1/14/2022         ویزیٹ:364       کا کوڈ:۹۳۸۶۳۵          ارسال این مطلب به دیگران

نماز جمعہ کی خطبیں ارشیو » نماز جمعہ کی خطبیں ارشیو
  ،   11 جمادی الثانی 1443(ھ۔ ق) مطابق با14/01/2022 کو نماز جمعہ کی خطبیں

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

الحمد للہ رب العالمین نحمدہ و نستعینه و نصلی و نسلم علی حافظ وسرہ و مبلغ رسالته سیدنا و نبینا ابی القاسم المصطفی محمد و علی آلہ الاطیبن الاطھرین المنجتبین سیما بقیة اللہ فی الارضین و صل علی آئمه المسلمین

 

اَللّهُمَّ کُنْ لِوَلِيِّکَ الْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ صَلَواتُکَ عَلَيْهِ وَعَلي آبائِهِ في هذِهِ السّاعَةِ وَفي کُلِّ ساعَةٍ وَلِيّاً وَحافِظاً وَقائِداً وَناصِراً وَدَليلاً وَعَيْناً حَتّي تُسْکِنَهُ أَرْضَکَ طَوْعاً وَتُمَتِّعَهُ فيها طَويلا

 

اَمَا بَعدْ ۔۔۔

عِبَادَ اللهِ أُوصِيکُمْ وَنَفْسِي بِتَقْوَى اللهِ و مَلاَزَمَةِ أَمْرِهْ و مَجَانِبَةِ نَهِیِّهِ و تَجَهَّزُوا عباد اللَّهُ فَقَدْ نُودِیَ فِیکُمْ بِالرَّحِیلِ وَ تَزَوَّدُواْ فَإِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوَی

محترم بندگان خدا، برادران ایمانی و عزیزان نماز گزاران!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

ابتدائے خطبہ میں تمام انسانیت سے تقویٰ الہٰی اپنانے، امور الہٰی کی انجام دہی اور جس سے خداوند کریم منع کریں اسے انجام نہ دینے کی تاکید کرتا ہوں۔

 

ممنوعات اور حرام سے بچنا اور فرائض کی ادائیگی جسے دین کی زبان میں تقویٰ سے تعبیر کیا جاتا ہے، دنیا و آخرت میں نجات کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔

 

گزشتہ خطبات میں تقوٰی کی برکات پر بات کی گئی۔

مزید برکات میں یہ کہ انسان کو صحیح علم و معرفت، صحیح انتخاب، نیکی کی طرف بڑھنا، غیر متوقع رزق ملنا اور خدا کی طرف سے اعمال کی قبولیت شامل ہیں۔

ایک اور یہ کہ انسان کو مشکلات سے نجات ملتی ہے ، تقوٰی کی بدولت بارگاہ الہٰی میں اعمال قبول ہوتے ہیں اور مشکلات و سختیوں سے نجات حاصل ہو جاتی ہے۔

ایک اور برکت کہ انسان قرآن کی ہدایت سے مستفید ہوتا ہے۔

ایک اور برکت کہ تقوٰی ایک میزان /ترازو ہے جس سے انسان کے اچھے یا برے ہونے کا اندازہ لگایا جاتا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا   (انَّ أَکرَمکم عند اللّه ِ أَتقکم)تم لوگوں میں سب سے اچھا اور اللہ کے نزدیک وہ شخص ہے جو زیادہ متقی اور پرہیز گار ہو

اسی  وجہ سے قرآن کریم میں   49 مقامات پر متقین کی صفات بیان کی گئی ہیں اور 83  جگہوں پر تقوٰی کے آثارات اور اس کی بدولت جوانعامات انسان کو ملتا ہے بیان کی گئی ہیں ۔

قرآن کی کچھ آیات میں تقوٰی کو  کامیاب ہونے  کا راز ، خدا کی طرف رجوع کرنے ، اعمال کی قبولی کا محور ، انسان کی کرامت کا ذریعہ اور حق و  باطل کی پہچان کے لئے ترازو ، ہر قسم کی مشکلات سے نکلنے کے لیے راستہ اور نجات  متعارف کروایا ہے ۔ جس سے آپ کو فکری طور پر مدد ملتی ہے ، ان سب انعامات کا ذریعہ  تقوٰی قرار دیا گیا ہے۔

