6/29/2019         ویزیٹ:19       کا کوڈ:۹۳۷۱۹۴          ارسال این مطلب به دیگران

نماز جمعہ کی خطبیں ارشیو » نماز جمعہ کی خطبیں ارشیو
  ،   17شوال 1440(ھ۔ ق) مطابق با 06/21/2019 کو نماز جمعہ کی خطبیں
بسم الله الرحمن الرحیم
الحمدللَّه ربّ العالمین نحمده و نستعینه و نستغفره و نتوکّل علیه و نصلّی و نسلّم علی حبیبه و نجیبه و صفیّه و خیرته فی خلقه حافظ سرّه و مبلّغ رسالاته بشیر رحمته و نذیر نقمته سیّدنا و نبیّنا ابی‌القاسم المصطفی محمّد و علی اله الأطیبین الأطهرین المنتجبین سیّما بقیّةاللَّه فی الأرضین و صلّ علی ائمّة المسلمین و حماة المستضعفین و هداة المؤمنین.
سب سے پہلے اپنے آپ کو پھر آپ سب کہ جو اس نماز جماعت میں شریک ہیں؛ تقوی الہی کو حفظ کرنے کی  وصیت کرتا ہوں
تاریخ اسلام کی وہ برجستہ اور عظیم شخصیات جنہوں نے قرآن کے راستے میں دین اسلام کیلئے قربانی اور فدا کاری کو حد عقل اپنی اوج پر پہنچایا ان میں سے ایک پیغمبر  اسلام (ص) کے چچا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوست اور مخلص حامی حضرت حمزہ علیہ السلام ہیں۔
 توحید جب شرک کے مقابلے پر آئی اور خدا پرستی نے جب بت پرستی کو للکارا تو رسول اللہ کو مخلص، با ایمان اور دلسوز ساتھیوں کی ضرورت تھی اور ایسے میں جناب حمزہ ابن عبدالمطلب نے امیر المومنین علی علیہ السلام کی طرح آخر عمر تک سجت ترین حالات میں دین اسلام کا دفاع کیا، شرک و کفر کے ہر لشکر کے سامنے ایک مضبوط چٹان کی طرح کھڑے رہے۔
 حتیٰ جنگ کے ان سخت ترین حالات میں بھی کہ جب بہت قریبی اصحاب نے پیغمبر اسلام کو تنہا چھوڑ ا اور عقب نشینی اختیار کی، پہاڑوں اور قلعوں میں پناہ لی آپ نے نا صرف اپنی جنگ کو جاری رکھا بلکہ اپنے آپ کو رسول اللہ کی ڈھال بنادیا کیونکہ دشمن فقط آنحضرت کی جان کے درپے تھا۔ دشمن اسلام نے بالآخر چھپ کر وار کیا اور دوران جنگ حضرت حمزہ نے جام شہادت نوش کیا اور تاریخ اسلام کے شجاع ترین سرداران میں اور مخلص ترین مدافعین و شہدائے اسلام ہستیوں میں سرفہرست قرار پائے، آپ کی شخصیت اور شجاعت ایک بہترین نمونہ عمل ہے۔
حضرت حمزہ کو قرآن مجید اور احادیث میں سراہا گیا حتیٰ کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپکو "سید الشہداء" کے لقب سے نوازا۔ اسی طرح "اسداللہ اور اسد الرسول" بھی آپ کے القاب قرار پائے۔ 
آئمہ اطہار نے آپکی شخصیت اور فداکاری کو مخالفین کے سامنے مناظروں اور احتجاجاً اور اپنے پیروکاروں کے سامنے افتخار کے ساتھ بیان فرماتے۔ رسول اللہ کی آپ سے الفت و محبت کی وجہ سے آپ کی قبر و حرم طول تاریخ میں مسلمانوں کی توجہ کا باعث بنی اور آپ کی قبر کی زیارت کو رسول اللہ کی زیارت کی لازم قرار دیا۔
حضرت حمزہ ان چنندہ افراد میں سے ہیں جنہوں زندگی کے آخری لمحے اور خون کے آخری قطرہے تک دین اسلام اور رسول اللہ کا دفاع کیا  یہ ان لوگوں میں سے ہے کہ جن کے بارے میں قرآن کا فرمان ہے
 
«مِنَ المُؤمِنینَ رِجالٌ صَدَقوا ما عاهَدُوا اللَّهَ عَلَیهِ فَمِنهُم مَن قَضى نَحبَهُ و َمِنهُم مَن ینتَظِرُ و َما بَدَّلوا تَبدیلًا». 

