3/26/2021         ویزیٹ:27       کا کوڈ:۹۳۸۴۳۶          ارسال این مطلب به دیگران

نماز جمعہ کی خطبیں ارشیو » نماز جمعہ کی خطبیں ارشیو
  ،   12 شعبان 1442(ھ۔ ق) مطابق با 26/03/2021 کو نماز جمعہ کی خطبیں

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
محترم بندگان خدا ، برادران ایمانی و عزیزان نماز گزاران !
اَمَا بَعدْ ۔۔۔عِبَادَ اللهِ أُوصِيکُمْ وَنَفْسِي بِتَقْوَى اللهِ و مَلاَزَمَةِ أَمْرِهْ و مَجَانِبَةِ نَهِیِّهِ و تَجَهَّزُوا عباد اللَّهُ فَقَدْ نُودِیَ فِیکُمْ بِالرَّحِیلِ وَ تَزَوَّدُواْ فَإِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوَی  
الحمد للہ رب العالمین نحمدہ و نستعینہ و نصلی و نسلم علی حافظ وسرہ و مبلغ رسالتہ سیدنا و نبینا ابی القاسم المصطفی محمد و علی آلہ الاطیبن الاطھرین المنجتبین سیما بقیہ اللہ فی الارضین و صل علی آئمہ المسلمین
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
ابتدائے خطبہ میں تمام انسانیت سے تقویٰ الہٰی اپنانے ،  امر الہٰی کی انجام دہی اور جس سے خداوند کریم منع کریں اسے انجام نہ دینے کی تاکید کرتا ہوں۔ مالک الموت نے کہا ہے کہ اے بندگان خدا جانے کیلئے تیار رہو، پس تقویٰ اپناؤ بے شک کہ بہترین لباس تقوی ٰہی ہے۔
دوران حیات اپنے قلوب میں خداوند متعٰال کی ناراضگی سے بچے رہنے کا احساس پیدا کیجئے۔ زندگی کے ہر لحظات میں قدرت خداوندی و ارادہ اِلہٰی کا احساس زندہ رکھنے کی کوشش کیجئے۔ہم پر حق ہے کہ  اُنہیں یاد رکھیں جو الله  کو پیارے ہو گئے ہیں (جو ہم سے اور جن سے ہم بچھڑ چکے) اور وہ بارگاہ ایزدی میں پہنچ چکے ہیں۔ لہٰذا بارگاہ خداوندی میں تمام گذشتگان و شہدائے اسلام کے درجات کی بلندی اور رحمت و مغرفت کے حصول کے خواہاں ہیں ۔ تمام مراجع عظٰام ، مجتہدین کرام و علمائے اسلام کی عزت و تکریم و طول عمر ی کے طلب گار ہیں ۔
قلت وقت کو مد نظر رکھتے ہوئے چند مطالب آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ 
قبل از ایں ! ولادت امام سجاد علیہ السلام ، حضرت علی اکبر و امام ضامن عجل اللہ فرجہ شریف ، ایام ماہ مبارک شعبان اور اس میں وقوع پذیر عیدین کی مناسبت سے مبارک باد و ہدیہ تہنیت پیش کرتا ہوں ۔ 
ماہ مبارک شعبان کی ایک منزل شب 15 شعبان (نیمہ شعبان ) ہے کہ یہ بہت بابرکت رات ہے ۔ امام محمد باقر علیہ السلام سے اس رات کی فضیلت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا ! کہ یہ شب قدر کے بعد سب سے زیادہ فضیلت کی رات ہے ، خداوند کریم اس رات میں اپنے بندوں پر احسانات فرماتا ہے اور اپنے کرم و مہربانی سے معاف کرتا ہے۔ پس کوشش کریں کہ اس شب میں زیادہ سے زیادہ معنوی قربت حاصل کریں ۔ یہ وہ شب ہے جس کے لیے خداوند کریم نے اپنی ذات مقدس کی قسم کھا کر کہا کہ اس شب میں کسی بھی سائل کو نا مراد نہیں پلٹائیں گے سوائے اس کے اس کا درخواست گناہ پر مبنی ہو۔
یعنی اس حاجت اور مراد کے پورا ہونے کے بعد اسی وجہ سے وہ گناہ کا مرتکب ہو سکتا ہو
یہ  وہ عظیم شب ہے جسے خداوند کریم نے ہمارے لیے آراستہ کیا ہے اور یہ اُس شب قدر کا بدل ہے جسے خداوند کریم نے اپنے محبوب نبی احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کے لیے مخصوص کیا ہے ۔ پس خداوند کریم کی زیادہ سے زیادہ حمد و ثنا کریں اور دعا و طلب مغفرت میں کوشاں رہیں ۔
 اس شب کی من جملہ برکات میں سے ایک عظیم بشارت سلطان عصر حضرت مہدی عجل اللہ فرجہ شریف کی ولادت باسعادت ہے جو 255 ہجریٰ میں بوقت صبح صادق سامرہ میں ہوئی اور جس کی بدولت اس شب کی فضیلت میں اضافہ ہوا اور برتری ملی ۔ 
اس شب کی کچھ مخصوص دعائیں و اعمال ہیں جن میں سے اہم ترین آپ کی خدمت میں عرض کرتا چلوں یا یہ کہ یاد دہانی کراتا چلوں ۔ 


