخاری جلد 7 صفحہ 9
(60):- صحیح بخاری جلد 8 صفحہ 25
(61):-ابن سعد نے طبقات  میں اس کی تصریح  کی ہے ۔ دوسرے مورخین نے بھی جنھوں نے سریہ اسامہ بن زید  کا ذکر کیا ہے ، ان بات کو بیان کیا ہے ۔
(62):- شیخ محمد عبدہ ، شرح نہج البلاغہ جلد 1صفحہ 88
(63):- صحیح بخاری جلد 8 صفحہ 27 ۔صحیح باب الوصیہ ۔
(64):- صحیح بخاری کتاب الاحکام باب الامراء من قریش ۔
(65)صحیح مسلم جلد 6 کتاب الامارہ۔
(66):- شیخ محمد عبدہ ، شرح نہج البلاغہ جلد 1 صفحہ 87۔
(67):-صحیح بخاری جلد 1 صفحہ 411 ۔ مستدرک حاکم جلد 3 صفحہ 126
(68):- صحیح بخاری جلد 3 صفحہ 168۔
(69):- مسند احمد جلد5 صفحہ 25 ۔مستدرک حاکم جلد3 صفحہ 124 ۔
(70):- مستدرک حاکم جلد 3 صفحہ 126۔
(71):- شیخ متقی ہندی ۔ متنخب کنزالعمال جلد 5 صفحہ 34
(72):- محبّ طبری ، الریاض النضرہ ، باب فضائل علی بن ابی طالب
(73):- صحیح بخاری جلد 4 صفحہ 144 وجلد 8 صفحہ 151
(74):-صحیح بخاری جلد 7 صفحہ 209 ۔صحیح مسلم ، باب الحوض ۔
(75):- سنن ابن ماجہ ،کتاب الفتن ،مسند احمد جلد3 صفحہ 120 ۔ جامع ترمذی کتاب الایمان ۔
(76):- 1:-صحیح بخاری کتاب المحاربین ،باب لایرجم المجنون ۔2:- سنن ابی داؤد باب مجنون یسرق  صفحہ 147۔3:- مسند احمد بن حنبل جلد 1 صفحہ 140 ، 154۔ 4:- موطاء امام مالک بن انس کتاب الاشربہ صفحہ 186۔ 5:- مسند شافعی کتاب الاشربہ صفحہ 166۔ 6:- کنزالعمال  ملا علاء الدین متقی جلد 3 صفحہ 95۔7:- مستدرک حاکم جلد 4 صفحہ 375 ۔8:- سنن دراقطنی کتاب ۔۔۔۔۔9:- شرح المعانی آلاثار طحاوی کاب القضاء صفحہ 294۔
(77):- صحیح بخاری جلد 4 صفحہ 5 ۔صفحہ 12 ۔جلد 5 صفحہ 76-77 ۔ صحیح مسلم جلد 7 صفحہ ۔۔۔
(78):- بقول بو علی سینا :- علی ع صحابہ میں ایسے ہی جیسے محسوس میں معقول (یعنی جسے جسم میں روح)(ناشر)
(79):- مناقب الخوارزمی صفحہ 58 ۔تذکرۃ السبط صفحہ 87  اب مغازلی ترجمہ علی ع صفحہ 79
(80)(81)(82):- شرح نہج البلاغہ
(83):- طبری ،تاریخ الامم والملوک جلد 2 صفحہ 319 ۔ابن اثیر ، الکامل فی التاریخ جلد 2 صفحہ 62
(84):- صحیح بخاری باب فضائل علی ع صحیح مسلم جلد 7 صفحہ 120
(85):-مستدرک حاکم جلد 3 صفحہ128 ۔طبرانی ،معجم کبیر ۔
(86):- سیرۃ حلبیہ ،غزوہ ذات السلاسل ۔ابن سعد طبقات کبری
(87):- ملا علاؤالدین متقی ، کنزالعمال جلد 6 صفحہ 392 حدیث 6009 ۔ابو نعیم اصفہانی ،حلیۃ الاولیاء ،حافظ قندوزی حنفی ، ینابیع المودۃ  صفحہ 73 ۔ 77 ۔ابن عساکر ،تاریخ دمشق جلد 2 صفحہ 483۔
(88):-مستدرک حاکم جلد 3 صفحہ 123 ۔ابن عساکر ،تاریخ دمشق جلد 2 صفحہ 488
(89):- کلالۃ کے معنی میں اختلاف ہے ۔ بظاہر معنی ماں باپ اور اولاد کے علاوہ وارث ک ے ہیں ۔
