1/5/2024         ویزیٹ:181       کا کوڈ:۹۴۰۰۶۵          ارسال این مطلب به دیگران

نماز جمعہ کی خطبیں ارشیو » نماز جمعہ کی خطبیں ارشیو
  ،   22 جمادی الثانی 1445 (ھ۔ ق) مطابق با01/05/2023 کو نماز جمعہ کی خطبیں

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

الحمد للہ رب العالمین نحمدہ و نستعینه و نصلی و نسلم علی حافظ وسرہ و مبلغ رسالته سیدنا و نبینا ابی القاسم المصطفی محمد و علی آلہ الاطیبن الاطھرین المنجتبین سیما بقیة اللہ فی الارضین و صل علی آئمه المسلمین
 

اَللّهُمَّ کُنْ لِوَلِيِّکَ الْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ صَلَواتُکَ عَلَيْهِ وَعَلي آبائِهِ في هذِهِ السّاعَةِ وَفي کُلِّ ساعَةٍ وَلِيّاً وَحافِظاً وَقائِداً وَناصِراً وَدَليلاً وَعَيْناً حَتّي تُسْکِنَهُ أَرْضَکَ طَوْعاً وَتُمَتِّعَهُ فيها طَويلا

اَمَا بَعدْ ۔۔۔

عِبَادَ اللهِ أُوصِيکُمْ وَنَفْسِي بِتَقْوَى اللهِ و مَلاَزَمَةِ أَمْرِهْ و مَجَانِبَةِ نَهِیِّهِ و تَجَهَّزُوا عباد اللَّهُ فَقَدْ نُودِیَ فِیکُمْ بِالرَّحِیلِ وَ تَزَوَّدُواْ فَإِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوَی

 

محترم بندگان خدا، برادران ایمانی و عزیزان نماز گزاران!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

ابتدائے خطبہ میں تمام انسانیت سے تقویٰ الہٰی اپنانے، امور الہٰی کی انجام دہی اور جس سے خداوند کریم منع کریں اسے انجام نہ دینے کی تاکید کرتا ہوں۔

 

ممنوعات اور حرام سے بچنا اور فرائض کی ادائیگی جسے دین کی زبان میں تقویٰ سے تعبیر کیا جاتا ہے، دنیا و آخرت میں نجات کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔

متقی لوگوں کی چند صفات اور خصوصیات

1-   جب مومن تقویٰ کے مقام پر پہنچتا ہے تو خدا اس کا ہاتھ پکڑتا ہے اور اہل بیت علیہم السلام کی برکت سے اس کی رہنمائی کرتا ہے۔

متقی لوگ ہمیشہ خرچ کرتے ہیں، چاہے خود آمیر ہو یا غریب،

2- یہ کہ وہ اپنے غصے  کی حالت میں  اپنے آپ پر قابو رکھتے ہیں اگر کوئی اس پر ظلم کرتا ہے تو اگر پھر وہ اپنے ظلم پر پشیمان ہو جاتا ہے تو مومن اور متقی انسان اسکو جلدی معاف کردیتا ہے،کیونکہ اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

3- اگر وہ کسی کی حق میں کسی نامناسب یا یا برے عمل کا مرتکب ہو بھی جاتا ہے تو فوراً معافی مانگتے ہیں اور جانتے بوجھتے اپنے گناہ کا اعادہ نہیں کرتے، اور دوبارہ گناہ کا مرتکب نہیں ہوتے ہے۔

گزشتہ جمعہ کو  میں نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا اور حضرت علی علیہ السلام کی مختصر سیرت کے بارے میں بات کی تھی

وہ زہراء  کہ جس کو ام ابیھا بھی کہا  جاتا  ہے۔

اللھم صل علی فاطمہ  و ابیها و امیها و بعلها و بنیها و سر المستودع فيها

اور آج میں  ان دو ہستیوں (علی اور فاطمہ)  کے اخلاق و   کردار کے بارے میں کچھ حقایق آپ کی خدمت میں پیش کریں گے۔

قرآن کریم نے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل ایمان کے لیے ایک قابل تقلید اور مثالی نمونہ کے طور پر متعارف کرایا ہے،   ویسے  تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرد اور عورت  دونوں کے  لیے اسوہ اور  نمونہ  ہے ، اس میں مرد اور عورت کے لیے  کوئی فرق نہیں ہے۔

لیکن چونکہ  خواتین کی مخصوص مزاج اور   ذمہ داریوں کا یہ تقاضہ ہے  کہ  آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے علاوہ، ان کے پاس ایک اور مثال اور نمونہ عمل  بھی ہو، کہ جو خود ایک عورت ہو ں تاکہ دوسری عورتیں انکی  اخلاقی اور خاندانی طریقوں پر عمل کریں