1۔     اس رات کے آغاز سے قبل غسل کرنا کہ جس سے گناہوں میں کمی ہوتی ہے ۔ 
2۔     نماز و دعا و استغفار کے لیے شب بیداری کرے کہ امام سجادعلیہ السلام کا فرمان ہے کہ جو بھی اس رات بیدار رہے گا تو اس کے قلب کو اس دن موت نہیں آئے گی، جس دن لوگوں کے قلوب مردہ ہو جائیں گے۔
3۔     اس رات کا سب سے بہترین عمل زیارت امام حسین علیہ السلام ہے کہ جس سے گناہ معاف ہوتے ہیں اور اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کی ارواح اس سے مصافحہ کریں تو اس رات یہ زیارت کبھی ترک نہ کرے۔ 
حضرت کی چھوٹی سے چھوٹی زیارت بھی ہے کہ اپنے گھر کی چھت پر جائیں ، اپنے دائیں بائیں نظر کریں، پھر اپنا چہرہ آسمان کی طرف بلند کر کے یہ کلمات کہیں : 
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا اَبَا عَبْدِ اللّهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَ رَحْمَۃُ اللّهِ وَ بَرَکَاتُہُ
سلام ہو آپ پر اے ابو عبداللہ ، سلام ہو آپ پر اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں 
جو شخص جہاں بھی اور جب بھی امام حسین علیہ السلام کی یہ مختصر زیارت پڑھے تو امید ہے کہ اسے حج و عمرہ کا ثواب ملے گا۔
4۔     اس رات دعائے کمیل ( دعائے خضر علیہ السلام ) پڑھنے کی بہت فضیلت ہے ۔ 
5۔     یہ تسبیحات سو مرتبہ پڑھے تاکہ حق تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف کر دے اور دنیا و آخرت کی حاجات پوری فرمائے : 
سُبْحَانَ - اللهِ وَالْحَمْدُ ِللهِ - وَاللهُ أَکْبَرُ - وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ
اللہ پاک تر ہے اور حمد صرف اللہ ہی کی ہے ، اللہ بزرگ تر ہے اور نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے 
6۔     نماز جعفر طیار ؓ بجا لائے ، جیسا کہ شیخ نے امام رضا علیہ السلام سے روات کی ہے ۔ 
نماز جعفر طیار ؑ (مستحب نمازیں)
یہ نماز اکسیر اعظم اور کبریت احمر ہے۔۔ اس سے کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کی بخشش وارد ہوئی ہے۔۔۔یہ چار رکعتی نماز ہے جو بروز جمعہ چاشت کے وقت ادا کی جاتی ہے یہی فضیلت کا وقت ہے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ دو دو رکعت ادا کرنی ہیں اور پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعدسورہ زُلزلت اور دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ عادیات تیسری میں سورہ حمد کے بعد سورہ نصر اور چوتھی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ توحید پڑھے۔۔۔۔ ہر رکعت میں دوسرا سورہ پڑھے کے بعد 15 مرتبہ تسبیحات اربعہ پڑھے: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ لا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اللّٰہُ اَکْبَر اور یہی ذکر پڑھے رکوع میں 10 مرتبہ اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد 10 مرتبہ، پھر پہلے سجدے میں 10 مرتبہ پھر سجدے سے سر اٹھانے کے بعد 10 مرتبہ، دوسرے سجدے میں 10 مرتبہ پھر قیام سے پہلے 10 مرتبہ۔۔۔ اسی طرح چار رکعات مکمل کرے۔
مفضل بن عمر سے روایت ہے کہ حضرت امام جعفر صادقؑ نماز جعفر طیار سے فارغ سے ہو کر ہاتھوں کو بلند کر کے یہ اذکار پڑھتے تھے:
