10/5/2018         ویزیٹ:110       کا کوڈ:۹۳۶۹۷۰          ارسال این مطلب به دیگران

نماز جمعہ کی خطبیں ارشیو » نماز جمعہ کی خطبیں ارشیو
  ،   28/9/2018 کو نماز جمعہ کی خطبیں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ الرب العالمین  ، والصلاۃ والسلام علی محمد و آلہ طیبن الطاھریں المعصومین۔

آما بعد:

سب سے پہلے آپ سب کو تقوی الہی اپنانے کی سفارش کرتا ہوں کیونکہ تقویٰ ہی آخرت کے لئے توشہ ہے اور آخرت ایک ایسا سفر ہے کہ جو بھی اس سفر پر گیا تو اس سفر کا ایک صفت یہ ہے کہ یہ کبھی نہ ختم ہونے والا سفر ہے  اور دوسری بات یہ کہ یہ مسافر پھر واپس بھی نہیں آنے والا ہے بس یہی سمجھو کہ ہم بس کچھ ہی دنوں کے لیے یہاں آئے ہیں اور پھر ہم نے اس آخری سفر پر جانا ہے۔

اب کچھ لوگوں کا اخرت آچھا ہوتا ہے یعنی  عاقبت بخیر بنتے ہیں اور کچھ لوگوں کا اخرت  اچھا نہیں  ہوتا  یعنی وہ بہت نقصان اٹھاتےہے اب نقصان اٹھانے کی بھی اپنی دلائل ہے  اور جن لوگوں نے فائدہ کیا اور عاقبت بخیر بنے اس کی بھی اپنے دلائل ہے

عاقبت بخیری کی پہلی وجہ یہ ہے کہ والعاقبۃ للمتقین کہ عاقبت متقین کے لئے ہے اور  متقی بننے کے لیے کم سے کم یہ ہے کہ انسان واجبات کو انجام دے اور محرمات کو ترک کردے دوسری بات یہ کہ عاقبت بخیر وہ بندہ ہو سکتا ہے کہ جو مسلمان ہوکر اس دنیا سے جائے جیسا کہ فرمایا (یا ایھا الذین امنوا اتقوا اللہ ولا تموتن الا وانتم مسلمون)

ای ایمان والوں تقوی الہی آپناو اور  آپ لوگوں پر موت نہ   آئے مگر یہ کہ آپ لوگ مسلمان ہو۔

اور یہ بات بھی واضح ہونی چاہیے کہ عاقبت با خیری اللہ تعالی نے ہمارے ہاتہوں میں رکھا ہے جسا کہ فرمایا: (ان اللہ لا یغیر ما بقوم الا ان یغایروا ما با انفسھم)

جب ایک قوم خود آپنا حالت نہ بدلنا چاہئے اس  وقت تک اللہ بھی انکا حالت نہیں بدلتا ہے۔ پس اسکا مطلب یہ ہے کہ انسان کا اس دنیا میں کامیا بی اور اخرت میں کامیابی دونوں اللہ  تعالی نے  خود انسان کی ہاتہوں میں رکھا ہیں۔

اور اسی طرح فرمایا کہ ( انا ھدینا سبلنا  اما شاکرا و اما کفورا ) ہم نے  ہدایت کی راہ دکھائی ہے اب جو چاہے شکر کرے یا چاہے کفر کرے ۔

اور اس لئے کہ انسان عاقبت بخیر بنے اللہ تعالی نے 124000 انبیا‏ء کوآپنا رسول بنا کر  بھیجا اور اسی طرح قرآن کو بھی  اپنے آخری نبی  پر نازل کیا تاکہ لوگوں کی آخرت اچھی ہو۔ البتہ ہر ایک کتاب سے اپنے استعداد اور ظرفیت کے مطابق فائدہ اٹھائیں گے۔

یہ آچہے لوگوں کے لیئے ہدایت ہے اور کافروں کے لیئے گمراہی۔

 آپ  دیکھیں بارش جب گلزار پر برستا ہے تو پورے علاقے کو خوشبودار  اور خوبصورت بنا دیتا ہے لیکن اگر گندگی پر برستا ہے  تو بدبو اور گندگی پھیل جاتی ہے۔

لہذا ہمیں مسلمان اور متقی بن کر کتاب الہی سے ہدایت لے کر آپنے آخرت کو سنوارنا ہے  کیونکہ  اللہ تعالی نے فرماتے ہیں: والتقوا النارالتی وقودھا الناس والحجارۃ ۔