پیغمبر اکرم(ص) نے اپنے الفاظ میں فاطمہ(س) کو اپنے وجود کا حصہ معارفی کیا ہے اور کئی بار مومنین کی مجلس میں فرمایا ہیں: فاطمہ(س) میرے جسم کا حصہ ہیں۔ فاطمہ (س) کا وجود رسول خدا (ص) کے وجود سے الگ نہیں ہے

اور ان کی سیرت  پیغمبر کی سیرت کا ایک اور مظہر ہے، لہذا فاطمہ (س) خدا اور اسکے رسول کے دین اور سیرت  کا تمام شعبوں میں جیسا کہ خدا کی بندگی، تقویٰ و عبادت، حجاب و عفت وغیرہ میں تسلسل ہیں۔

، لیکن جو چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مختصر سی زندگی میں زہرا سلام اللہ علیھا نے سیکھا اور اس میں تمام عورتوں کے لیے نمونہ عمل بھی  بن گئی وہ ہے  خاندانی مسائل اور اپنے شوہر کے ساتھ زندگي کا طریقہ اور بچوں کی بہتریں تربیت کرنا۔

امام باقر (ع) اپنی والدہ محترمہ فاطمہ (س) کی عظمت و شان میں فرماتے ہیں: لَقد کانت مفروضَة الطاعةِ علی جمیع مَن خلق الله من الجنّ والإنسِ والطیرِ والوحشِ و الانبیاء والملائکة

فاطمہ (س) کی اطاعت تمام مخلوقات جن و انس، پرندے و حیوانات، انبیاء اور فرشتوں سب پر واجب ہے۔

اور  امام زمانہ نے بھی حضرت فاطمہ (س) کے مقدس وجود کو اپنے لیے بہترین نمونہ عمل قرار دیا اور فرمایا ہے :و فی ابنةِ رسول الله لیَ اسوةٌ حسنةٌ

اور بیشک رسول خدا (ص) کی بیٹی میرے لیے بہترین اسوہ اور نمونہ ہے،

شادی اور اس کے مقدمات اور تیاریاں

ویسے تو توحید کا تصور اور لوگوں کے ایمان کی سطح ان کی پوری زندگی میں جلوہ گر ہوتی ہے اور ہر شخص اپنے علم اور بندگی کے مطابق اپنے طرز عمل کو ترتیب دیتا ہے۔

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی زندگی میں ہر چیز سے بڑھ کر خدا کی مرجعیت  اور موضوعیت نظر آتی ہے اور یہ ان کے طرز عمل اور گفتگو کے تمام مظاہر میں موجود ہے۔ اس حد تک کہ اپنی   خاندانی  زندگی میں اس نے اپنے تمام تقاضوں، گفتار اور برتاؤ کو خدا کی رضا سے ناپا اور ہمیشہ خدا کی رضا کو اپنے اطمینان اور راحت سے پہلے رکھا اور کہا:

اللّهم إنی اسئلک بما تحب و ترضی

اے اللہ میں تم سے وہ سب مانگتی ہو کہ  جو تم پسند کرتے ہو اورجس میں تیری رضا ہو ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم  بیٹی کی زندگی  میں  سب سے اہم اصول   اور نمونہ یہ بھی ہے۔ کہ   کیسے شوہر کا  انتخاب کریں ، حق مہر اور جہیز کیسا ہونا چاہئے۔

 

 اگرچہ وہ خود روحانی   اعتبار سے  اعلیٰ ترین درجے پر  فائز تھی،  اور وہ رہبانیت یا خوشحالی کے خواہاں نہیں تھی  لیکن پھر بھی  خدا کی اطاعت کے لیے شادی کو ضروری سمجھتی تھی۔

 جب وہ علی (ع) کی بیوی بنیں اور اپنی ظاہری غربت کی وجہ سے، قریش کی عورتوں کی طرف سے ان پر تنقید اور  انہیں مورد تمسخر  قرار دیا،  اورجب اس نے یہ صورت حال پیغمبر اکرم (ص) کی محضر میں بیان کی  ، تو تب  اس نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور کہا: رضیتُ بما رضی الله و رسوله جس  پر خدا اور اس کا رسول (ص) راضی  ہو میں بھی اس پر راضی ہوں۔

اپنے شوہر کے ساتھ اچھی صحبت میں خدا کی خوشنودی  کوترجیح دیتی تھی۔ جس دن علی (ع) نے ان سے پوچھا: آپ نے اپنے گھر میں بھوک اور خوراک کی کمی کے بارے میں کیوں نہیں بتایا، فاطمہ (س) نے جواب دیا:

یا ابالحسن إنی لاستحیی من الهی ان اکلف نفسک مالا تقدر علیه

 اے ابوالحسن، یہ میرے لئے افسوس کی بات ہے۔ میں اپنے خدا سے شرمندگی محسوس   کرتی ہوں کہ آپ کو ایک ایسےکام  کا بتاو کہ  جس کا انجام دینا آپ کے لیے خاص تکلیف کا باعث ہوں۔