ترجمہ: مومنین میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا، ان میں سے بعض نے اپنی ذمے داری کو پورا کیا اور ان میں سے بعض انتظار کر رہے ہیں اور وہ ذرا بھی نہیں بدلے۔ (سورت احزاب آیت 23) 

حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں  کہ یہ آیت جناب حمزہ، حضرت جعفر طیار اور امام علی علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے «مَنْ قَضَی نَحْبَهُ»  سے مراد حضرت حمزہ او جعفر ہیں اور «مَنْ یَنْتَظِر»  سے مراد علی ابن ابی طالب ہیں۔
  
ایک گروہ اور بھی تھا کہ جن کے ایمان ضعیف تھے وہ لوگ کہ جنہوں نے پیغمبر اسلام پر ایمان  تو لاے لیکن ان کا ایمان اس قدر مضبوط نہیں تھا، سخت حالات میں انہوں نے پیغمبر  کا ساتھ چھوڑ کر راستے سے ہٹ گئے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ ایک چھوٹی پہاڑی پر آخر تک حفاظت کریں لیکن ان لوگوں مال غنیمت کی خاطر حضور اکرم کے حکم کے خلاف اس مقام کو ترک کیا کہ جس کی وجہ سے جنگ کا نقشہ بدل گیا اور فتح  شکست میں تبدیل ہوگئی.
مزید یہ کہ ایک صفت خاص انسانی جو حضرت حمزہ اور دیگر اولیاء الٰہی میں نمایاں ہوتی ہے وہ ہے "صداقت" جسے عام زبان میں سچائی کہتے ہیں، یعنی اللہ سے سچا وعدہ کرنا اور اپنے دل کو پوری صداقت کے ساتھ خدا کے حوالے کردینا، یہ صداقت عہد انتہائی اہم صفت ہے۔
قرآن اس صفت کو جہاں انبیاء کے لیے بہت اہم قرار دیتا ہے وہیں ایک مومن اور ایک عام انسان کیلئے بھی اس صداقت کو اتنا ہی اہم شمار کرتا ہے۔ اسی لئے از نظر قرآن سچے مومنین کے مقابلے میں جو طبقہ ہے وہ منافقین کا ہے، یعنی مومن یا "صادق" ہوتا ہے یا "منافق" اور پھر قرآن ہم سے سوال کرتا ہے خدا کے ساتھ ہمارے عہد اور وعدے کے بارے میں... آیا ہم اپنے عہد پر برقرار ہیں؟
یہ وہ وعدہ صادق ہے جو بعض مومنین نیکی کیساتھ نبھاتے ہیں اور ہر حال میں اپنے عہد پر ثابت قدم رہتے ہیں اور انہیں کیلئے قرآن فرماتا ہے 
«و لَقَد کانوا عهَدُوا اللهَ مِن قَبلُ لا یُوَلّونَ الاَدبار»
ترجمہ: اور ان لوگوں نے اللہ سے یقینی عہد کیا تھا کہ ہرگز پیٹھ نہ پھرائیں گے

