3/22/2025
ویزیٹ:
59 کا کوڈ:
۹۴۰۳۲۶
تقریریں
»
تقریریں
،
مجلس شب قدر 21 رمضان المبارک 1446 فضائل امام علی علیہ السلام
کیا۔
پس، جو شخص اللہ پر کامل توکل کرتا ہے، وہی اللہ کے نزدیک زیادہ افضل ہوتا ہے۔"
---
سوال:
صعصعہ نے پوچھا: "آپ حضرت عیسیٰؑ سے افضل ہیں؟"
جواب:
حضرت علیؑ نے فرمایا: میں حضرت عیسٰی علیہ السلام سے بھی افضل ہوں۔
"حضرت عیسیٰؑ کی ولادت بیت المقدس میں نہیں ہوئی، اور ان کی والدہ حضرت مریمؑ کو وہاں سے جانے کے لیے مجبور ہونا پڑا، جبکہ میں کعبہ میں پیدا ہوا۔
میری ماں فاطمہ بنت اسد پر جب ولادت کی آثار ظاہر ہونے لگے، تو انہوں نے خانہ کعبہ کی دیوار کے قریب جا کر دعا کی:
'اے اللہ! میں تجھ پر اور تیرے رسولوں پر ایمان رکھتی ہوں۔ میرے لیے ولادت کو آسان کر دے۔'
اللہ کے حکم سے خانہ کعبہ کی دیوار شق ہو گئی، اور میری والدہ اندر داخل ہو گئیں، جہاں میں پیدا ہوا۔
پس، میری پیدائش ایک ایسی جگہ ہوئی جو دنیا میں سب سے زیادہ مقدس ہے۔"
---
سوال:
صعصعہ نے پوچھا: "آپ نبی اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی افضل ہیں؟"
جواب:
حضرت علیؑ نے فرمایا: ہرگز نہیں بلکہ
"میں محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا بندہ ہوں اور ان کے غلاموں میں سے ایک غلام ہوں۔"
---
خلاصہ:
اس گفتگو میں حضرت علیؑ نے اپنی فضیلت کو انبیاء کرامؑ سے موازنہ کرتے ہوئے بیان فرمایا، مگر جب سوال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فضیلت پر آیا، تو حضرت علیؑ نے عاجزی کے ساتھ فرمایا کہ وہ محض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک غلام ہیں۔
یہ درس دیتا ہے کہ حقیقی فضیلت تقویٰ، صبر، زہد اور توکل میں ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع سب سے اعلیٰ مرتبہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مدینہ میں ایک شخص تھا، جو بظاہر نیک اور صالح نظر آتا تھا۔ اس کی صورت آراستہ، لباس پاکیزہ، اور ظاہر ایسا تھا کہ دیکھنے والا اسے ایک مخلص مؤمن سمجھتا۔
لیکن وہ بعض راتوں میں لوگوں کی نظروں سے چھپ کر چوری کرنے جاتا اور مدینہ کے گھروں میں ڈھاکہ ڈالتا ۔
ایک رات وہ چوری کے ارادے سے ایک گھر کی دیوار پر چڑھا۔ دیکھا کہ گھر کے صحن میں بہت سا قیمتی سامان موجود ہے اور اس کے ساتھ صحن میں صرف ایک جوان عورت بھی موجود ہے۔
وہ دل میں سوچنے لگا: "آج کی رات میرے لیے دو موقعے ہیں؛ ایک تو یہ قیمتی سامان چرانے کا، اور دوسرا اس عورت کے ساتھ تعلق قائم کرنے کا!"
یہ خیالات اس کے دل میں گردش کر رہے تھے کہ اچانک اللہ کی طرف سے ایک روشنی اس کے دل میں اتری، جس نے اس کے ذہن کو منور کر دیا۔ وہ گہرے غور و فکر میں پڑ گیا:
"کیا میں ان تمام گناہوں کے بعد نہیں مروں گا؟!
کیا مرنے کے بعد اللہ مجھے سے میرے اعمال کا حساب نہیں لے گا؟!
کیا اس دن، اللہ کی حکومت، اس کے عذاب اور اس کے قہر سے بچنے کا کوئی راستہ ہوگا؟!"
"جب قیامت کے دن کوئی حجت باقی نہیں رہے گی، تو کیا مجھے اللہ کے غضب کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا؟ کیا میں ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں نہیں جلوں گا؟!"
یہ سوچتے ہی اس کے دل میں سخت ندامت پیدا ہوئی۔ اس نے اپنے گناہ سے باز رہنے کا فیصلہ کیا اور بغیر کچھ لیے اپنے گھر واپس چلا گیا۔
توبہ کے بعد قبولیت
صبح فجر کا وقت ہوا، مؤذن نے اذان دی، اور وہی شخص اپنی ظاہری دینداری کے ساتھ مسجد نبوی پہنچا۔ وہاں اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی اور مجلس میں بیٹھ گیا۔
اتنے میں وہی جوان عورت، جس کے گھر وہ رات کو چوری کی نیت سے گیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل
فائل اٹیچمنٹ:
صحیح ای میل درج کریں
اپنا ای میل ایڈریس درج کریں
متن درج کریں