اور کھبی بھی  یہ نہیں کہا کہ میں تم سے اپنی بیوی ہونے پر شرمندہ ہوں۔

فاطمہ (س) نے اپنے شوہر سے محبت کے عروج کے وقت بھی خدا کی محبت اور رضا کو بلند   رکھا۔ان کی دعاؤں کے بعض حصوں میں یہ ذکر کیا گیا ہے:

یا رب لیست من احد غیرک تئلج بها صدری و تسرّبها نفسی و تقربها عینی

اے خدا، تیرے سوا،  کسی شئے سے بھی  میرے سینے کو ٹھنڈک نہیں ملتا ہے،  اور مجھے  خوش نہیں کرسکتا ہے، اور تیرے سوا کوئی میری آنکھوں کا نور نہیں  ہو سکتاہے۔

فاطمہ (س)  اپنے بچوں  سے   محبت کرنا بھی  خدا کی محبت اور رضایت زمرے میں  دیکھتی تھی، جب پیغمبر اکرم (ص) نے انہیں کربلا کے ہولناک واقعات اور امام حسین (ع) کی شہادت کے بارے میں آگاہ کیا تو انہوں نے    (انا للہ  وا نا الیہ راجعون)  کی  تلاوت کی اور کہا:
یا أبت سلمتُ و رضیتُ و توکلت علی الله

اے ابا جان، میں اللہ کی رضا کے سامنے تسلیم و راضی  ہوں اور  میں  اللہ پر بھروسہ  کرتی ہوں۔

ایک اور بات یہ ہے کہ اکثر   عورتیں جب  اپنے گھر والوں اور اپنے شوہروں اور بچوں سے مطمئن ہو جاتی ہیں تو انکو انہی  سے ایک مضبوط لگاؤ ​​پیدا ہوتی اور اللہ جو بھول جاتی ہیں لیکن فاطمہ (س) نے اپنی زندگی امیر المومنین (س) کے ساتھ گزاری اور ان کے ہاں امام حسن اور ان جیسے بچے پیدا ہوئے۔  انکے ساتھ شدید لگاو کے با وجود، اپنے رب کے سامنے ہمیشہ حاضر خاضع اور خاشع رہی :

رضیتُ بالله رباً و بکَ یا ابتاه نبیاً و بابنِ عمّی بعلاً و ولیّا،

میں اس بات پر راضی ہوں کہ خدا میرا رب ہے اور آپ، میرے نبی  اور والد ہے  اور میرے چچا  کا بیٹا علی میرا شوہر اور امام ہیں۔

" خدایا پروردگارا ! ہماری نیک توفیقات میں اضافہ فرما۔  ہمارے تمام امور میں ہمیں عاقبت بخیر بنا ، حاجتوں کی تکمیل میں راہنمائی فرما ، تمام بیماران کو امراض سے نجات دے، صحت و سلامتی  عطا فرما، فقر و ناداری کو مال و ثروت و سخاوت میں بدل دے ، برے حالات کو اچھے حالات میں بدل دے، امام زمان مہدی فرجہ شریف کے ظہور پرنور میں تعجیل فرما اور ہمیں اُن کے انصارین میں شامل فرما ۔

 

 

 

اللهمَّ أدخل على أهل القبور السرور، اللهم أغنِ کل فقير، اللهم أشبع کل جائع، اللهم اکسُ کل عريان، اللهم اقضِ دين کل مدين، اللهم فرِّج عن کل مکروب، اللهم رُدَّ کل غريب، اللهم فک کل أسير، اللهم أصلح کل فاسد من أمور المسلمين، اللهم اشفِ کل مريض، اللهم سُدَّ فقرنا بغناک، اللهم غيِّر سوء حالنا بحسن حالک، اللهم اقضِ عنا الدين وأغننا من الفقر إنَّک على کل شيء قدير

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ کَانَ تَوَّابًا

 

 

 

اَللّهُمَّ عَجِّلْ لِوَلِیِّکَ الْفَرَجَ

 

وَ الْعافِیَةَ وَ النَّصْرَ

 

وَ اجْعَلْنا مِنْ خَیْرِ اَنْصارِهِ وَ اَعْوانِهِ

 

وَ الْمُسْتَشْهَدینَ بَیْنَ یَدَیْهِ

 



فائل اٹیچمنٹ:
حالیہ تبصرے

اس کہانی کے بارے میں تبصرے

     
امنیت اطلاعات و ارتباطات ناجی ممیزی امنیت Security Audits سنجش آسیب پذیری ها Vulnerability Assesment تست نفوذ Penetration Test امنیت منابع انسانی هک و نفوذ آموزش هک