مشکلات پیش آئیں تو عقب نشینی نہیں کرنی چاہیئے نہ  سختیوں کے وقت راہ حق سے فرار نہیں کرنا چاہیے بلکہ مشکلات کے مقابلے میں اپنی جگہ ثابت قدم رہنا چاہیے آپ کا عزم سختی پر جیت حاصل کرے، آپکا ارادہ غالب ہو اور یہ ممکن ہے اور یقیناً ایسا ہوتا۔ یہ ثابت قدمی اور صداقت عہد ایک درس ہے جو ہم حضرت حمزہ علیہ السلام کی زندگی سے لیتے ہیں۔
اگر خدا اور پیغمبر کے ساتھ وعدہ کیا اور پھر وعدہ وفا نہیں کیا تو اپنے آپ کو ہی ضرر پہنچایا اسکا نقصان اللہ و رسول کو نہیں ہوگا۔ اور اگر وعدہ وفا کیا تو بھی اپنے آپ کو فائدہ پہنچایا اور اس کی عظیم جزا اللہ تعالی کی طرف سے دنیا اور آخرت میں حاصل ہوگی۔ ایسا نہیں ہے جزا فقط آخرت میں ہے ہاں اس جزا کا بیشتر حصہ آخرت ہے یا بہشت ہے مگر دنیا میں بھی اس کے ثمرات ہیں اللہ تعالی نے فرمایا :
«صدقوا ما عاهدوا اللَّه علیه»؛  انہوں نے اپنے وعدوں کو وفا کیا۔ کسی بھی سختی میں وہ لوگ پیچھے نہ ہٹے اور گمراہ نہیں ہوئے تو اب اللہ پر ہے . «لیجزی اللَّه الصّادقین بصدقهم»؛  کہ صادقین اور سچے لوگوں  کو اپنے صدق کی جزا اور انعام دے۔
قرآن کریم میں اس طرح کی بہت ساری آیات ہیں۔ ہمیں اپنی زندگی کی ہرلمحے پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ گناہ کا انجام دینا نفس انسانی کی لغزش کا باعث ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ لغزش اور ارادے کی کمزوری پوری زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔؛ ایک بہت بڑی مثال کے طور پر وہ پچاس لوگ جو اصحاب رسول اللہ تھے کہ ان میں سے اکثر وہ تھے جنہوں نے جنگ بدر میں بھی شرکت کی تھی، یہ کوئی برے افراد نہیں تھے لیکن اسی مصیبت کا شکار ہوئے، فقط مال غنیمت جمع کرنے کی خاطر اپنی ذمہ داری سے ہاتھ اٹھا کر اپنی جگہ چھوڑ دی اور میدان دشمن کے حوالے کردیا، پھر یہ سبب بنا کے دشمنوں نے پیچھے سے وار کیا اور اسی وجہ سے بہت سا پاک خون زمین پر بہا اور حمزہ سید الشہداء کی شہادت واقع ہوئی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی زخمی ہوئے اور حکومت و نظام اسلامی کہ جو ابھی اپنے اوائل میں تھی تزلزل کا شکار ہوئی بس انہی پچاس آدمیوں کی کمزوری کی وجہ سے۔ اور انہیں پچاس آدمیوں کے بارے میں قرآن فرماتا ہے
«انّ الّذین تولّوا منکم یوم التقی الجمعان انّما استزلّهم الشّیطان ببعض ما کسبوا»  
ترجمہ: جن لوگوں نے دونوں لشکروں کے ٹکراؤ کے دن پیٹھ پھیرلی یہ وہی ہیں جنہیں شیطان نے ان کے کئے دھرے کی بناء پر بہکا دیاہے..... یعنی جو کچھ انہوں نے کیا اس کی وجہ ان کی گزشتہ غلطیاں، گناہ اور لغزشیں تھیں۔ انسان کا ہر بار پھسلنا دوسری بار پھسلنے کی وجہ بنتا ہے یعنی اس سے ایمان کی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے اور جب ایمان کمزور ہو جاتا ہے تو ہمارے دوسرے تمام اعمال میں وہ اپنا اثر دکھاتا ہے جب بھی ہم لغزش کا شکار ہوتے ہیں یعنی گناہ کرتے ہیں یا خدا سے کیے گئے وعدے کو وفا نہیں کرتے تو اس کا اثر ہمارے ایمان پر ہوتا ہے اگرچہ ہمکو اسکا احساس بھی نہیں ہوتا پر اسکا اثر ہمارے انجام پانے والے تمام اعمال میں صاف دکھائی دیتا ہے اسی لئے قرآن نے کہا کہ «انّما استزلّهم الشّیطان ببعض ما کسبوا»؛  بلاشبہ ان کے اپنے بعض کرتوتوں کی وجہ سے شیطان نے انہیں پھسلا دیا تھا۔ 
یہ بات طے ہے کہ ہر عمل کا اثر انسان کے باقی معاملات پر اثر انداز ہو گا۔ مثال کے طور پر جب میدان جنگ میں وقت جہاد اپنے ایمان کے ساتھ کوئی بڑا ہدف حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن اس امتحانی لمحے میں اپنے آپ کو انتہائی کمزور پاتے ہیں اور نتیجتاً عقب نشینی کا شکار ہوتے ہیں۔ جو کام ہم پہلے آسانی سے کر جاتے تھے وہ اب نہیں کر پا رہے ہیں بالکل اس جوان کی طرح کہ جو جوانی میں دو میٹر چھلانگ لگا سکتا تھا لیکن اب جبکہ دو میٹر چھلانگ کی ضرورت ہے وہ نہیں کر پا رہا ہے، اس وجہ سے کہ ہر برا عمل جو انجام پاچکا ہے وہ اب اپنا رنگ دکھا رہا ہے۔ 
خلاصہ یہ ہے کہ ہر منفی عمل کا منفی اثر ایمان پر اور پھر اس کمزور ایمان کا منفی اثر عمل پر ہوتا ہے بالکل اسی طرح کہ جس طرح جنگ احد میں ان لوگوں کے ساتھ ہوا کہ جو اصل میں ان غلطیوں کا نتیجہ تھا کہ جس کے وہ پہلے مرتکب ہو چکے تھے
خدایا تجھے تیرے اولیاء کا واسطہ ہمارے دلوں کو اپنی ذکر سے منور فرما
بسم‌اللَّه‌الرّحمن‌الرّحیم‌
قل هو اللَّه احد. اللَّه الصّمد. لم یلد و لم یولد. و لم یکن له کفوا احد.

