11/1/2019         ویزیٹ:12       کا کوڈ:۹۳۷۲۸۰          ارسال این مطلب به دیگران

نماز جمعہ کی خطبیں ارشیو » نماز جمعہ کی خطبیں ارشیو
  ،   03 ربیع الاول 1441(ھ۔ ق) مطابق با 01/11/2019 کو نماز جمعہ کی خطبیں
خطبہ اول 
بسم اللہ الرحمن الرحیم

اصیکم و نفسی بتقوی اللہ 
سب سے پہلے اپنے آپ کو اور پھر آپ سب کو تقوی الہٰی اپنانے کی نصیحت کرتا ہوں ۔ وہ  لوگ جو مساجد میں آتے ہیں تقوٰی کے لحاظ سے انہیں زیادہ متقی اور پرہیز گار ہونا چاہیے ۔ لہٰذا جتنا ممکن ہو سکے تقوٰی اختیار کرو کیونکہ انسان کو اس حد تک متقی بننا چاہیے کہ وہ اس آیت کا مصداق بن جائے کہ اللہ تعٰالی ان پر اس طرح کی رحمات نازل فرمائے ۔ 
يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْکُمْ مِدْرَارًا (11)  وَيُمْدِدْکُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَکُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَکُمْ أَنْهَارًا (12) 
وہ آسمان سے تم پر (موسلا دھار) بارش برسائے گا ، مال و اولاد سے امداد کرے گا ، تمہارے لیے باغ بنا دے گا اور تمہارے لیے نہریں بنا دے گا ۔ 
محترم نماز گزاران ! 
محرم و صفر دو اہم مہینے گزر گئے جن میں ہم نے ابا عبداللہ الحسین پر بے پناہ ماتم و گریہ و زاری کی ۔ اللہ تعٰالی ہماری ان عبادات کو قبول فرمائیں ۔ اب ماہ مبارک ربیع الاول شروع ہو چکا ہے ، یہ وہ ماہ ہے جس میں قطب عالم امکان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی ۔ یہ ولادت برادران اہل سنت کے مطابق بارہ ربیع الاول اور مکتب تشیع کے نزدیک 17 ربیع الاول کو ہوئی ۔ اس مہینے کی دوسری مناسبت ، ولادت باسعادت حضرت امام صادق علیہ السلام ہے ۔ 
ہم نے جس جوش و جذبے اور نہایت احترام کے ساتھ جتنا ہو سکا اہل بیت اطہار علیہ السلام کا غم منایا ، اب اسی جوش و جذبے کے ساتھ خوشی بھی منانی چاہیے کیونکہ شیعہ وہ ہے کہ جو اہل بیت علیہم السلام کی خوشیوں میں خوش رہے اور غم میں غمگین ہو ۔ 
ہمارا اصل موضوع تقویٰ ہے اور اس پر مسلسل بات کرتے آ رہے ہیں اور چاہتا ہوں اس موضوع پر مزید بات کروں ، لہٰذا امام رضا علیہ السلام کی ایک حدیث آپ کے سامنے عرض کرتا چلوں کہ ایک مسلمان تب متقی بن سکتا ہے جب اس میں یہ دس صفات پیدا ہو جائیں ۔ 
1-  متقی و پرہیز گار مسلمان وہ ہے کہ لوگوں کو اس سے خیر کی امید ہو یعنی اگر کوئی اس سے مشورہ یا مدد مانگے تو خیر کی توقع کریں کہ وہ اچھا مشورہ دے گا اور خیر (امداد) کرے گا ۔ 
2-  لوگ اس کے شر سے امان میں ہوں اور یہ بات حکومتوں کے لیے بھی ہے ۔ یعنی مسلمانوں کی حکومت ایسی ہونی چاہیے کہ اور لوگ ان کے شر سے محفوظ رہیں ۔ پس وہ حکومت یا وہ لوگ جس کی شر سے دوسرے لوگ امان میں نہ ہوں وہ کھبی بھی متقی اور پرہیز گاروں کی حکومت نہیں ہوسکتی ۔ 
3-  دوسری لوگوں کی طرف سے اگر اس کو بہت کم خیر اور اچھائی پہنچ جاتی ہے تو اس کو زیادہ  شمار کریں۔
4-  اپنی طرف سے دوسرے لوگوں کے ساتھ  وہ جتنے بھی زیادہ نیکی کرے اس کو کم سمجھے۔
5-  اگر لوگ اس سے کوئی حاجت رکھیں تو وہ حاجت روا ہو یعنی لوگوں کے رجوع کرنے پر ناراض نہ ہو جائے ۔ لوگ جتنا بھی اس سے زیادہ رجوع کریں وہ اتنا ہی خوش رہے ۔ 
6-  اپنی تمام تر زندگی تلاش و حصول علم میں گزارے ۔ 
7-  اگرچہ راہ خدا میں فقیر و تنگ بھی ہو جائے پھر بھی راہ کفر میں مالداری اور ثروت مندی سے عزیر تر اور بہتر ہو ۔ 
8-  راہ خدا میں ذلت و رسوائی ، راہ ظلم میں عزت سے بچنا زیادہ پسند کرتا ہو ۔ 
9-  شہرت پسندی پر گمنامی کی زندگی گزارنا زیادہ عزیز رکھتا ہو ۔ اگر کسی کی خدمت کرنا یا صدقہ دینا چاہتا ہو تو بے نامی پسند کرتا ہو یعنی کہیں اس کا نام نہ آنے پائے ۔ جیسے کچھ شہداء ایسے تھے کہ انہیں یہ زیادہ پسند تھا کہ شہادت کے بعد ان کا نام  پوشیدہ رہے ۔ ان تمام شہداء کو آج بھی شہدائے گمنام کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ 
10-  متقی مسلمان وہ ہے جو ہمیشہ دوسروں کو اپنے سے بہتر سمجھے ۔ کیونکہ لوگ دو قسم کے ہیں ، ایک وہ جو بہترین ہیں اور دوسرے وہ جو انسان کو اپنے سے کمتر سمجھتے ہیں ۔ لیکن متقی مسلمان وہ ہے جو ان لوگوں جو اسے برا سمجھتے ہیں ، ان کو بھی اپنے سے بہتر سمجھے ، یعنی یہ کہ ان کا باطن زیادہ اچھا ہے ۔ لیکن جب وہ کسی پرہیزگار اور متقی انسان کو دیکھیں تو ان کے سامنے خاکساری اور تواضع سے کام لیں اور ان کا احترام کریں ۔ اگر کوئی انسان اس درجے پر فائز ہوجائے تو وہ کامیاب ہو جاتا ہے ، ان کا نام اچھے لوگوں میں شامل ہو جاتا ہے ، یقینا دوسرے لوگوں کے لئے سرور و سالار بن جاتا ہے ۔ 
اللہ تعٰالی سبھی کو ان دس صفات کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ 
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ


فائل اٹیچمنٹ:
حالیہ تبصرے

اس کہانی کے بارے میں تبصرے

     
امنیت اطلاعات و ارتباطات ناجی ممیزی امنیت Security Audits سنجش آسیب پذیری ها Vulnerability Assesment تست نفوذ Penetration Test امنیت منابع انسانی هک و نفوذ آموزش هک