(90):- جیسا کہ بخاری ومسلم کی روایت میں ہے کہ مسلمان یہودی ونصاری کے طریقوں پر قدم بقدم چلیں گے اور اگر وہ گوہ کے بھٹ گھسیں گے تو مسلمان  بھی ایسا ہی کریں گے ۔ یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے ، اسی طرح حدیث حوض میں روسول اللہ ص نے فرمایا  : میں دیکھتا ہوں کہ ان میں بہت ہی کم نجات پائیں گے ۔
(91):- جیسا کہ سورہ آل عمران میں ہے :" أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِکُمْ" اور سورہ فرقان میں ہے: "يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُوراً"
(92):- صحیح بخاری جلد 7 صفحہ 10 ۔ صحیح مسلم ، کتاب صفات المنافقین ۔
(93):- ان صاحب کا اشارہ عثمان بن عفّان کے عہد میں شمالی افریقہ کے فتح ہونےکی طرف تھا ۔مطلب یہ کہ اگر یہ فتح نہ ہوتی تو ہم بربر ہی رہتے ۔ ہمارا اسلام سے کوئی واسطہ نہ ہوتا ۔
(94):-"إنّ دنياکم عندي لاهون من وّرقةٍ في جرادةٍ تقمضها".(نہج البلاغہ خطبہ 221)
(95):-" ولا لفيتم دنياکم هذه أزهد عندي من عطفة عنزٍ".( نہج البلاغہ خطبہ شقشقیہ)
(96):- رسول اللہ ص کی ان زوجہ  محترمہ نے یہ آیہ قرآن "وقرن فی بیوتکنّ " کی خلاف ورزی کرکے سیاسی فتنوں کو عالم اسلام  میں راہ دی اگر چہ بعد میں وہ اس پر پشیمان  ہوئیں اور بولیں : کاش میرے رسول اللہ ص سے بہت سارے بچے ہوتے اور سارے مرجاتے مگر میں اس قضیے میں ہاتھ نہ ڈالتی ! (اسدالغابہ جلد 3 صفحہ 384 )(ناشر)
(97):-طبری ابن  اثیر ، یعقوبی ، مسعودی اور وہ تمام مورخین جنھوں نے جنگ جمل کا حال لکھا ہے۔
(98):- طبری ،تاریخ الامم والملوک جلد 5 صفحہ 153 ۔ابن کثیر ،البدایہ والنہایہ جلند 7 صفحہ 227۔ ابن واضح یعقوبی ،تاریخ یعقوبی جلد 2 صفحہ 127۔
(99):- ابن کثیر ، البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 131 ۔ابو الفرج اصفہانی ، مقابل الطالبین صفحہ 70 ۔ابن ابی الحدید ،شرح نہج البلاغہ جلد 4 صفحہ 16
(100):-طبری ،تاریخ الامم والملوک  باب خلافت عثمان ۔ابن اثیر الکامل فی التاریخ باب خلافت عثمان۔
(101):-طبری ،تاریخ الامم والملوک باب خلافت عثمان ۔ابن عبدالبر ،استیعاب ترجمہ بن ابی سرح ۔
(102):- جیسے عمّار بن یاسر کو زدوکوب کیا گیا ،ان کی آنت اتر آئی ، مہینوں علاج کراتے رہے ۔
(103):- ابوذر غفاری نے بورژوا طبقے کی مخالفت کی تو شہر بدر کیے گئے ۔اکیلے پڑے ہوئے جان دے دی۔
(104):- عبداللہ بن مسعود نے فاسقوں کو مسلمانوں کا مال دینے پر اعتراض کیا تو وہ ماردی گئی کہ پسلیا ں ٹوٹ گئیں ۔
(105):- ذرا غور فرمائیے کہ وہ کون سے حالات اور اسباب تھے کہ رسول  اللہ کی رحلت کے صرف پچاس سال بعد رسول اللہ ص کے نام لیواؤں نے رسول اللہ  ص کی اولاد کو بھوکا پیاسا شہید کردیا ۔ (ناشر)

 



فائل اٹیچمنٹ:
حالیہ تبصرے

اس کہانی کے بارے میں تبصرے

     
امنیت اطلاعات و ارتباطات ناجی ممیزی امنیت Security Audits سنجش آسیب پذیری ها Vulnerability Assesment تست نفوذ Penetration Test امنیت منابع انسانی هک و نفوذ آموزش هک