 کرامت اور بزرگی کے لحاظ سے مرد اور عورت ، چھوٹے اور بڑے میں تقوٰی کے علاوہ کوئی اور فرق نہیں ہے  ۔ بلکہ  سب سے بہتر وہ ہے جو متقی ہوں۔

 

 ہم نے گزشتہ خطبوں میں لقمان حکیم کی پراسرار حکمتوں کا ذکر کیا تھا آج اس میں سے کچھ اور بیان کرتے ہیں ۔ لقمان حکیم نے اپنے بیٹے سے کہا  کہ اے میرے بیٹے ہر چیز کی ایک علامت ہوتی ہے اور اسی طرح آگاہی ، معرفت کی بھی تین نشانیاں /علامات ہیں ۔

ایک یہ کہ انسان خدا کو پہچانے اور جس چیز کہ جو اللہ  چاہتا ہے  یا نہیں چاہتا ہے   اس کو پہچانے ۔

جب ہم  اس بات کی طرف  پہلے  سے متوجہ ہو جائیں ‏کہ کوئی حاضر ہے اور ہمارے اعمال کو دیکھ رہا ہے تو ہم خود بخود اپنے کردار و افکار کو اعتدال پر لے آتے ہیں ۔

اسی طرح اگر ہم اس بات پر توجہ دیں کہ خداوند متعال کی رضا مندی ہمارے لئے ضروری ہے تو یوں انسان کے اعمال ، کردار و افکار میں تعادل پیدا ہوتا ہے  اور جو  کچھ اللہ  چاہتا ہے یا نہیں چاہتا اگر ہم اس کی معرفت پیدا کریں  تو اس سے انسانی رفتار میں  تعادل  پیدا ہو جاتا ہے    اور یہی چیز وسیلہ بنتی ہے کہ انسان کی زندگی آرام  و سکون کے ساتھ ہو ۔

اور یہ کہ   ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ زندگی کو لوگوں کے کہنے کے مطابق نہ بنائیں  بلکہ اللہ کیا چاہتا ہے ہمیں کیا کرنا چاہیے   اس بات کو مدنظر رکھیں   ۔ کیونکہ لوگو ں کا اچھا یا برا کہنا   فقط بات  کی حد تک ہوتا ہے  ، اس کا شخصی زندگی پر کوئی خاص اثر مرتب نہیں ہوتا  ۔

و لیکن ہمیں چاہئے کہ اپنی زندگی کو اللہ کے کہنے کے مطابق مرتب کریں کہ وہ کیا چاہتا ہے ، کیا فرماتا ہے کیونکہ جو کچھ  وہ چاہتا ہے  اور فرماتا ہے  اس کے  انسان کی زندگی پر اچھے  اثرات  مرتب ہوتے ہیں یا اللہ کا کہنا نہ ماننے پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔  اس طرح سے انسان کی  پہچان بنتی ہے   اور انسان کی پہچان اس کی صحیح معرفت پر ہے   ۔ پس یہ کہ انسان بڑا ہے یا چھوٹا ، اونچی شخصیت کا حامل ہے یا نہیں اس کی بنیاد انسان کی صحیح  علم اور معرفت پر ہے ۔ اگر اللہ فرماتا ہے کہ یہ کام کرو اور یا نہ کرو   اس سے اللہ کو کوئی نفع  پہنچتا ہے ا ور نہ  نقصان لیکن اس کو  واقعی صورت میں  انسان کو نفع یا نقصان ضرور پہنچتا ہے۔

 یعنی جس چیز کا اللہ کہتا ہے کہ نہ کرو اور اگر انسان  نے کیا تو اس کا  نقصان ضرور  بے ضرور اسے ہو گا  ۔ ہاں ا ن چیزوں کے اثرات یا تو  جلد یا پھر دیر سے ہی سہی لیکن انسان کو پلٹ کر آتے ہیں ۔ اس میں کچھ اثرات انسان کو دنیا میں ہی لاحق ہوتے ہیں اور کچھ آخرت میں ۔