کہ اس آگ سے ڈرو جس کی اند ھن لوگ اور پتھر ہیں۔

 جناب ابراہیم نے بھی اپنے بیٹوں وصیت کی۔ کہ جب آپ لوگ مریں گے تو مسلمان ہو کر مرنا کیونکہ آخرت کیلئے مسلمان ہو کر مرنا بہت ضروری ہے اور اسی طرح ہمیں یہ دعا مانگنا چاہیے کے( ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ )

خدایا ہمارے دلوں کو ہدایت کے بعد زنگ مت لگانا اور اپنے طرف سے ہم پر رحمت بھیج۔

 ہم اپنی زندگی میں دیکھ رہے ہیں کہ جب ہم مسجد میں جاتے ہیں  یا زیارت میں جاتے ہیں تو ہم کو سکون مل جاتا ہے یعنی جب ہم اللہ تعالی سے رابطہ قائم کرتے ہیں تو ہمیں سکون ملتا ہے اور اسی وجہ سے اللہ تعالی نے پانچ وقت کا نماز واجب قرار دےدیا ہے

اب آخر میں ‏،میں ان دو لوگوں کی زندگیوں کو بیان کرنے جا رہا ہوں  کہ جو عاقبت بخیر بنے اس میں سے ایک  زہیربن یقین ہے

 زہیر بن قین بن قیس بجلی

اشرافِ عرب میں سے کوفہ کے باشبدہ، بہادر تہے اور متعدد لڑائیوں میں شریک ہوچکے تہے.جمل اور صفین کی لڑائیوں کے بعد سے مسلمان "عثمانی" اور "علوی" نام کی دو جماعتوں میں تقسیم ہوچکے تہے.جو لوگ معاویہ کے طرفدار تہے انکو "عثمانی" کہا جاتا تھا اور جو حضرت علی علیہ السلام کی طرف تہے وہ "علوی" کہلاتے تہے.زہیر بن قین عام طور پر 'عثمانی' جماعت سے متعلق سمجہے جاتے تھے اور بظاہر وہ اھلبیت نبوی علیہم السلام کے ساتھ کوئی خاص تعلق نہ رکھتے تہے.

زہیر سنہ 60ھ میں اپنے اھل و عیال کے ساتھ مناسکِ حج بجالانے کے بعد کوفہ کی طرف جارہے تہے کہ امام حسین علیہ السلام کا ساتھ ہوگیا.اگرچہ زہیر بظاہر امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کوئی خاص عقیدت نہ رکھتے تہے تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ آپ (ع) کی خاندانی وجاہت سے مرعوب ضرور تہے یعنی انہیں یہ احتمال تھا کہ اگر حسین علیہ السلام مجھ کو نصرت کی دعوت دیں گے تو میرے لیے اسکا رد کرنا ممکن نہ ہوگااسی کا نتیجہ تھا کہ وہ حسینی قافلہ سے دور رہتے تہے.مگر حسین علیہ السلام انکی فطری صلاحیتوں سے واقف تہے اس لیے منزلِ زرود پر امام (ع) نے زہیر بن قین کو بُلا بھیجا جس کے بعد سے زہیر بالکل حسین علیہ السلام کے ساتھ تہے.

ذوحسم کے مقام پر جب حُر کا لشکر حسینی قافلہ کے سدِراہ ہونے کی غرض سے آچکا تھا تو امام (ع) نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرکے جو خطبہ ارشاد کیا تھا اس کے جواب میں زہیر نے والہانہ انداز سے فداکارانہ جذبات کا اظہار کیا تھا.

اس کے بعد جب حُر نے امام (ع) کو کربلا پہنچ کر روکنا چاہا تھا اور نہر کے قریب خیمے برپا کرنے دینے سے بھی انکار کیا تھا تو زہیر نے کہا تھا کہ ہمیں اتنی فوج سے جنگ کرلینے دیجئے اس لیے کہ اس کے بعد اتنا لشکر آئیگا کہ اس سے مقابلہ کرنے کی ہم میں طاقت ہی نہ ہوگی.اس کے جواب میں امام (ع) نے فرمایا تھا کہ میں جنگ میں ابتدا نہیں کرنا چاہتا.