دوسرا خطبہ
بسم‌اللَّه‌الرّحمن‌الرّحیم‌
الحمدللَّه ربّ العالمین والصّلاةوالسّلام علی سیّدنا و نبیّنا ابی‌القاسم المصطفی محمّد و علی اله الأطیبین الأطهرین المنتجبین سیّما علی امیرالمؤمنین والصّدیقة الطّاهرة سیّدة نساءالعالمین والحسن والحسین سیّدی شباب اهل الجنّة و علی‌بن‌الحسین و محمّدبن‌علی و جعفربن‌محمّد و موسی بن‌جعفر و علی‌بن‌موسی و محمّدبن‌علی و علی‌بن‌محمّد والحسن‌بن‌علی و الخلف الهادی المهدی القائم حججک علی عبادک و امنائک فی بلادک و صلّ علی ائمةالمسلمین و حماةالمستضعفین و هداةالمؤمنین. اوصیکم عباداللَّه بتقوی اللَّه.
اس دوسرے خطبے میں سب سے پہلے آپ سب کو تقوی الہی اپنا نے کی وصیت کرتا ہوں. یہ وہ وصیت ہے کہ جوہر نماز جمعہ کے خطبوں میں کی جانی چاہیے. اللہ تعالی ہم سب کو تقوی اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔  

  میں چاہتا ہوں کہ مختصر طور پر حضرت عبد العظیم حسنی کے بارے میں کچھ عرا‏ئض پیش کروں۔

 
 حضرت عبدالعظیم حسنی ائمہ کے نزدیک صاحب قدر سید اور مورد تایید مومن تھے۔ آپکی زندگی ایک بہترین مومنانہ اور سبق آموز زندگی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ ان کی زندگی سے دو بہت برجستہ صفات کی جانب اشارہ کروں جس میں ہمارے لئے ایک درس ہے جس کی وجہ سے ہم اپنی زندگی میں کچھ تبدیلی لاسکتے ہیں. اس سید بزرگوار کی صفات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ مواقع ایجاد کرتے اور ان سے  بہترین فائدہ اٹھاتے تھے اور یہ مؤمن کی خصوصیات میں سے  ہے  کہ مومن کو موقع سے مکمّل فائدہ اٹھانا چاہیے ایسا نہ ہو کہ وقت گزر جائے اور اس کے ہاتھ کچھ نہ آئے، جوانی گزر جائے اور اس کی عمر ضایع ہوجائے  کچھ لوگ اپنی زندگی کی قیمتی لمحات ضائع کرتے ہیں اور پھر جب ان کو پتہ چلتا ہے  پھر افسوس کرتے ہیں کہ ہم نے کیا غلطی کر دی نہ قرآن کو یاد کیا نہ نصیحت کرنے والے کی نصیحت کو سنا نہ عبادت انجام دے پائے وغیرہ۔
سورہ زمر میں قرآن کریم فرماتے ہیں کہ وہ چیزیں کہ قیامت کے دن لوگ جن کی وجہ سے حسرت کھاینگے  ایک یہی  ہے کہتے ہیں کہ کچھ لوگ محشر کی میدان میں آئیں گے اور  چیختے ہوئے کہیں گے(یا حسرتا علی ما فرطت فی جنب الله. ) 

 وہ لوگ افسوس کریں گے اور کہیں گے کہ ہم نے کیوں وقت کو برباد کیا  اپنی جوانی سے اپنی سلامتی سے فائدہ نہیں اٹھایا یہ سب جانے والی چیزیں تھی نا جوانی رہی  نہ سلامتی  نہ دولت ہم نے نہ تو اللہ کے راہ میں خرچ کیا  جبکہ خرچ کر سکتے تھے۔