یَا رَبِّ یَا رَبِّ ایک سانس
یَا رَبَّاہُ یَا رَبَّاہُ ایک سانس
رَبِّ رَبِّ ایک سانس
یَا اَللّٰہُ یَا اَللّٰہُ ایک سانس
یَا حَیُّ یَا حَیُّ ایک سانس
یَا رَحِیْمُ یَا رَحِیْمُ ایک سانس
یَا رَحْمٰنُ یَا رَحْمٰنُ ایک سانس
یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ سات مرتبہ
پس آخر میں آپ ؑ نے فرمایا اے مفضل! اگر کوئی حاجت در پیش ہو تو نماز جعفر طیار پڑھ کر یہ دُعا پڑھو اور خدا وند سے حاجت طلب کرو:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَفْتَتِحُ الْقَوْلَ بِحَمْدِکَ وَ اَنْطِقُ بِالثَّـنَآئِ عَلَیْکَ وَ اُمَجِّدُکَ وَ لا غَایَۃَ لِمَدْحِکَ وَ اُثْنِیْ عَلَیْکَ وَ مَنْ یَّبْلُغُ غَایَۃَ ثَنَآئِکَ وَ اَمَدَ مَجْدِکَ وَ اَنّٰی لِخَلِیْقَتِکَ کُنْہُ مَعْرِفَۃِ مَجْدِکَ وَ اَیَّ زَمَنٍ لَمْ تَکُنْ مَمْدُوْحًام بِفَضْلِکَ مَوْصُوْفًامبِمَجْدِکَ عَوَّادًا عَلٰی الْمُذْنِبِیْنَ بِحِلْمِکَ تَخَلَّفَ سُکَّانُ اَرْضِکَ عَنْ طَاعَتِکَ فَکُنْتَ عَلَیْھِمْ عَطُوْفًا بِجُوْدِکَ جَوَّادًا بِفَضْلِکَ عَوَّادًا بِکَرَمِکَ۔
یَا لآ اِلٰـہَ اِلَّا اَنْتَ الْمَنَّانُ ذُو الْجَلالِ وَ الْاِکْرَامِ۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّد
ان لمحات و لحظات میں دعاؤں ، مناجات و حمد و ثنائے خداوند کریم سے فائدہ اٹھانا حکمت پانے کے راستوں میں سے ایک راستہ ( ذریعہ ) ہے ۔ کچھ سورہ جات جن میں امام زمان کے وجود پر واضح دلائل موجود ہیں ان میں سے ایک سورۃ القدر ہے کہ جس میں انسان کامل اور امام معصوم کا ہر زمان میں ہونا ضروری ہے ، واضح طور پر بیان ہوا ہے ۔ 
فرماتے ہیں کہ :      بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ 
إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ؕ وَ ما أَدْراکَ ما لَيْلَةُ الْقَدْرِ ؕؐ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ ؐ تَنَزَّلُ الْمَلائِکَةُ وَ الرُّوحُ فِيها بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ کُلِّ أَمْرٍ ؕؐ سَلامٌ هِيَ حَتَّي مَطْلَعِ الْفَجْرِ
ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا  اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے کہ اس میں روح (الامین) اور فرشتے اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں یہ (رات) طلوع صبح تک (امان اور) سلامتی ہے ۔ 
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ روح ایک حقیقیت ہے جو فرشتوں سے بھی افضل ہے ، قرآن کریم میں 2 مرتبہ روح کا ذکر آیا ہے ، اول جب قیامت کے بارے میں بیان ہو رہا ہے : 
 يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِکَةُ صَفًّا ۖ 
جس دن روح (الامین) اور فرشتے صف باندھے کھڑے ہوں گے     ( سورۃ النباء ، آیۃ 38 ) 
اور یہ وہ دن ہو گا جب ارواح اور ملائکہ صف بستہ قیام کیے ہوئے حاضر اور تیار ہوں گے ۔ 
دوسری بار سورۃ القدر میں ذکر ہوا جہاں پیغمبر اکرم ﷺ اور آئمہ طاہرین کے مقام و مرتبہ کی منفرد و بہترین انداز سے وضاحت بیان کی گئی ہے ۔ 