پھر نویں تاریخ کی شام کو افواجِ یزید کے غیر متوقع حملہ کے موقع پر جب "ابوالفضل العباس علیہ السلام" بعد استفسارِ حال امام (ع) سے صورتحال بیان کرنے گئے تو حبیب بن مظاہر نے افواجِ مخالف کو وعظ وپند شروع کیا تھا اور عزرہ بن قیس نے بدتہذیبی کے ساتھ دورانِ کلام مداخلت کی تھی تو زہیر نے اسکا جواب دیا تھا کہ بیشک حبیب کے نفس کا خدا نے تزکیہ کیا ہے اور اسکی رہنمائی کی ہے.اے عزرہ میں تمکو نصیحت کرتا ہوں اور اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ تم اس جماعت کے ساتھ شریک نہ ہو جو گمراھی کی حمایت کررھی ہے اور پاک نفوس کو قتل کرتی ہے.زہیر بن قین کی یہ آواز تعجب کے ساتھ سنی گئی تھی اور عزرہ نے انہیں پہچان کر کہا تھا کہ 'زہیر تم اس گھرانے کے شیعہ نہیں تہے، تم تو عثمانی گروہ میں سے تہے' اور زہیر نے کہا تھا کہ "اس وقت میرے یہاں کھڑے ہونے سے تو تمکو سمجھ ہی لینا چاہیئے کہ میں شیعہ علی (علیہ السلام) ہوں.خدا کی قسم میں نے نہ حسین (علیہ السلام) کو کبھی خط لکھا تھا نہ کوئی قاصد بھیجا تھا اور نہ نصرت کا وعدہ کیا تھا لیکن راستے میں اتفاق سے میرا اور انکا ساتھ ہوگیا.جب میں نے انہیں دیکھا تو رسول اللہ (ص) یاد آگئے اور اُنکی خاندانی خصوصیت کا مجھے خیال آگیا اور مجھے احساس ہوا کہ حقیقتًا وہ دشمنوں کے ظلم و تعدی میں مبتلا ہیں.بس میں نے طے کرلیا کہ مجھے انکی مدد کرنا چاہیئے اور انکی جماعت میں داخل ہوکر اپنی جان ان پر فدا کرنا چاھہیئے.خدا و رسول (ص) کے اس حق کو ادا کرنے کےلیے جسے تم لوگوں نے ضائع و برباد کردیا ہے"

پھر شبِ عاشور جب امام حسین علیہ السلام نے اصحاب کو جمع کیا تھا اور انہیں اپنی بیعت کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کرنے کا اعلان کیا تھا تو اصحاب میں سے مسلم بن عوسجہ اور سعید بن عبداللہ کے بعد زہیر بن قین نے بھی تقریر کی تھی اور کہا تھا کہ "بخدا میں پسند کرتا ہوں کہ ایک دفعہ قتل ہوں، پھر زندہ ہوں، پھر قتل ہوں، یوں ہی ہزار دفعہ ہو لیکن آپ (ع) اور آپ (ع) کے خاندان کے یہ جوان قتل ہونے سے محفوظ رہ جائیں.

صبحِ عاشور جب امام حسین علیہ السلام نے اپنی مختصر فوج کو ترتیب دیا تھا تو زہیر بن قین کو میمنہ کا افسر مقرر کیا تھا اور زہیر نے میدان میں نکل کر فوجِ مخالف کے سامنے ایک معرکہ آرا تقریر بھی کی تھی.پھر جب لڑائی شروع ہوگئی تھی اور افواجِ مخالف کی صفوف میں سے یسار اور سالم میدانِ جنگ میں آئے اور عبداللہ بن عمیر کلبی مقابلہ کے لیے نکلے تھے تو ان دونوں نے کہا تھا کہ 'ہم تمکو نہیں پہچانتے، ہمارے مقابلہ کے لیے زہیر بن قین یا حبیب بن مظاھر یا بریر بن خضیر کو آنا چاہیئے' اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ زہیر فوجِ حسینی کے ان نمایاں افراد میں سے تھے جو دشمنوں کے نزدیک ممتاز حیثیت کے مالک سمجھے جاتے تھے.

انکی شجاعت کے کارنامے صبحِ عاشور سے ہنگامِ ظہر تک متعدد بار ظاہر ہوچکے تھے.چنانچہ ظہر سے پہلے جب شمر نے مخصوص خیمہ حسینی پر حملہ کیا اور اپنا نیزہ خیمہ پر مار کر کہا تھا کہ 'آگ لاؤ میں اس خیمہ کو اس کے رہنے والوں سمیت جلادوں' تو زہیر نے اپنے دس بہادر ساتھیوں کے ساتھ حملہ کرکے اسکی فوج کو پسپا کردیا تھا.پھر جب حبیب شہید ہوچکے اور حُر میدانِ جنگ میں آئے تو زہیر نے حُر کے ساتھ مل کر جنگ کی.اس کے بعد امام حسین علیہ السلام نے سعید بن عبداللہ اور زہیر کو مامور کیا کہ تم میری حفاظت کرو، یہاں تک کہ میں نمازِ ظہر ادا کرلوں چنانچہ سعید بن عبداللہ نماز تمام ہوتے ہوتے اتنے زخمی ہوگئے کہ وہ جانبر نہ ہوسکے اور زہیر کے بھی دست و بازو جواب دے چکے تھے پھر بھی نمازِ ظہر کے بعد جب دشمن بہت قریب آگئے تھے تو زہیر بن قین نے اپنی آخری جنگ کی.اس وقت وہ بڑے جوش کے ساتھ کہہ رہے تھے کہ :