ایک جوان حضرت موسی علیہ السلام کے پاس آیا اور کہا اے موسیٰ میری عبادات سے خدا کو کیا ملتا ہے کہ وہ اس حد اصرار کرتا ہے کہ ہم اس کی باتوں کو مانیں اور اس کی عبادت کریں؟

 حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے  کہ جب میں جوان تھا تو حضرت شعیب نبی کا چرواہا تھا ۔ ایک مرتبہ ایک کمزور بکری ایک بڑی چٹان کے اوپر  چڑھ گئی اور خطرہ تھا کہ وہ وہاں سے گر نہ جائے تو میں نے بہت مشکل سے اپنے آپ کو ‏اس بڑی چٹان پر بکری کے پاس پہنچایا اور اسے اپنی گود میں اٹھا کر اس کے کان میں کہا کہ اے بکری جو کچھ میں تمہیں کہ رہا تھا اور منع کر رہا تھا یہ اسی لیے ہی تھا کہ جس پتھر کے اوپر تم چڑھ چکی ہو عنقریب تھاکہ تم اس سے گر جاؤ اور ایک بڑی مشکل میں گرفتار ہو جاؤ لیکن تم چونکہ نہیں دیکھ رہی تھی اور تمہیں پتا نہیں تھا کہ ایسا بھی ہوگا تم میری بات نہیں سن رہی تھی ۔ اے جوانو اسی طرح اللہ کی عبادت کرنا اور حکم کی تعمیل کرنا  یہ اللہ کو کچھ بھی فائدہ نہیں دیتا لیکن اس میں ہماری ہی بھلائی ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالی نےارشاد فرمایا ہے    (وَ مَنْ‌ يَعْشُ‌ عَنْ‌ ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ‌ نُقَيِّضْ‌ لَهُ‌ شَيْطَاناً فَهُوَ لَهُ‌ قَرِينٌ‌   ) جو بھی بندہ ہمارے یاد سے دور ہو جاتا ہے تو ہم اس کے پیچھے شیطان بھیج دیتے ہیں اور وہ ہمیشہ کے لئے اس کے ساتھ رہتا ہے لہذا اللہ جو ہمیں عبادت کے لئے بلاتا ہے یہ اس لیے ہے کہ اللہ کی یاد جب تک ہمارے پاس ہو تو ہم حقیقت میں اللہ کے نزدیک ہوتے ہیں اور اس طرح ہمیں شیطان سے نجات ملتی ہے۔ لقمان حکیم نے ایک اور وصیت میں  اپنے بیٹے سے فرمایا کہ اے میرے بیٹے اپنے علم اور جانکاری سے جب تک تمہارے پاس وقت ہے فائدہ اٹھاؤ کیوں کہ یہ فرصت ہمیشہ  کیلئے نہیں رہتی  ۔ عاقل  لوگ وہ ہوتے ہیں جو دور   اور آئندہ کے لئے  سوچتے ہیں اور قبل اس کے کہ وہ مشکل میں پھنس جائیں  ارادہ کر لیتے ہیں اور ایک منصوبہ بنا دیتے ہیں ۔ البتہ جاہل لوگ کیونکہ وہ نزدیک دیکھتے ہیں اور جو تجربہ کار لوگ اس کے اردگرد موجود ہوتے ہیں ان سے بھی فائدہ نہیں اٹھاتے وہ لوگ سوچتے ہیں کہ ہماری بزرگی ہمارے نہ ماننے میں ہے لیکن جب وہ پھنس جاتے ہیں تو اس کے بعد  کہتے  ہیں کہ کاش اگر ہم ایسا نہ کرتے  یعنی جب پانی حلق تک آجاتا ہے پھر کہتے ہیں کہ کاش ہم ایسا نہ کرتے ۔  لقمان حکیم نے اپنے بیٹے سے کہا کہ ہمیں سیکھنا اور سکھانا بھی چاہیے کیونکہ  اس طریقے سے معاشرے میں تعادل آجاتا ہے اور ہمارے  علم سے  ان سب کو فائدہ پہنچتا  ہے ۔