فرمایا:     إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ؕ وَ ما أَدْراکَ ما لَيْلَةُ الْقَدْرِ 
ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا  اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ 
اس کے بعد فرمایا کہ :     تَنَزَّلُ الْمَلائِکَةُ وَ الرُّوحُ فِيها بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ کُلِّ أَمْرٍ 
اس ( رات ) میں روح (الامین) اور فرشتے اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں
خداوند کریم نے قرآن کے متعلق فرمایا:         إِنَّا أَنْزَلْناهُ ۔۔۔
کہ ہم نے اسے نازل کیا یعنی اس جملے کا تعلق گزشتہ زمانے سے ہے ، یعنی دوران حیات پیغمبر میں ہی شب قدر میں اللہ نے قرآن کو نازل فرمایا ۔ پھر اس کے بعد فرمایا کہ روح الامین اور ملائک شب قدر میں نازل ہوتے ہیں ۔ یعنی روح اور ملائک کا نازل ہونا قرآن کے نازل ہونے سے نسبت یا اس سے وابستہ نہیں ہے بلکہ ہر شب قدر میں روح اور ملائک نازل ہوتے ہیں ۔ توجہ رہے کہ نزول قرآن کو بیان کرتے وقت ماضی کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے یعنی ہم نے نازل کیا لیکن شب قدر کے بارے میں کہتے ہیں کہ ہم ہمیشہ ایسا کرتے رہیں گے یعنی ہر شب قدر کو روح اور ملائک نازل ہوتے رہیں گے ۔
 یہاں ایک سوال ہمارے اذہان میں ابھرتا ہے کہ یہ روح الآمین اور ملائک جن کے نازل ہونے کا ذکر قرآن میں ہے ، یہ کس پر نازل ہوتے ہیں ؟ یعنی کیا ہمیشہ کے لیے روئے زمین پر ایک انسان کامل کا ہونا ضروری ہے جو اُس مقام و مرتبہ پر فائز ہو کہ روح الامین اور ملائک اس پر نازل ہو سکیں یانہیں ؟
لیکن اگر کہے کہ نزول ملائکہ اور روح الآمین کے لیئے کسی کا ہونا ضروری ہے کہ جس پر ملائکے نازل ہو ! تو وہ کون ہے ؟ 
چونکہ اور لوگ اس بات کے قائل نہیں کہ کوئی انسان کامل موجود ہے اور وہ لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ پیغمبر اکرم ﷺ کے بعد سب انسان بہترین ہیں اگرچہ وہ گناہ ہی کیوں ناں کرتے ہوں  اور جرم و  خطا کے مرتکب بھی ہوتے ہوں ۔ 
لیکن ان   عقیدے کے باوجود بھی وہ اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ ان میں سے  کوئی شخص ہے جس کے ساتھ  روح الامین اور ملائک کا اتصال ( رابطہ ، واسطہ ) برقرار  ہو ۔ 
یہ نقطہ فقط اور فقط شیعوں کے ساتھ مخصوص ہے کہ ہر زمانے میں امام معصوم ؑ کا موجود ہونا ضروری ہے کیونکہ سورۃ القدر اس بات کی طرف واضح اشارہ کرتی ہے کہ شب قدر میں ارواح اور ملائک نازل ہوتے ہیں ۔
 البتہ ایسا نہیں کہا گیا کہ نازل ہو گئے تھے اور یہ بھی نہیں کہا کہ کس پر نازل ہوتے تھے ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ روئے زمین پر ہمیشہ کے لیے ایک حجت خدا موجود ہوں اور وہ اس مقام و مرتبہ پر فائز ہو کہ  اس پر روح الامین اور ملائک نازل ہو سکیں اور یہ فقط اور فقط امام زمان مہدی عجل اللہ فرجہ شریف ہی ہیں ۔ 
 خدایا پروردگارا ! ہمارے نیک توفیقات میں اضافہ فرما۔  ہمارے تمام امور میں ہمیں عاقبت بخیر بنا ، حاجتوں کی تکمیل میں راہنمائی فرما ، تمام بیماران کو امراض سے نجات دے ، صحت و سلامتی  عطا فرما، فقر و ناداری کو مال و ثروت و سخاوت میں بدل دے ، 
برے حالات کو اچھے حالات میں بدل دے  ، امام ضامن مہدی فرجہ شریف کے ظہور پرنور میں تعجیل فرما اور ہمیں اُن کے انصارین میں شامل فرما ۔


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

إِنَّا أَعْطَيْنَاکَ الْکَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ إِنَّ شَانِئَکَ هُوَ الْأَبْتَرُ 

صَدَقَ اللّہُ الْعَلْیِّ العَظیم

 

فائل اٹیچمنٹ:
حالیہ تبصرے

اس کہانی کے بارے میں تبصرے

     
امنیت اطلاعات و ارتباطات ناجی ممیزی امنیت Security Audits سنجش آسیب پذیری ها Vulnerability Assesment تست نفوذ Penetration Test امنیت منابع انسانی هک و نفوذ آموزش هک