"میں زہیرہوں،قین کا فرزندہوں میں اپنی تلوار سے دشمنوں کو حسین علیہ السلام سے دورکروں گا"

یوں ہی تھوڑی دیر تک وہ شمشیرزنی کرتے رہے آخر کثیر بن عبداللہ شعبی اور مہاجر بن اوس دونوں نے ایک ساتھ ان پر حملہ کیا اور انہی کے ہاتھ سے زہیر بن قین درجہ شہادت پر فائز ہوئے.

دوسرا شخص تہران  رہنے والا تھا جس کو لوگ مصطفی دیوانہ بولتے تھے کہ جس کا کام لوٹ مار کرنا تھا بدمعاش قسم کا آدمی تھا ایک مرتبہ  سید مہدی قوام ان کے ہاں آیا اور  مصطفی کو کہا کہ آپ اپنے بدمعاشی کی کوچ وصول مجھے بتائے میں بھی چاہتا ہوں آپ کے ساتھ بدمعاش ہو کر جیو تو مصطفی نے بولا کہ ہماری اصولوں میں سے ایک اصول یہ ہے کہ ہم جس کی نمک کھا تے ہے اس کے ساتھ وفا کرتے ہیں اسی پر سید مہدی قوام نے فرمایا کہ مصطفی اپ نے کتنے بار اللہ تعالی کا نمک کھایا ہے اور کیا آپ اللہ تعالی سے وفا کر رہے ہو۔ کہتے ہیں اسی بات نے اس پر اتنا اثر کیا کہ اس نے ان سب بدمعاشیوں کو چھوڑ دیا اور سید مہدی توام کو کہتا ہے کہ اب میں کیا کرو کہ میں پاک ہو جاؤ  اس نے کہا کہ سب کوچ جو اپنے  لوٹ مار کے ذریعے حاصل کیا ہے بیچ ڈالو اور سب پیسے لے کر مجتہد وقت کی خدمت میں جاؤ  وہ جو کچھ بولے اسی پر عمل کرو اور مصطفی نے ایسا ہی کیا مجتہد کے پاس گیا آپناسب کچھ مجتھد کے حوالے کیا حتی کہ  اس نے اپنا کوٹ اور پوائنٹ بھی نکال کر رکھنا چاہا کہ یہ بھی میرا نہیں ہے تو مجتہد نے اسکو کہا کہ میں اپنے اختیار سے آپکو ان دو کپڑوں کے ساتھ 5000 تومان کی  اجازت دے رہا ہوں  بیت المال سے، کیونکہ  یہ  آب بیت المال بن گیا  ہے اور وہ آدمی پھر زیارت امام حسین علیہ السلام کے لیے کربلا گیا جب واپس آیا تو انہوں نے ایک مجلس عزا‏‏‏ء   بر پا کیا تہران میں مجلس عزا برپا کرتے تھے کہتے ہیں جب اس کا آخری وقت آیا تو اس کی بیوی نے کہا کہ گیارہ دن تک اس نے کسی سے بات تک نہیں کی آخری دن کو اٹھ کر کہتا ہے یا ابا عبداللہ الحسین میں نے سب کچھ چھوڑ دیا آپ کے بتائے ہوئے راستے کا انتخاب  کیا اب میری مدد فرما۔

 کہتے ہیں پھر سو گیا جب دوبارہ اٹھا تو یہ کہ رہا تھا اسلام علیک یا ابا عبداللہ الحسین

 جیسے جنکدن کی وقت ابا عبد الحسین  ملنے آیا ہوں اور پھر اس دنیا سے چلا گیا ہو اس طرح اور بھی بہت سی مثالیں ہیں کہ پھر کبھی ذکر کروں گا

وسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ



فائل اٹیچمنٹ:
حالیہ تبصرے

اس کہانی کے بارے میں تبصرے

     
امنیت اطلاعات و ارتباطات ناجی ممیزی امنیت Security Audits سنجش آسیب پذیری ها Vulnerability Assesment تست نفوذ Penetration Test امنیت منابع انسانی هک و نفوذ آموزش هک