لقمان حکیم نے اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے کہا اے میرے بیٹے    

يا بُنَيَّ، بادِر بِعِلمِکَ قَبلَ أن يَحضُرَ أجَلُکَ

علم سیکھنے  کے لیئے  جلدی کرو قبل اس کے کہ موت آجائے۔

اور فرمایا :  یا بُنَيَّ، نافِس في طَلَبِ العِلمِ فَإِنَّهُ ميراثٌ غَيرُ مَسلوبٍ و قَرينٌ غَيرُ مَرغوبٍ و نَفيسُ حَظٍّ مِنَ النّاسِ و فِي النّاسِ مَطلوبٌ

  کیونکہ علم ایک  ایسی میراث ہوتی ہے  کہ جو کبھی بھی ہاتھ سے نہیں نکلتا ، وہ ہمیشہ تمہارے ساتھ رہتا ہے ۔ انسان کی   قیمت علم کی وجہ سے ہوتی ہے اور لوگ بھی انسان کو انسان کے علم کی وجہ سے اپنا مرکز توجہ بنا دیتےہیں ۔

 

خدایا پروردگارا! ہماری نیک توفیقات میں اضافہ فرما۔ ہمارے تمام امور میں ہمیں عاقبت بخیر بنا، حاجتوں کی تکمیل میں راہنمائی فرما، تمام بیماران کو امراض سے نجات دے، صحت و سلامتی عطا فرما، فقر و ناداری کو مال و ثروت و سخاوت میں بدل دے،

برے حالات کو اچھے حالات میں بدل دے،  امام زمان عجل اللہ فرجہ شریف کے ظہور پرنور میں تعجیل فرما اور ہمیں اُن کے انصارین میں شامل فرما۔

 

اللهمَّ أدخل على أهل القبور السرور، اللهم أغنِ کل فقير، اللهم أشبع کل جائع، اللهم اکسُ کل عريان، اللهم اقضِ دين کل مدين، اللهم فرِّج عن کل مکروب، اللهم رُدَّ کل غريب، اللهم فک کل أسير، اللهم أصلح کل فاسد من أمور المسلمين، اللهم اشفِ کل مريض، اللهم سُدَّ فقرنا بغناک، اللهم غيِّر سوء حالنا بحسن حالک، اللهم اقضِ عنا الدين وأغننا من الفقر إنَّک على کل شيء قدير

 

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ کَانَ تَوَّابًا۔

اَللّهُمَّ عَجِّلْ لِوَلِیِّکَ الْفَرَجَ وَ الْعافِیَةَ وَ النَّصْرَ  وَ اجْعَلْنا مِنْ خَیْرِ اَنْصارِهِ وَ اَعْوانِهِ  وَ الْمُسْتَشْهَدینَ بَیْنَ یَدَیْهِ

 

اَلسَّلامُ عَلَيْکِ يا اُمَّ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ سَيِّدَىْ شَبابِ اَهْلِ الْجَنَّةِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْکِ اَيَّتُهَا الصِّدّيقَةُ الشَّهيدَةُ ، اَلسَّلامُ عَلَيْکِ اَيَّتُهَا الرَّضِيَّةُ الْمَرْضِيَّةُ ، اَلسـَّلامُ عـَلَيْکِ اَيَّتـُهَا الْفاضِلـَةُ الزَّکِيـَّةُ ، اَلسـَّلامُ عـَلَيْکِ اَيَّتـُهَا الْحَوْراءُ الاِنْسِيَّة. ورحمة الله وبرکاته .



فائل اٹیچمنٹ:
حالیہ تبصرے

اس کہانی کے بارے میں تبصرے

     
امنیت اطلاعات و ارتباطات ناجی ممیزی امنیت Security Audits سنجش آسیب پذیری ها Vulnerability Assesment تست نفوذ Penetration Test امنیت منابع انسانی هک و نفوذ آموزش هک