  اس سید کی خصوصیات میں سے ایک یہ تھی کہ موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے تھے اس کے لیے میں چاہتا ہوں کہ ان کی زندگی سے مثال کے طور پر ایک دو نمونے پیش کروں ۔

 جابر بن یزید جوفی  کہ جس نے 18 سال امام صادق علیہ السلام کی درس میں شرکت کی 18 سال بہت ہوتے ہیں شاید اس عرصے میں کئی ہزار حدیثیں یاد کر سکتے تھے۔

  ایک وقت اس نے شہر واپس جانے کا ارادہ کیا تو آپ علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور کہا کے میں واپس جانا چاہتا ہوں مجھے کچھ  نصیحت فرمائیں۔ آپ نے فرمایا کہ آپ نے تو اٹھارہ سال تک درس حاصل کیا پھر بھی چاہتے ہو کہ میں تمہیں اور نصیحت کروں؟  تو اس نے کہا کہ مولا آپکی مثال دریا جیسی ہے میں چاہتا ہوں کہ جاتے وقت بھی کچھ میرے نصیب میں آجائے اس کو فرصت سے فائدہ اٹھانا کہا جاتا ہے یہ بہت ضروری ہوتا ہے اس کو کبھی بھی مت بھولنا اور ہمیشہ وقت سے فائدہ اٹھاتے رہنا وقت سے فائدہ اٹھانا فقط یہ نہیں ہے کہ ہم زیادہ مال کمائیں بلکہ دوسرے لحاظ سے بھی اپنے آپ کو بنانا چاہیے ایک مرتبہ عبدالعظیم حسنی امام مہدی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنے پورے اعتقادات آپ کے سامنے بیان کرو تاکہ آپ دیکھیں کہ  کیا میرے اعتقادات ٹھیک ہیں یا نہیں  ؟ 

 آقائے قرائتی  کہتے ہیں کہ جب شہید مطہری قم تشریف لاتے تھے تو میں انکو گھر بولاتا تھا اور جب وہ جانے لگتے تھے تو میں ان کے ساتھ تہران جانے کا کہتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ کیا آپ کا تہران میں کوئی کام ہے تو میں کہتا تھا کہ نہیں بلکہ قم سے تہران جاتے ہوئے راستے میں میں آپکے محضر سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہوں جو کہ ڈیڑھ گھنٹے کا راستہ ہے تو کہتے ہیں کہ بارھا ایسا ہوا کہ میں انکے ساتھ قم سے تہران گيا اور وہ گھر پہنچ جاتے تھے تو میں وہاں سے بس میں بیٹھ کر واپس آجاتا تھا۔

اس کو فرصت یابی یعنی موقع  سے فائدہ اٹھانا اور کھبی ضایع نہ کرنا کہا جاتا ہے۔

کچھ لوگ علماء سے ملتے ہیں لیکن ان سے پوچھنے کی ہمت نہیں کرتے جبکہ انکے ذھنوں میں مختلف سوالات ہوتے ہیں ۔جبکہ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

کہتے ہے کہ عبد العظیم حسنی ایک مرتبہ امام جواد ع کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ میرے لیئے امام علی کی کچھ احادیث بیان کریں ۔  تو امام علیہ السلام نے ایک حدیث بیان کی حضرت حسنی نے کہا  زد نی  اور بیان فرمائیں ۔   اسی طرح امام علیہ السلام حدیث سناتے رہے اور حضرت عبدالعظیم کہتے رہے کہ اور بھی بیان کریں امام نے 16 احادیث سے بیان فرمائیی  اس طرح انہوں نے وقت سے فائدہ اٹھایا اور اسی طرح ان کے ذہن میں جب کوئی سوال آتا تھا تو وہ پوچھتے رہتے تھے اور امام علیہ السلام سے   خط کے ذریعے  اپنے جواب لیتے تھے اسی وجہ سے عبدالعظیم حسنی سے سو سے زیادہ روایات نقل ہوئی ہیں کچھ روایت ان نے مستقیم اور کچھ بہت کم واسطے سے امام علیہ السلام سے نقل ہوئی ہیں  اس طرح وہ موقع سے فائدہ اٹھاتے تھے لہذا ہمیں بھی فرصت سے اور وقت سے بہترین فائدہ اٹھانا چاہیے۔
عبدالعظیم حسنی کی  دوسری صفت یہ تھی کہ وہ ولایت مدار تھے یعنی امامان معصوم کے سچے پیروکار تھے ویسے تو تاریخ میں بہت سارے لوگ ملتے ہیں کہ جو  بہت عبادت کرتے تھے کچھ تو ائمہ کی نسل سی بھی ہیں لیکن امام کو جیسا ماننا چاہیے تھا ویسا نہیں مانتے تھے ایک آدمی کے جو ایک غار میں شام سے صبح تک نماز اور سجدوں میں مشغول رہتا تھا امام حسین علیہ السلام کے کربلا آنے کی خبر اس کو پہنچی لیکن وہ کربلا میں حاضر نہیں ہوا اور اپنی عبادت میں مشغول رہا بس ایک افسوس کیا۔ تو اب اس آدمی کی عبادت شاید بہت اچھی ہو لیکن امامت کے لئے وہ بیکار تھا۔
کچھ لوگوں پر یہی اعتراض ہوتا ہے کہ جو آئمہ اطھار کے  زمانے میں  عابد اور زاہد معروف تھے جیسے کہ سفیان سوری،  معروف کرخی وغیر وغیرہ لیکن ان کا  آئمہ اطھار  کے ساتھ  کوئی تعلق نہیں تھا یہ بہت ضروری بات ہے کہ ہم  اپنے امام کے ساتھ رابطے میں  رہیں  ہر قدم پر ان کی پیروی کریں امام علی علیہ السلام وہ امام تھے کہ جو راتوں کو خوف خدا سے بے حال ہوتے تھے  اور دن کو میدان جہاد میں موجود رہتے تھے۔
عبدالعظیم حسنی کی ایک صفت یہ تھی کہ وہ ایک جامع  انسان تھے۔  یعنی جب موقع پایا تو وہ شہر رے  میں آکر اپنی عبادت کرتے اور جب ضرورت پڑی تو امام کے ساتھ خط و کتابت کی حضرت علی علیہ السلام کے خطبوں  کو لکھا  اور جب ضرورت ہوی تو انہوں نے اپنے گھر بار بیوی اور بچوں کو چھوڑ کر ہجرت کی اور عراق سے کوچ کیا۔  جہاں پر لازم تھا  تقیہ کیا  تاکہ  اپنے دین کو محفوظ رکھ سکیں۔ ان کی یہ ہجرت، خط لکھنا، عبادت کرنا، اور وقت کے ظالموں سے  لڑنا یہ سب اپنے عقیدے کو محفوظ رکھنے کے لیے وہ انجام دیتے تھے ان کی سب سے بڑی صفت ولایت کو اپنے سینے میں محفوظ رکھنا تھا وہ امام کی خدمت میں آتے تھے اور وہ اپنے امام کو دل سے  تسلیم کرتے تھے۔
عبدالعظیم حسنی اس مقام پر پہنچے کے سب آئمہ  معصومین نے  ان کی توثیق کی اور امام نے شہر رے والوں سے کہا کہ جو عبدالعظیم حسنی کی زیارت کرے ایسا ہے کہ جیسا اس نے کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی ہو یہ سب اس وجہ سے نہیں ہے کہ وہ  امام حسن علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں ایسے تو تاریخ میں بہت سارے ملتے ہیں کہ جو رد ہو گئے ہے  جیسا کہ امام رضا علیہ السلام کا بھائی عبداللہ بن امام موسی  کاظم علیہ السلام بارے میں امام رضا علیہ السلام سے کہا گیا کہ وہ آپ کی امامت کو تسلیم نہیں کرتا تو امام رضا علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ ہم میں سے نہیں ہے

  یہ ایک ایسا مقام ہے کہ جو صرف حضرت عبدالعظیم حسنی کو ملا ہے کہ جس کی زیارت کو امام حسین علیہ السلام کی زیارت جتنا ثواب شامل ہے۔

 
بسم‌اللہ الرّحمن‌الرّحیم‌

انّا اعطیناک الکوثر، فصلّ لربّک وانحر، انّ شانئک هو الابتر.

والسّلام علیکم و رحمةاللہ 


فائل اٹیچمنٹ:
حالیہ تبصرے

اس کہانی کے بارے میں تبصرے

     
امنیت اطلاعات و ارتباطات ناجی ممیزی امنیت Security Audits سنجش آسیب پذیری ها Vulnerability Assesment تست نفوذ Penetration Test امنیت منابع انسانی هک و نفوذ آموزش هک